رمضان بنا کاروبار

169

زاہد عباس
’’لیاقت! گودام میں جاکر مال کو مسالہ لگادے۔‘‘
’’شبراتی بھائی! کل مسالہ لگادیا تھا، مال تو اب تیار ہے۔‘‘
’’کتنی پیٹی تیار ہوئی؟‘‘
’’200 پیٹی مال تیار ہے۔‘‘
’’بے وقوف، 200 پیٹی سے کیا ہوتا ہے! آگے سیزن آرہا ہے، کم سے کم 500 پیٹی ہوگی تب ہی مزا آئے گا۔‘‘
’’جی اچھا۔ ہاں یاد آیا، وہ غفور کو مال دینا ہے کہ نہیں؟‘‘
’’نہیں نہیں اِس مرتبہ غفورے کو مال نہیں دینا، ابھی تک اُس نے پچھلے مال کے پیسے بھی پورے نہیں دیے۔‘‘
’’شبراتی بھائی! وہ تو روز چکر لگا رہا ہے۔‘‘
’’لگانے دے اُسے چکر! پچھلا حساب کلیئر کرے گا تو ہی نیا مال ملے گا۔‘‘
’’اب آئے تو منع کردوں؟‘‘
’’بالکل صاف منع کردے، حرام کا مال نہیں ہے ہمارے پاس۔ سارا سال پوچھتے نہیں، جب رمضان کا سیزن آئے تو پیسہ کمانے کے چکر میں دوڑے چلے آتے ہیں۔ مال اسی کو دینا جو ہمارے ساتھ سارا سال کام کرتا ہے۔ تُو اس بات کو چھوڑ، اور گودام میں جاکر مال کی طرف دھیان کر۔ اور ہاں، رات ساکرو والی گاڑی بھی آئے گی، اسے بھی ٹھکانے لگادیجیو۔‘‘
’’ٹھیک ہے شبراتی بھائی۔‘‘
’’اچھا سن، اِس مرتبہ ٹماٹر،آلو اور پیاز اُڑ کے بکے گا، رستم کو کہہ دے اور ریڑھیوں کا بندوبست کرلے، ٹھیک ہے!‘‘
’’ٹھیک ہے شبراتی بھائی۔‘‘
رمضان المبارک کا انتظار شاید ہی شبراتی بھائی سے زیادہ کسی کو ہو۔ ہر سال کی طرح اِس سال بھی اُن کی کاروباری مصروفیت اس قدر بڑھ چکی ہے کہ انہیں سوائے رمضان المبارک کے کسی سے بھی کوئی غرض نہیں۔ موت، میت، شادی بیاہ، یہاں تک کہ اپنے گھر والوں کی فکر تک نہیں۔ یعنی دنیا و مافیہا سے بے خبر شبراتی بھائی کے سر پر تو بس رمضان میں سیزن کمانے کی دھن ہی سوار ہے۔ اور کیوں نہ ہو! ظاہر ہے رمضان المبارک کا مہینہ ایک طرف اگر روزے داروں کے لیے برکتوں اور گناہوں سے بخشش کا مہینہ ہے، تو دوسری طرف ہمارے ملک میں بسنے والے کئی بے روزدار شبراتی اسے اپنا سیزن بنا لیتے ہیں۔ انتہائی دکھ کی بات ہے کہ یہ سب کچھ ایک ایسے ملک میں ہوتا ہے جس کی بنیاد ہی لاالٰہ الااللہ پر ہے۔
دنیا بھر میں رمضان المبارک اور دیگر تہواروں کے موقع پر عوام کو سہولت فراہم کرنے کے لیے اشیا سستی کردی جاتی ہیں، یہاں تک کہ غیر مسلم ممالک کی حکومتیں اپنے تہوار کرسمس پر اپنے ملک کے عوام کو نہ صرف مختلف سہولیات فراہم کرتی ہیں بلکہ اسلامی فرائض کی انجام دہی اور رمضان المبارک جیسے افضل مہینے کی آمد پر مسلمانوں کے لیے بھی خصوصی پیکیج کے اعلانات کرتی ہیں۔ لیکن بدقسمتی سے پاکستان بالخصوص کراچی میں اس کے برعکس ہوتا ہے، جہاں رمضان المبارک شروع ہونے سے قبل ہی اشیائے خور و نوش کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ ہوجاتا ہے۔ حکومت کی جانب سے ماہِ صیام میں قیمتیں کنٹرول رکھنے کا دعویٰ تو کیا جاتا ہے، لیکن اس مہینے میں گراں فروشی عام ہوتی ہے۔ رمضان المبارک کی آمد سے قبل یہاں کیا صورتِ حال ہوجاتی ہے، اس کا اندازہ بازاروں میں فروخت ہوتی کھانے پینے کی اشیاء کی بڑھتی قیمتوں کو دیکھ کر کیا جاسکتا ہے۔
شہر میں 40 روپے کلو بکنے والی پیاز 80 روپے کلو، ٹماٹر50 سے بڑھ کر 90 تا 120 روپے کلو، ادرک50 روپے پائو سے بڑھ کر 90 روپے پائو، لیموں 45 روپے پائو سے بڑھ کر 70 روپے پائو، جبکہ لہسن 110 روپے کلو سے بڑھ کر 160 روپے کلو ہوگیا۔ مرغی کے گوشت کی قیمت بھی آسمان سے باتیں کرنے لگی ہے، جس کی قیمت 200 روپے کلو سے بڑھ کر340 روپے فی کلو ہوگئی ہے۔
حیرت کی بات تو یہ ہے کہ ہر سال مارکیٹ مافیا کی جانب سے اسی طرح بڑھائی جانے والی قیمتوں پر کسی کے کان پر جوں تک نہیں رینگتی، اس بڑھتی مہنگائی پر کسی کی کوئی توجہ نہیں ہوتی۔ یہی وجہ ہے کہ اِس سال بھی رمضان المبارک سے قبل مہنگائی نے شہریوں کی چیخیں نکلوا دی ہیں۔ سوچنے کی بات یہ ہے کہ ابھی یہ صورتِ حال ہے، جب رمضان آئے گا تو کیا ہوگا؟ رمضان المبارک کے دوران مشروبات لوگوں کی افطاری کا لازمی حصہ ہوتے ہیں، لیکن ماہِ مقدس سے قبل ہی چینی کی قیمت میں اضافے نے مہنگائی سے پسے عوام کی کمر ہی توڑ دی ہے۔ مارکیٹ میں چینی کی فی کلو قیمت 15روپے تک بڑھا دی گئی ہے۔ اس اضافے کے ساتھ چینی 70 سے75روپے فی کلو فروخت کی جارہی ہے۔ اس کے علاوہ رمضان میں کثرت سے استعمال ہونے والے سفید چنے کی قیمت میں بھی اضافہ کردیا گیا ہے۔
مہنگائی کے اس طوفان نے چنے کی دال کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے، اور اس کی قیمت میں بھی اچانک اضافہ کردیا گیا ہے اور 100 کلو گرام دال کی بوری پر ایک ہزار روپے بڑھا دیئے گئے ہیں۔
ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی پر اگر انتظامیہ سے بات کی جائے تو اُن کی منطق ہی نرالی ہوتی ہے۔ ان کے بقول رمضان المبارک میں پھل وافر مقدار میں موجود ہوتے ہیں، کسی چیز کی کمی نہیں ہوتی، اگر اشیائے خورونوش کی قیمتیں بڑھتی ہیں تو اس کی وجہ عوام کا رمضان المبارک میں زیادہ سے زیادہ خریداری کرنا ہے جس سے تاجر فائدہ اٹھاتے ہیں، مہنگائی کو کنٹرول کرنے کے لیے ضروری ہے کہ شہری بلاضرورت خریداری نہ کریں، جب خریداری کم ہوگی تو بازاروں میں اشیائے خورونوش وافر مقدار میں موجود ہوں گی، جب مال فروخت ہی نہیں ہوگا تو ایسے افراد جو مارکیٹ مافیا کہلاتے ہیں، کی عقل ٹھکانے آجائے گی، ایسا کرنے سے ہی اس بڑھتی ہوئی مہنگائی سے چھٹکارا حاصل کیا جاسکتا ہے۔
ملاحظہ فرمایا آپ نے، گراں فروشی کے خلاف کام کرنے والے ادارے کے ایک اہلکار کی جانب سے دیا جانے والا مہنگائی کم کرنے کا فارمولا۔ بات تو ٹھیک ہے، ہماری ہی عقل پر پتھر پڑے ہوئے تھے جو ہم اپنی شکایت لے کر اُن صاحب کے پاس جا پہنچے۔ جس شخص کو ہر شام گھر جاتے ہوئے درجہ اوّل مرغی کا گوشت، موسمی پھلوں اورتازہ سبزیوں سے بھرے تھیلے ملتے ہوں وہ بھلا ہماری بات کیسے سنتا! یہ ہماری ہی غلطی تھی جو ہم ایک ایسے شخص کے پاس اپنی فریاد لے کر جا پہنچے جسے ریٹ لسٹ تو دور کی بات، بازار میں انتہائی مہنگے فروخت ہوتے آلو اورپیاز کی قیمتوں کا بھی اندازہ نہ تھا۔ ظاہر ہے جس کے گھر ہر روز تحفے کے نام پر اشیائے خور ونوش پہنچ جائیں اسے گرانیٔ بازار کی کیا خبر! وہ تو اپنی زندگی میں مست ہوا کرتا ہے، اسے کسی غریب کے حالات کا کیا اندازہ، جس کا اپنے بچوں کے لیے دو وقت کی روٹی کمانا بھی انتہائی مشکل ہوتا جارہا ہے۔
بازاروں کا سروے کرکے دیکھیے، مہنگائی کی وجہ سے غریب کی زندگی کس قدر اجیرن ہوتی جارہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ملک میں خطِ غربت سے نیچے زندگی بسر کرنے والوں کی شرح میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے۔ کراچی کے مضافاتی علاقے کے سبزی بازار میں ایک ٹھیلے سے گلے سڑے ٹماٹر خریدنے والے ساجد کا شمار بھی ایسے افراد میں ہوتا ہے جو انتہائی کسمپرسی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ مارکیٹ سروے کے دوران اُس نے مجھے بتایا کہ مہنگائی ہونے کی وجہ سے وہ کم قیمت پر گلے سڑے ٹماٹر خریدنے پر مجبور ہے۔ اُس کا کہنا تھا کہ ہر چیز پر پیسے بڑھا دیے گئے ہیں، گوشت اور سبزیوں کو تو چھوڑیئے، ہرا مسالہ تک دسترس میں نہیں رہا، ہانڈی تو روز پکانی ہوتی ہے، اس صورت حال میں غریب آدمی کیا کرے! سارا دن مزدوری کرکے جو پیسے ملتے ہیں اس سے دو وقت کی روٹی بھی پوری نہیں ہوتی، اس پر بیماری اور دیگر اخراجات پورے کرنا ناممکن ہوگیا ہے، غریب روز مرتا ہے روز جیتا ہے، بس اچھے حالات کی امید پر ہی وہ جی رہا ہوتا ہے، ہمارے لیے حکمرانوں کے پاس کوئی پالیسی نہیں ہوتی، ہر آنے والا حاکم اپنے ہی لوگوں کو نوازتا ہے، جو امیر ہیں وہ مزید امیر ہوتے جارہے ہیں جبکہ غریب غریب تر ہوتا جارہا ہے، یہی سب کچھ دیکھتے ہوئے اس عمر کو پہنچ گیا ہوں، لگتا ہے باقی کی زندگی بھی اسی طرح پریشانیوں میں کٹے گی، مجھے یاد ہے کہ ہمارے والد رمضان المبارک آنے سے قبل گھر میں رنگ روغن کرایا کرتے تھے، افطار کے وقت دسترخوان پر مختلف اقسام کے پھل، پکوڑے اور ایک سے زیادہ چٹپٹی ڈشیں ہوا کرتی تھیں، سحری میں دہی کا استعمال کثرت سے کیا جاتا تھا۔ آج سب کچھ ختم ہوگیا۔ اب دسترخوان پر سوائے کھجور کے اور کچھ نہیں ہوتا، بعض اوقات تو پانی کا گھونٹ پی کر ہی روزہ افطار کرنا پڑتا ہے۔
ساجد کی جانب سے کی جانے والی باتیں حقیقت پر مبنی ہیں۔ یہ بات درست ہے کہ ماضی میں رمضان المبارک کی آمد سے قبل گھر کے بزرگ ایسی ہی تیاریاں کیا کرتے تھے، اور سحر وافطار میں انواع و اقسام کے کھانے پکائے جاتے تھے۔ مہنگائی نے وہ سب کچھ ختم کرکے رکھ دیا۔ ایک طرف اگر ذخیرہ اندوزوں نے رمضان المبارک کو ’’سیزن‘‘ بنا ڈالا ہے، تو دوسری طرف یہ مہینہ رمضان بازار کے نام پر لگائے جانے والے عارضی بازاروں کی انتظامیہ کے لیے بھی منافع بخش سیزن ہوتا ہے، جہاں لگائے جانے والے عارضی اسٹالوں کو روز کی بنیاد پر کرائے پر دیا جاتا ہے۔ ہر بازار میں سینکڑوں اسٹال لگائے جاتے ہیں، ہر اسٹال کا اپنا ریٹ ہوتا ہے، یعنی فی اسٹال کرائے کی مد میں 500 سے 800 روپے تک وصولی کی جاتی ہے۔ اس طرح مرکزی بازاروں کے درمیان عوامی سہولت کے لیے مختص کیے گئے مقامات اور سڑکوں کے ساتھ بنائے جانے والے فٹ پاتھوں پر لگائے جانے والے ان عارضی بازاروں سے مقامی انتظامیہ کے ساتھ مل کر لاکھوں روپے کی دہاڑیاں لگائی جاتی ہیں۔ یہ سارا مال کمانے کا چکر ہوتا ہے۔ زر کی چمک نے اربابِ اختیار کی آنکھوں کو اس قدر خیرہ کردیا ہے کہ انہیں زر کے سوا کچھ دکھائی نہیں دیتا۔ یہی وجہ ہے کہ بجائے ایسے عناصر کے خلاف کوئی کارروائی کرنے کے، انتظامیہ خود اس مافیا کے ساتھ مل کر سیزن لگانے میں مصروف ہوتی ہے۔
خیر ہمیں اس سے کیا! ہمارے تو چاروں طبق رمضان المبارک سے قبل ملک میں ہونے والی مہنگائی نے پہلے ہی روشن کر رکھے ہیں۔ ہم پر تو ہر آنے والے مہینے کے ساتھ ہی پیٹرول بم گرا دیا جاتا ہے۔ موجودہ حکومت کے دور میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے باعث ریلوے کے کرایوں میں 19فیصد اور ہوائی جہاز کے کرایوں میں 13.41 فیصد اضافہ ہوا۔ یوں رواں سال مارچ تک مہنگائی کی شرح 6.79 فیصد رہی۔ اس دوران گیس 56 فیصد، ٹماٹر47 فیصد، مٹی کا تیل25 فیصد، پیٹرول 22 فیصد اور ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں15فیصد اضافہ ہوا۔ جبکہ تعمیراتی سامان و تعلیم11فیصد اور گاڑیاں 12فیصد مہنگی ہوئیں۔ بجلی کی قیمت میں 2.83 فیصد اضافہ ہوا۔
آخر میں بس اتنا ہی کہہ سکتا ہوں کہ حکومت کو ملک میں مہنگائی کی بڑھتی ہوئی ریکارڈ شرح کو سنجیدگی سے لینا ہوگا۔ عوام کی فلاح و بہبود اور مفاد کے لیے اس بڑھتی مہنگائی کو سابق حکومت کے کھاتے میں ڈالنے کے بجائے اپنی کارکردگی پر دھیان دیتے ہوئے اسے کنٹرول کرنے کے لیے اقدامات کرنے ہوں گے۔ اشیائے ضروریہ مثلاً دالیں، گھی، چینی، گوشت، سبزی اور پھلوں کی قیمتوں میں فوری کمی کے لیے فوری اقدامات کرنے ہوں گے۔ طلب و رسد کے توازن کو قائم کرنے اور بہتر بنانے کے لیے ذخیرہ اندوزوں کے خلاف سخت کارروائی کرنی ہوگی۔ تیل، گیس اور بجلی کی اضافہ شدہ قیمتوں پر نظرثانی کرنا ہوگی۔ عوامی نمائندوں کو ساتھ ملا کر محلہ کمیٹیوں کی طرز پر پرائس کنٹرول کمیٹیوں کی تشکیلِ نو کرنی ہوگی جس میں بلدیاتی اداروں اور سول سوسائٹی کی بھی مناسب نمائندگی ہو۔ اس طرح کے اقدامات کرنے سے ہی بہتر نتائج برآمد ہوں گے۔ حکومت کو یہ بھی یاد رہے کہ رمضان المبارک کی آمد آمد ہے، اس سے پہلے ہی ہر صورت میں مہنگائی، ملاوٹ اور ذخیرہ اندوزی کا خاتمہ انتہائی ضروری ہے، بصورتِ دیگر کیے گئے اقدامات بے سود ثابت ہوں گے۔

حصہ