پاکستانی فرنیچر مصنوعات کی برآمدات بڑھنے سے پاکستان کی معیشت مضبوط ہوگی، اسد شمیم

113

سید وزیر علی قادری
اللہ تعالیٰ نے جس طرح پاکستان کو بے پناہ نعمتوں سے نواز رکھا ہے وہیں اس پاک ذات نے پاک سر زمین پر جنم لینے والوں کو بھی کمال ذہانت دے رکھی ہے۔ پاکستانی قوم کے ہونہار سپوت دُنیا میں جہاں بھی گئے انہوں نے اپنی انتھک محنت اور جفاکشی کی بدولت اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا کر پاکستان کا نام روشن کیا انہی میں سے ایک نام اسد شمیم کا بھی ہے جو اصول پسند بزنس مین اور باکردار انسان ہیں۔ جوانگلینڈ میں مقیم ہیں۔ محنت میں عظمت کا فلسفہ اسد شیم پر صحیح لاگو ہوتا ہے۔ انتھک محنت، ایمانداری اور لگن کے ساتھ انہوں نے اپنے آپ کو اس قابل بنایا کہ آج ان کا شمار برطانیہ کے کامیاب بزنس مینوں میں ہوتا ہے۔ بزنس میں انتھک محنت اور ایمانداری کو شعار بنا کر انہوں نے ترقی کی منازل طے کیں۔برطانیہ میں ایشین بزنس لیڈر ایوارڈ جیتنے والے پاکستانی نژاد بزنس مین اسد شمیم نے زمانہ طالب علمی سے ہی اپنے کاروبار کی شروعات کیں۔ مانچسٹر کے رہائشی اسد شیم نے بزنس کا آغاز کپڑوں اور گفٹ آئٹم کے ایک ڈپارٹمنٹل اسٹور سے کیا، جو اب ایک بڑے فرنیچر بزنس میں تبدیل ہوگیا ہے۔ برطانیہ میں ان کی کمپنی ملٹی ملین پاؤنڈز کی ہے، جس کی ویب سائٹ پر یومیہ ہزاروں افراد وزٹ کرتے ہیں۔ وہ معروف بزنس مین ہونے کے ساتھ ساتھ باکسنگ پروموٹر، بزنس مینٹور اور مارکیٹنگ کے امور پر ایک برطانوی فرم کے سینئر مشیر بھی ہیں۔ ’’ جسارت سنڈے میگزین ‘‘ نے برطانیہ میں ’’ڈیجیٹل میڈیا کی کامیاب ایپلی کیشن‘‘ بنانے پر برطانیہ میں ایشین بزنس لیڈر ایوارڈ جیتنے والے پاکستانی نژاد برطانوی بزنس مین فرنیچر اِن فیشن کے چیف ایگز یکٹو جو پاکستان آئے ہویے تھے اسد شمیم سے خصوصی انٹر ویو کیا ، قارئین کی نذر ہے ۔
سوال: سب سے پہلے تو آپ ہمارے قارئین کو اپنے خاندانی پس منظر اور ابتدائی زندگی کے بارے میں بتائیں ؟
اسد شمیم : میرا تعلق پاکستان کے صوبہ پنجاب کے علاقے ٹوبہ ٹیک سنگھ سے ہے جبکہ میری پیدائش ساہیوال کی ہے، میں اپنی والدہ کے ساتھ 1976 میں برطانیہ آگیا تھا۔اس وقت میری عمر 5سال تھی۔ میں نے 1995 میں برطانیہ سے فنانس اور اکاؤنٹنگ میں گریجویشن کی ڈگری حاصل کی ۔بچپن ہی سے بزنس مین بننے کے خواب دیکھنا شروع کر دیے تھے،پھر ان خوابوں کی تعبیر کیلئے میں نے پڑھائی کے ساتھ بزنس شروع کرنے کا فیصلہ کیا اور یوں میں نے 1989 میں صرف 15 سال کی عمر میں 25 ہزار پاؤنڈز سے بزنس شروع کرکے اپنے خوابوں کوحقیقت کا روپ دینے کی بنیاد رکھی۔
سوال:آپ نے برطانیہ میں کونسا بزنس شروع کیا تھا؟
اسد شمیم : میں نے 1995 میں ورلڈ آف فیشن کے نام سے ایک اسٹور شروع کیا تھا، جس میں مردوں اور عورتوں کی گارمنٹس کے علاوہ شوز اور گفٹ کلیکشن بھی تھی۔میں نے 2005 اسی اسٹور میں فرنیچر متعارف کرایا اور اس نے لوگوں کی بھر پور توجہ حاصل کی۔جب فرنیچر کا کام بڑھنے لگا تو میں نے سوچا کہ 2006 میں فرنیچر کو آن لائن فروخت کیا جائے۔ اسی سال میں نے فرنیچر اِن فیشن (Furniture in Fashion)کے نام سے ویب سائٹ لانچ کی۔ چین سے آنے والا جو فرنیچر ہم 250 پاؤنڈ میں فروخت کرتے ہیں وہ ہمیں امپورٹ ڈیوٹی اور ٹیکس ملا کر 125 پاؤنڈ یعنی آدھی قیمت میں پڑتا ہے۔ لہٰذا برطانیہ میں فرنیچر کے کام میں بہت منافع ہے۔ ہماری کمپنی کا کاروباری حجم ملین پاؤنڈ میں ہے۔ ویب سائٹ پر کم سے کم 7 اور زیادہ سے زیادہ 10 ہزار افراد ہر روز وزٹ کرتے ہیں۔ دراصل اپنے سٹور میں فرنیچر رکھنے کا آئیڈیا مجھے یوں آیا کہ میرے پاس ایک جرمن ایجنٹ تھا اس نے بتایا کہ وہ جرمن کمپنی کا فرنیچر فروخت کرتا ہے۔ لہٰذا اس وقت میں نے ایک چھوٹے پیمانے پر فرنیچر کا بزنس شروع کیا اور اسٹور میں ان کا ایک چھوٹا کلیکشن رکھا۔ اس کے بعد جرمنی کے مزید سپلائرز کو ساتھ ملا کر فرنیچر کے کاروبار کو پروان چڑھایا۔ بعد ازاں میں نے کپڑوں کا کام بتدریج کم کرتے ہوئے بند کر دیا۔ 2001 میں میرا ڈپارٹمنٹ ا سٹور تھا اور آن لائن خریداری کا تصور بہت کم تھا۔ لیکن میرا ایک ویژن تھا کیونکہ وقت کے ساتھ ساتھ لوگوں کے طور طریقے بدلتے ہیں۔ فرنیچر میں مسابقت کم تھی، اسی لئے ہم نے کپڑوں کے کاروبار پر فرنیچر کو ترجیح دی۔ کیونکہ فرنیچر کا فیشن بہت جلدی نہیں بدلتا۔ فرنیچر میں ایک، ایک پروڈکٹ 3 سے 5 سال تک فروخت کی جاسکتی ہے۔ اس کے برعکس کپڑوں کا فیشن ہر ہفتے بدلتا ہے۔برطانیہ میں ایک اوسط فرنیچر سیٹ 250 پاؤنڈ کا ہوتا ہے، جو 43500 پاکستانی روپے بنتے ہیں۔ اس فرنیچر کی ا یوریج لائف ٹائم 5 سال ہوتی ہے۔ فرنیچر اب ہم خود تیارکرتے ہیں، میں نے ایجنٹس کی خدمات حاصل کر رکھی ہیں جن کے ذریعے میں چین کی فیکٹریوں سے فرنیچر تیار کراتا ہوں۔ ہمارے باکسز پر برینڈ کا نام لگ کر آتا ہے۔ چین میں ہماری 20 فیکٹریاں کام کر رہی ہیں، جہاں سے فرنیچر بن کر آ رہا ہے۔ یورپ میں فرنیچر کی تیاری کی لاگت بہت بڑھ چکی ہے، جس کے باعث درآمد کنندگان کا جھکاؤچین کی طرف ہے۔ جرمنی کے تاجر بھی بڑی تعداد میں اب اپنا فرنیچر جرمنی میں نہیں بنا رہے بلکہ وہ پولینڈ، ترکی و دیگر ممالک سے فرنیچر تیار کروا رہے ہیں، جس کے باعث جرمن فرنیچر کی ویلیو پہلے جیسی نہیں رہی۔ جرمن سپلائرز نے خود امپورٹ کرنا شروع کر دیا ہے۔
سوال:پاکستان کو غیر ملکی سرمایہ کاری کی اشد ضرورت ہے ،تو آپ برطانیہ سمیت یورپ کے سرمایہ کاروں کو پاکستان میں سرمایہ کاری کرنے کے حوالے سے راغب کرنے کیلئے کیا کر رہے ہیں ؟
اسد شمیم : 2001 میں اس وقت کے وزیر خزانہ شوکت عزیز سے پاکستان جاتے ہوئے جہاز میں ملاقات ہوئی۔ دوران سفر وہ میری گفتگو سے کافی متاثر ہوئے اور انہوں نے مجھے کہا کہ اسد آپ نے پاکستان میں ایک بین الاقوامی سرمایہ کاری کانفرنس کا انعقاد کرنا ہے۔ جس پر میں نے حامی بھرلی اور پھر برطانیہ میں کلیکسو، فارماسیوٹیکل کمپنیوں، بینکرز اور سرمایہ کاروں سمیت تمام ایلیٹ کمپنیوں کو پاکستان جانے پر آمادہ کیا۔ تاکہ وہ پاکستان میں سرمایہ کاری کریں اور ملٹی نیشنل کمپنیاں پاکستان کے ساتھ تجارت کریں تاکہ پاکستان برآمدات میں اضافہ کیا جاسکے۔ اسلام آباد میں بین الاقوامی سرمایہ کاری کانفرنس کے انعقاد کے سلسلے میں میری3 مرتبہ شوکت عزیز سے بات بھی ہوئی۔ لیکن اس عرصے میں نائن الیون کا واقعہ ہوگیا، جس کے باعث بین الاقوامی سرمایہ کاری کانفرنس منسوخ ہوگئی۔ اس صورتحال پر مجھے بہت افسوس ہوا کیونکہ میں نے اس سلسلے میں بہت محنت کی تھی اور اس کا مقصد صرف یہ تھا کہ میں اپنے آبائی ملک پاکستان کی خدمت کر سکوں۔بہرحال نائن الیون کے کچھ عرصے بعد میں نے شوکت عزیز سے متعدد مرتبہ رابطے کی کوشش کی مگر انہوں نے میری کال ہی اٹینڈ نہیں کی کیونکہ وہ وزیر اعظم بن چکے تھے۔میں بین الاقوامی سرمایہ کاری کانفرنس سے متعلق تمام تیاریاں مکمل کر بیٹھا تھا۔ برطانیہ سمیت یورپ کی مختلف ملٹی نیشنل کمپنیوں کو ایپروچ کرکے ایسی فضا قائم کی تھی کہ پاکستان میں تجارت کا ماحول بن سکے ۔مگر حکومت کی جانب سے دلچسپی کا مظاہرہ نہیں کیا گیا۔ تمام بڑی کمپنیاں جو میری creditabilityکی وجہ سے پاکستان آ رہی تھیں، حکومت کی جانب سے کوئی مثبت رد عمل سامنے نہیں آیا۔ پاکستان کے ساتھ تجارت میں ہچکچاہٹ کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ غیر ملکی کمپنیوں کو پاکستان کے حکام اور افسران پر اعتماد نہیں ہے۔ حکومت کو چاہیئے کہ ایکسپورٹ اورئنٹڈ انڈسٹریز کو فروغ دیں اور جائزہ لیں کہ کن ممالک یا عالمی منڈیوں میں پاکستان کی کون سی مصنوعات جگہ بنا سکتی ہیں، اس سلسلے میں اوور سیز پاکستانی ایک پُل کاکردار ادا کرسکتے ہیں کیونکہ یہ ہی بیرون ملک پاکستان کا چہرہ ہیں۔ یہاں مقامی طور پر پاکستان میں انویسٹمنٹ سے متعلق بہت سی میٹگنز ہوتی ہیں، لیکن حکومت کی جانب سے ایک ٹیم متعین کی جانی چاہیے۔ افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ عمران خان کی حکومت میں بھی وہی کام ہو رہے ہیں جو پہلی حکومتوں میں ہو رہے تھے۔
سوال: کیا آئی ایم ایف یا ورلڈ بینک سے قرض لے کر پاکستان کی معیشت مضبوط ہو سکتی ہے؟
اسد شمیم : آئی ایم ایف ہو یا ورلڈ بینک یا پھر کوئی بھی عالمی مالیاتی ادارہ کسی بھی ملک کو قرض دیتے وقت اس پر اپنی مرضی کی شرائط عائد کرتا ہے جن کا مقصد دراصل قرض کیلئے دی گئی رقم کی سود سمیت وصولی کو بھی یقینی بنانا ہوتا ہے۔ اس لیے پاکستان ہو یا دنیا کا کوئی بھی ترقی پذیر ملک اگر وہ اپنی معیشت میں بہتری کے نام پر آئی ایم ایف جیسے اداروں سے رجوع کرتا ہے تو وہاں کے عوام، سیاسی اشرافیہ، سماجی ماہرین یا کسی بھی شعبہ زندگی سے تعلق رکھنے والے دانشوروں کو حیرت نہیں ہونی چاہیے کہ قرض کے عو ض اس ملک کو اپنی معاشی پالیسیاںقرض دینے والے ادارے کی مقرر کردہ شرائط کے مطابق ترتیب دینا پڑتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان نے جب بھی آئی ایم ایف کے معاشی پروگرام میں شمولیت اختیار کی تو اسے اس عالمی ادارے کی شرائط اور قواعد و ضوابط کو بھی تسلیم کرنا پڑا۔ لیکن زمینی حقائق کو دیکھا جائے تو اس قرض کے عوض وزارت خزانہ کو چاہتے نہ چاہتے ہوئے ایسے معاشی فیصلے کرنا پڑے جن کی وجہ سے عام آدمی کو بدترین مہنگائی اور مالی دبائو کا سامنا کرنا پڑا۔ میںسمجھتا ہوں کہ ملکی معیشت اس وقت تک درست خطوط پر استوار نہیں ہو سکتی جب تک معاشی بحالی کیلئے قرض پالیسی سے جان نہیں چھڑا ئی جائے گی۔ جہاں تک آئی ایم ایف نے قرض لینے کا معاملہ ہے تو صرف پاکستان ہی نہیں دنیا کا کوئی ملک اس عالمی ادارے کے معاشی پروگرام کے ذریعے اپنی معیشت کو بحال نہیں کر سکا۔ جہاں جہاں بھی آئی ایم ایف سے قرض کی پالیسی کو اپنایا گیا وہاں ٹیکسوں کے بے ہنگم نظام نے عام آدمی کی زندگی کو عذاب تو ضرور بتایا لیکن معاشی آسودگی کی کوئی صورت دکھائی نہیں دی۔ اس لیے ہم تو اپنے معاشی ماہرین، وزارت خزانہ اور وفاقی حکومت کو کھلے لفظوں میں مشورہ دیں گے کہ جتنی جلدی ممکن ہو سکے قرض کے سودی نظام سے چھٹکارا حاصل کر کے معیشت کو خود انحصاری کے اصول پر استوار کرنے کی منصوبہ بندی کی جائے۔ معیشت کے اس ہدف کواگرچہ آسانی سے تو حاصل نہیں کیا جاسکے گا تاہم اس راستے کو اختیار کر کے ہی معاشی بحران سے نکلنے کی سبیل کی جا سکے گی۔موجودہ جمہوری حکومت کو یہ حقیقت ہرگز صرف نظر نہیں کرنی چاہیے کہ 2018کے انتخابات میں پاکستانی عوام نے بد ترین معاشی پالیسی سے تنگ آکر اس پراعتماد کا اظہار کیاتھا۔ لوگ یہ اُمیدرکھتے ہیں کہ وزریراعظم عمران خان اپنی ٹیم کے ساتھ ملکی معیشت کوایسے خطوط پراستوار کرنے میں کامیاب ہوجائیں گے کہ جس کے نتیجے میں میں عام آدمی کی آمدن اور ذرائع آمدن میں اضافہ، افراط زر میں کمی اور شرح نمو میں بڑھوتری کو یقینی بنایا جا سکے۔ موجودہ حکومت اگر اوپر سے نیچے کی طرف کرپشن کے خاتمے پر توجہ دے تو اس سے بھی بہت سے معاشی مسائل حل ہو سکتے ہیں۔ مصنوعی مہنگائی، ذخیرہ اندوزی، ملاوٹ جیسے سماج دشمن رجحانات کے خلاف راست اقدام، توانائی کے بحران پر قابو اور امن و امان کی صورتحال کو یقینی بنا کر بھی معاشی حالات میں مثبت تبدیلیاں لائی جا سکتی ہیں۔ اس حقیقت میں کوئی شبہ نہیں کہ پاکستان اپنے قدرتی وسائل، افرادی قوت، یوتھ، کھیل، سیاحت، صنعت، تجارت، زراعت اور برآمدات جیسے پہلوئوں کو منظم منصوبہ بندی کے تحت بروئے کار لا سکتے تو نہ صرف ہماری معیشت میں انقلاب آسکتا ہے بلکہ ہم قرض لینے کے بجائے دینے والے ممالک کی فہرست میں شامل ہو سکتے ہیں لیکن اس کیلئے بیدار معز قیادت اور قوم پرستی کے جذبے سے سرشار سیاسی دانش کی اشد ضرورت ہے۔
سوال: ملک کو معاشی طور پر مضبوط بنانے کیلئے کن اقدامات کی ضرورت ہے؟
اسد شمیم : ملک کو امن و امان کا گہوارہ بنایا جائے۔ توانائی کے بحران کا خاتمہ کیا جائے۔توانائی کے بحران کا خاتمہ کرنے کیلئے اور سستی بجلی کے حصول کیلئے حکومت کالا باغ ڈیم تعمیر کرے۔ پاکستان کی عدلیہ اور حکومت نے دیامر بھاشا ڈیم اور مہمند ڈیم تعمیرکرنے کا درست فیصلہ کیا ہے ۔ لیکن کالا باغ ڈیم کی تعمیر پاکستان کیلئے سب سے زیادہ ضروری ہے ۔معیشت کی مضبوطی کے لیے زیادہ سے زیادہ ٹیکسوں کی وصولی ناگزیر ہوتی ہے۔ اس کے لئے منصفانہ اصول ٹیکس جمع کرانے والے اصول ایف بی آر کو اپنانے ہوں گے۔ منصفانہ اصول سے مراد ہے زیادہ آمدنی والوں سے زیادہ اور کم آمدنی والوں سے کم ٹیکس وصول کرنا۔ اس سلسلے میں کسی کو بھی ٹیکس سے استثنیٰ نہ دیا جائے، چاہے اس کی آمدنی زراعت سمیت کسی بھی شعبے سے کیوں نہ ہو۔ بنیادی نکتہ یہ ہونا چاہیے کہ ٹیکس سے استثنیٰ والی سالانہ آمدنی کی حد تمام افراد کے لیے یکساں ہو۔ ایک حد سے زیادہ آمدنی والے تمام افراد سے یکساں نرخوں سے ٹیکس وصول ہونا چاہیے تاکہ ملک و قوم خود انحصاری کی منزل پا سکیں اور ان کو بین الاقوامی اداروں اور دوسرے ملکوں کے سامنے کشکول لے کر نہ پھرنا پڑے۔ ٹیکس چور سے بھاری رشوت لے کر چھوڑنے کا سلسلہ ایف بی آر کو بند کرنا ہو گا اور ٹیکس چور سے نہ صرف جرمانوں کے ساتھ ٹیکس وصول کرنا ہو گا بلکہ انکم ٹیکس و سیلز ٹیکس قانون کے تحت جیلوں میں ڈالنا ہو گا گھروں سے ہتھکڑیاں لگا کر جیل میں جاتے ہوئے ٹی وی چینلوں پر براہ راست دکھانے کا بندوبست کرنا ہو گا تاکہ باقی ٹیکس چور عبرت پکڑ سکیں۔ مذکورہ دو اقدامات کے ساتھ ساتھ ایف بی آر اور حکومت کو ملکی معیشت کی زیادہ سے زیادہ ڈاکو مینٹیشن کرنا ہو گی تاکہ لوگوں کے پاس ٹیکس چوری کے مواقع کم سے کم ہوں لوگوں کو ٹیکس کی ادائیگی کی ترغیب دینے کے لیے اگر حکمران اور پارلیمنٹرین اپنی آمدن کے گوشوارے اور دولت کے گوشوارے رضاکارانہ طور پر برسر عام داخل کریں تو خود اپنی سالانہ آمدنی اور اثاثوں کو میڈیا پر دکھا کر داخل کریں تو عوام کو مزید ترغیب ملے گی کیونکہ عام لوگوں کا تاحال یہ تاثر ہے کہ حکمران سول و فوجی بیورو کریٹس، پارلیمنٹرین، ارکان اسمبلی عوام پر تو ٹیکس لگاتے ہیں لیکن بیشتر خود پورا ٹیکس ادا نہیں کر رہے۔ سول و ملٹری بیورو کریسی کی تنخواہوں سے تو ٹیکس منہا ہوتارہتا ہے لیکن بہت سے افسران کے تنخواہ کے علاوہ بھی ذرائع آمدن ہیں جن پر ٹیکس کی ادائیگی قانونی طور پر لازم ہے۔ہر وزارت ہر ڈویژن ہر محکمے سے کرپشن کا خاتمہ ناگزیر ہو گیا ہے۔ کرپشن ختم کئے بغیر پاکستان کی معیشت مضبوط نہیں ہو سکتی۔

حصہ