اور اب پیش ہیں منظور پشتین۔۔۔۔

166

سوال یہ ہے کہ کون ہے جو ملک اور قوم سے کون مخلص ہے؟ سوال یہ بھی ہے کہ سانپ کو پھن پھلانے کا موقع کیوں دیا جاتا ہے؟ ایسا کیوں نہیں کیا جاتا کہ سانپ بھی مرجائے اور لاٹھی بھی نہ ٹوٹے؟
سیاست دانوں کی اکثریت ملک سے مخلص ہے اور نہ ہی قوم سے، یہ تو صرف اپنے آپ سے مخلص نظر آتے ہیں اور صرف اپنے مفاد کو پیش نظر رکھتے ہیں‘ ان کی سیاست کا مقصد صرف اپنی ’’دکانیں‘‘ چلانا اور قوم کو بے وقوف بنانا ہی ہے۔
کل تک ملک کا سب سے بڑا شہر کراچی الطاف حسین کی مہاجر اور پھر ’’مظلوموں‘‘ کی سیاست سے پریشان تھا تو آج پشتونوں کے حقوق کے لیے منظور پشتین نامی 25 سالہ پشتون نوجوان سامنے آگیا۔ الطاف حسین اور منظور پشتین کی سیاست میں بہت سے باتیں قدرِ مشترک ہیں۔ دونوں نے زمانۂ طالب علمی میں اپنی سیاسی زندگی کا آغاز کیا بلکہ اپنی پارٹیاں بھی بنائیں۔
الطاف حسین نے 1978 میں آل پاکستان مہاجر اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن بنائی بعدازاں 1984 میں اسے مہاجر قومی موومنٹ کا نام دے کر طلباء تنظیم سے سیاسی تنظیم بنادی۔ منظور احمد پشتون نے بھی پہلے محسود ٹرائبل اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن میں شمولیت اختیار کی اور 2014 میں اس کے صدر منتخب ہوئے۔ پھر 2016 میں منظور محسود عرف منظور پشتین نے محسود تحفظ موومنٹ بنائی ( ایم ٹی ایم ) جسے بعد پختون تحفظ موومنٹ کا نام دیا۔ منظور کی تحریک کو جنوری 2018 میں محسود قبائل کے نوجوان نقیب اللہ کے کراچی میں ماورائے عدالت قتل سے شہرت ملی۔
الطاف حسین اور منظور احمد، دونوں ہی نے اپنی قوم کے حقوق کے نام پر سیاست کا آغاز کیا۔ یہ محض اتفاقات ہیں یا کسی عالمی منصوبہ بندی کا حصہ دونوں ہی اپنی قوم کے لوگوں کے قتل کے واقعات کے بعد مشہور ہوتے گئے۔ الطاف حسین کی مہاجر قومی موومنٹ حیدراباد میں 1980 کی دہائی میں ہونے والے قتل عام کے بعد پھلنے پھولنے لگی۔ اسی طرح پشتون تحفظ موومنٹ (پی ٹی ایم) نے نہ صرف نقیب اللہ قتل کے واقعہ سے ’’آکسیجن‘‘ حاصل کی بلکہ تحریک ملک بھر میں پھیل گئی۔
الطاف حسین اور پختون قومی ایم
کو فوج اور سیکیورٹی اداروں سے شکایتیں ہیں بلکہ یہ دونوں ان سے نفرت کی حد تک مخالفت بھی کیا کرتے ہیں۔ ان دونوں ہی لیڈرز پر بھارت کی خفیہ ایجنسی را اور دیگر پاکستان مخالف اداروں سے فنڈز لینے کا الزام بھی ہے۔ ان باتوں کے ساتھ الطاف حسین پر یہ بھی الزام تھا کہ وہ اپنی قوم کے حقوق کے نام پر جدوجہد کے ساتھ اپنے تحفظ کے لیے شہر سے ہی نہیں بلکہ ملک سے چلے گئے۔ جبکہ اب آئی ایس پی آر کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل آصف غفور کا کہنا ہے کہ منظور پشتین اپنے لوگوں کے حقوق کی جدوجہد کے نام پر اپنے علاقوں کے بجائے ملک سے باہر زیادہ رہتے ہیں۔
غور کرنے بات تو یہ ہے کہ کراچی میں الطاف حسین اور اس کی تحریک متحدہ قومی موومنٹ کے خلاف جب 2016 میں پاکستان کے سیکیورٹی کے اداروں نے گھیرا تنگ کیا عین اسی وقت ” پشتون یا پختون تحفظ موومنٹ کو فروغ دینے کے لیے کراچی سے اسلام آباد تک اس کے فائدے کے لیے حالات پیدا کردیے گئے۔ اس طرح محسود قبائلی علاقے سے اٹھنے والی تحریک پورے ملک میں پھیل گئی۔ غور کرنے کی بات تو یہ ہے کہ الطاف حسین اور منظور پشتین کی تحاریک کو کون سے سیاسی عناصر ہوا دے رہے ہیں یا دیتے رہے ہیں۔ وہ سیاست دان جو کبھی بھی پاکستان اور اس کے ریاستی اداروں خصوصاً فوج کے حامی نہیں رہے بلکہ اس کی کھل کر مخالفت کرتے رہے۔ قوم پرستی کے نام پر ایسے سیاسی رہنمائوں نے وطن پرستی تو کجا اپنے بیانات اور اعمال سے ملک دشمنی کا بھی اظہار کرتے رہے۔
حال ہی میں ایک پریس کانفرنس میں پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل آصف غفور نے پشتون تحفظ موومنٹ کے مالی معاملات پر سوال اٹھاتے ہوئے الزامات عائد کیے ہیں کہ انھیں مختلف مقامات پر احتجاج کے لیے انڈیا کے خفیہ ادارے ’’را‘‘ اور افغانستان کے خفیہ ادارے این ڈی ایس سے رقوم موصول ہوتی رہی ہیں۔ میجر جنرل آصف غفور کا کہنا تھا کہ پی ٹی ایم کے مالی معاملات پر سکیورٹی اداروں کے کئی سوالات ہیں اور وہ یہ بتائیں کہ ان کے پاس کتنا پیسہ ہے اور کہاں سے آیا ہے؟ اس سوال پر محب وطن پاکستانی یہ سوال کرنا چاہتے ہیں کہ ’’ 2011 سے اب تک‘‘ ملک کے اہم ادارے کیا کررہے تھے ؟ اگر منظور پشتین بھی الطاف حسین کی طرح کسی اور کی مالی مدد سے ملک میں افراتفری پھیلانے کی سازشوں میں مصروف تھا تو اسے کیوں نہیں پکڑا گیا یا کیوں نہیں روکا جاسکا ؟
ملک کے لوگوں کو فوج اور دیگر ریاستی اداروں کے خلاف اکسانے کا مقصد کسی بڑے جرم کی پرورش کرنا اور جرائم یا خلاف قانون سرگرمیوں کو پروان چڑھانا ہی تو ہوتا ہے۔ کیا یہ بات ہمارے اداروں کو معلوم نہیں ہے ؟ اب جب سانپ اپنے پھن پھلائے حملہ کرنے کے لیے تیار ہے تو تب بھی وارننگ دی جارہی ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے الزام عائد کیا کہ پی ٹی ایم کو انڈیا کے خفیہ ادارے را اور افغانستان کے خفیہ ادارے این ڈی ایس سے رقوم موصول ہوئیں۔انھوں نے سوال کیا کہ’ 22 مارچ 2018 کو این ڈی ایس نے آپ کو احتجاج جاری رکھنے کے لیے کتنے پیسے دیے؟ انھوں نے یہ سوال بھی کیا کہ ’اسلام آباد میں سب سے پہلا دھرنا ہوا اس کے لیے انڈین خفیہ ایجنسی را نے پی ٹی ایم کو کتنے پیسے دیے، وہ کس طریقے سے پہنچے اور انھوں نے کہاں استعمال کیے؟
قوم سوال کرنے پر مجبور ہے کہ ان اطلاعات اور حالات کے باوجود اب بھی صرف سازشی عناصر کے خلاف سخت کارروائی کے بجائے صرف باتیں کیوں کی جارہی ہے ؟ ضرورت اس بات کی ہے کہ صرف ایسے عناصر کا مکمل خاتمہ کیا جائے بلکہ ان کی حمایت کرنے والے سیاستدانوں کو بھی ملک اور اس کے اداروں کا احترام کرنے کا سبق سکھایا جائے۔ کیونکہ دنیا کا کوئی بھی ملک اپنے ریاستی اداروں کے خلاف کوئی بھی مخالف سرگرمی برداشت نہیں کرتا۔

منظور پشتین جانوروں کا ڈاکٹر ہے

منظور احمد محسود عرف منظور پشتین ملک کے ہی نہیں دنیا کے واحد سیاسی رہنما ہیں جن کے پاس جانوروں کے علاج سے متعلق’’ ڈاکٹر آف وٹرنیری میڈیسن‘‘ کی ڈگری ہے جو انہوں نے 2016 میں گومل یونیورسٹی ڈیرہ اسماعیل خان سے حاصل کی۔ اس طرح منظور احمد پشتون بنیادی طور پر ایسی سیاسی لیڈر ہیں جو جانوروں کی ادویات ، ان کی نفسیات اور ان کے علاج کو سمجھ سکتے ہیں۔ ملک کے لیے یہی بات بہت مضحکہ خیز ہے کہ ایک جانوروں کا ڈاکٹر ہمارا سیاستدان ہے۔ منظور پشتین کا ایک بھائی جنوبی وزیرستان میں قتل بھی ہوچکا ہے۔ جس طرح الطاف حسین کے چچازاد بھائی قتل ہوئے تھے۔یہ اس طرح بھی الطاف کی طرح سیاستدان ہیں جن کے خاندان کا کوئی بھی شخص ان سے پہلے سیاست میں نہ تھا۔ منظور تو سیاسی معاملات سے 2008 تک اس قدر دور تھے کہ ان کو ملک کے بڑے سیاستدانوں کا نام تک معلوم نہیں تھے۔ ان کے والد ایک پرائمری اسکول ٹیچر تھے۔

حصہ