چھوٹی سی بات

40

مدیحہ صدیقی
’’گروم اَپ‘‘ پبلک اسکول میں آج ٹیچر اور والدین کی میٹنگ ہے، متعلقہ کلاس رومز کے باہر دیوار کے ساتھ والدین کے لیے ترتیب سے کرسیاں رکھی ہوئی ہیں، تمام مائیں ایک ایک کرکے اپنی باری پر کلاس ٹیچر سے بات چیت کرنے اندر چلی جاتیں۔ ثناء بہت دیر سے پہلو بدل رہی تھی، وہ اپنی دس سالہ بیٹی کنزہ جو کہ پانچویں جماعت میں پڑھتی تھی، کے لیے بات کرنے کا انتظار کررہی تھی۔
’’نہ جانے یہ صاحبہ کتنی دیر تک بات کریں گی! ویسے ہی دیر ہورہی ہے۔‘‘ ثنا نے غصے سے سوچا۔ اتنے میں کسی بچے کی امی چہرے پر مسکراہٹ لیے والہانہ باہر نکلیں۔
’’لگتا ہے بڑی ہونہار بچی ہے ان کی، بڑی خوش نظر آرہی ہیں، اسی لیے اتنی دیر بھی لگا دی۔‘‘ ثنا پیچ و تاب کھاتے ہوئے کرسی سے اٹھی اور کلاس روم میں داخل ہوگئی۔ مس تو لگتا تھا بھری بیٹھی تھیں۔
’’بے حد باتونی ہے۔ کلاس میں کبھی کام مکمل نہیں کرتی۔ ہوم ورک تو ہوتا نہیں ہے، پھر اس پر لڑائی جھگڑے میں اتنی تیز کہ ہم پریشان ہوجاتے ہیں۔‘‘ سب شکایتیں سن کر ثنا نے اپنے طور پر ٹیچر کو مطمئن کرنے کی کوشش کی اور کلاس سے باہر نکل آئی۔ اس کا پارہ چڑھا ہوا تھا۔
’’نہ جانے کس قسم کی اولاد ہے، آج تو اس کی خبر لیتی ہوں۔‘‘ ثناء غصے سے تلملاتے ہوئے اسکول سے باہر نکلی اور احمر پر برس پڑی:
’’کچھ اولاد کی خبر بھی رکھا کریں، بیٹی صاحبہ کیا گُل کھلا رہی ہیں۔‘‘
’’بیچ سڑک پر کھڑی لڑتی رہو گی یا گھر بھی چلو گی!‘‘ جواباً احمر نے بھی ڈانٹ دیا۔ گھر کی طرف جاتے ہوئے چند جلے کٹے جملوں کے سوا دونوں میں کوئی بات نہیں ہوئی۔ گھر پہنچتے ہی ثنا نے آئو دیکھا نہ تائو، اٹھا کر دو تھپڑ کنزہ کے منہ پر جڑ دیے۔
’’اتنی فیس اس لیے بھرتے ہیں کہ تم یہ حرکتیں کرو! آخر تم پڑھائی کیوں نہیں کرتیں؟‘‘ کنزہ نے اس اچانک افتاد پر بوکھلا کر جو رونا شروع کیا تو دادی کے پاس سویا ہوا ایک سالہ فہد اٹھ بیٹھا اور کنزہ کی آواز میں آواز ملا کر اس نے بھی رونا شروع کردیا۔
اس شور شرابے سے تنگ آکر احمر نے غضب ناک ہوکر جو ڈانٹ ڈپٹ شروع کی تو سب ہی خاموش ہوگئے، لیکن ماحول اس قدر بوجھل ہوچکا تھا کہ احمر کھانا کھائے بغیر ہی پائوں پٹختے ہوئے کام پر روانہ ہوگیا اور ثنا افسوس کرتی رہ گئی۔ وہ احمر کو روک بھی نہ پائی۔ کچھ ثانیے تو یونہی کوفت اور ندامت میں کھڑی رہی، پھر دل اور دماغ کی کیفیت کو سنبھالتے ہوئے اس نے پلٹ کر بچوں کو دیکھا تو کنزہ کمرے میں روتے روتے سوچکی تھی، اور فہد کنزہ کے کھلونوں سے کھیلنے میں مصروف تھا۔ اُسے یکلخت کنزہ سے اپنے رویّے پر بہت افسوس ہوا۔
’’بچی ہی تو ہے، آخر اسے میں نے توجہ سے پڑھایا ہی کب ہے! توجہ جو نہیں دے پارہی، مسائل تو ہوں گے۔‘‘ اُس نے پیار سے کنزہ کو چادر اوڑھاتے ہوئے سوچا۔ فہد کو کھانا کھلا کر جب نماز کے لیے کھڑی ہوئی تو ضبط کے سارے بندھن ٹوٹ گئے۔
’’کیوں احمر ہر وقت مجھے ڈانٹتے رہتے ہیں؟‘‘ اس نے کرب سے سوچا۔
دو چار دن کچھ امن سے گزرتے اور پھر کوئی واقعہ ایسا ہوجاتا جس پر کوئی زوردار لڑائی پھر احمر اور ثنا کو دور کردیتی۔ گو کہ ان کی شادی کو گیارہ سال ہوچکے تھے لیکن بات بے بات بحث، الزام تراشی ماحول کو خراب اور تلخ بنادیتی۔
آج بھی احمر کو آفس میں صبح کے جھگڑے پر کوفت ہورہی تھی۔ جب ثنا نے فہد کی طبیعت کی خرابی کا ذکر کیا تو احمر پھٹ ہی تو پڑا ’’کیوں بچہ بار بار بیمار ہورہا ہے، خیال کیوں نہیں رکھتی ہو؟ میں فارغ بیٹھا ہوں ڈاکٹر کے چکر لگانے کے لیے؟‘‘ احمر پُرسوچ نظروں سے اپنی فائل کی ورق گردانی کررہا تھا، ذہن بری طرح الجھا ہوا تھا۔
’’کیوں پریشان ہو اس قدر؟ چہرہ کیوں اترا ہوا ہے؟‘‘ اچانک شاہد کی آمد اور سوالوں کی یلغار نے اسے چونکا دیا۔ پہلے تو احمر نے ٹالنا چاہا مگر شاہد کے اصرار پر اسے بتانا ہی پڑا:
’’یار! میں روز روز کی پریشانیوں اور جھگڑوں سے تنگ آگیا ہوں۔ اب میری برداشت جواب دے رہی ہے۔‘‘
’’کس سے بھائی؟‘‘ شاہد نے سوال کیا۔
’’گھر میں…‘‘ احمر نے مختصر سا جواب دیا۔
’’گھر میں کس سے؟ بیگم سے؟‘‘ شاہد نے پھر سوال کیا۔ ’’اوہ! وہی خانگی مسائل، ازدواجی جھگڑے، اُف اللہ…!‘‘
شاہد نے مزید کہا: ’’یار! اتنے سال ہوگئے ہیں تمہاری شادی کو، دو بچوں کے باپ ہو، اب تک ایک دوسرے کو نہیں سمجھے! اتنے عرصے سے ساتھ ہو تو ظاہر ہے نباہنے کا ارادہ ہے ناں۔ وہی گھر جو ہمارے لیے راحت کے ٹھکانے ہونے چاہیے تھے، مسائل کی آماج گاہ بنے ہوئے ہیں۔ میری مانو گے میرے بھائی! آج عصر کے لیے مسجد میں آدھا گھنٹہ پہلے جائو۔ دو رکعت پڑھ کر سکون سے دعا مانگو اور اللہ سے مدد طلب کرو، اور پھر گھر جانے لگو تو کچھ پھل وغیرہ کے ساتھ بھابھی کے لیے کوئی چھوٹا سا گفٹ لے لینا، چاہے وہ پھول ہی ہو، اور بچوں کے ساتھ اچھا وقت گزارو اور کل آفس آنے تک کوئی تلخ کلامی نہ کرنا، پھر کل ملیں گے۔‘‘
’’لیکن شاہد…!‘‘
’’لیکن ویکن کچھ نہیں… بس اب کل بات ہوگی۔‘‘
احمر کی سمجھ میں کچھ نہیں آرہا تھا۔ اس نے خود کو روبوٹ کی طرح شاہد کی بات پر عمل کرتے ہوئے پایا۔ بس مسجد میں بیٹھ کر اُس نے دل سے دعائیں کیں، پھر پھول کی دکان سے گجرے لیتے ہوئے اسے خیال آیا کہ اس نے کتنے عرصے سے ثنا کے لیے کچھ نہیں لیا۔گھر میں داخل ہوکر اس نے فہد کو گود میں اٹھا کر پیار کیا جو کہ داخل ہوتے ہی اس کی ٹانگوں سے لپٹ گیا تھا تو اسے اندازہ ہوا کہ اس کا بخار کچھ کم ہوا ہے۔ اس نے قریب کھڑی ثنا کو پھل اور کاغذ میں لپٹے ہوئے پھول پکڑائے اور جاکر صوفے پر بیٹھ کر فہد سے کھیلنے لگا۔ کن انکھیوں سے اس نے ثنا کی طرف دیکھا۔ اس نے پھل میز پر رکھے اور اخبار کا پیکٹ کھولتے ہوئے چونک کر احمر کی طرف دیکھا۔ احمر نے محسوس کیا کہ وہ آنکھوں کے گوشے دوپٹے سے خشک کررہی ہے۔ وہ پھر فہد کی طرف متوجہ ہوگیا ایک طمانیت کے احساس کے ساتھ۔ شام سے رات اور رات سے صبح تک ثنا سے کوئی خاص بات چیت تو نہیں ہوئی مگر تلخ کلامی بھی نہیں۔ ماحول کچھ خوش گوار ہوچکا تھا، اور بہت دنوں بعد ثنا اور احمر بچوں کے ساتھ ہنس بول رہے تھے۔ ہنسی خوشی سب نے کھانا کھایا اور صبح بغیر کسی لڑائی جھگڑے کے احمر آفس روانہ ہوگیا۔
شاہد دوپہر کے کھانے کے وقفے میں احمر کو زبردستی کھانے پر لے گیا۔ ’’آج بہتر لگ رہے ہو احمر، کہو صحیح کہہ رہا ہوں ناں؟ کل تو کیا ٹینس تھے تم۔‘‘ احمر مسکرا دیا۔
’’دیکھو احمر! رویّے انسانی زندگی کے اس اظہار کا نام ہیں جس میں عموماً انسان کی شخصیت کا عکس ہوتا ہے۔ اس کا ’’اندر‘‘ نکل کر باہر آتا ہے۔ آپ کو اپنا اندر مطمئن اور پُرسکون بنانا ہوگا۔ حالات خودبخود بہتر ہونا شروع ہوجائیں گے۔ پھر آپ کا اللہ سے تعلق کیسا ہے۔ ہماری زندگی کیا، کائنات کا رب اللہ ہے۔ ہم کیوں مسائل اپنے ہاتھ میں لیتے ہیں! بس ہم اپنی بہترین صلاحیتیں لگا دیں۔‘‘ شاہد سانس لینے کو رُکا۔
’’یقینا منفی سوچیں اور رویّے انسان کی سوچ اور عمل کو مفلوج کردیتے ہیں۔ ہمیشہ مثبت سوچو اور حل نکالو۔ دیکھو تم روز آفس آتے ہو، سارا دن محنت کرتے ہو، بھابھی سارا دن گھر میں کام کاج کرتی ہیں تو اس کا مطلب ہے دونوں اس گھر کو چلانا چاہتے ہیں۔ اگر یہی کام پیار محبت سے اور ایک دوسرے کی قدردانی سے کیا جائے تو دیکھو اللہ نے تو میاں بیوی کو ایک دوسرے کے لیے باعثِ سکون بنایا ہے۔ بیوی کے جذبات کا خیال رکھو، اس کی بات کو اہمیت دو، اسے عزت دو تو وہ خودبخود ٹھیک ہوجائے گی۔
زندگی رحمت ہی رحمت ہوگی، تم دونوں کے لیے بھی اور بچوں کے لیے بھی۔ مسائل کا حل نکالو آپس میں ڈسکس کرکے، بچوں سے باتیں کرو، ان کے ساتھ وقت گزارو۔ اور ہاں احمر بدگمان مت ہونا کبھی بھی۔ بدگمانی رشتوں کو کاٹ دیتی ہے۔‘‘
احمر نے دھیرے سے اپنا سر اثبات میں ہلایا اور دونوں مسکرا کر کھڑے ہوگئے۔

حصہ