نواز، زرداری ناراضی اور مولانا فضل الرحمٰن کا سیاسی کردار

54

جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن ان دنوں غیر معمولی طور پر بہت سرگرم ہیں۔ منگل کو لاہور میں انہوں نے مسلم لیگ ن کے بانی و قائد میاں نواز شریف اور بدھ کو اسلام آباد میں پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین اور سابق صدر آصف علی زرداری سے ملاقات کی۔ آصف زرداری سے ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مولانا نے کہا کہ آج ان کے پاس آپ لوگوں کے لیے کوئی سرپرائز نہیں ہے۔ جب کہ آصف علی زرداری کا کہنا تھا کہ ’’کپتان کو واپس گھر جانا ہوگا، اگر ہم نے ایسا نہ کیا تو ’’کوئی اور فورس‘‘ یہ کام کرے گی۔ ‘‘
آصف زرداری تو ان دنوں حکومت پر اس لیے بھی برہم ہیں کہ انہیں خدشہ ہے کہ وہ اب جلد گرفتار ہوکر جیل چلیں جائیں گے۔ یہی وجہ تھی کہ بدھ کی صبح احتساب عدالت میں پیشی کے بعد انہوں نے موبائل کیمرے سے وڈیو بنانے والے ایک صحافی کا موبائل بھی چھیننے کی کوشش کی۔ گو کہ آصف زرداری کو کرپشن کیس میں ’’اندر‘‘ ہونے کے ڈر نے پریشان کیا ہوا ہے مگر وہ وزیراعظم عمران خان کے لیے کہہ رہے ہیں کہ ’’کپتان کو اب گھر جانا ہوگا…اگر ہم نے ایسا نہیں کیا تو کوئی اور قوت ایسا کرے گی۔‘‘ ان کا مزید کہنا تھا کہ ’’موجودہ حکومت کو پیچھے نہ کیا گیا تو نقصان کی تلافی نہیں ہوسکے گی۔‘‘
آصف زرداری کی اس بات پر یقینا لوگ ہنس رہے ہوں گے اور یہ کہنے میںحق بجانب ہیں کہ ’’جتنا نقصان آصف علی زرداری کی سربراہی میں پیپلز پارٹی کی حکومت کو ہوا اس سے زیادہ اور کیا نقصان ہوگا کہ جس کی تلافی بھی ممکن نہیں۔ عوام سمجھ چکے ہیں کہ مسلم لیگ نواز اور پیپلز پارٹی کی صفوں میں بے چینی کی وجوہات ملک و قوم کو درپیش مسائل نہیں ہیں بلکہ ان کے اوپر لگے کرپشن کے مقدمات ہیں۔
میاں نواز شریف تو اس طرح کے مقدمات اور جھوٹ بولنے پر تاحیات کسی بھی عوامی عہدے کے لیے نااہل ہوچکے ہیں جبکہ انہیں دس سال کی سزا بھی ہوچکی ہے۔ میاں نواز شریف دنیا کے وہ واحد مجرم ہیں جنہیں علاج کی غرض سے 65 روز کے لیے رہا کیا گیا ہے۔
منگل کو مولانا فضل الرحمن نے میاں نواز شریف سے بھی لاہور میں ملاقات کی تھی۔ مولانا کا مسئلہ یہ ہے کہ 2018 کے انتخابات میں بری طرح ناکام ہونے کے بعد وہ اب تک اس صدمے کو بھلا نہیں پائے ہیں۔ وہ کسی بھی طرح سیاست میں سرگرم دکھائی دینا چاہتے ہیں تاکہ قوم یہ سمجھ سکے کہ ان کی اب بھی سیاسی ساکھ اور اہمیت برقرار ہے۔
اندازہ ہے کہ میاں نواز شریف اور آصف زرداری سے مولانا کی ملاقاتوں کا کوئی خاطر خواہ نتیجہ نہیں نکل سکا۔ عوام کے ایک بڑے حلقے خصوصاً پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کے لیے یہ یقینا خوش آئند بات ہوگی لیکن مولانا کے لیے یہ امر بھی باعث شرمندگی ہوگا۔
ان ملاقاتوں کے تناظر میں یہ بات کہی جارہی تھی کہ مسلم لیگ نواز کے بانی و قائد نواز شریف اور جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کے درمیان ہونے والی ملاقات کو سیاسی حلقے اپوزیشن کو درپیش مشکلات سے نکالنے کی حکمت عملی قرار دے رہے تھے۔ تاہم پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ کے حلقوں کو ان ملاقاتوں کا فوری طور پر کسی بھی قسم کا فائدہ ہونے کی توقع نہیں تھی جو پوری ہوتے ہوئے بھی دکھائی دے رہی ہے۔ مسلم لیگ سے تعلق رکھنے والے متعدد رہنمائوں کا کہنا ہے کہ اس ملاقات سے مولانا فضل الرحمن کو سیاسی فائدہ ہوسکتا تھا۔ تاہم میاں نواز شریف اور ان کی سیاست کو مولانا سے ڈیڑھ گھنٹے طویل ملاقات سے نقصان ہونے کے خدشات زیادہ ہیں کیوں کہ نواز شریف علاج کی غرض سے جیل سے رہا کیے گئے ہیں جب کہ وہ سیاسی طور پر کسی بھی عہدے کے لیے اہل بھی نہیں ہیں اس لیے حکومت مولانا فضل الرحمن کی نواز شریف سے ملاقات پر عدالت سے رجوع بھی کرسکتی ہے۔
وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری میاں نواز شریف کی مولانا سے ملاقات اور سیاسی گفتگو پر اعتراض بھی کرچکے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ میاں نواز شریف کو جیل سے باہر نکالنے کے لیے یہ کہا جا رہا تھا کہ ان کی طبیعت بہت خراب ہے، مگر اب نواز شریف کے لیے ایمبولینس کے بجائے مولانا فضل الرحمن پہنچ رہے ہیں۔
مولانا فضل الرحمن کی ان ملاقاتوں کا فوری مقصد کسی طرح میاں نواز شریف اور آصف زرداری کی ملاقات کرانا تھا تاکہ موجودہ حکومت کے خلاف بھرپور تحریک چلائی جاسکے اور اس تحریک کے لیے مولانا اپنے سیاسی کردار ادا کرسکے۔ لیکن ایسا لگتا ہے کہ آصف زرداری ان حالات اور مولانا کے اصرار کے باوجود میاں نواز شریف سے ملاقات کے لیے تیار نہیں ہے۔ آصف زرداری نے ایک صحافی کے اس سوال پر کہ ’’آپ میاں صاحب کی عیادت کے لیے کب جائیں گے؟‘‘ آصف زرداری نے جواب دیا کہ ’’بلاول صاحب ان کی عیادت کرچکے ہیں۔‘‘ سابق صدر کا یہ جواب اشارہ دے رہا تھا کہ وہ نواز شریف سے ملاقات کے لیے تیار نہیں ہیں۔
اس کا مطلب یہ ہوا کہ مستقبل قریب میں یا براہ راست میاں نواز شریف کے آصف زرداری سے رابطہ نہ کرنے تک اپوزیشن کی دونوں جماعتوں کے درمیان حکومت کے خلاف تحریک چلانے کے لیے اتفاق ہونے کا بھی کوئی امکان نہیں ہے۔ سیاسی حلقوں کا کہنا ہے کہ سابق صدر ، سابق وزیراعظم سے اب تک ناراض ہیں اس ناراضی کی وجہ نواز شریف کے دور وزارت عظمٰی میں آصف زرداری اور ان کے قریبی دوستوں کے خلاف کی جانے والی کارروائیاں تھیں جس کی وجہ سے آصف زرداری کو 25 جون 2015 کو اچانک دبئی جانا پڑ گیا تھا جہاں سے وہ ڈھائی سال بعد وطن واپس آئے تھے۔
آصف زرداری اور نواز شریف کے درمیان ہم آہنگی نہ ہونا تحریک انصاف کی حکومت اور وزیراعظم عمران خان کے لیے باعث اطمینان ہوگا۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ اپوزیشن سے تعلق رکھنے والے دونوں مذکورہ شخصیات اب اپنی مدد آپ کے تحت جو بھی حالات ہوئے‘ اس کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہیں۔ ایسی صورت میں آئندہ عام انتخابات تک جے یو آئی کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کیا کریں گے اور ان کی آئندہ کی حکمت عملی کیا ہوگی یہ دیکھنا باقی ہے۔ ممکن ہے کہ چھ ماہ بعد مولانا وزیر اعظم عمران خان سے مذاکرات کرکے اپنا ’’سیاسی کردار‘‘ ادا کرنے لگیں۔

حصہ