تقویٰ پاکیزگی اور رمضان

201

سید مہرالدین افضل
ماہ رمضان آگیا، آپ بہت خوش ہیں کہ مسجدیں بھرجائیںگی ، آپ اِس پر بھی بہت خوش ہوں گے کہ نوجوان مسجد میں بہت آئیں گےا،آپ اس پر بھی بہت خوش ہوں گےکہ حافظ قرآن بہت بڑھ گئے ہیں! لیکن آپ نے کبھی سوچا کہ یہ نمازی رمضان کے چند دن بعد کم کیوں ہو جاتے ہیں؟ اور پھر رمضان کے بعد کہاں جاتے ہیں؟ کیا نماز رمضان کے علاوہ فرض نہیں؟ اور کیا تمام لوگ جن پر نماز فرض ہے مسجد میں عام دنوں میں آجائیں تو مسجدیں کتنی کم پڑجائیں گی؟؟؟ مجھے بھی مسجدوں سے ہونے والا یہ اعلان یاد ہے کہ مسجد میں اعتکاف کے لیے کوئی نہیں آیا! جلدی سے کوئی آ جائے ورنہ سب گناہ گار ہوں گے۔ میں خود بھی اکیلے مسجد میں اعتکاف کر چکا ہو ں۔۔۔ لیکن پھر ضیا الحق کا ’’مارشل لائی اسلام‘‘ آگیا!!! زکوٰۃ اور صلوٰۃ کا نظام قائم ہو گیا۔ (اور پاکستانی اسٹیبلشمنٹ اور عالمی اسٹیبلشمنٹ نے بھی اسے اپنے لیے مفید پایا۔۔۔ یہی وہ زمانہ تھا جب امریکا اور یورپ نے بڑی تعداد میں وہ پروڈکٹ مارکیٹ میں لانچ کیں جن میں مذہب سے قربت کی عکاسی ہوتی تھی انہوں نے صلیب کے لاکٹ کی طرح اللہ والے لاکٹ بھی مارکیٹ میں بھر دیے کیوں کہ کمیونزم سے مقابلہ تھا، اس زمانے میں مذہب کے ظاہر کو بہت فروغ دیا گیا۔۔۔ اور ہر مذہب کے پیرو کاروں کی مذہب سے دلچسپی بڑھ گئی۔۔۔ نیچرلی مسلمانوں کی زیادہ بڑھی۔۔۔ لیکن اس کی سمت غلط تھی سو کہیں دھماکوں کا شکار ہو گئی اور کہیں ظاہر داری کا۔۔۔ پھر زمانہ بدل گیا اور دنیا دو طاقتوں کی تقسیم سے نکل کر ایک ہی طاقت کے چنگل میں آگئی۔۔۔ جناب آج تو عقیدہ ہی ہل رہا ہے۔۔۔ ذرا نئی نسل سے کبھی زمین پہ بیٹھ کر بات کر کے تو دیکھیں۔۔۔ پچھلے پانچ سالوں سے مذہب کی جانب رجوع میں نمایاں کمی آئی ہے اور آتی جا رہی ہے) ضیا الحق کے مارشل لائی اسلام کے آتے ہی سرکاری ملازمین نے اس مارشل لائی اسلام پر عمل شروع کر دیا۔۔۔ دفاتر میں نمازیں ادا کی جانے لگیں۔۔۔ شاہ راہوں پر مسجدیں بننے لگیں۔۔۔ جگہ جگہ قبضہ گروپ مسجد اور مدرسے کے نام پر زمین گھیرنے لگے۔۔۔ اور حکومت کی سرپرستی میں مراعات یافتہ طبقے میں علما کا طبقہ بھی شامل ہو گیا۔ پہلے صرف چند سرکاری علما ہی حکومت کی مہربانیوں سے عوام کا پیسہ ہڑپ کرتے تھے۔ اب ہر طبقہ فکر کے علما فیض یاب ہونے لگے اس طرح دیکھتے ہی دیکھتے مذہبی ظاہر داری عام ہو گئی۔۔۔ اور وہ چلن ہوا جسے دیکھ کر آپ بہت خوش ہوتے ہیں!!! اور لوگوں کو انقلاب کی نوید سناتے ہیں۔ کبھی آپ نے سوچا کہ جو بچے بڑی تعداد میں حفظ کر چکے ہیں کہاں ہیں اور ہوش سنبھالتے ہی کتنے ہیں جو مایوسی کا شکار ہیں کہ ہم تو پیچھے رہ گئے۔۔۔ جن کے ماں باپ کے پاس پیسہ ہے وہ حفظ کرانے کا فائدہ یادداشت میں اضافے کی صورت اٹھاتے ہیں اور اپنے وسائل استعمال کر کے بہت جلد اس گیپ کو پورا کر دیتے ہیں جس کا شکوہ حافظ صاحب کو ہو تا ہے اور فرض کریں کہ دنیا کہ سات ارب انسان سب حافظ قرآن ہو جائیں اور رمضان میں سب روزے رکھنے لگیں۔۔۔ دنیا کی ہر سڑک پر افطار کے دستر خوان لگ جائیں۔۔۔ اور سڑکیں اور گلیاں نمازیوں سے بھر جائیں۔۔۔ تو کیا انسان کا مسئلہ حل ہو جائے گا؟ کیا اللہ راضی ہو جائے گا؟ جبکہ حفظ قرآن ہو۔۔۔ اور فہم قرآن نہ ہو؟ اور فہم قرآن کا دعویٰ تو ہو مگر قرآن پر عمل نہ ہو؟ معیشت میں سود، حرص اور لالچ ہو؟ سیاست میں جھوٹ دھوکا اور فریب ہو؟ معاشرت میں خود غرضی، انا پرستی، خود پسندی اور تکبر ہو؟ اورتہذ یب و تمدن کی بنیاد شکم اور شہوت پر ہو؟؟؟ جناب آپ جن باتوں کو ایک عرصے سے انقلاب کے انڈیکیٹر کے طور پر بیان کر رہے ہیں یہ ظاہر کا دھوکا ہیں۔ اسلام کا بیج دل کے اندر بویا جاتا ہے۔۔۔ نماز، روزے، اور دیگر عبادات سے اس کی آبیاری کی جاتی ہے۔ اور اس کے برگ و بار انسان کی زبان اور جسم کی حرکات سے ظاہر ہوتے ہیں۔۔۔ اگر ایمان دل میں جڑ نہ پکڑے اور اس کے برگ و بار عمل سے ظاہر نہ ہوں پھر آپ ایک ماہ تو کیا چھ ماہ بھی روزے رکھ لیں۔۔۔ اور پانچ وقت نماز کیا تہجد اشراق، چاشت، اوابیں اور صلوٰۃ تسبیح سب پڑھ لیں نہ دنیا بدلے گی نہ اللہ راضی ہوگا۔
روزے کا مقصد:۔
روزے کا ایک لفظی مقصد تقوی کا حصول ہے۔۔۔ اور تقوی کے بارے میں قرآن و سنت کی تمام تعلیمات کا خلاصہ یہ ہے کہ۔۔۔ انسان پاکیزگی اختیار کرے۔ جسم کی پاکیزگی، لباس کی پاکیزگی، خیال کی پاکیزگی، اعمال کی پاکیزگی،کاروبار اور معیشت میں پاکیزگی، رشتوں اور معاشرت میں پاکیزگی، اقتداراور سیاست میں پاکیزگی، قانون اور عدالت میں پاکیزگی۔ یہ سب تقوی سے حاصل ہوتی ہیں۔ تقویٰ یہ ہے کہ آدمی ہروقت یہ بات یاد رکھے کہ اللہ دیکھ رہاہے، اور ایک دن اس کے سامنے حاضر ہونا ہے، وہ باریک بیں اور باخبر ہے۔ ہمارا مسئلہ یہ ہے کہ ہم نے تقوی کی ایک ظاہری شکل بنا لی ہے (اورعبادات میں نوافل کی کثرت جس کا ظاہر نہ ہونا بہتر ہے تک محدودکرلیاہے) جبکہ تقویٰ کا اصل تعلق معاملات سے ہے ہمارے تمام دنیوی معاملات کے سدھارکا انحصار ہی اس پر ہے کہ ہمارا ہر عمل اللہ کے لیے ہے کہ نہیں۔۔۔ ہمیں ہر وقت یہ بات یاد رہتی ہے کہ نہیںکہ اللہ دیکھ رہا ہے۔۔۔ وہ ہمارے ساتھ ہے ہم جہاں کہیں بھی ہوں۔۔۔ اور ایک دن اس سے ملنا ہے۔ ویسے تو قرآن مجید میںتقویٰ کا ذکربہت سارے مقامات پر ہے۔۔۔ تقویٰ کیا ہے؟ تقویٰ کے فائدے کیا ہیں؟ متقی کیسے ہوتے ہیں بار بار بیان کیے گئے ہیں، ہم ان میں سے چند پیش کرتے ہیں اس ترتیب سے کہ یہ ہماری پوری زندگی کا احاطہ کرتے نظر آئیں۔ سورۃ بقرہ کی دوسری ہی آیت میں ارشاد ہوا کہ یہ قرآن بلاشبہ۔۔۔ ہدایت ہے متقیوںکے لیے۔۔۔ سورہ آل عمران کی آخری آیت میں ارشاد ہوا تقویٰ اختیار کرو امید ہے فلاح پائوگے۔۔۔ سورہ طلاق کی آیت نمبر 2 سے 5 میںارشاد ہوا جوکوئی اللہ سے ڈرتے ہوئے کام کرے گا اللہ اس کے لیے مشکلات سے نکلنے کا کوئی راستہ پیدا کردے گا اور ایسے راستے سے رزق دے گا جدھر اس کا گمان بھی نہ جاتا ہو۔۔۔ جو اللہ سے ڈرے گا اللہ اس کی برائیوںکواس سے دورکردے گا اور اس کوبڑا اجردے گا۔ سورہ یونس آیت نمبر 62 تا 64 میںارشادفرمایا! سنوجو اللہ کے دوست ہیں، جو ایمان لائے اورجنہوں نے تقویٰ اختیار کیا ان کے لیے کسی خوف اور رنج کا موقع نہیں دنیا اور آخرت میں ان کے لیے بشارت ہی بشارت ہے۔ سورہ یوسف آیت نمبر 90 میںحضرت یوسف علیہ السلام کی پوری سرگزشت سنانے کے بعد ارشاد فرمایا! حقیقت یہ ہے کہ اگر کوئی تقویٰ اور صبر سے کام لے تو اللہ کے یہاں ایسے لوگوں کا اجر مارا نہیں جاتا۔ سورہ زمرکی آیت نمبر 73 میں ارشاد ہوا! اور جو لوگ اپنے رب کی نافرمانی سے پرہیز کرتے تھے انہیںگروہ درگروہ جنت کی طرف لے جایا جائے گا یہاں تک کہ جب وہ وہاں پہنچیںگے اور اس کے دروازے پہلے ہی کھولے جاچکے ہوں گے تو اس کے منتظمین ان سے کہیں گے سلام ہوتم پر بہت اچھے رہے داخل ہو جائو اس میں ہمیشہ کے لیے۔
قرآن کہتا ہے ہدایت اور رہنمائی چاہتے ہو ۔۔۔ دنیا اور آخرت میںکامیابی چاہتے ہو۔۔۔ فلاح اور کامیابی چاہتے ہو۔۔۔ مشکلات سے نکلنا چاہتے ہو۔۔۔ رزق چاہتے ہو۔۔۔ مستقبل کے خطرات سے بے خوف ہونا چاہتے ہو۔۔۔ ماضی کے حادثات کو بھلانا چاہتے ہو۔۔۔ محنت کا بدلہ چاہتے ہو۔۔۔ آسان اورسیدھے راستے پر چلتے ہوئے زندگی کا اختتام نفس مطمئن کے طور پرکرنا اور جنت میں جانا چاہتے ہو تو۔۔۔ تقویٰ اختیارکرو۔
پاکیزہ زندگی کیا اور کیسے:۔
لوگوں کے لیے اچھا نمونہ بنیں۔۔۔ ان سب نیکیوں اور اچھائیوں کو کرنے کے ساتھ جو آپ رمضان میں کرتے ہیں ایک خصوصی کام کریں دو فہرستیں بنائیں ایک میں وہ باتیں لکھیں جو آپ پسند کرتے ہیں کہ لوگ آپ کے ساتھ کریں۔ دوسری فہرست میں وہ باتیں لکھیں جو آپ پسند نہیں کرتے کے لوگ آپ سے کریں۔ اور پھر اپنی پسندیدہ باتوں کو دوسروں کے ساتھ کرنے کی کوشش کریں اور جو باتیں آپ ناپسند کرتے ہیں وہ دوسروں کے ساتھ نہ کریں۔ اپنا جائزہ لیتے رہیں کہ آپ کتنے اچھے بن گئے ہیں؟ جب آپ اپنی بنائی ہوئی فہرست کی اپنی پسندیدہ باتوں پر عمل کرنے لگیں گے اور نا پسندیدہ باتوں کو چھوڑ دیں گے تو آپ سے کسی کو۔۔۔ نقصان کا خوف نہ رہے گا۔۔۔ ہر ایک آپ سے اچھائی اور نیکی کی توقع رکھے گا۔ آپ اپنے حق سے کم پر راضی ہوجائیں گے اور دوسروں کو ان کے حق سے زیادہ دینے کو تیار رہیں گے۔۔۔ برائی کا بدلہ برائی سے نہیں دیں گے بلکہ اچھائی کرنے کی کوشش کریں گے۔۔۔ اپنی غلطی کو مان لیا کریں گے اور دوسروں کی اچھائی کی حوصلہ افزائی کریں گے۔۔۔ پھر آپ خدمت لے کر نہیں خدمت کر کے خوش ہوں گے۔
رمضان اور ہمارا طرز عمل:۔
رمضان آتا ہے اور اسے اسی طرح لیا جاتا ہے جیسے ایک نوجواں اپنے آئی فون۔۔۔ سمارٹ فون کے ساتھ ہیڈ فون لگا کر مصروف ہوتا ہے درمیان میں والد کی کال آتی ہے۔۔۔ وہ ادب سے کال سنتا ہے، ہر کام پر جی اور ہاں کہتا ہے۔۔۔ اور کال ختم ہونے کے بعد پھر اپنی اسی مصروفیت میں گم ہو جاتا ہے اور جب والد سے ملاقات ہوتی ہے تو بھول چکا ہوتا ہے کہ کیا کیا کام کہے تھے اور کون کون سی نصیحت کی تھی۔ کیا آپ چاند رات اور عید کے میلے نہیں دیکھتے۔ یاد رکھیں ملاقات جلد ہونے والی ہے۔
اللہ سبحانہ و تعالٰی ہم سب کو اپنے دین کا صحیح فہم بخشے، اور اس فہم کے مطابق دین کے سارے تقاضے، اور مطالبے پورے کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
وآخر دعوانا ان ا لحمد و للہ رب العالمین۔

حصہ