ہسپتال یا؟

123

ابنِ عباس
نشوا اور عصمت کے خاندان کو انصاف ضرور ملے گا غیر ذمہ دارانہ اور مجرمانہ غفلت ثابت ہونے پر ہسپتالوں کیخلاف کاروائی کی جائے گی دارالصحت ہسپتال کا 50 فیصد سے زائد عملہ غیر تربیت یافتہ ہے، تربیت یافتہ اور غیر تربیت یافتہ عملے کی شناخت کے لئے تمام نجی ہسپتالوں کے اسٹاف کا آڈٹ کرائیں گے۔
ایک جانب وزیر اعلی سندھ سید مراد علی شاہ اورصوبائی وزیرصحت ڈاکٹر عذرا پیچوہو نشوا اور عصمت کے گھر جا کرمجرموں کے خلاف سخت ترین کارروائی کرنے کے اعلانات کررہے تھے تو دوسری جانب دارالصحت ہسپتال کے عملے نے سندھ ہیلتھ کیئر کمیشن کی جانب سے ہسپتال سربمہر کیے جانے کے خلاف شاہراہِ فیصل تھانے کا گھیراؤ کر رکھا تھا۔
تھانے کا گھیراؤ کرنے کے پیچھے کیا عوامل تھے اس کے بارے میں بات کرنے سے پہلے دارالصحت ہسپتال گلشن اور سندھ گورنمنٹ ہسپتال کورنگی میں ہونے والے واقعات پر ایک نگاہ ڈال لیتے ہیں۔
9ماہ کی نشوا طبیعت خرابی کے باعث کراچی کے نجی ہسپتال میں داخل ہوئی تھی نشوا کئی روز تک دارلصحت اسپتال میں زیرعلاج رہی جس کے بعد بچی کو لیاقت نیشنل اسپتال منتقل کردیا گیا۔ غلط انجیکشن لگنے سے نشوا کا 71 فیصد دماغ مفلوج ہوگیا۔
نشوا کو 3 مختلف اوقات میں ڈرپس لگائی گئیں، جب گھر لے جانے لگے تو بچی کی حالت بگڑنے لگی۔ جس کے بعد اسپتال نے تصدیق کی کہ بچی کو غلط انجکشن کی وجہ سے اس کی طبیعت بگڑ گئی، نشوا ایک ہفتے تک وینٹی لیٹرپراسپتال میں ہی ایڈمٹ رہی ، وینٹی لیٹر ہٹایا گیا تو بچی پیرالائز ہوچکی تھی۔
والدین کا کہنا ہے کہ بچی کی حالت غلط انجیکشن لگنے سے خراب ہوئی اور اس کا دماغ مکمل مفلوج ہو چکا ہے۔
غفلت برتنے کے الزام میں دارالصحت اسپتال انتظامیہ کیخلاف شارع فیصل میں مقدمہ درج کیا گیاجبکہ دوسری جانب اسپتال انتظامیہ نے غلطی تسلیم کرتے ہوئے متعلقہ ملازم کو معطل کردیا ہسپتال انتظامیہ کی جانب سے عملے کی معطلی کے احکامات سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ ہسپتال انتظامیہ اس بات کو تسلیم کرتی ہے کہ نشوا کی موت ان کے عملے کی غفلت کی وجہ سے ہوئی۔
اسی طرح کی مجرمانہ غفلت پچھلے دنوں کورنگی میں قائم سرکاری ہسپتال میں بھی دیکھنے کو ملی جہاں انسانی خدمت پر مامور افراد نے ایک مریضہ عصمت غلط دوائی دے کراپنی ہوس کا نشانہ بنایالڑکی کو کورنگی کے ایک معروف ہسپتال میں دانت کے علاج کے لیے لے جایا گیا تھا۔
متاثرہ خاندان کا کہنا ہے کہ لڑکی کو انجیکشن دینے سے قبل جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا گیاتاہم ایف آئی آر میں متعلقہ سیکشن شامل نہیں کیا گیا۔
ڈپٹی انسپکٹر جنرل (ڈی آئی جی) ایسٹ عامر فاروقی کے مطابق پولیس ان الزامات کی تحقیقات کررہی ہے اور جیسے ہی تفتیش مکمل ہوگی تو جرم بھی واضح ہوجائے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ متاثرہ لڑکی کے ڈی این اے ٹیسٹ کے لیے نمونے حاصل کرلیے گئے ہیں اور جائزے کے لیے بھیج دیے گئے ہیں۔
ڈی آئی جی ایسٹ نے کہا کہ ابتدائی میڈیکل رپورٹ میں ‘جنسی زیادتی’ کا انکشاف ہوا ہے لیکن جناح ہسپتال سے ملنے والی آخری رپورٹ کا انتظار ہے۔
اس واقع میں بھی ابتدائی رپورٹ کے مطابق جنسی زیادتی کا انکشاف ہوا ہے یوں نشوا اور عصمت کیس میں مماثلت پائی جاتی ہے یعنی دونوں کی موت ہسپتال عملے کی غفلت کی وجہ سے ہوئی،
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ وزیراعلی سندھ سید مراد علی شاہ مجرموں کو سزا دلوانے میں کامیاب ہو پائیں گے یا نہیں یا پھرماضی کی طرح لواحقین در در کی ٹھوکریں کھاتے پھریں گے؟ کیا دارالصحت ہسپتال کو مستقل طور پر سیل کیا جاسکے گا،یا نہیں؟ سرکاری ہسپتالوں میں تعینات کالی بھیڑوں کے خلاف بھی کاروائی عمل میں لائی جا سکے گی یا نہیں؟ایسے اور ان جیسے کئی سوالوں کے جوابات اب سندھ حکومت کو دینا پڑیں گے ہمارے ملک کی تاریخ رہی ہے کہ جب بھی کوئی واقعہ رونما ہو جائے تو حکمرانوں سمیت سارا ہی میڈیا اس پر تعزیتی بیانات اور لواحقین سے ہمدردی شروع کر دیتا ہے وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ سب کچھ ختم ہو جاتا ہے یعنی رات گئی بات گئی اب دیکھنا یہ ہوگا کہ صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر عذرا پیچوہوجو صرف اخباری پریس کانفرنس تک تو نظر آتی ہیں عملی طور پر کتنا سرگرم نظر آتی ہیں جہاں تک دارالصحت ہسپتال کے عملے کی جانب سے تھانے کے گھیراؤ کا تعلق ہے تو کون نہیں جانتا کہ ماضی میں اس ہسپتال کی انتظامیہ کس قدر طاقتور رہی ہے شہر کراچی میں رہنے والا ہر شخص جانتا ہے کہ اس ہسپتال کے عملے کی سیاسی ہمدردیاں کس کے ساتھ رہی ہیں یہاں علاج کے لیے آنے والوں کو محض مخالف سیاسی وابستگی کے باعث نشانہ بنایا جاتا رہا ہے۔
حکومت کا فرض ہے کہ ایسے وقت میں جب ملک میں بے روزگاری انتہائی بڑھتی جا رہی ہے وہ نہ صر ف لوگوں کے روزگار کا بندوبست کرے بلکہ برسرِ روزگار افراد کے روزگار کا تحفظ بھی کرے کراچی کے ہسپتالوں میں ہونے والے ان واقعات کے پیچھے جو لوگ بھی ملوث ہیں یعنی جس نے بھی غفلت برتی ہے اس کے خلاف کاروائی ہونی چاہیے لیکن اس بات کا خیال بھی رکھنا ہوگا کہ جو لوگ کسی بھی غیر قانونی سرگرمی یا غفلت کے مرتکب نہیں پائے گئے ان کے روزگار کا تحفظ کیا جانا چاہیے۔
حکومت سندھ خصوصاً صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر عذرا پیچوہو کو چاہیے کہ وہ سرکاری و نجی ہسپتالوں کے عملے کی تربیت کے لیے ایسے پروگرام موکا آغاز کریں جس سے عملے کی نفسیاتی تربیت ہو سکے جس سے پبلک ڈیلنگ سمیت شعبہ صحت سے منسلک ان کی ذمہ دارانہ اور پیشہ ورانہ صلاحیتیں اجاگر ہو سکیں عملے کے رویوں کی بہتری کے لیے باقاعدہ تمام ہسپتالوں میں روزانہ کی بنیاد پر ٹریننگ سیکشن شروع کروائے جائیں۔
حکومت کو ایسی دوا ساز کمپنیوں پر بھی نگاہ رکھنی ہوگی جو ڈاکٹروں سے ڈیل کے نام پرچند پیسوں کا لالچ دے کر اپنی ادویہ لکھوا رہی ہیں ایسے ڈاکٹروں کو بھی احتساب کے دائرے میں لانا ہوگا جو مختلف کمپنیوں کے نمائندوں سے اپنے پرائیویٹ ہسپتالوں میں ان کی لوکل ادویہ لکھنے کے عوض مختلف کام کروا رہے ہیں۔
میں ذاتی طور پر ایسے کئی ڈاکٹروں کو جانتا ہوں جنہوں نے مختلف کمپنیوں سے نہ صرف اپنے نجی ہسپتالوں اورگھروں میں لاکھوں روپے کے کام کروائے بلکہ بیرون ملک تفریح کی غرض سے مختلف پیکج تک وصول کیے ایسے اور ان جیسے اقدامات سے ہی صحیح معنوں میں نجی و سرکاری ہسپتالوں کی حالت درست کی جا سکتی ہے بصورت دیگر تمام معاملات اعلانات کے حد تک ہی محدود رہیں گے۔

حصہ