خو گر ِ پیکر محسوس

144

سید مہرالدین افضل
سورۃ الاعراف میں سابق قوموں کے غلط طرزِ فکر و عمل اور اس کے برے انجام کی خبریں دینے کے بعد آخر میں آپؐ کے مخالفین کو اُن کے غلط تصورِ خدا اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے غلط طرزِعمل کی جانب متوجہ کیا گیا ہے۔ انہیں بتایا گیا ہے کہ آج اگر تم عروج پر ہو اور ہماری آیات کو جھٹلا رہے ہو تو یہ نہ سمجھو کہ تمہیں کبھی زوال نہ ہوگا… ہماری نرمی اور ڈھیل سے فائدہ اٹھائو اور اپنے بھائی، دوست، اور خیر خواہ محمدؐ کی دعوت قبول کرو، جو تمہیں برے انجام سے پہلے ہی خبردار کررہے ہیں۔ یہ وہی ہیں جنہیں تم صادق اور امین کہتے تھے… اور سمجھ دار اور ذہین مانتے تھے… جب انہوں نے تمہیں میرا پیغام پہنچانا شروع کیا تو فوراً ہی تم انہیں مجنون کہنے لگے۔ تم لوگوں نے کبھی سوچا بھی ہے، آخر ان باتوں میں کون سی بات جنون کی ہے؟ کون سی بات بے تُکی، بے اصل اور غیر معقول ہے؟ اگر تم آسمان و زمین کے نظام پر غور کرو… یا ہماری بنائی ہوئی کسی بھی چیز کو لے کر… تھوڑا ٹھیر کر… غور سے دیکھو… تو تمہیں خود معلوم ہوجائے گاکہ اللہ کی ذات، صفات اور اختیارات میں کسی کو شریک سمجھنا غلط ہے… عقیدۂ توحید ہی درست ہے… اور محمدؐ پوری زندگی میں اللہ کی بندگی… اور مرنے کے بعد اللہ کے سامنے پیشی اور جواب دہی کے بارے میں جو کچھ تمہیں سمجھا رہے ہیں… اُس کی سچائی پر یہ پورا نظامِ کائنات اور اِس کا ذرہ ذرہ گواہی دے رہا ہے۔ تم سب باتوں کو چھوڑو، کیا تم موت کا انکار کرسکتے ہو؟ اور کیا اپنی موت کو روک سکتے ہو؟ اگر تم مر گئے اور محمدؐ کی، دنیا کی زندگی کے بعد دوبارہ زندہ کرنے والی بات صحیح نکلی تو تمہارا کیا بنے گا؟ تمہارے لیے اچھا یہی ہے کہ زندگی کی جو مہلت تمہیں ملی ہوئی ہے، اس میں اپنے رویّے کی اصلاح کرلو… اور اسے گمراہیوں اور بداعمالیوں میں ضائع نہ کرو۔
کفارِ مکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھتے تھے کہ آخر وہ قیامت کی گھڑی کب نازل ہوگی؟ کہا گیا: انہیں بتا دیجیے کہ اِس کا علم میرے ربّ ہی کے پاس ہے… اور اُسے اپنے وقت پر وہی ظاہر کرے گا… آسمانوں اور زمین میں وہ بڑا سخت وقت ہوگا، اور وہ تم پر اچانک آجائے گا۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے کاہن اپنے شیطان جنوں کے ذریعے غیب کی باتیں جاننے کی کوشش کرتے تھے… اور پیش گوئیاں کرکے داد وصول کرتے تھے… اور بہت لوگ ان کی باتوں پر یقین بھی کرتے تھے۔ اسی ذہنیت کے ساتھ یہ سوال کیا جاتا تھا۔ کفارِ مکہ یہ سوال اِس طرح پوچھتے تھے جیسے حضور صلی اللہ علیہ وسلم اس کی کھوج میں لگے ہوئے ہیں۔ اس لیے آپؐ کو ہدایت کی گئی کہ آپؐ انہیں بتا دیں کہ ’’اِس کا علم تو صرف اللہ کو ہے‘‘۔ آپؐ سے کہا گیا کہ ان پر یہ بھی واضح کردیں کہ ’’میں اپنی ذات کے لیے کسی نفع اور نقصان کا اختیار نہیں رکھتا۔ اللہ ہی جو کچھ چاہتا ہے وہ ہوتا ہے۔ اور اگر مجھے غیب کا علم ہوتا تو میں بہت سے فائدے اپنے لیے حاصل کرلیتا اور مجھے کبھی کوئی نقصان نہ پہنچتا۔ میں تو صرف غلط عقیدے اور برے اعمال کے تباہ کن نتائج سے وقت سے پہلے خبردار کرنے والا ہوں، اور جو لوگ میری بات مانیں انہیں خوش خبری سنانے والا ہوں۔ مثلاً اگر آپؐ ہر قدم اٹھانے سے پہلے اس کھوج میں رہتے کہ اس کا نتیجہ کیا نکلنے والا ہے… تو آپؐ کبھی اس راہ پر نہ جاتے جہاں کانٹے بچھائے گئے ہوں، جہاں گالیاں دینے والے موجود ہوں، جہاں لوگ پتھر اٹھائے کھڑے ہوں… بلکہ آپؐ صرف اسی وقت گھر سے نکلتے جب رکاوٹ نہ آئے، اور ان ہی لوگوں کے پاس جاتے جو دعوت قبول کرلیں۔ اس میں ہمارے لیے سبق یہ ہے کہ حق کی دعوت کا ہر اقدام کامیابی اور ناکامی کے نتیجے سے بے پروا ہوکر صرف اس لیے کیا جاتا ہے کہ یہ حق ہے… اور اس کے لیے قدم آگے بڑھانا فرض ہے۔ پھونک پھونک کر قدم رکھنا اور خوش قسمتی اور بدقسمتی کے اوقات کی جستجو میں لگے رہنا بندۂ مومن کے شایان ِ شان نہیں… اسے تو اللہ کے حکم کے مطابق… نتیجہ اللہ پر چھوڑ کر کام کرنا چاہیے، کیونکہ فائلِ حقیقی تو اللہ ہی ہے۔
آیت 189 اور 190 میں مشرکین کی جاہلانہ گمراہیوں پر تنقید کی گئی ہے، جس کا مقصد یہ واضح کرنا ہے کہ نوعِ انسانی کی ابتدا اور اسے وجود بخشنے والا اللہ تعالیٰ ہے جس سے خود مشرکین کو بھی انکار نہیں۔ پھر ہر انسان کو وجود عطا کرنے والا بھی اللہ تعالیٰ ہی ہے اور اس بات کو بھی مشرکین جانتے ہیں۔ عورت کے رحم میں نُطفے کو ٹھیرانا، پھر اس کو پرورش کرکے ایک زندہ بچے کی صورت دینا، اِس بچے کے اندر طرح طرح کی قوتیں اور قابلیتیں ودیعت کرنا، اور اس کو صحیح و سالم انسان بناکر پیدا کرنا… یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے۔ اگر اللہ عورت کے پیٹ میں بندر یا سانپ، یا کوئی اور عجیب الخلقت حیوان پیدا کردے، یا بچے کو پیٹ ہی میں اندھا، بہرا، لنگڑا، لولا بنا دے، یا اس کی جسمانی، ذہنی اور نفسانی قوتوں میں کوئی کمی رکھ دے تو کسی میں یہ طاقت نہیں ہے کہ اللہ کی اس ساخت کو بدل ڈالے۔ اس حقیقت سے مشرکین بھی اسی طرح آگاہ ہیں جس طرح ایک اللہ کو ماننے والے… یہی وجہ ہے کہ زمانۂ حمل میں ساری امیدیں اللہ ہی سے وابستہ ہوتی ہیں… کہ وہی صحیح و سالم بچہ پیدا کرے گا۔ لیکن اس پر بھی جہالت و نادانی کی انتہا یہ ہے کہ جب چاند سا بچہ نصیب ہوجاتا ہے تو شکریے کے لیے نذریں اور نیازیں کسی دیوی، کسی اوتار، کسی ولی اور کسی حضرت کے نام پر چڑھائی جاتی ہیں اور بچے کو ایسے نام دیے جاتے ہیں کہ جیسے اللہ کے بجائے کسی اور کی عنایت کا نتیجہ ہے… مثلاً حسین بخش، پیر بخش، عبدالرسول، عبدالعُزّیٰ اور عبد شمس وغیرہ۔
اس مقام پر ایک اور بات بھی قابلِ توجہ ہے۔ ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے جن لوگوں کی مذمت کی ہے وہ عرب کے مشرکین تھے… وہ صحیح و سالم اولاد پیدا ہونے کے لیے تو اللہ ہی سے مانگتے تھے، مگر جب بچہ پیدا ہوجاتا تھا تو اللہ کے اس عطیے میں دوسروں کو شکریے کا حصہ دار ٹھیرا لیتے تھے۔ بلاشبہ یہ حالت بھی نہایت بری تھی۔ لیکن اب جو شرک ہم توحیدکے دعوے داروں میں دیکھ رہے ہیں وہ اس سے بھی بدتر ہے۔ یہ ظالم تو اولاد بھی غیروں ہی سے مانگتے ہیں۔ حمل کے زمانے میں منتیں بھی غیروں کے نام ہی کی مانتے ہیں… اور بچہ پیدا ہونے کے بعد نیاز بھی انہی کے آستانوں پر چڑھاتے ہیں۔ اس پر بھی زمانۂ جاہلیت کے عرب مشرک تھے اور یہ توحید پرست ہیں… اُن کے لیے جہنم واجب تھی، اور اِن کے لیے نجات کی گارنٹی ہے!!! اُن کی گمراہیوں پر تنقید کی زبانیں تیز ہیں، مگر اِن کی گمراہیوں پر کوئی تنقید کر بیٹھے تو مذہبی درباروں میں بے چینی کی لہر دوڑ جاتی ہے۔ اسی حالت کا ماتم مولانا الطاف حسین حالی مرحوم نے اپنی مسدس مد و جزر اسلام میں کیا ہے:

کرے غیر گر بت کی پوجا تو کافر
جو ٹھیرائے بیٹا خدا کا تو کافر
جھکے آگ پر بہر سجدہ تو کافر
کواکب میں مانے کرشمہ تو کافر
مگر مومنوں پر کشادہ ہیں راہیں
پرستش کریں شوق سے جس کی چاہیں
نبی کو جو چاہیں خدا کر دکھائیں
اماموں کا رتبہ نبی سے بڑھائیں
مزاروں پہ جا جا کے نذریں چڑھائیں
شہیدوں سے جا جا کے مانگیں دعائیں
نہ توحید میں کچھ خلل اس سے آئے
نہ اسلام بگڑے نہ ایمان جائے

آیت 191سے 198 میں اِرشاد ہوا: ’’کیسے نادان ہیں یہ لوگ کہ اُن کو خدا کا شریک ٹھیراتے ہیں جو کسی چیز کو بھی پیدا نہیں کرتے بلکہ خود پیدا کیے جاتے ہیں… جو نہ ان کی مدد کرسکتے ہیں اور نہ آپ اپنی مدد ہی پر قادر ہیں۔ اگر تم انہیں سیدھی راہ پر آنے کی دعوت دو تو وہ تمہارے پیچھے نہ آئیں… تم خواہ انہیں پکارو یا خاموش رہو، دونوں صورتوں میں تمہارے لیے یکساں ہی ہے۔ تم لوگ خدا کو چھوڑ کر جنہیں پکارتے ہو وہ تو محض بندے ہیں جیسے تم بندے ہو۔ ان سے دعائیں مانگ دیکھو، یہ تمہاری دعائوں کا جواب دیں اگر ان کے بارے میں تمہارے خیالات صحیح ہیں۔ کیا یہ پائوں رکھتے ہیں کہ ان سے چلیں؟ کیا یہ ہاتھ رکھتے ہیں کہ ان سے پکڑیں؟ کیا یہ آنکھیں رکھتے ہیں کہ ان سے دیکھیں؟ کیا یہ کان رکھتے ہیں کہ ان سے سنیں؟ اے محمدؐ، ان سے کہہ دو کہ ’’ بلا لو اپنے ٹھیرائے ہوئے شریکوں کو، پھر تم سب مل کر میرے خلاف تدبیریں کرو اور مجھے ہرگز مہلت نہ دو، میرا حامی و ناصر وہ خدا ہے جس نے یہ کتاب نازل کی ہے اور وہ نیک آدمیوں کی حمایت کرتا ہے، بخلاف اس کے تم جنہیں خدا کو چھوڑ کر پکارتے ہو وہ نہ تمہاری مدد کرسکتے ہیں اور نہ خود اپنی مدد ہی کرنے کے قابل ہیں، بلکہ اگر تم اُنہیں سیدھی راہ پر آنے کے لیے کہو تو وہ تمہاری بات سن بھی نہیں سکتے۔ بظاہر تم کو ایسا نظر آتا ہے کہ وہ تمہاری طرف دیکھ رہے ہیں مگر فی الواقع وہ کچھ بھی نہیں دیکھتے۔‘‘
اللہ سبحانہٗ وتعالیٰ ہم سب کو اپنے دین کا صحیح فہم بخشے، اور اُس فہم کے مطابق دین کے سارے تقاضے، اور مطالبے پورے کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین
وآخر دعوانا ان لحمد للہ رب العالمین۔

حصہ