برصغیر میں اسلام کے احیا اور آزادی کی تحریکیں

148

قسط نمبر 187
(پندرہواں حصہ)
کتنی عجیب سی بات ہے کہ بانیِ پاکستان قائداعظم محمد علی جناح نے قیام پاکستان کے فوری بعد مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کو دعوت دی تھی کہ وہ ریڈیو پر اپنے لیکچرزکے ذریعے اسلامی حکومت اور اسلامی معاشرہ قائم کرنے کے لیے پاکستانی عوام کی رہنمائی کریں۔ لیکن ساتھ ہی ساتھ وزیر خارجہ ظفر اللہ خان اور اُس کی قادیانی لابی کے طفیل مولانا پر دیگر الزامات لگانے کے ساتھ ساتھ پاکستان مخالف ہونے کا پروپیگنڈہ اس قدر زوردار انداز میں کیا گیا کہ ’’سچائی‘‘ دب کر رہ گئی۔ قادیانی لابی کے زیراثر فوجی حلقوں میں یہ صورت حال پیدا ہوچکی تھی کہ مولانا مودودی یا جماعت اسلامی سے کسی قسم کا رابطہ رکھنا ایک جرم تھا، جس کی سزا ملازمت سے فوری برطرفی اور قید و بند کی صعوبتیں تھیں۔
یہ پاکستان کی آزادی سے قبل کی بات ہے جب جولائی 1935ء میں شملہ میں قادیانی نواز سر فضل حسین کی زیر صدارت کشمیر کمیٹی کا پہلا اجلاس ہوا تھا۔ اس اجلاس میں مرزا بشیرالدین کو کمیٹی کا صدر بنایا گیا، جبکہ علامہ اقبال بھی اس کمیٹی کے رکن تھے۔ علامہ اقبال کو جب ’قادیانیت کے اجزائے ترکیبی‘ کا علم ہوا تو انہوں نے آل انڈیا کشمیر کمیٹی کو ایک خط لکھا جس میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ ’’کسی قادیانی کو آئندہ کشمیر کمیٹی کا صدر نہ بنایا جائے‘‘۔ صرف یہی نہیں بلکہ ایگزیکٹو کونسل میں ظفر اللہ قادیانی کی ایک مسلمان رکن کے طور پر جب تقرری ہوئی تو 1935ء میں انجمن حمایتِ اسلام لاہور کے علامہ اقبال کی زیر صدارت سالانہ جلسے میں ظفر اللہ قادیانی کے خلاف قرارداد منظور کی گئی جس کے نتیجے میں انجمن سے قادیانی ارکان فارغ کردیئے گئے۔
پنڈت جواہر لال نہرو نے اپنی کتاب ’’کچھ پرانے خطوط‘‘کے حصہ اوّل میں لکھا ہے کہ اقبال نے ایک خط میں قادیانیت کو اسلام وملک دونوں کا دشمن و غدار کہا۔ 1935ء میں احمدی عقائد سے متعلق اقبال کے ایک مقالے کی اشاعت پر لکھنؤ کے ایک اخبار ’’صدق‘‘ نے یکم اگست کی اشاعت میں لکھا ’’علامہ اقبال کے اس حقیقت خیز اور ولولہ انگیز مقالے نے ہمالیہ سے راس کماری تک ہلچل مچادی ہے جس میں انہوں نے عقیدہ ختم نبوت کے فلسفیانہ پہلو کو قدرتی قانون پر منطبق کرکے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت گزاری کا عظیم شرف حاصل کیا‘‘۔ یہی وجہ ہے کہ ’’سیرت المہدی‘‘ میں مرزا بشیرالدین لکھتے ہیں کہ ’’ملک کے نوتعلیم یافتہ طبقے میں احمدیت کے خلاف جو زہر پھیلا اُس کی بڑی وجہ ڈاکٹر سر محمد اقبال کا مخالفانہ پروپیگنڈہ تھا‘‘۔ 3 جون 1947ء کو مسلم لیگ نے تقسیمِ پنجاب و بنگال کے منصوبے کو مان لیا تو 30 جون 1947ء کو سر ریڈ کلف کی سربراہی میں تقسیم کے لیے حدبندی کمیشن کا قیام عمل میں لایا گیا، کمیشن کے پنجاب کے اراکین میں دو غیر مسلم ارکان کے علاوہ جسٹس محمد منیر اور جسٹس دین محمد شامل تھے، جبکہ مسلم لیگ کی طرف سے ظفر اللہ خان وکیل تھے۔ ظفر اللہ خان اگرچہ مسلم لیگ کے نمائندے تھے مگر دراصل وہ قادیانی نمائندے بن کر رہے، انہوں نے گورداس پور کے حوالے سے حکومت پاکستان کی اجازت کے بغیر ایسی رائے پیش کی جس سے بھارت کو کشمیر پہنچنے کا راستہ مل گیا۔ قادیانی کشمیر کے حوالے سے اپنا ایک مختلف نقطہ نظر رکھتے تھے، چنانچہ ’’تاریخ احمدیت‘‘ جلد نمبر6 میں مؤلف دوست محمد شاہد صفحہ نمبر 445 میں لکھتے ہیں کہ جماعت احمدیہ کو کشمیر سے دلچسپی اس لیے ہے کہ ’’کشمیر ہمارا ہے، اس میں اسّی ہزار قادیانی بستے ہیں، نیز وہاں مسیح اول کا مدفن ہے (قادیانیوں کا عقیدہ ہے کہ حضرت عیسیٰؑ کی قبر محلہ یار خان سری نگر میں ہے) اور مسیح ثانی کی بڑی جماعت ہے، اس لیے یہ ہمارا ہے۔‘‘
ایک اور حوالہ حاضر ہے تاکہ معلوم ہوسکے کہ قادیانی وزیر خارجہ کا اصل کردار کیا تھا؟
’’وزیر خارجہ ظفر اللہ خان قادیانی کا کردار پارلیمانی تاریخ کا منفی ترین کردار رہا، چنانچہ مسلم لیگ کے سینئر رکن اسمبلی میاں افتخار الدین کا اسمبلی فلور پر بیان تاریخ کا حصہ ہے جس میں انہوں نے کہا کہ ’’جناب عالی، ہمارا وزیر خارجہ سر ظفر اللہ کیا کررہا ہے، یہ شخص لازمی طور پر برطانوی مفادات کا نگہبان ہے، ہمارا معزز وزیر خارجہ ہم سے بلکہ امریکا سے بھی زیادہ برطانیہ کا وفادار ہے، یہ کشمیر کا مقدمہ نہیں لڑرہا بلکہ مزید اس کو الجھا رہا ہے۔‘‘
(’’میاں افتخار الدین کی تقاریر‘‘۔ مرتبہ: عبداللہ ملک۔ صفحہ 206)
یہ حوالہ بھی تاریخ کا حصہ بن چکا ہے جس میں وضاحت کے ساتھ موجود ہے کہ’’جون 1958ء میں صہیونی رسالے نے وزیر خارجہ ظفر اللہ خان کی اسرائیلی سفیر کے ساتھ تصویر چھاپی، جس نے بہت سے حلقوں کو مضطرب کردیا‘‘۔ 1964ء میں بھارت کے مشہور اخبار ’’ہندوستان ٹائمز‘‘ میں بھارت کے سابق کمشنر سری پرکاش کی خودنوشت سوانح عمری میں اس حوالے سے لکھا ہے کہ ’’ظفراللہ قادیانی نے ان کے سامنے قائداعظم کو گالی دی اور کہا کہ اگر پاکستان بن گیا تو ہندوئوں سے زیادہ مسلمانوں کا نقصان ہوگا‘‘۔ وہ کہتے ہیں کہ قیام پاکستان کے بعد ایک مرتبہ ملاقات میں مَیں نے اُن سے اس بابت استفسار کیا تو انہوں نے کہا کہ میں اپنے اس بیان پر آج بھی قائم ہوں۔ مزید یہ کہ ان موصوف نے قائداعظم کا جنازہ پڑھنے سے یہ کہہ کر انکار کردیا تھا کہ آپ مجھے مسلمان ملک کا کافر وزیر سمجھیں یا کافر ملک کا مسلمان وزیر۔ مشہور صحافی نیر زیدی لکھتے ہیں کہ جب کشمیر سے واپسی پر قائداعظم سے یہ سوال پوچھا گیا کہ قادیانیوں کے متعلق آپ کی کیا رائے ہے؟ تو آپ نے فرمایا کہ ’’میری وہی رائے ہے جو علمائے کرام اور پوری امت کی ہے۔‘‘
اب اس بات کی جانب آتے ہیں کہ قائداعظم نے قادیانی وزیر خارجہ ہی کیوں بنایا؟ تو ڈاکٹر صفدر محمود کے مطابق بانی پاکستان کو برصغیر کے مسلمانوں کی آزادی کی خاطر بعض معاہدات و شرائط پر مجبوراً دستخط کرنا پڑے، آپ کے پاس وقت کم تھا اور کام زیادہ۔ انہوں نے غلامی پر لولے لنگڑے پاکستان کو ترجیح دی۔ ان کے نزدیک پروانۂ خودمختاری مل جانا ہی محرومی کا مداوا تھا، اس لیے کہ قائداعظم جانتے تھے کہ ان کی جیب میں کھوٹے سکّے ہیں، بتایا جاتا ہے کہ انگریز وائسرائے نے ظفر اللہ قادیانی کی تقرری پر بہت زیادہ اصرار کیا تھا اور دھمکی دی تھی کہ جب تک یہ اعلان نہیں کیا جاتا، اختیارات کی منتقلی نہ ہوسکے گی۔
مندرجہ بالا حوالوں سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ قادیانی لابی روزِ اوّل سے ہی پاکستان کے خلاف کام کررہی تھی اور یہ اس قدر منظم تھے کہ بآسانی پاکستان حکومت کی جڑیں کھوکھلی کرنے کے ساتھ محبانِ پاکستان کو غداری کے سرٹیفکیٹ بآسانی تقسیم کررہے تھے اور حکومتِ پاکستان ان کی پشت پر موجود تھی۔ انفرادی و ذاتی حیثیت میں فوج سے متعلقہ بہت سے افراد مولانا کی تعلیمات اور دین اسلام کے لیے ان کی خدمات سے متاثر تھے، مگر ان سے تعلق یا رابطہ رکھنا ان کے لیے بھی باعثِ خطر تھا۔
جنرل ایوب خان کے زمانے میں تو مولانا کے خلاف اس قدر ماحول گرم ہوا جب آپ نے محترمہ فاطمہ جناح کی حمایت کا اعلان کرتے ہوئے آمریت کے خلا ف حزب مخالف کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرنا شروع کیا۔ اس دور میں ہی مولانا کی ڈاک سنسر ہونی شروع ہوئی، اور اگرکوئی حاضر سروس فوجی ان سے خط کتابت کرتا تو اس سے بازپرس کی جاتی تھی۔ ایک فوجی کے لیے جماعت اسلامی یا مولانا سے کسی نوع کا تعلق رکھنا گوارا ہی نہیں کیا جا سکتا تھا۔
اختلافِ رائے کی حیثیت امتِ مسلمہ میں خیر کا باعث کہی گئی۔ علمی و فکری میدان میں بڑے بڑے ائمہ کرام کے درمیان بھی یہ حسن بصورتِ اختلاف موجود رہا ہے۔ لیکن اختلاف، تنقید اور تذلیل میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ ایسا بھی ہوا ہے کہ شاگرد نے اپنے شیخ سے تعلیم حاصل کی اور ان سے اختلاف کیا۔ علمی معاملات پر اختلاف کا حق تقریباً ہر عالم و فاضل کو حاصل ہے، اور تنقید کا حق ہر کسی کے لیے نہیں جبکہ تذلیل کا حق کسی کو بھی حاصل نہیں ہے۔ کسی شخصیت کی برتری دوسری شخصیت پر یا تو اس شخصیت کے ذاتی کردار و عمل کی بنیاد پر ہوتی ہے، یا اس شخصیت کی دینی خدمات کی بنیاد پر۔ اسی طرح کسی کتاب کی فضیلت دوسری کتاب پر یا تو مصنف کی فضیلت کی وجہ سے ہوتی ہے یا اس کتاب میں صحت کا جو التزام کیا گیا ہے اس کی وجہ سے ہوتی ہے، یا جمہور علمائے اسلام میں اس کی مقبولیت کی وجہ سے ہوتی ہے، یا حسنِ ترتیب اور تمام اہم مقاصد پر مشتمل ہونے کی وجہ سے ہوتی ہے۔
اگر ہم مولانا مودودیؒ کی شخصیت کا جائزہ لیں تو اسلام کی تاریخ میں امت کے بڑے بڑے مجددین اور مفکرین عمر بن عبدالعزیزؒ، ائمہ اربعہ، امام غزالیؒ، ابن تیمیہؒ، شیخ احمد سرہندیؒ، شاہ ولی اللہؒؒ، سید احمد بریلویؒ اور شاہ اسمٰعیل شہید کے بعد تجدید احیائے دین کے میدان میں ایک ایسے دور میں مولانا مودودیؒ جیسی مفکر شخصیت ملتی ہے۔
مولانا مودودیؒ کی ایک نمایاں خصوصیت یہ بھی ہے کہ انہوں نے اپنے نظریے کے حامیوں کے لیے مریدی کے بجائے تحقیق کے میدان کی راہ دکھائی ہے۔
جہاں تک مولانا مودودیؒ کی تصانیف کا تعلق ہے تو تفسیر، حدیث، سیرت، معیشت، معاشرت، سیاست اور دیگر شعبہ ہائے زندگی اور اسلامی کتب کے علاوہ مغربی تہذیبوں اور افکار و نظریات کے رد میں مدلل انداز میں 120 سے زائد ایسی کتابیں لکھیں جن کی وجہ سے باطل نظریات کے غباروں سے ہوا نکل گئی۔
مولانا مودودیؒ سے اختلاف کیا جاسکتا ہے اور کیا گیا ہے، مگر ان میں سے بیشتر کے جواب میں مولانا مودودیؒ کے یہ تاریخی جملے بھی قابلِ غور ہیں کہ ’’ان کے خلاف میں اپنا مقدمہ اللہ کی عدالت میں لڑوں گا۔ اگر میں نے اپنے قلم کا رخ ان کی طرف کردیا تو یہ نشانِ عبرت بن جائیں گے، اور میں اپنی قوت اور اپنا وقت ان بحثوں میں صرف کرنا گوارہ نہیں سمجھتا۔‘‘ ·
حوالہ جات:
’’مولانا مودودیؒ کے ساتھ علماء کا متعصبانہ رویہ‘‘۔ مضمون نگار عبدالحلیم شرر
مضمون ’’قادیانیت پر غداری کے الزامات‘‘ تحریر ظفرالاسلام سیفی
پنڈت جواہر لال نہرو کی کتاب حصہ اول ’’کچھ پرانے خطوط‘‘
’’میاں افتخار الدین کی تقاریر‘‘ مرتبہ عبداللہ ملک۔ صفحہ 206)
’’تاریخ احمدیت‘‘۔ مؤلف دوست محمد شاہد۔ صفحہ نمبر 445۔ جلد نمبر 6
(جاری ہے)

حصہ