رمضان المبارک کی تیاری

302

قدسیہ ملک
پروگرام بہت اچھا چل رہا تھا۔استقبال رمضان پر بات ہو رہی تھی۔اگرچہ حاضری کم تھی لیکن خاتون مدرسہ اپنی بات کو پورے اعتماداخلاص نیت اور یقین کے ساتھ حاضرین محفل تک پہنچارہی تھیں۔اپنی بات کو صدفیصد درست ثابت کرنے کے لیے وہ قرآن و احادیث اور سیرت رسولؐ سے بہت سے نکات سامعین و حاضرین کے سامنے رکھ رہی تھیں۔سب وہی پرانے نکات تھے لیکن ہر دفعہ سننے میں ایک نئی بات سمجھ میں آتی ہے شاید یہی قرآن کااصل اعجاز ہے۔ استقبال رمضان کے پروگرام کا ایک فائدہ تو یہ ہوتا ہے کہ آپ رمضان کی تمام پلاننگ سے بخوبی واقف ہو جاتے ہیں۔ رمضان میں قرآن مجید سے تعلق کومزید گہرا کرنے کے لیے سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے بہت سے عملی کام کرنے کو ملتے ہیں۔۔ قرآن سے تعلق کو مضبوط کرنے اور اپنی عملی زندگی میں کرنے کے لیے بہت اہم کارآمد تدابیر ملتی ہیں۔ قرآن اور رمضان کے تعلق کو سمجھنے میں مدد ملتی ہے۔ اپنے اصل مقصد کی یاددہانی ہوتی ہے داعی کامقصد زندگی،وقت کا بہترین استعمال، نفس پر مکمل کنٹرول یعنی تزکیہ نفس،حرام کاموں سے مکمل اجتناب حلال کی حوصلہ افزائی،صبراور ان سب کے ساتھ پورے گیارہ مہینے کی پلاننگ کس طرح کی جاسکتی ہے یہ سب باتیں استقبال رمضان میں باآسانی سمجھ آ جاتی ہیں۔درس کے بھی یہی نکات تھے۔میں انہی نکات کو شاید دوبارہ قلمبند کررہی تھی جو میں پچھلی بار بھی لکھ چکی ہوں یا ہوسکتاہے کچھ نیاہو اس میں۔اسی سوچ میں نظریں اٹھائیں تومیرے سامنے بیٹھی وہ پیاری سی،جانی پہچانی لڑکی مسلسل اپنے رجسٹرسے کچھ پڑھ رہی تھی۔ بارباروہ اپنا رجسٹر کھولتی کچھ دیکھتی اور اسے بند کرکے منہ ہی منہ میں کچھ دہرانا شروع کر دیتی۔ میں کافی دیر تک اس منظر کو دیکھتی رہی۔ ساتھ ساتھ قرآن و احادیث اورسیرت سے مزین درس کے نکات بھی اپنی ڈائری میں نوٹ کررہی تھی۔جب کافی دیر تک وہ یہی عمل دہراتی رہی تو درس کے اختتام پر میں نے اس سے پوچھا ”تم کیا پڑھ رہی تھیں؟”۔یہ سن کر وہ تھوڑی جھینپ سی گئی۔میں نے اس کی خفت مٹانے کے لیے اپنی باتوں کا رخ اسکی تعلیم کی جانب موڑدیا۔اب وہ کھل کر اپنے بارے میں بتانے لگی۔وہ مجھے بتارہی تھی کہ میں ایم اے پارٹ ون کی طالبہ ہوں میرے پیپر جون میں ہونے والے ہیں۔اس لیے میں ابھی سے تیاری کررہی ہوں۔کیونکہ رمضان میں تو پڑھائی نہیں ہوتی نا۔میں نے اس سے پوچھا” تمھیں کس نے کہاکہ رمضان میں پڑھائی نہیں ہوتی؟ کہنے لگی” سب یہی کہتے ہیں”۔میں نے کہا کبھی تم نے بھوکے پیٹ پڑھائی کی ہے”کہنے لگی”نہیں”میں نے اس سے کہا”تم اس رمضان میں روزے کے دوران یاد کرنا،تم دیکھنا کیسے جلدی یاد ہوتاہے” وہ حیرت سے میری شکل دیکھنے لگی۔میں نے اسے کہا”اگر تمہیں یقین ناآئے تو اس رمضان آزماکر دیکھ لینا” وہ ایک دم خوش ہوگئی۔اور اسکے چہرے پر آئی ٹینشن رفتہ رفتہ زائل ہونے گلی۔وہ کہنے لگی ”آپ نے میری سب سے بڑی مشکل آسان کردی”۔میں نے کہا ”بس اب تم مجھے اپنی رمضان کی دعاؤوں میں یادرکھنا”اسنے کہا”ضرور” آپ مجھے ویسے بھی یادرہتی ہیں۔میں نے اسکا شکریہ ادا کیا اور گھر آکر سوچنے لگی کیا واقعی رمضان اس قدر مشکل ہوتے ہیں کہ ہم اپنے بچوں اور اپنے چھوٹے بہن بھائیوں اپنی اولادوں کو اس ماہ مبارک کی رحمتوں برکتوںاورفضیلتوں کے بارے میں اتنی آگہی نہیں دے پاتے جتنا اس مہینے کا حق ہے۔ہمارے نزدیک ایک بہت مشکل کٹھن اور دشوار وقت آنے والا ہے جس کی ہولناکی سے ہم اپنے چھوٹوں کوڈراتے رہتے ہیں اور یہاں تک کہ میری ہی کچھ ہم جماعت لڑکیاں محض اس لیے ماہ مبارک میں روزے چھوڑ دیتی ہیں کہ ہمارے پیپرز ہونے والے یاہمارے اسائمنٹ چل رہے ہیں۔کیا آپ جانتے ہیں کہ آپ اگلا رمضان دیکھ پائیں گے بھی یا نہیں؟ہوسکتا ہے یہ ہمارا آخری رمضان ہو۔اسی لیے اس رمضان المبارک کو بہترین پلاننگ کے ساتھ خوش اسلوبی سے گزاریئے۔تاکہ آپ سے آپ کے چھوٹے بھی کچھ اچھا سیکھیں اور وہ بھی اسے اچھی طرح گزارنے کی کوشش کریں۔آئیے رمضان کی کچھ پلاننگ کرتے ہیں۔
1۔ توبۃالنصوح:ہر وقت توبہ و استغفار کرنا واجب ہے، لیکن اس لیے کہ یہ ماہ مبارک قریب آ رہا ہے، اور تو اور مسلمان شخص کے لیے زیادہ لازم ہے کہ وہ اپنے ان گناہوں سے جلد از جلد توبہ کر لے جو صرف ا س اور اس کے رب کے درمیان ہیں، اور ان گناہوں سے بھی جن کا تعلق حقوق العباد سے ہے؛ تا کہ جب یہ ماہ مبارک شروع ہو تو وہ صحیح اور شرح صدر کے ساتھ اطاعت و فرمانبرداری کے اعمال میں مشغول ہو جائے۔اللہ سبحانہ و تعالی کا فرمان ہے: اور اے مومنوں تم سب کے سب اللہ تعالی کی طرف توبہ کرو تا کہ کامیابی حاصل کر سکو(سورۃالنور)
2۔دعاء کرنا:بعض سلف کے متعلق آتا ہے کہ وہ چھ ماہ تک یہ دعا کرتے اے اللہ ہمیں رمضان تک پہنچا دے، اور پھر وہ رمضان کے بعد پانچ ماہ تک یہ دعا کرتے رہتے اے اللہ ہمارے رمضان کے روزے قبول و منظور فرما۔
3۔اس عظیم ماہ مبارک کے قریب آنے کی خوشی ہو: رمضان المبارک کے مہینہ تک صحیح سلامت پہنچ جانا اللہ تعالی کی جانب سے مسلمان بندے پر بہت عظیم نعمت ہے۔ رمضان المبارک خیر و برکت کا موسم ہے، جس میں جنت کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں، اور جہنم کے دروازے بند کر دیے جاتے ہیں، اور یہ قرآن اور غزوات و معرکوں کا مہینہ ہے جس نے ہمارے اور کفر کے درمیان فرق کیا۔اس لیے گھبراہٹ اور پریشانیوں سے نکل کر دل کے پورے اطمینان کے ساتھ رمضان کی خوشی منانی چاہئے۔اللہ سبحانہ و تعالی کا فرمان ہے:کہہ دیجئے کہ اللہ کے فضل اور اس کی رحمت سے خوش ہونا چاہیے وہ اس سے بدرجہا بہتر ہے جس کو وہ جمع کر رہے ہیں(سورۃ یونس 58)
4۔ علم حاصل کرنا:تا کہ روزوں کے احکام کا علم ہو سکے، اور رمضان المبارک کی فضیلت کا پتا چل سکے۔اسکے لیے استقبال رمضان بہترین پروگرام ہے۔
5۔ایسے اعمال جو رمضان المبارک میں مسلمان شخص کوعبادت کرنے میں رکاوٹ یا مشغول نہ ہونے کا باعث بننے والے ہوں انہیں رمضان سے قبل نپٹانے میں جلدی کرنی چاہیے۔
6۔ گھر میں اہل و عیال اور بچوں کے ساتھ بیٹھ کر انہیں روزوں کی حکمت اور ا س کے احکام بتائے، اور چھوٹے بچوں کو روزے رکھنے کی ترغیب دلائے۔
7۔ کچھ ایسی کتابیں تیار کی جائیں جو گھر میں پڑھی جائیں، یا پھر مسجد کے امام کو ہدیہ کی جائیں تا کہ وہ رمضان المبارک میں نماز کے بعد لوگوں کو پڑھ کر سنائے۔
8۔ رمضان المبارک کے روزوں کی تیاری کے لیے ماہ شعبان میں روزے رکھے جائیں۔
9۔قرآن مجید کی تلاوت کرنا
10۔نفس کا تذکیہ:
رمضان المبارک میں مسلمان اپنا دن فجر سے قبل سحری کھا کرشروع کرتا ہے، افضل یہ ہے کہ سحری کو رات کے آخری حصہ تک مؤخر کیا جائے۔سحری کے بعد روزہ دار نماز فجر کی اذان سے قبل نماز کی تیاری گھر میں ہی کرے اوروضوء کرکے نمازباجماعت ادا کرنے کے لیے مسجد کی طرف جائے۔عورتیں گھر کے کام سحری کے برتنوں و کچن کی صفائی سے پہلے نماز پڑھیں۔جب سورج طلوع ہواوراچھی طرح اوپر آجائے تو طلوع کے تقریبا پندرہ منٹ بعد اشراق کی کم از کم دورکعات ادا کرے توبہتر ہے، اوراگر چاہے تو وہ اسے افضل وقت تک مؤخربھی کرسکتا ہے، اس کا افضل وقت سورج بلند ہونے اورسخت دھوپ کا وقت ہے۔ظہر کی چار رکعات سنتیں دو دو کرکے ادا کرے، پھر اقامت تک قرآن مجید اورذکرو اذکار میں مشغول رہے، نماز باجماعت ادا کرنے کے بعد بعد والی دو سنتیں ادا کریں۔پھر نمازکے بعد اپنے کام پر واپس لوٹے اورکام کاج گھر داری میں مشغول رہے اورمرداپنی ڈیوٹی مکمل کرنے کے بعد اگر ان کے پاس عصر کی نماز سے قبل آرام کرنے کا وقت مل سکے تو تھوڑا بہت آرام کرلے، لیکن اگر وقت کافی نہ ہو اوراسے خدشہ ہو کہ اگر سوگیا تو نماز عصر ضائع ہوجائے گی توپھر نماز تک کسی مناسب چیز میں مشغول رہے، مثلا ضرورت کی اشیاء خریدنے بازار چلے جائے یا پھر کام سے فارغ ہوکر فوری طور پر مسجد کا رخ کریں اورعصر کی نماز تک مسجد میں ہی رہے۔خواتین بھی ظہرکے بعد اور عصر سے پہلے گھر کے کام نمٹاکرتھوڑاآرام کرسکتی ہیں۔عصر کی نماز کے بعد اپنی حالت کو مسجد میں بیٹھ کرتلاوت قرآن کریم کرے تو یہ بہت ہی غنیمت ہے، اوراگرہمت محسوس نہ کرے تواسے اس وقت ضرور آرام کرنا چاہیے تا کہ رات کو نماز تراویح کی تیاری کرسکے۔خواتین بھی گھر میں نماز عصر کے بعد اگر ممکن ہوتو اپنے آپ کو تراویح کے لیے تیار کریں۔
افطاری کی تیاری میں مدد کریں۔ تاکہ خواتین بھی جلد از جلد کام نمٹاکر روزے سے پہلے اپنے رب سے دعائیں مانگ سکیں۔ اِن لمحات میں ایسے کام کرنے چاہیں جن کا اسے نفع ہو یا تو قرآن مجید کی تلاوت میں مشغول رہے یا دعا کرے یا پھر اپنے اہل وعیال سے مفید بات چیت کرے۔خواتین بھی مختلف کھانے پکانے چٹ پٹی تراکیب سے دسترخوان سجانے سے بہتر اپنے نفس کا تزکیہ کریں،اپنے بچوں کے ساتھ بیٹھ کر دعامانگیں۔اس وقت کی دعا بہت جلدی مقبول ہوتی ہے۔
اس وقت میں سب سے بہتر اور اچھا شغل یہ ہے کہ روزے داروں کو افطار کرانے کا اہتمام کیا جائے اس کام کی بہت ہی عظیم لذت ہے۔پھر افطاری کے بعد مردباجماعت نماز مغرب کی ادائیگی کے لیے مسجد کا رخ کرے، اس کے بعد گھر واپس آکر جوکچھ میسر ہوکھائے پیئے اور لیکن زیادہ نہیں کھانا چاہیے، عشاء سے قبل باقی ماندہ وقت کو اپنے اوراپنے اہل وعیال کے لیے مفید بنانے کے لیے کوئی قرآنی قصہ یا پھر یا احکام کی کتاب پڑھے۔یا گھر والوں کے ساتھ بیٹھ کر گھر کے کسی امور کی بابت بات کرلی جائے۔اس لیے کہ یہ وقت بہت ہی قیمتی ہے، میرے بھائی اور بہن اپنے آپ سے غلط قسم کے افکار،موبائل کے فتنے،انٹرنیٹ کے غلط استعمال اوران وسائل کو دور رکھیں جوایمانیات و اخلاقیات کا جنازہ نکال دیتے ہیں، اوراپنے رعایا کے بارے میں اللہ تعالی کا ڈر وخوف اختیار کریں کیونکہ روز قیامت اس کے بارے میں سوال ہوگا، اس لیے سوال کا جواب تیار کرلیں۔اس کے بعد نماز عشاء ادا کریں اورعشاء میں امام کے پیچھے خشوع وخضوع کے ساتھ نماز تراویح ادا کرنی چاہیے۔اگر خواتین کی تراویح آپ کے گھر سے نزدیک ہے تو خواتین بھی نماز عشاء بھی امام کے پیچھے عشائو نماز تراویح کا اہتمام کریں۔اس کے بعد آپ اپنے لیے اور اپنے اہل خانہ کے لیے کوئی مناسب سا پروگرام تیار کریں جوآپ کی شخصیت اور حالات کے مناسب ہو اوراس میں ان کاموں کا خیال رکھیں۔ہرقسم کے حرام اوراس کی جانب لیجانے والے کاموں سے اجتناب کریں۔اپنے گھر والوں کے لیے بھی ہمیشہ خیال رکھیں کہ کہیں وہ بھی کچھ حرام کام یا اس کے اسباب کا ارتکاب نہ کرلیں اس کے لیے آپ کو حکمت ودانش والا طریقہ اختیار کرنا ہوگا، مثلا آپ ان کے لیے کوئی خاص پروگرام،سیرو تفریح وغیرہ فراہم کرسکتے ہیں۔فرائض و عبادات اپنے معمولات زندگی کے فوری بعدکوشش کریں کہ جلد سوئیںاگرآپ سونے سے قبل قرآن مجید کی تلاوت کرلیں یا پھر کوئی اچھی سی کتاب پڑھ لیں تو یہ بہت بہتر ہے سحری سے قبل اٹھیں خواتین سحری بنانے سے پہلے اور مرد اسوقت میں اللہ تعالی سے دعا کریں کیونکہ یہ رات کا آخری حصہ ہے جس میں نزول الہی ہوتا ہے اوراللہ تعالی نے توبہ واستغفار کرنے والوں کی بہت زیادہ تعریف کی ہے، اور اسی طرح اس وقت میں دعا اور توبہ کرنے والوں کی دعا اورتوبہ قبول کرنے کا وعدہ بھی فرمایا ہے۔

حصہ