میری وال سے

128

افشاں نوید
پچھلے ہفتے ملیر جارہے تھے عزیزوں کے گھر… بیٹے نے چوراہے کے ایک جانب مسجد کے سامنے گاڑی درخت کے نیچے پارک کی، بولا’’ ظہر کی جماعت کھڑی ہورہی ہے، ابھی آیا فرض پڑھ کر‘‘۔ میں نے جو دیکھا مسجد سے متصل آستانۂ عالیہ ہے، تو سوچا گاڑی میں کیوں وقت ضائع کروں، آستانے چلی جاتی ہوں۔
درجن بھر مرد باہر سیمنٹ کی کرسیوں پر دھوپ میں بیٹھے تھے۔ سب عورتیں چپل باہر اتار رہی تھیں۔ میں بھی ننگے پاؤں چکنے فرش سے بائیں جانب کمرے میں داخل ہوگئی۔ چٹائی پر بارہ چودہ عورتیں چار قطاروں میں بیٹھی تھیں۔ پہلی قطار کی تین عورتیں سر گھٹنوں میں دئیے بیٹھی تھیں۔ تیسری قطار کی عورت نے مسکراکر مجھے دیکھا تھا، اس لیے میں دوسری قطار میں بیٹھ گئی تاکہ اس سے مخاطب ہوسکوں۔ میں نے کہا ’’مجھے یہاں کیا کرنا ہے، آج پہلی بار آئی ہوں۔‘‘
وہ ہنس مکھ سی خاتون بولیں ’’ارے تو دوسری قطار میں کیوں لگ گئیں، فوراً پہلی قطار میں جاؤ‘‘۔
میں نے کہا ’’اب کیا ہونا ہے یہاں؟‘‘
بولی ’’ابھی نمازِ ظہر ختم ہوگی تو بڑے اور چھوٹے پیر صاحب آئیں گے۔ پھر پہلے استخارہ نکلوانا، تب اگلے مرحلے کا پتا چلے گا‘‘۔
میں نے کہا ’’استخارہ میں تو کئی دن لگتے ہیں!‘‘
بولی ’’ارے نہیں بابا، ہاتھوں ہاتھ ہوجاتا ہے یہاں۔ چھوٹے پیر صاحب کو سو روپے دینا، وہ اسی وقت استخارہ کرکے تمہیں بتادیں گے۔ پھر بڑے پیر صاحب بتائیں گے کیا کرنا ہے، کس دن حاضری دینا ہے۔‘‘
میں نے پوچھا ’’پیسے کتنے درکار ہوتے ہیں؟‘‘
وہ بولی ’’خوشی کے سودے ہیں، جتنی بڑی مراد اتنا بڑا نذرانہ۔ سب خوشی خوشی جھولیاں بھر کر دیتے ہیں یہاں۔‘‘
’’تمہیں کیا پریشانی ہے؟‘‘
اب کے سوال اُس عورت کا تھا جس کے پیچھے اُس کی نوجوان بیٹی بیٹھی تھی۔ میں ہرگز سوال کے لیے تیار نہ تھی۔ جواباً کہا ’’ایسا بھی کوئی ہے جس کو دکھ نہ ہو؟ ہیں کچھ پریشانیاں۔‘‘
اتنے میں چوتھی صف کی پہلی عورت جس کے ایک شاپر میں فروٹ اور ایک میں سرخ گلاب تھے، یکدم اپنی جگہ سے اٹھی، چھوٹا سا جالی کا دروازہ کھولا اور سامنے والے ملحق کمرے میں داخل ہوگئی۔ وہاں کچھ ملگجا سا اندھیرا تھا۔ میں نے بغور دیکھا تو اس کمرے میں قبر تھی جس کے پیچھے بڑی سی سنگِ مرمر کی تختی لگی تھی، جس پر پھول چڑھے ہوئے تھے۔ وہ عورت فوراً قبر کے سامنے سجدے میں گر گئی۔ میں نے انہی خاتون سے جو اَب مجھے مزید جواب دینے پر تیار نہ تھیں اور مُصر تھیں کہ میں خاموشی سے پہلی قطار میں اپنی باری کا انتظار کروں، آخری سوال کرڈالا ’’یہ قبر کس کی ہے؟‘‘
بولیں ’’ارے تمہیں اتنا نہیں پتا! بڑے پیر صاحب کی ہے۔ ان حضرت کی برکت سے تو شفا پاتے ہیں یہاں آنے والے۔ بڑے بزرگ تھے، اللہ کے ولی۔ انہی کے تو قدموں میں آکر بیٹھتے ہیں ہم۔‘‘ وہ سرگوشی میں بتانے لگی۔
سرگوشیاں تو میں بھی کررہی تھی،کیونکہ گفتگو کرنا بظاہر اس ماحول کے تقدس کے خلاف محسوس ہورہا تھا۔ وہ سامنے سجدے میں پڑی عورت سسکیاں لے رہی تھی۔ اس دوسری صف کی عورت نے تیسری صف میں بیٹھی خاتون سے کہا ’’تمہیں اس کو روکنا چاہیے تھا، پیر صاحب آنے ہی والے ہوں گے۔‘‘
میں یہ سن کر خاموشی سے دبے پائوں نکل آئی کہ بیٹا مجھے تلاش کرکے پریشان ہوگا۔بھری آبادیوں کے بیچ یہ سب ہوتا ہے۔ کس کو نہیں معلوم ہوگا کہ اس آستانۂ عالیہ میں کیا کیا ہوتا ہے؟
ہم عزیزہ کے گھر پہنچے، باتوں باتوں میں بتایا کہ آج آستانے گئی تھی۔ یکدم خوش ہوکر بولیں ’’ہاں، بہت پہنچے ہوئے بزرگ تھے۔ ان کے اتنے عقیدت مند ہیں کہ مزار بھی وہیں احاطہ میں بنانا پڑا۔ رات دن تانتا بندھا رہتا ہے، ہزاروں من کی مرادیں پاتے ہیں، مگر…‘‘
اللہ کو تو شرک سے زیادہ بری کوئی چیز نہیں لگتی۔ اتنی سادہ سی بات اس لاکھوں کی بستی میں کوئی کیوں نہیں جانتا کہ شرک ظلمِ عظیم ہے… پھر کیوں دن دہاڑے سجدے ہیں غیر اللہ کے لیے… منتیں، مرادیں، چڑھاوے…
اپنی مراد پوری ہونے پر جو اللہ نے کی ہے، ہم چڑھاوے غیراللہ کو پیش کررہے ہیں۔ یہ ظلم روز و شب ہورہا ہے، پھر بھی اللہ نے ہمیں مہلتِ عمل دی ہوئی ہے۔ اگر وہ ناراض ہوکر بستیوں کو تباہ کردے کہ کھلے عام اس کی وحدانیت کو چیلنج کیا جارہا ہے۔ یہ کتنی بڑی بات ہے کہ اللہ کے یہاں صرف شرک ہی کی معافی نہیں ہے، باقی ہر گناہ جو چاہے گا معاف کردے گا، لیکن ہم شرک کررہے ہیں، سجدے کررہے ہیں اور کوئی روکنے والا نہیں… یہ دھندے جانے کب سے ہورہے ہیں اور کب تک ہوتے رہیں گے! یہ کوئی خفیہ مقامات پر نہیں ہے، بیچ شہروں میں، آبادیوں میں یہ فتنے موجود ہیں۔ ہم نے مزید کچھ کہنے کے بجائے یہ شعر سنا کر بات نمٹا دی:

سو خداوند ملے ایک سے ایک سجدہ طلب
آدمی سخت مراحل سے خدا تک پہنچا

٭…٭…٭
’’الخاتون‘‘
آج دن کے بارہ بجے پی ای سی ایچ ایس میں ایک دفتر کی عمارت ڈھونڈنا مقصود تھی کہ بائیں بازو پر ایک عمارت نظر سے گزری، جس کی پیشانی پر درج تھا ’’الخاتون‘‘۔ پہلی بار اِس نام کی عمارت دیکھی۔ کوئی خاص خاتون ہوں گی، ملنا چاہیے، ایسا کیا خاص ہے جو گھر کی پیشانی پر کندہ کیا گیا! مجھے محسوس ہوا کہ خاتون نے خود کو تو خاص نہ جانا ہوگا، یقیناً شوہر، بیٹے، باپ، بھائی نے سمجھا ہوگا کہ یہ خاتون سے آگے ’’الخاتون‘‘ ہیں، خاص الخاص ہیں… سو گھر کی پیشانی گواہ بنادی کہ یہ معتبر گھر ہے، متبرک ہے، مقدس ہے۔ یہاں خاص عورت رہتی ہے… یعنی اس کو خاص مقام دیا ہے گھر والوں نے۔
گاڑی تو لمحہ بھر میں ’’الخاتون‘‘ سے آگے بڑھ گئی، پر میں اپنی نظریں وہیں اس پتھر پر چھوڑ آئی تھی جس پر یہ درج تھا۔
کتنی درست تشخیص کی گئی تھی… ہر گھر کی پیشانی پر یہی کندہ ہونا چاہیے۔ میری سماعت گوگل کی سمت ذرا متوجہ نہ ہوئی جو برابر ہدایات دے رہا تھا درست راستے کی۔
میں تو گھروں کی زنجیر میں قید ہوگئی۔ کیا وہ الخاتون نہیں جس سے میں کل ملی۔ بیس برس کا بچہ وائرس کے دماغ پر حملے کے باعث مہینہ بھر میں جدا ہوگیا۔ چھوٹا سولہ برس کا بیٹا ڈس ایبل ہے۔ زبان پر صرف اناللہ وانا الیہ راجعون تھا… صبر و ہمت کا پیکر۔ ہاں الخاتون تو وہ بھی ہے جو شوہر کی جدائی کے بعد چار بچوں کو فیکٹری میں مزدوری کرکے پال رہی ہے۔ بہت خاص تو وہ بھی ہے جس نے میکہ اس لیے چھوڑ دیا ہے کہ شوہر پسند نہیں کرتا سسرال والوں کو۔ بہت خاص وہ بھی تھی جو بارہ برس فالج زدہ شوہر کی خدمت کرکے روتی تھی کہ حق تو یہ ہے کہ حق ادا نہ ہوا۔ الخاتون تو وہ بھی ہے جو معذور بچوں کے ادارے میں پڑھاتی ہے اس لیے کہ بے اولاد ہے… خوش ہوتی ہے کہ ماں نہیں بن سکی تو کیا، ماؤں کے دکھ تو بانٹ سکتی ہوں۔ وہ سب خاص جو خانگی ذمہ داریوں کے ساتھ سماج کے قرض بھی اتار رہی ہیں… دکھی مخلوق کے دکھوں کو کم کرنے کی عبادت میں لگی ہوئی ہیں۔
اس نے کوئی سماجی خدمت تو نہیں کی ہے، مگر سخت سسرال اور تیز مزاج شوہر کو جھیل کر گھر ٹوٹنے سے بچایا ہے۔
خاص عورت ہی نہیں ہوتی، خاص مرد بھی ہوتے ہیں، جو تحفظ ہیں اس کمزور ذات کا… جو ساری زندگی اس کے حقوق کی حفاظت میں ہی گزار دیتے ہیں۔
مگر اچھا لگتا ہے جانے کیوں جب مرد اعتراف کرتا ہے ایک خاتون کی قربانی اور اس کے مقام کا… اور گھر کی پیشانی پر ’’الخاتون‘‘ کندہ کراتا ہے۔
آپ کے اطراف ہر گھر میں الخاتون موجود ہے، تلاش کیجیے۔ وہ آپ کی ماں بھی ہوسکتی ہے، آپ کی بہن بھی، آپ کی بیٹی بھی اور بیوی بھی۔ ہر عورت میں ایک الخاتون موجود ہے… ضرورت ہے اس کو تلاش کرنے کی۔
٭…٭…٭
بیٹا بولا: ’’میں نے کہا آنٹی آپ سے ملنا چاہتا ہوں۔ بولیں ضرور۔ سہ پہر ان کے بارہ برس کے بیٹے کو ٹیوشن پڑھاتے ہوئے کام دے کر میں نے ساتھ والے کمرے میں بھیجا اور آنٹی سے کہا کہ پورے دو برس میں نے سارے جتن کرلیے ہیں، آپ کا بچہ چالیس فیصد نمبروں سے پچاس پر آگیا ہے، اس سے زیادہ کی اس میں استطاعت نہیں ہے۔ پھر زیادہ نمبر یا اے ون گریڈ زندگی میں کامیابی کی کنجی بھی نہیں ہیں۔ ضروری نہیں کہ کامیاب بزنس مین یا اپنی فیلڈ کے کامیاب لوگ پڑھائی میں بہت اچھے رہے ہوں۔ آپ اس کو اچھا انسان بنانے پر توجہ دیں۔ اذان کی آواز پر میں کہتا ہوں نماز کو چلتے ہیں، یہ کہتا ہے گھر جاکر قضا پڑھ لوں گا، کبھی وضو نہ ہونے کا بہانہ کردیتا ہے۔ نماز کی عادت ڈال کر کچھ وقت قرآن اس کے ساتھ پڑھیں، اس کو دین سکھائیں۔ صرف قاری پر نہ چھوڑیں۔ اس کی غلط بیانی کی بہت عادت ہے، اس طرف توجہ کریں۔
وہ میری باتیں سنتی رہیں پھر بولیں ’’دین سے گہرا لگاؤ ہے ہمارے خاندان کا۔ میں دین کی طرف سے بے پروا بھی نہیں ہوں۔ ہمارا خاندان ولیوں کے سلسلے سے تعلق رکھتا ہے۔ ہمارا کنبہ بہت بڑے بزرگوں کی دعاؤں کے حصار میں ہے۔ ہر ماہ اتنی بڑی محفل ہوتی ہے، اتنی پڑھائی ہوتی ہے اس دن۔ اس کے بعد لنگر… میرے بیٹے پر تو بزرگوں کا سایہ ہے۔ اس کا نام بھی فلاں بزرگ نے تجویز کیا تھا۔ ہمارا کوئی عام گھرانہ نہیں ہے۔ اللہ کا بڑا فضل ہے۔‘‘
بیٹا بولا ’’میں تو آنٹی کی عقیدت میں گندھی گفتگو کے بعد کچھ بھی نہ کہہ سکا۔‘‘
میں سوچنے لگی اھدنا الصراط المستقیم کتنی پیاری دعا سکھائی ہے قرآن نے۔ کتنا سادہ اور پاکیزہ مذہب ہے ہمارا۔ اس کو غلافوں میں لپیٹنے کا حساب کس سے ہوگا؟ یہ کمزور عقیدگی ہمیں کہاں لے جائے گی؟ شاید ہمیں کہیں کا نہ چھوڑے گی۔کہیں عقیدۂ شفاعت ہمیں صراط مستقیم سے ڈگمگا دیتا ہے، تو کہیں اللہ کے غفورالرحیم ہونے کا عقیدہ، کہ وہ ہر گناہ کو معاف کردے گا، ہم جیسے چاہے جی لیں۔
یہ عقیدے کی جنگ ہے، اس میں درست عقیدہ ہی صراط مستقیم کا ضامن ہے۔
٭…٭…٭
عنوان : فیس بک —-کتاب چہرہ
عہدِ نارسائی میں
کون کس کو پہچانے؟
کون دشمنِ جاں ہو؟
کون آشنا ٹھہرے!!!!
اس کتاب چہرے پر
ڈھونڈنے جو نکلیں تو
کون بے وفا نکلے!!!
کون پارسا نکلے؟؟؟
یارِ مہرباں کیسا؟
کون ہے کہاں کیسا؟
کون اور کہاں کے بیچ
کس کی بات سچی ہے؟
درمیانِ روز و شب
کس کی فکر اچھی ہے؟
کس کے خواب پختہ ہیں؟
کس کی نیند کچی ہے؟
…٭…
اس کتاب چہرے پر
دوستی کے سب رشتے
گام گام روٹھے ہیں
آئینوں کی بستی میں
عکس ٹوٹے ٹوٹے ہیں
مسکراہٹوں کے ساتھ
سارے لہجے جھوٹے ہیں
کوئی قہقہوں کے بیچ
آنسوؤں کو سہتا ہے
کوئی آنسوؤں کے بیچ
دم بخود سا رہتا ہے!!!
…٭…
باہمی ستائش کا
ایک سلسلہ سا ہے
ایک دوسرے کی بس
ہاں میں ہاں ملانے کا
بے مزہ… مزہ سا ہے
کچھ سپاٹ چہرے ہیں
جو فقط تماشہ اک
دیکھنے کو آتے ہیں
فیس بک کے سرکس میں
پتیاں اڑاتے ہیں!!!
تالیاں بجاتے ہیں!!!!
…٭…
کچھ دلوں میں حسرت ہے
اور محبتیں بھی ہیں
کچھ نگاہوں میں غصہ
اور چاہتیں بھی ہیں
ہلکی پھلکی ناراضی
ایک دوسرے سے یوں
مستقل ہی رہتی ہے
کوئی بحث کرتا ہے
کوئی نثر لکھتا ہے
کوئی شعر کہتا ہے
کوئی نظم لکھتا ہے
کوئی بے سبب یونہی
کچھ نہیں ملے تو پھر
حالِ دل سناتا ہے
کوئی اپنے دفتر میں
یا پھر اپنے کمرے میں
بے سبب یونہی بیٹھا
انگلیاں تھکاتا ہے!!!!
…٭…
گفتگو سیاست پر
قہقہہ قیادت پر
آنسوؤں بھری آنکھیں
زخم زخم ہجرت پر
لخت لخت سی ہوتی
بات کچھ ریاست پر
مدحت و محبت بھی
طنز اور تبرا بھی
قربتوں کے بیچوں بیچ
فاصلوں کا صحرا بھی!!!
آدمی کے چہرے پر
مصلحت کا پردہ بھی!!!!
…٭…
اس کتاب چہرے پر
بے شمار چہرے ہیں
مسئلہ بس اتنا ہے
بے شمار چہروں میں
ایک ایک چہرے کے
بے شمار چہرے ہیں
کامران نفیس کی تخلیق۔۔۔(منقول)
nn

حصہ