معروف شاعر، اکبر معصوم کی رحلت پر اہلِ ادب کے تاثرات

150

سیمان کی ڈائری
ہر انسان کی دنیاوی زندگی کے سفر کی ایک حد ہے جبکہ دائمی زندگی لامحدود۔ بہت عجیب سا احساس ہوتا ہے جب ہم کسی بھی شخص کے انتقال کی خبر سنتے ہیں،بتاتے ہیں۔انسان جب پیدا ہوتا ہے تو خوشی کاباعث بنتا ہے اور جب وہ دنیا سے رخصت ہوتا ہے تو ایک دکھ بھری داستان بن کر دلوں میں رہ جاتا ہے۔ 7اپریل کونامورشاعرانعام ندیم کے توسط ایک افسوس ناک خبر ملی کہ اردوکے صاحبِ طرز شاعر اکبر معصوم انتقال کر گئے۔ اناللہ واناعلیہ راجعون! اکبر معصوم کو برین ہمبریج کی وجہ سے سانگھڑ سے کراچی منتقل کیا گیا تھااورانھیں سانگھڑمیں سپرد خاک کیا گیا۔ سن دوہزار کے قریب اْن کاپہلا شعری مجموعہ ا’’ور کہاں تک جانا ہے‘‘ شائع ہوا جسے اردو ادب میں خوب پذیرائی حاصل ہوئی۔ وہی اولین شعری مجموعہ اکبر معصوم کی شناخت بنا۔ دوسرے شعری مجموعے کی اشاعت کو تقریباً پندرہ سے زاید سال کا عرصہ لگاجو’’بے ساختہ ‘‘کے عنوان سے پچھلے برس شائع ہوا۔ تیسرا شعری مجموعہ پنجابی زبان میں ’’نیندر پچھلے پہر دی‘‘کے عنوان سے موجود ہے۔ اکبر معصوم نے شاعری کے علاوہ ایک سندھی ناول کا ترجمہ بھی کیا۔اْنھیں پینٹنگ کا بھی شوق تھا۔
اکبرمعصوم کے لیے میرا جی تو بہت چاہتا ہے کہ انھیں خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے خود ہی لکھوں لیکن میں نے اپنے کالم کو اہلِ ادب کے تاثرات کے عنوان سے ترتیب دیا ہے اورعہدِ موجود کے اہم اہلِ سخن سے درخواست کی کہ وہ اکبر معصوم کے لیے کچھ لکھیں،سو میری درخواست قبول ہوئی اور یہ صفحہ وجود میں آیا۔
افتخار عارف
نئی نسل کے تازہ فکر شعرا کے درمیان اکبر معصوم اپنی قابلِ رشک انفرادیت کے سبب بہت نمایاں حیثیت کے حامل تھے۔اْن کی غزل ایک جداگانہ اسلوب کی حامل تھی۔وہ ایک مکمل شاعر تھے۔
شاہدہ حسن

خود ہی باغِ عدم میں جا پہنچا
آخری پنکھڑی بناتے ہوئے

آخری پنکھڑی بنتے ہی یہ پھول اپنی تکمیل کو پہنچا اور پھر اِس خوشبوئے گل نے چار سو بکھر جانے کی ٹھان لی۔ افسو س کہ یہ خوبصورت شاعربھی ہم سے جدا ہوگیا۔ انا للہ وانا الیہِ راجعون۔ اکبر معصوم کی رحلت، اچھی شاعری سے لطف اٹھانے والوں کے لیے اک بڑے صدمے کی خبر ہے۔ 2002 میں اکبر معصوم کی شاعری کا پہلا مجموعہ’’ اور کہاں تک جانا ہے‘‘شائع ہوا تو انھوں نے اس کا اک نسخہ مجھے دیتے وقت اس پر اظہارِ خیال کی دعوت دی جسے میں نے بہ خوشی قبول کیا کہ اکبر معصوم کی غزلوں کے تازہ اشعار میرے محسوسات میں پہلے ہی سے جگہ بنائے ہوئے تھے۔

کر رہا ہوں میں ایک پھول پہ کام
روز اک پنکھڑی بناتا ہوں
مجھ سے شکوہ تو ایسے کرتے ہو
جیسے میں زندگی بناتا ہوں

اکبر معصوم اک سادہ و منکسرالمزاج ،بے حد حساس اور خوددار انسان تھے۔ زندگی کی سفاک حقیقتوں کو قلم بند کرتے ہوئے اْن کے تلخ ذائقوں کو اپنی گردشِ خیال میں یوں جذب کرلیتے تھے کہ اْن کے شعری اظہار میں اک جاذبیت اور انفرادیت پیدا ہو جاتی تھی۔زندگی سے انھوں نے جو کچھ اخذ کیا۔جو بھی دکھ سکھ جھیلے، ان ساری خواہشات و خواب، محسوسات اور ردِ عمل کو بہت سچائی کے ساتھ لکھا۔ اسی لیے ہم اْن کی شاعری سے سرسری نہیں گزر سکتے۔ دیکھیں کیسی سادہ بیانی اور کیسی خوبصورتی سے لکھا ہے۔

گل تو اس خاکداں سے آتے ہیں
رنگ اِن میں کہاں سے آتے ہیں
باہر آتے ہیں آنسو اندر سے
جانے اندر کہاں سے آتے ہیں
گھر کے لوگوں کو جگاتا کیوں نہیں
مر چکا ہے تو بتاتا کیوں نہیں
رات دن دیوار و در کے حال پر
رونے والے مسکراتا کیوں نہیں
میں کب سے اپنی ذات کی دہشت میں قید ہوں
مجھ کو مرے وجود سے باہر نکال دے
گر تجھ سے میں سوال کروں ایک بوند کا
اے چشمِ یار مجھ پہ سمندر اچھال دے

اکبر معصوم اب اپنے آزارِ جسم و جاں سے نکل کر اک دائمی سکون کی دنیامیں قدم رکھ چکے ہیں اور اْن کا نام اردو شاعری کی دنیا میں اپنی جگہ بنا چکا ہے۔ دعاگو ہوں کہ ربِ رحیم اْنھیں اپنی رحمتوں کے سائے میں جگہ مرحمت فرمائے۔آمین۔
عتیق جیلانی
اکبر معصوم کی رحلت سے روایتی معنوں میں نہیں حقیقی معنوں میں ایک خلا پیدا ہوا ہے۔ کیوں کہ وہ اپنی ذات میں ایک ادارہ تھے۔ شعرو ادب کے حوالے سے اْن کا چشم فیض جاری تھا۔ اکبر بے حد ذہین شخص تھا۔ چند محرومیوں کے باوجود زندگی سے بھر پور جڑا ہوا۔اکبر معصوم معیار کے معاملے میں سفاکی کی حد تک صاف گو، سچا اور کھرا انسان تھا۔جدید اور قدیم ادب پر اچھی نگاہ تھی۔ ایک فضول سی کتاب دیکھ کر کہا ،’’یہ کتاب ایسی نہیں کہ اِسے یوں ہی رکھ دیا جائے ،اِسے بہت زور سے پٹخنا پڑے گا۔‘‘
خالد معین
اکبر معصوم جدید اردو غزل کا سب سے جدا اور سب سے اہم صف شاعر ہے۔ اْس کی ناگہاں جدائی نے پوری اردو دنیا کو سوگوار کردیاہے۔ اکبر معصوم جب اسپتال میں داخل تھا، میں چپکے چپکے اْس کی جلد صحت یابی کی دعائیں مانگ رہا تھا اور پھر وہی ہوا، جس کا دھڑکا کئی دن سے لگا ہوا تھا۔ خیر! اکبر معصوم دائمی جدائی کے بعد اب اور قریب آ گیاہے۔ وہ فاصلہ جو پہلے گمان کا تھا، اب وہ درمیان سے ہٹ گیا ہے۔ یوں منظر پہلے سے اَور صاف اور شفاف ہوگیا ہے۔ اْس کے لیے اب روایتی اور رسمی باتوں سے ہٹ کر کچھ سچی اور کام کی باتوں کا آغاز ہونا چاہیے۔ ایسا بہت سا جو ہم اکبر معصوم کے لیے پہلے نہیں کر سکے، اب وہ سب ہونا چاہیے۔ ایک تو یہ کہ اْس کی شخصیت اور فن پر اہم ناقدین کو توجہ دینی چاہیے، اْس کے دوستوں کو اس سلسلے میں آگے آنا چاہیے۔دوسری طرف اْسے سرکاری طور پر اعزازات سے نوازنا چاہیے۔ وہ بہت سے جعلی اور دو نمبری لوگوں سے زیادہ ایسے اعزازات کا حقیقی معنوں میں حق دار تھا جو لابی اور پی آر والے اْڑے۔ لیکن اب وقت آ گیاہے کہ اْس کے فن کو انصاف کے ترازو میں تولا جائے اور اس خوبصورت اور معصوم شاعر کو جو بلاشبہ ہمارے عہد کا منفرد شاعرہے، اْس کو بڑے پیمانے پر سراہا جائے۔میں نے ایک مضمون (رفاقتیں کیا کیا) میں اکبر معصوم پر بھی لکھاتھا جو اْسے بہت پسند آیا تھا۔اور دو تین بار اْس نے فون پر بہت دیر اس کتاب اور اپنے مضمون پر بات کی اور اپنی پسندیدگی کا اظہار بھی کیا۔ اکبر معصوم پر اور بھی لکھا جانا چاہیے۔ یہ ایک قرض ہے اور ذاتی طور پرمَیں اسے ادا کرنے کی کوشش ضرور کروں گا۔سرِ دست تو اکبر معصوم کے لیے دستِ دعا بلند ہے۔ خدا اْسے اپنی جوارِ رحمت میں جگہ عطا فرمائے۔ آمین۔
عرفان ستار
ہمارے عہد میں شعری افق پر چمکنے والا ایک بہت روشن ستارہ اکبر معصوم ہے۔ آج اکبر معصوم کو ہم سے بچھڑے ہوئے چند دن گزر گئے مگر اْن کے نام کا ستارہ اْن کے بعد بھی چمک رہا ہے اور چمکتا رہے گا۔ اکبر معصوم نے اپنے بعد آنے والی نسل کے بہت سے شعرا کے لیے نئے راستے ہموار کیے اور انہیں اس راستے پر چلنے کی ہمت بھی دی۔ بہت اچھے شعرا میں سے بھی دو ایک ہی ہوتے ہیں جو اپنے عصر میں اپنے منفرد ہونے کا مستحکم ثبوت فراہم کرتے ہیں۔ اکبر معصوم ہمارے عہد کا ایسا ہی ایک نام ہے۔ جو کام انھوں نے چھوڑا ہے وہ بے حد وقیع ہے اور جس طرح کا شعری لہجہ اْن کی شناخت ہے، وہ آنے والے لمبے عرصے تک نوواردانِ سخن سرا کے لیے تخلیقی حدت اور ہمت کا سامان مہیا کرتا رہے گا اور ساتھ ہی ساتھ شائقینِ سخن کے ذوق کی تسکین کا سبب رہے گا۔
ممتاز شیخ
سندھ کے شہر سانگھڑکی دھرتی سے اٹھنے والا اکبر معصوم ہم سے رخصت ہوا۔وہ شاعر جو محض اٹھاون برس کی عمر میں ایسے ایسے شعر گنگنانے کو ہمیں دے گیا جو مدتوں ہمارے احساسِ تلذذ میں خوشبو گھولتے رہیں گے۔ آج اکبر معصوم کو یاد کرتے ہوئے اْس کے دو شعر یاد آتے رہے۔

چھوڑ کے بود و باش کسی دن
خود کو کریں تلاش کسی دن
لگے ٹھکانے خاک ہماری
بلواؤ فراش کسی دن

اکبر معصوم سے ملے ہوئے مدتوں نہیں محض چند سال ہی ہوئے مگر یہ چندسال بھی مدتوں کے تعلق پر بھاری ہیں۔ سہ ماہی’’لوح‘‘کے لیے اْن سے غزلوں کا تقاضا کیا تو یوں محسوس ہوا گویا محبت کا بجائے خود ہزار رنگ تھا اور پھر اْس سے تعلق کو پر لگ گئے۔ مجھے اندازہ نہیں تھا کہ لوح میرے اور اکبر معصوم کی محبت کے سمندر پر پل بن جائے گا۔ اْس سے بات ہوتی تو اختتام ہمیشہ میری اْس سے شعر سنانے کی فرمائش پر ہوتا اور اْس کے منہ سے سبک رفتاری سے شعر پھولوں میں ڈھلتے اور میں منٹوں اْس کی خوش بو سے مہکتا رہتا۔ اکبر معصوم جہاں ایک بہت عمدہ اور شاندار شاعر تھا۔وہ ایک نستعلیق دوست اور نفیس روح بھی تھا۔ میں اکبر معصوم سے ایک شاندار شاعر ہونے کی بنا پر متاثر بھی تھااور اْس کا مداح بھی تھا۔ چند روز پہلے فون پر خبر آئی کہ اردو سندھی اور پنجابی کے باکمال شاعر اکبر معصوم برین ہیمبرج کے سبب نازک حالت میں اسپتال جا پہنچے ہیں تو طبیعت میں عجیب گرانی اداسی اور مایوسی کی لہر سی دوڑ گئی اور بے ساختہ دل سے دعا نکلی، مولا خیر کرنا کہ پہلے ہی ادب کی بستی کے لعل و گوہر منوں مٹی تلے جا بسے ہیں مگر ہونی کب ٹلتی ہے۔ سو اکبر معصوم بھی ہم سے بچھڑ کر مٹی کی چادر تان کر سو گیا۔ اکبر معصوم کی شاعری برجستگی اور شعریت و معنویت کا مرقع ہے اور اساتذہ شعرا بھی اس کے بارے میں ثقہ رائے رکھتے تھے کہ وہ دنیائے شعر میں بہت آگے جائے گامگر یہ سوال آن سامنے کھڑا ہوتا ہے کہ ’’کہاں تک جانا ہے‘‘ جو اْس کے شعری مجموعے کا ٹائٹل ہے۔ اکبر معصوم پرمزید لکھنے سے ہزار درجے بہتر جانتا ہوں کہ اْسی کے الفاظ میں اْسے یاد رکھا جائے اور سرشار رہا جائے۔
شاہین عباس
اکبر معصوم کی غزل کو بجا طور پر خاص و عام میں یکساں مقبولیت حاصل ہوئی۔ وہ غزل کی ہر اْس رمز سے آگاہ تھے جو شعر کو شعر بنانے کے لیے ضروری سمجھی جاتی ہے۔سلاست اور سہل ممتنع سے متصف اکبر معصوم کے اشعار،اْن کی تخلیقی زندگی کے ایسے اچھوتے ماحول اور نقوش کا پتا دیتے ہیں جو میرؔ کی روایتِ غزل کا تسلسل بھی ہے اور معاصرشعری منظر نامے میں ایک قابلِ قدر اضافہ بھی۔ یہی ماحول اْن کی پنجابی شاعری میں بھی نظر آتا ہے۔ اْنھوں نے آلام،حوادث اور باطنی شیرازوں کے مابین رہ کر ہی کہیں اپنی غزل کی اکائی کو بھی دریافت کیا ہے۔ وہ تادمِ آخر اپنی اسی دنیا کانظام چلاتے رہے اور دادو ستایش کی تمنا کیے بغیر زندگی گزار کر چلے گئے۔ اْن کے یوں چلے جانے سے اردو دنیا ئے غزل اپنے ایک محسن سے محروم ہوگئی ہے۔
انعام ندیم
اکبر معصوم کا اور میرا کم و بیش تیس برس کا ساتھ تھا۔ اس دوران مجھے اکبرمعصوم کو بہ حیثیت شخص اور شاعر بہت قریب سے دیکھنے کا اتفاق ہوا۔ وہ جسمانی طور پر لاغر ضرور تھے لیکن اپنے فن میں بے حد توانا تھے۔ اسی وجہ سے ہم دوستوں کو وہ کبھی کمزور یا معذور نظر نہیں آئے۔اس پر ان کی زندہ دلی، بذلہ سنجی اور جملے بازی مستزاد تھی۔ انھیں بہت مشکل زندگی ملی تھی جسے انھوں نے بڑی بہادری سے گزارا۔ انھوں نے اپنی شاعری کو اپنی طاقت بنایا۔ میں سمجھتا ہوں یہ اْن کی شاعری ہی تھی جس نے انھیں بار بار ٹوٹنے سے بچایا۔ وہ اردو غزل کی ہم عصر شاعری کے سربرآوردہ شاعروں میں سے تھے۔ اْن کا شمار آج کے چند سب سے اچھے شاعروں میں ہوتا ہے۔ انھوں نے غزل کی شاعری میں اپنا منفرد نقش قائم کیا۔ سن دوہزار میں ان کا پہلا شعری مجموعہ’’اور کہاں تک جانا ہے‘‘منظر عام پر آیا تو اس نے اردو دنیا کو چونکا دیا تھا۔ اْن کا شاعرانہ اسلوب، مضامین اور مصرع سازی کا فن اس قدر عمدہ تھا کہ یہ یقین کرنا مشکل معلوم ہوتا تھا کہ یہ کسی شاعر کا پہلا مجموعہ ہے۔ میں سمجھتا ہوں اس کی وجہ اکبر معصوم کی اپنے فن کے ساتھ لگن اور سچائی تھی۔ وہ عام لکھنے والوں کی طرح محض قافیہ پیمائی کے قائل نہیں تھے۔ وہ بہت سوچ سمجھ کر شعر کو کاغذ پر منتقل کرتے تھے۔ میں اس بات کا ذاتی طور پر گواہ ہوں کہ وہ اپنی نئی غزل کہنے کے بعد اس کا کڑا جائزہ لیا کرتے تھے اور اگر انھیں کوئی شعر ذرا سا بھی کمزور معلوم ہوتا وہ اسے غزل سے خارج کردیتے تھے۔ پھر انھیں اس بات کا بھی خیال رہتا تھا کہ ہر شعر میں کوئی نہ کوئی زاویہ نظر آنا چاہیے یا پھر زبان کا کچھ لطف موجود ہونا چاہیے۔ شعر کی زبان کیسی ہونی چاہیے، اکبر معصوم کی شاعری کو پڑھ کر یہ سیکھا جا سکتا ہے۔ اگرچہ ان کی شاعری میں بہ ظاہر کوئی بھاری بھرکم فلسفہ دکھائی نہیں دیتا تاہم تہہ در تہہ معانی کی پرتیں اپنے جمالیاتی آہنگ کے ساتھ مل کر ان کے شعر کو منفرد بناتی ہیں۔ اکبر معصوم ایسے شاعر تھے جنھوں نے ملک کے ادبی مراکز سے دور،ایک چھوٹے سے شہر میں اپنی ساری زندگی گوشہ نشینی میں گزار دی لیکن اس کے باوجود اْن کی شاعری نے بھر پور نام اور مقام حاصل کیا۔ اکبر معصوم کے انتقال سے ہم نے ایک بے مثال شاعر کو کھو دیاہے۔ ایسے عمدہ شاعر روز روز پیدا نہیں ہوتے۔
ڈاکٹر عنبرین حسیب عنبر

میں نے بستر کو کیا تختِ سلیماں ورنہ
عمر بیکار بھی کٹ سکتی تھی معذوری میں

شعروسخن کے تختِ سلیمان پر براجمان اس بانکے شاعر سے ہماری پہلی ملاقات معروف ادبی تنظیم ”تہذیب” کی تقریبِ انعامات میں ہوئی تھی۔ بارعب چہرہ، باوقار انداز، پرخلوص مسکراہٹ اور باتوں میں انکسار اس طرح ہم آمیز تھے کہ ان سے ایک نہایت منفرد تصویر بن رہی تھی۔ ہمیں فخر ہے کہ نظامت کے فرائض انجام دیتے ہوئے ہم نے ہی اْن کے خوب صورت شعری مجموعے کو انعام کا حق دار قرار پانے کا اعلان کیا مگر سچ تو یہ ہے کہ اکبر معصوم کی شاعری کسی بھی انعام و اکرام سے بہت آگے کی چیز ہے۔ اس نے تو خود کو ان سے بھی منوالیا جو اپنے سوا کسی کو ماننے کے لیے تیار نہیں ہوتے۔ہم گاہے گاہے اکبر معصوم کو پڑھتے رہے تھے مگر اْس ملاقات اور اْس ملاقات میں ہونے والی گفتگو کے بعد ہم نے سنجیدگی سے اْن کی شاعری کو پڑھا جو اپنے تخلیق کار کی انفرادیت کا منہ بولتا ثبوت تھی۔ اکبر معصوم وہ تخلیق کار تھا جس نے بچپن میں غموں سے لڑنا اور ڈٹ کر جینا سیکھ لیا تھا۔ اس لیے وہ اپنے تخیل کے پنکھ لگائے اونچی اڑانیں بھرتا رہاکیوں کہ وہ گرنے سے خوف زدہ نہیں تھا۔دنیا، تنہائی، محبت، ہجر قریہ قریہ پھرتے اس شاعر نے وہ زندہ داستان لکھی ہے جو اکبر معصوم کو اردو شاعری میں مرنے نہیں دے گی۔ایسے سچے اور عمدہ شاعر مرتے بھی نہیں ہیں۔ مرتے تو وہ ہیں جو اِن کا حق ادا نہیں کرتے۔ اکبر معصوم خود بھی اس حقیقت سے بخوبی آگاہ تھے اسی لیے اس احساسِ طمانیت کے ساتھ چلے گئے ہیں کہ

ہم کو ایک زمانے تک
روئیں گے ویرانے تک

حصہ