برصغیر میں اسلام کے احیا اور آزادی کی تحریکیں

143

قسط نمبر 186
(چودھواں حصہ)
’’اس میں کوئی شک نہیں کہ مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ کی شخصیت عالمِ اسلام میں ایک نمایاں مقام رکھتی ہے۔ آپ کی علمی بصیرت، خداداد فراست، حُسنِ کردار اور تفقہ فی الدین نے آپ کو شہرت و مقبولیت کے جس مقام پر پہنچادیا ہے اس صدی میں شاید ہی کوئی اور شخصیت ہو جسے آپ کے قریب کسی درجے میں رکھا جاسکے۔
مولانا کی یہ شہرت و قبولیت جہاں مداحوں، عقیدت مندوں اور حامیوں کی ایک کثیر تعداد پیدا کرنے کا سبب بنی ہے، وہیں مخالفین و حاسدین کے ایک گروہ کے نمودار ہونے کا باعث بھی بنی ہے۔ ان مخالفین میں مسٹر اور مولوی، منکرینِ حدیث اور حامیانِ سنت، مغرب پرست ملحدین اور پیروانِ اسلام جیسے متضاد عناصر جمع ہوگئے۔ ان سب میں مودودی دشمنی کے سوا اور کوئی قدرِ مشترک نہیں۔ بے دین اور مخالفِ دین عناصر کا اتحاد تو سمجھ میں آسکتا ہے، کیونکہ ان کے محبوب نظریات اور مغربی تہذیب کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ مولانا مودودی کی ذات ہے، لیکن حیرت ہے کہ نظامِ اسلامی کے داعی، منصبِ رسالت نمبر کے مصنف، تفہیم القرآن کے مؤلف کی مخالفت میں وہ لوگ بھی پیش پیش ہیں جو اپنے آپ کو حامیانِ دین میں شمار کرتے ہیں۔ مولانا مودودی معصوم عن الخطا نہیں کہ ان سے اختلاف نہ کیا جا سکے۔ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے سوا ہر ایک سے اختلاف کیا جاسکتا ہے اور کیا گیا ہے، لیکن ہر اختلاف کی ایک حد ہوتی ہے۔ وہ اختلاف جب تک معقولیت، دلائل اور شرافت کے اندر رہے تو سرتاپا امت کے حق میں رحمت ہے، لیکن جب طعن و تشنیع اور بغض و عناد شامل ہوجائے تو اس امت کے لیے ایک عذاب بن جاتا ہے۔ افسوس کہ مولانا مودودی کے اکثر مخالفین کا دامن اس سے داغ دار ہے۔‘‘
(حوالہ: کتاب ’’مولانا مودودی پر اعتراضات کا علمی جائزہ‘‘۔ حصہ اول۔ مصنف مفتی محمد یوسف… عرض ناشر جناب اشفاق مرزا)
سید مودودی کے کام اور اُن کی ذات پر حملے ابتدا میں ہی شروع ہوگئے تھے۔ کچھ کا تعلق خارجی تھا اور کچھ جماعت اسلامی کے اندر سے اٹھنے والے فتنے تھے۔
بیرونِ جماعت اسلامی کیے جانے والے اعتراضات کا جواب دینا کوئی مشکل کام نہ تھا۔ جو اعتراضات سیاسی تھے اُن کا جواب سیاسی میدان میں ہی دے دیا گیا، جیسے کہ مولانا مودودی پر یہ الزام لگایا جاتا ہے کہ ’انہوں نے ایوب خان کے صدارتی الیکشن میں قائداعظم کی ہمشیرہ محترمہ فاطمہ جناح کی نہ صرف حمایت کی بلکہ اُن کے لیے عوامی رائے عامہ بھی ہموار کی‘۔ اس کا جواب سیاسی میدان میں مولانا کے اس فقرے سے بآسانی مل سکتا ہے جو آپ نے سوال کے جواب میں کہا۔ فاطمہ جناح کی حمایت میں مولانا مودودی کی دلیل یہ تھی کہ ’’ایوب خان کی ذات ایک حکمران کے لیے درکار تمام خوبیوں سے خالی ہے سوائے اس کے کہ وہ مرد ہیں، جب کہ فاطمہ جناح کی ذات تمام خوبیوں کا مرقع ہے سوائے اس کے کہ وہ عورت ہیں۔‘‘
2 جنوری 1965ء کو بنیادی جمہوریتوں پر مبنی دستور کے مطابق پاکستان کے صدارتی انتخابات ہوئے، اُن میں جنابِ ایوب خان اور قائداعظم کی ہمشیرہ محترمہ فاطمہ جناح امیدوار تھے۔ اُن انتخابات میں جماعت اسلامی نے محترمہ فاطمہ جناح کی حمایت کی۔ اس پر جماعت اسلامی کے اخراج شدہ رکن مولانا کوثر نیازی (بعد میں بھٹو حکومت کے وزیر اطلاعات) نے اعتراض کیا، تو مولانا مودودی نے جواب دیا کہ ’’برسبیلِ تنزُّل ہم کم تر برائی کو اختیار کررہے ہیں، یعنی آمریت پر جمہوریت کو ترجیح دے رہے ہیں۔‘‘
یا اسی نوعیت کا ایک اور اعتراض کہ جماعت اسلامی نے مشرقی پاکستان کے حوالے سے پاکستانی فوج کی کیوں حمایت کی؟ یا اب وہ فوج کو حکومت میں کیوں نہیں دیکھنا چاہتی؟
مولانا کی عصری مجلس میں کسی نے سید مودودیؒ سے سوال کیا ’’جماعت اسلامی ایک دینی جماعت ہے، اسلامی نظام کا نفاذ اس کا نصب العین ہے، لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ آپ آمریت کے خلاف سیاسی جدوجہد میں سیکولر جماعتوں کے ساتھ اتحاد میں کوئی حرج نہیں سمجھتے، بلکہ عملاً ایسے اتحادوں میں جماعت اسلامی نہایت فعال کردار ادا کرتی ہے، اس کی کیا وجہ ہے؟‘‘
سید صاحب نے نہایت شگفتہ انداز میں اس سوال کا جواب دیا: ’’یوں سمجھ لیجیے کہ مختلف منزلوں کو جانے والے لوگ ایک سڑک پر رواں دواں ہیں کہ سڑک کے بیچ میں ایک ٹرک راستہ روک کر کھڑا ہوجاتا ہے، اب سب لوگوں کی کوشش یہی ہوگی کہ سب سے پہلے ٹرک کو سڑک سے ہٹایا جائے تاکہ راستہ صاف ہو اور وہ اپنی اپنی منزل کو روانہ ہوسکیں۔ آمریت کے خلاف مشترکہ جدوجہد کا معاملہ بھی ایسا ہی ہے۔ فوجی آمریت کے ٹرک نے جمہوریت کا راستہ روک رکھا ہے، ہم سب کا مفاد اسی میں ہے کہ سب سے پہلے اس ٹرک کو راستے سے ہٹائیں۔ راستہ صاف ہوجائے تو پھر سب اپنی اپنی منزل کی جانب روانہ ہوسکتے ہیں۔ جماعت اسلامی اس حکمت عملی کے تحت سیکولر سیاسی جماعتوں کے ساتھ مشترکہ سیاسی جدوجہد میں کوئی حرج نہیں سمجھتی، البتہ وہ نفاذِ اسلام کے لیے اپنے نصب العین پر کوئی سمجھوتا نہیں کرے گی۔‘‘
جس چیز نے جماعت اسلامی اور مولانا محترم کی شخصیت کو سب سے زیادہ تکلیف پہنچائی وہ بیرونی اختلاف نہیں بلکہ اندرونِ جماعت سے اٹھنے والے اعتراضات تھے، جو ہر اعتبار سے ہر دو فریقین کے لیے لمحۂ فکریہ تھے۔
نظمِ جماعت اسلامی کے قائم ہونے کے کچھ عرصے میں ہی مولانا مودودی کی ادارت میں نکلنے والے پرچے ’’ترجمان القرآن‘‘ کو سب سے پہلے ہدفِ تنقید بنایا گیا۔
رسالہ ’’ترجمان القرآن‘‘ پہلے عالمگیر تحریک قرآن کے علَم بردار مولوی ابو مصلح چلا رہے تھے۔ 1931ء میں سید مودودی نے اسے خرید کر اپنے دینی، تعمیری اور انقلابی افکار کی اشاعت کے لیے وقف کردیا۔ رسالے کو جاری رکھنے کے لیے مولانا کو زبردست مالی مشکلات کا بھی سامنا کرنا پڑا۔ مولانا کا سارا وقت ترجمان القرآن کے لیے وقف تھا اور انہوں نے ہر طرح کی ملازمت سے خود کو علیحدہ کرلیا۔
ترجمان القرآن کے ذریعے دعوت اور ایک مثالی جماعت کی تشکیل کا کام مستقل مزاجی کے ساتھ جاری رہا۔
ایک زمانہ ایسا بھی آیا جب دوسری عالمی جنگ چھڑ جانے کے سبب ہندوستان میں کاغذ کی شدید قلت پیدا ہوگئی اور کچھ عرصے کے لیے ترجمان القرآن شائع نہ ہوسکا۔ پھر سید نقی علی صاحب (حیدرآباد دکن) نے نواب بہادر یار جنگ کے توسط سے کاغذ کا بندوبست کروا کر کاغذ بھجوایا۔ اس طرح فروری 1943ء میں ایک مرتبہ پھر ترجمان القرآن کی اشاعت ممکن ہوسکی۔
اب آئیے اُن اعتراضات کی جانب، جو جماعت کے اندر سے اٹھائے گئے تھے۔
ان میں دو بڑے اعتراض تھے۔ پہلا تھا کہ مولانا مودودی اپنے آپ کو ترجمان القرآن سے الگ کرلیں اور اس کی آمدن جماعت اسلامی کے بیت المال میں جمع کروادیں، اور گھر کے اخراجات کے لیے ماہانہ کچھ مشاہرہ بیت المال سے لے لیا کریں۔
دوسرا اعتراض خود مولانا مودودی کی ذات اور امارت سے متعلق تھا۔ ان کے خیال میں مودودی صاحب کو امارت سے الگ ہوکر ایک مرکزی باڈی کو قیادت سونپ دینی چاہیے، جو ہر دو تین سال میں جماعت کی قیادت کے بارے میں فیصلہ کرسکے۔ (ان سب کی تفصیل تاریخِ جماعت اسلامی حصہ دوم میں موجود ہے، اور میرے سلسلۂ مضامین ماچھی گوٹھ روداد میں اسے دیکھا جاسکتا ہے)
دو ایک بانی اراکین نے شدو مد کے ساتھ مولانا کی امارت اور ترجمان القرآن والے معاملے کو خوب اچھالا اور اپنے حلقۂ اثر میں رائے ہموار کرنے میں لگے رہے۔ ابتدا میں معاملہ خط کتابت کی صورت میں جاری رہا۔ مولانا مودودی نے حتی الامکان کوشش کی کہ مکتوب الیہ کو جوابی خطوط کے ذریعے مطمئن کرسکیں، مگر باوجود کوشش کے ایسا ممکن نہ ہوسکا۔
1943ء میں ترجمان القرآن کچھ مدت بند رہنے کے بعد دوبارہ شروع ہوا، یہ ترجمان القرآن کی اشاعت کا ساتواں سال تھا، اس میں آپ نے اس طرح اظہارِ خیال فرمایا ’’اس پرچے کو جاری کرنے سے میرا مقصد چند لوگوں کے لیے دماغی عیاشی کا سامان فراہم کرنا اور اس سے اپنی دنیا بنانا تو ہے نہیں، میرے سامنے ایک بلند ترین نصب العین ہے جس کے لیے میں نے اس رسالے کو واسطہ بنایا ہے، اور وہ نصب العین یہ ہے کہ خالص اسلامی اصولوں پر اجتماعی زندگی کی تشکیل ہو، اور جو قوتیں اس میں مزاحم ہوں گی اُن سب کے خلاف جنگ کروں گا۔‘‘
فروری کی پہلی اشاعت میں آپ نے اندرونی اعتراضات پر اپنی جانب سے انتہائی دکھ اور دردِ دل کے ساتھ تحریر لکھی ’’میں اس فتنے کو شیطانی فتنہ اس لیے نہیں کہہ سکتا کہ اس میں مجھے ہدفِ تنقید بنایا گیا ہے… خدا کی پناہ اس سے کہ میں کبھی اپنے آپ کو معیارِ حق و باطل بناؤں… پہلے ایک گروہ نے یہ کوشش باہر سے کی تھی، اب یہی کوشش ایک دوسرے گروہ نے نظام جماعت کے اندر آکر کی۔ میں کسی کی نیت کے متعلق فیصلہ کرنے کی ذمہ داری نہیں لینا چاہتا، ممکن ہے کہ یہ سب حضرات خالص دینی جذبے ہی سے یہ سب کچھ کررہے ہوں، لیکن شیطان کے پھندے میں پھنسنے والے تمام لوگ بدنیت ہی نہیں ہوتے، بہت سے نیک نیت بھی ہوتے ہیں، اور بسا اوقات نادان متقی ہوشیار مفسد سے بڑھ کر شیطان کے لیے مفید ثابت ہوتا ہے۔‘‘
آگے چل کر فتنے میں پڑنے والوں کو خدا خوفی اور آخرت کی جوابدہی کے احساس سے کام لینے کی اپیل کرتے ہوئے فرمایا ’’میں انہیں یقین دلاتا ہوں کہ میرے قصوروں اور گناہوں اور میری خامیوں اور برائیوں کو وہ اپنی صفائی کے لیے حجت نہ بنا سکیں گے۔‘‘
صفحہ نمبر 3-4 ترجمان القرآن۔ شمارہ فروری 1943ء
تاریخ جماعت اسلامی حصہ دوم۔ آباد شاہ پوری۔ صفحہ 192- 201
(جاری ہے)

حصہ