بدزبان سوشل میڈیا

291

انشاء اللہ خان کہتے ہیں :

آپ تو ناداں ہو سو جو چاہو کہہ لو
پر تمہیں ہووے گا نقصان یہ گالی دینا

ویسے ’بد زبانی ‘ تو بہت چھوٹی سی بات ہے ، سچ تو یہ ہے کہ سوشل میڈیا کا یہ دور تو الفاظ کی توہین کا زمانہ بن چکا ہے۔ کنفیوشس نے کہا تھا کہ اگر مجھے زندگی میں صرف ایک کام کرنے کا موقع ملے تو وہ کام ہوگا الفاظ کے معنی کا تعین کرنا۔’سلپ آف ٹنگ‘ یعنی ’زبان کی پھسلن ‘کی آڑ میں کیا کچھ ہو جاتاہے ۔اس کی بہترین مثال گذشتہ ہفتہ رہا۔شاہنواز فاروقی کہتے ہیںکہ ’الفاظ کے معنی کا تعین اس لیے ضروری ہے کہ الفاظ کا غلط استعمال نہ ہو۔ الفاظ کا تعین اس لیے ضروری ہے کہ کوئی لفظ اُس کے معنی کو مجروح یا Distort نہ کرے۔ الفاظ کے معنی کا تعین اس لیے ضروری ہے کہ زندگی میں ابہام نہ پیدا ہو۔ الفاظ کے معنی کا تعین اس لیے ضروری ہے کہ زندگی یقین سے ہمکنار رہے۔ الفاظ کے معنی کا تعین اس لیے ضروری ہے کہ الفاظ کی توہین نہ ہو۔ الفاظ کی توہین اس لیے اہم ہے کہ الفاظ کی توہین زندگی کی توہین ہے۔ الفاظ کی توہین اس لیے اہم ہے کہ الفاظ کی توہین انسان کی توہین ہے۔ لیکن بدقسمتی سے ہمارا زمانہ الفاظ کی توہین کا زمانہ بن چکاہے۔
آپ کچھ بھی کہیں ، اب تو خبر کو پہلے افواہ بنا کر ہی چھوڑا جاتا ہے۔ کابینہ میں تبدیلی کی خبریں جب آنا شروع ہوئیں تو سب کو افواہ قرار دیا گیا۔ حکومت مستقل تردید کرتی رہی اور بالآخر اسد عمر کی ایک ٹوئیٹ نے ساری افواہوں کو سچ ثابت کر دیا۔گو کہ انہوں نے واضح الفاظ میں استعفیٰ لکھا تاہم آج بھی ان کے بارے میں لفظ ’ہٹا دینا ‘ ہی کوٹ ہوتا ہے ۔ایک جانب کار کردگی کے نقائص کو کابینہ تبدیلی بتائی جاتی ہے تو دوسری جانب اسد عمرکے لیے انتہائی نیک خواہشات اور اُس کے خلاف مافیا کی سازشوں کی بات کی جاتی ہے۔یہ سوالات شدت سے سوشل میڈیا پر ڈسکس کیے گئے کہ ’’اگرعمران کٹھ پتلی نہیں تواسے اسدعمراورشیریں مزاری کو استعفے کی خبریں میڈیاسے کیوں پتاچلیں؟ کابینہ تبدیلی کی خبریں3دن سے میڈیاکوکون پہلے ہی بتادیتاہے یہ ہورہاہے،یہ کون لسٹیں بنارہاہے و زراء کی کارکردگی کی خفیہ رپورٹس کہاں سے آرہی ہیں ؟اورکون پوری کی پوری مشرف اور پیپلزپارٹی کابینہ میں داخل کررہاہے؟‘‘
پھر بات ختم نہیں ہوئی مزید تڑکہ یہ لگا اور مزے دار بات یہ ہوتی ہے کہ جو شخص ناقص کار کردگی کو بدلنے آتا ہے یعنی ’حفیظ شیخ‘ کا انتخاب بطور مشیر خزانہ، تو وہ خود اتنا متنازعہ انتخاب ہوتا ہے کہ حامد میر کو ایک اہم وفاقی وزیر کی ٹوئیٹ یاد دلا کر خود ٹوئیٹ کرنی پڑتی ہے کہ ’’پانچ سال پہلے ڈاکٹر شیریں مزاری نے حفیظ شیخ کو امریکی ایجنٹ قرار دیا تھا اب دونوں ایک ہی کابینہ میں شامل ہیں کیا ڈاکٹر شیریں مزاری کو اپنا الزام واپس لینا چاہیے یا اس کی کوئی ضرورت نہیں۔‘‘اسی طرح کابینہ میں نئے افراد کی تقرری مزید سوالات اورسوشل میڈیا پر نئے تخلیقی قسم کے طنز و مزاح کو جنم دیتی ہے۔’’ہم نے ایسی کابینہ کا اعلان کیا ہے کہ اگر کسی وزیر سے کوئی کام صحیح نہیں ہو گا تو زرداری ہی بدنام ہو گا، عمران خان‘‘۔ ایک اور اہم ٹوئیٹ بھی اس صورتحال میں زیر بحث رہی کہ ’’عمران خان کی 47 رکنی کابینہ میں ایک بھی رکن وہ نہیں جو 25 اپریل 1996 کو پارٹی کی بنیاد رکھنے والوں میں شامل تھا۔ کابینہ کے اکثر ارکان پاکستان پیپلز پارٹی، پاکستان مسلم لیگ ن اور دیگر جماعتوں سے اس وقت PTI میں شامل ہوئے۔‘‘اسکے علاوہ ایک میم (تصویر) جس میں ایک جانب یوسف رضا گیلانی کی کابینہ میں شامل ارکان کی تصاویر اور دوسری جانب وہی ارکان عمران خان کے ساتھ والی بہت زیادہ وائرل رہی ۔ حتیٰ کہ معروف فلمسٹار شان شاہد نے بھی ٹوئیٹ کر دی۔
سوشل میڈیا کی اہمیت کے پیش نظر ایسی صورتحال میں فوراً ہی ایک نئے منصوبے کے ساتھ ، نئے نعرے ، نئے سلوگن کے ساتھ ، نئے آئیڈیے کے ساتھ کچھ اکاؤنٹ حرکت میں آئے اور اتنے بڑے منصوبہ بندی کے ساتھ میڈیا پلانر اترے کہ آپ ضرور تعریف کریں گے ۔ وہ نعرہ تھا بلکہ ہے’صدارتی نظام‘ ۔جو لوگ اس کا مطب جانتے ہیں یا نہیں بھی جانتے اب اس موضوع کو زیر بحث لانے کے پیچھے کی سائنس سمجھ لیں ۔ سمجھایا یہ جا رہا ہے کہ پارلیمانی نظام میں ایک ’عظیم، با کردار، دیانت دار وزیر اعظم‘ اپنی نااہل کابینہ و ساتھیوں کی وجہ سے عوام کو ڈیلیور نہیں کر سکتا وہ مجبور ہے بہت حوالوں سے اس لیے حل یہ ہے کہ صدارتی نظام کے ذریعے پارٹی کے بجائے ایک شخص کوصدر یا مکمل پاور کے ساتھ اقتدار کی مسند پر لایا جا ئے تاکہ پھر وہ ڈلیور کر سکے۔اچھا یہ بات میں اپنی دانش سے نہیں بلکہ اس ہیش ٹیگ کے ذیل میں ہونے والے مباحث کے نچوڑ کی روشنی میں بتا رہا ہوں۔ اس کا عملی مظاہرہ میں نے خود ملاحظہ کیا ۔کچھ دن قبل ایک کپڑے کی دکان پر مہنگے دام ہونے کی وجہ سے ایک معقول قسم کے صاحب دکاندار سے بحث کر رہے تھے۔ قیمت میں کمی نہ ہونے پر گفتگو کے آخر میں انہوں نے کہا کہ ’’یہ انجام ہوتا ہے جھولیاں بھر بھر کے ووٹ دینے کا،‘‘ یہ سن کر میں نے بھی لقمہ دے دیا کہ انکل ابھی تو 9 ماہ ہی ہوئے ہیں چار سال باقی ہیں ۔کہنے لگے ’بیٹا۔اس کا حل صدارتی نظام ہے ۔ وہ آئے گا تو سب سیٹ کر دے گا ورنہ یہ لوگ تو اسے کچھ کرنے ہی نہیں دیں گے ۔‘میں نے حیرت سے استفسارکیا کہ ’ انکل ۔ کون لوگ ، یہ تو سب اسی کے منتخب کردہ ہیں نا۔اورکیا صدارتی نظام میں وزیر خزانہ نہیں ہوتا کیا۔‘ موصوف کہنے لگے’ نہیں تم دیکھ لینا ۔پھر سب کچھ وہ خود کرے گا ۔‘‘ تو میں نے کہا کہ ’’ تو ابھی کون کر رہاہے ‘۔ تو انکل ہاتھ ہلا کر جانے لگے’ دیکھ لینا ۔‘
واقعی میں انہیں دیکھتا ہی رہ گیا۔ موبائل اسکرین پر ٹوئٹرچیک کیا تو صدارتی نظام بلکہ اس میں اضافہ کے ساتھ #IslamicPresidentialSystem کا ہیش ٹیگ اپنی اہمیت و اثرات بتا رہا تھا۔کئی اکاؤنٹس بن گئے راتوں رات اور زبردستی کا ہیش ٹیگ کوئی دو تین دن تک چھایا رہا۔کئی ٹی وی ٹاک شوز بھی کر الیے گئے ، اندرون خانہ یہ موضوع گھاس میں پانی کی مانند ذہن سازی کے لیے اُتارا جا رہا ہے۔
اب جس نے اس منظر نامے میں ہمت کر کے حکومت کے اقدامات کی مخالفت کی اُس کا بھی حشر نشر کیا گیا ۔ مجھے معروف ٹی وی اینکر منصور علی خان سے خصوصی ہمدردی ہوگئی کہ جو کچھ ان کی ذات کو نشانہ بنا کر کیا گیا وہ انتہائی شرمناک تھا۔
ایسے میں وزیر اعظم صاحب نے اورکزئی جلسہ میں ایک اور چھکا لگا دیا اور تقریر کرتے کرتے فرما گئے کہ ’ انشاء اللہ ہماری حکومت آئے گی تو وہ سیاحت کو فروغ دے گی۔‘‘بے چارے ویسے ہی تنقید کی زد میں تھے ایک اور شوشہ چھوڑ دیا۔ بہر حال ان کے سیاسی حریفوں نے اس کو موضوع یا زیادہ تنقید کا نشانہ نہیں بنایا گیا باوجود تحریک انصاف کے ایک بڑے سپورٹر کی جانب سے اس بیان کہ :
وزیر اعظم عمران خان آج اورکزئی ایجنسی جلسے میں بالکل پر اعتماد تھے۔بظاہر لگ رہا تھا کہ ان پر کوئی دباؤ نہیں ہے۔ ان کی باڈی لینگویج بتا رہی تھی کہ کابینہ میں تبدیلیاں کسی مقتدر حلقے کے دباؤ کی وجہ سے نہیں بلکہ پرفارمنس کی بنیاد پر کی گئی تھیں۔‘‘
یہی نہیں وزیر اعظم عمران خان ایران کے دورے پر گئے وہاں بھی کچھ ایسے الفاظ ادا ہو گئے کہ جن کا ازالہ میری نظر میں مزید الفاظ سے ممکن ہی نہیں۔ انہوں نے جرمنی جاپان کو دوسری مرتبہ آپس میں ملایا ۔ اب یہ ملانا سرحدی تھا یا تصوراتی تھا یہ تو وہی بہتر بتائیں گے ۔ البتہ عالمی جنگ دوم میں دونوں ممالک کا ایک ساتھ ہونا حقیقت تھا۔اس کے علاوہ پریس بریفنگ میں ایران میں ہونے والی دہشت گردی کو پاکستان سے جوڑنے والے بیان پر بھی خاصی گرما گرمی ہوئی ۔حقیقت میں یہ وہ باتیں ہیں جن کا کوئی دفاع نہیں سوائے معذرت کے لیکن ایسا تو کسی نے بھی نہیں سیکھا۔’’عمران خان کے بیان سے جرمنی اور جاپان کا جغرافیہ تبدیل ہوا یا نہیں ہوا۔لیکن بلاول کا حدود اربعہ اور جغرافیہ ضرور تبدیل ہوگیا۔‘‘اسی طرح ایک اور میم بھی وائرل رہی ’’لفظ نقشے سے صرف ق نکال کر دیکھو آپ کو جرمنی و جاپان ایک ساتھ دکھائی دیں گے ۔‘‘
اس کے بعد قومی اسمبلی میں پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف کے درمیان سخت تناؤ کی فضا رہی ۔ بلاول بھٹو کی جانب سے تنقید پھر حکومتی ارکان کی جانب سے زیادہ سخت تنقید نے دونوں جانب تیلی بھڑکا دی۔اگلے دن جلسہ میں وزیر اعظم پاکستان نے بلاول بھٹو کو صاحبہ کہہ کر مخاطب کرا ۔بس پھر کیا تھا۔ سوشل میڈیا پر دونوں جانب سے دنگل شروع ہو گیا ۔ الیکڑانک میڈیا بھی کود پڑا۔اپوزیشن بھی امڈ آئی۔
اس سارے شور میں جماعت اسلامی نے بھی اپنا موقف پہنچانے کا موقع ہاتھ سے جانے نہ دیا اور سب کو آزمانے کے بعد اپنے آپکو حل کے طور پر پیش کیا اور روزانہ شام کو ٹوئٹر ٹاپ ٹرینڈ میں کبھی حل…فکر مودودیؒ ، حل…صرف جماعت اسلامی ، حل… سراج الحق کے عنوان سے جگہ بناتے رہے۔اس دوران کراچی میں معصوم بچی نشوہ کا کیس اور پھر اس معصوم کی ہلاکت کا کیس بھی آیا۔یہی نہیں کورنگی کے سرکاری ہسپتال میں ایک اور معصوم لڑکی جو دانت کا علاج کرانے گئی وہاں اس کے ساتھ زیادتی اور قتل کی بہیمانہ واردات بھی بیچ میں موضوع بنی ۔مگر افسوس کے ساتھ کہوں گا کہ سوشل میڈیا پر یا تو کاروباری یا سیاسی جماعتوں کو پہلے اپنے مفاد ہی کی فکر ہوتی ہے اور وہ اپنے ایشوز کو ہی موضوع بنائے رہے۔تحریک انصاف کے معروف سپورٹر بابا کوڈا اپنے لیڈر کی تعریف میں لگے رہے ’’بلاول کو صاحبہ کہنا شاید مناسب نہ ہو۔لیکن ایسی حرکات و سکنات والی مخلوق کو اب ،ٹیپو سلطان بھی تو نہیں کہا جا سکتا۔‘‘اس پر ماروی سرمد ، مبشر زیدی ، عمر چیمہ نے ذرا سا تنقیدی ٹوئیٹ کیا کی رات ہی رات میں ماروی سرمد جیساکہ میں نے ابتداء میں کہاکہ ہمارا زمانہ الفاظ کی توہین کا ہے ، ایسا ہی ایک اور واقعہ ٹاک شو میں ہوا ، جس کے بعد اگلے روز تک اسلام آباد سے ہمارے دوست شاہد عباسی یہ لکھنے پر مجبور ہو گئے کہ ’’پاکستان میں #RemoveShehlaRaza کا احتجاجی ہیش ٹیگ تقریبا 30 ہزار ٹؤیٹس کے ساتھ کئی گھنٹوں سے ٹؤیٹر پر ٹاپ ٹرینڈ ہے۔پیپلزپارٹی کی رہنما شہلا رضا کی جیو نیوز کے ایک پروگرام میں کی گئی گفتگو ٹرینڈ کا باعث بنی ہے۔موضوع جتنا حساس ہو اس پر گفتگو اتنی ہی احتیاط کا تقاضہ کرتی ہے۔‘‘اہم بات یہ ہے کہ اس سے قبل جو کچھ فیصل واوڈا نے اسی چینل کے ایک ٹاک شو میں کہا تھا وہ تو علماء کرام کی نظر میں متفقہ توہین الہی کی مانند تھا۔ مگر آپ دیکھیں کہ اس پر کوئی شور نہیں مچ سکا کیا حکومت کیا اپوزیشن کیا دینی جماعتیں سب چپ رہیں۔ اب ذرا معاویہ ؓ کی شان میں معاملہ دیکھیں ۔
بلاول اور سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ پر تنقید کے موضوع پر صہیب جمال لکھتے ہیںکہ :
ماروی سرمد کو کتیا اور بلاول کو صاحبہ کہنے سے کہیں زیادہ سنگین معاملہ شہلا رضا کا سیدنا امیر معاویہ ؓکو موضوع بحث بنانا اور ان کے حوالے سے نامناسب لہجہ اختیار کرنا ہے۔اہل سیاست ایک دوسرے کو کتا ،کتیا ، چور جو چاہیں کہیں لیکن مقدس شخصیات کو اپنے گندے مباحث سے دور رکھیں بمشکل ملک میں فرقہ وارانہ مسائل میں کسی حد تک کمی آئی ہے۔اگر عمران خان نے حضرت معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے طرزِ حکمرانی اپنانے کی بات کی تھی تو صحیح کی تھی ، حق کہی تھی ، سلام خان صاحب۔ چاہے عمل کرے نہ کرے ، حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا تعارف تو ہے ناں۔منیب فاروق کے پروگرام پی پی پی کی شہلا رضا کا حضرت معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی طرز حکومت کا تاریخ میں ذکر نہ ہونے کے الفاظ انتہائی درجہ کی جہالت ہے ، اس عورت کو یہ کوئی سمجھائے دنیا کی بیس عظیم ریاست میں بنو امیہ شمار کی جاتی ہے۔
حضرت امیر معاویہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کی اسلام کے لیے خدمات ناقابلِ فراموش ہیں۔‘‘اس لیے یاد رکھیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو جبڑوں کے درمیان والی چیز کی حفاظت کے بدلے جنت کی ضمانت دی ہے۔
نوٹ: کی بورڈ یا ٹچ اسکرین سے لکھے گئے الفاظ بھی جبڑوں کے بیچ ہی شمار ہوتے ہیں۔

حصہ