قائداعظم کیسا پاکستان چاہتے تھے۔۔۔؟۔

39

انیلہ افضال
ایک ہزار سال ایک ساتھ رہنے کے باوجود جب ہندوستان کے ہندو اور مسلمان باہم شیر و شکر نہ ہو سکے اور عہد اکبری میں ان دونوں کو ملانے کی غیر فطری کوشش’’دین اکبری ‘‘بھی ناکامی سے دوچار ہوئی تو اس کے بعد اورنگ زیب سے لے کرشاہ ولی اللہ،مولانا محمود الحسن، مولانا اشرف علی تھانوی ،مولانا شبیر احمد عثمانی پھر علی برادران، مولانا محمد علی جوہر، مولانا حسرت موہانی اور بہت سے دوسرے بھی کہ جن تمام کا ذکر ضعف یادداشت اورتنگی وقت کے باعث ممکن نہیںنے مسلمانان ہند کے تشخص کو برقرار رکھنے کے لیے ہر ممکن کوشش کی۔ بالآخر اس جدوجہد کی باگ ڈور ایک ذہین وکیل اور زیرک سیاستدان محمد علی جناح کے مضبوط ہاتھوں میں آئی جنہوں نے دن رات کے انتھک محنت سے مسلمانان ہند کے لیے اپنے وقت کا سب سے بڑا اسلامی ملک حاصل کیا۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ قائد اعظم کو مسلمانوں کے قومی تشخص کا اس قدر شدید ا حساس کیونکر ہوا تھا بحوالہ پیسہ اخبار 1928 ’’مجھے بحیثیت مسلمان دوسری اقوام کے تمدن ،تہذیب اور معاشرت کا پورا پورا احترام ہے لیکن مجھے اپنے اسلامی کلچر اور تہذیب سے بہت محبت ہے۔ میں ہرگز نہیں چاہتا کہ ہماری آنے والی نسلیں اسلامی تمدن اور ثقافت سے بالکل بے گانہ ہوجائیں‘‘۔ کچھ اسی طرح کے خیالات کا اظہار قائد اعظم نے 1948 میں پشاور میں طلبہ سے خطاب کرتے ہوئے کیا ہے۔ آپ نے فرمایا،’’ ہم نے پاکستان کا مطالبہ محض زمیں کا ایک ٹکڑا حاصل کرنے کے لیے نہیں کیا تھا بلکہ ہم ایک ایس تجربہ گاہ حاصل کرنا چاہتے تھے جہاں ہم اسلام کے اصولوں کو آزما سکیں‘‘۔
یہاں یہ بات تو صاف طور سے واضح ہو جاتی ہے ہے کہ قائد اعظم کے نزدیک حصول پاکستان کی کیا وجہ ہوسکتی ہے ۔اگرچہ قائد اعظم قیام پاکستان کے بعد ایک سال کی نہایت قلیل مدت میں اس دار فانی سے کوچ کر گئے مگر مختلف مواقع پر کی گئی ان کی تقاریر ان کے عزائم کو ظاہر کرتی ہیں کہ آخر قائد اعظم کیسا پاکستان چاہتے تھے۔یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ قائد اعظمؒ نے کبھی بھی مسلمانوں کو ہندوستان کی اقلیت تسلیم نہیں کیا بلکہ ہمیشہ ان کے ایک علیحدہ قومی وجود پر اصرار کیا۔ اس وجود اور تشخص کی حفاظت ہی قیام پاکستان کی بنیاد بنی۔ جو شخص اقلیتوں کے حقوق کے لیے تمام عمر برسرپیکار رہا ہو وہ قیام پاکستان کے بعد نئی مملکت کی اقلیتوں کو بے یارومدد گار کیسے چھوڑ سکتا تھا۔
کچھ عناصر قائد اعظم کو سیکولر نظریات کا حامل مانتے ہیں اور اسی تناظر میں ان کا خیال ہے کہ قائد اعظم پاکستان کو ایک سیکولر ریاست بنانا چاہتے تھے ۔اس سلسلے میں قیام پاکستان کے فوراً بعد عید کے موقع پر آپ نے نوجوانوں سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا،’’مسلمانو! ہمارا پروگرام قرآن مجید میں موجود ہے ہم مسلمانوں پر لازم ہے کہ قرآن پاک کو غور سے پڑھیں۔ قرآن پاک کے ہوتے ہوئے مسلم لیگ مسلمانوں کے لیے کوئی دوسرا پروگرام پیش نہیں کر سکتی‘‘۔
آپ حقوق و فرائض کی ادائیگی میں مساوات کے قائل تھے- آپ ملک کے تمام طبقات کے بنیادی حقوق کی بات کرتے تھے۔ قائداعظم اپنی سیاسی زندگی میں تقریباً 35 سال تک ہندوستان کی امپیریل لیجسلٹیو کونسل کے رکن رہے۔ اس دوران انھوں نے بارہا شہری آزادیوں اور قانون کی بالادستی کے لیے آواز اٹھائی۔انھوں نے پریس سے متعلق اس مسودہ قانون کی سخت مذمت کی جس کے ذریعے حکومت نے آزادی اظہار پر پابندی لگانے کے اختیارات حاصل کرلیے تھے۔ 1919 میں رولٹ ایکٹ کی آمد پر انھوں نے امپیریل لیجسلٹیو اسمبلی سے مستعفی ہونے کا اعلان کیا۔ ایسا کرتے وقت انھوں نے جمہوریت سے نہیں بلکہ برطانوی حکومت سے اپنی مایوسی کا اظہار کیا۔ عام شہری حقوق پر ان کے ایمان کا اندازہ اس بات سے ہوتا ہے کہ وہ غدر پارٹی کے انقلابی بھگت سنگھ کے لیے بھی انہی حقوق کا مطالبہ کرتے نظر آتے ہیں جو انگریزوں کو حاصل تھے۔کچھ ناقدین کے خیال میں قائد اعظم سرمایہ دارانہ نظام کے حامی تھے۔ یہاں یہ وضاحت ضروری ہے کہ قائداعظم مسلم سرمایہ داروں کو ساتھ لے کر چلنے پر مجبور تھے کہ مسلم لیگ کو فنڈز کی ضرورت تھی مگر وہ سرمایہ داروں اور جاگیرداروں کی ہوسِ زر سے بھی ناواقف نہیں تھے۔
چنانچہ 1943 ہی میں آل انڈیا مسلم لیگ کے سالانہ اجلاس منعقدہ دہلی میں انھوں نے تنبیہ کردی تھی کہ:’’پاکستان میں عوامی حکومت ہوگی اور یہاں میں جاگیرداروں اور سرمایہ داروں کو متنبہ کردوں جو ایک ظالمانہ اور قبیح نظام کے وسیلے سے پھل پھول رہے ہیں۔ اس بات نے انھیں اتنا خود غرض بنا دیا ہے کہ ان کے ساتھ عقل کی کوئی بات کرنا مشکل ہوگیا ہے۔ عوام کی لوٹ کھسوٹ ان کے خون میں شامل ہوگئی ہے۔ انھوں نے اسلام کے سبق بھلا دیے ہیں۔ حرص اور خودغرضی نے ان لوگوں کو اس بات پر قائل کر رکھا ہے کہ دوسروں کے مفادات کو اپنے مفادات کے تابع بنا کر موٹے ہوتے جائو۔ میں گائوں میں گیا ہوں‘ وہاں لاکھوں کروڑوں کی تعداد میں ہمارے عوام ہیں جن کو دن میں ایک وقت کی روٹی نصیب نہیں۔ کیا یہی تہذیب ہے؟ کیا یہی پاکستان کا مقصود ہے؟ اگر پاکستان کا یہی تصور ہے تو میں اس کے حق میں نہیں ہوں‘‘۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا آج کا پاکستان قائد اعظم کے افکار سے مطابقت رکھتا ہے تو نہایت افسوس کے ساتھ یہ کہنا پڑتا ہے کہ اگر پاکستان اپنے بانی کے تصورات کا آئینہ دار ہوتا تو ان تصورات کا تذکرہ کرنے کے بجائے ہم اپنے ملک کے سیاسی احوال سے براہِ راست طورپر استنباط کرتے، اپنے گردوپیش پر نظر دوڑاتے اور بڑے فخر کے ساتھ کہتے کہ یہی بانی پاکستان کے تصورات کی تصویر اور ان کی عملی تعبیر ہے۔ مگر دن رات قائداعظم کے نام کی مالا جپنے کے باوجود ان کے افکار اور خیالات اوران کے طرزِفکر و احساس سے ہماری قومی زندگی کو کوئی واسطہ نہیں۔
یہ بات اب ریکارڈ پر آچکی ہے کہ ان کی 11 اگست 1947 کی فکرانگیز تقریر کو اس وقت کی افسرشاہی نے سنسر کرنے کی کوشش کی اور قائد اعظم کی بہت سی تقاریر اور ان کے بہت سے افکار کو قوم سے پوشیدہ رکھا گیا ہے مگر جو کچھ حاصل ہے اگر اسی پر قناعت کر لی جائے تو بھی ان افکار پر سر دھننے کی بجائے ان کو قومی زندگی میں نافذ کر دیا جائے تو آج بھی پاکستان ایک بے مثال ریاست کے طور پر اپنا لوہا منوا سکتا ہے۔

حصہ