عام آدمی کی زندگی

34

احمد ذیشان چغتائی
اب کہیں بھی تو کیا کہیں؟ کریں بھی تو کیا کریں؟ لکھیں بھی تو کیسے لکھیں؟ سنیں بھی تو کس کی سنیں؟ سنائیں بھی تو کسے سنائیں؟ زندگی کھیل کود ہے۔ چار دن کی زندگی ہے ہنس کھیل کے گزار لو مگر پرائیویٹ ملازمت میں ہنسنا اور کھیلنا بے ہودہ مذاق لگتا ہے۔ باس کی کڑوی کسیلی باتیںکریلے کے شربت جیسا، چاہتے نہ چاہتے ہوئے پینا ہی پڑتا ہے۔ پانچ منٹ لیٹ کیا ہو جاؤ ایسے لگتا ہے جیسے قومی خزانہ ہم ہی نے لوٹا ہے اور چھٹی کا آدھا گھنٹہ بھی اوپر ہو جائے تو قومی خزانے کے کان پہ جوں تک نہیں رینگتی۔ اگر کسی دن باامر مجبوری چھٹی کر بھی لیں تو تو دوسرے دن کسر تو پوری ہو ہی جاتی ہے اور غیظ وغضب کا پہاڑ الگ ٹوٹتا ہے۔ چھٹی کے جرمانے کا الگ سے نفاذ ہو تا ہے۔
گھر ایک ہوٹل یا ریسٹورنٹ کی مانند ہو جاتا ہے۔ جہاں آپ کو صرف سونے اور کھانے کے لیے جاناہوتا۔ وہ بھی اگر باس کا بس چلے تو کہے، کھانا بھی یہیں کھا لو اور سو کے تم نے کیا کرنا ہے۔ محنتی آدمی کا نیند سے کیا کام اور گھر جا کے بھی باس سے ہی پالا پڑتا ہے۔ وہاں بھی ملازمت والا ہی دکھ اور سکھ ہوتا ہے۔ بس شفٹ تبدیل ہو جاتی ہے یا آپ اسے پارٹ ٹائم نوکری بھی کہہ سکتے ہیں۔ اب مجھے یہ سمجھ نہیں آتی کہ شریک حیات کو باس کا نام دوں یا باس کو شریک حیات ثانی کہہ کر پکاروں۔ تھک ہار کے چوں چرا کر کہ جیسے تیسے مہینہ تو گزر ہی جاتا ہے۔ اب مزدور کی مزدوری لینے کی گھڑی آن پہنچتی ہے تو پسینہ کیا خون بھی خشک ہو چکا ہو تا ہے تو پتا چلتا ہے کہ ہم نے تو مہینہ بھر فارغ بیٹھ کر ہی گزار دیا ہے۔ چاپلوسیت کے میدان میں تو ہمیں ویسے بھی شکست فاش ہو چکی ہے۔ اسی لیے تو ہم کسی میدان کار زار میں حصہ لینے سے قاصر ہو چکے ہیں۔ چاپلوسیت کا پلہ تو بابا آدم کے دور سے ہی بھاری رہا ہے اور محنت کا پلہ ہمیشہ کمزور۔ مجھے لگتا ہے کہ کامیابی کی اولین شرط ہی چاپلوسیت ہے اور یہ آپ کو ہر جگہ وافر مقدارمیں میسر آسکتی ہے جب کہ محنت کا اتنا ہی فقدان نظرآتا ہے۔ قطرہ قطرہ کر کے دریا بنتا ہے اور ہمارا دریائے مزدوری بھی قطرہ قطرہ کر کہ پورے ماہ میں مکمل ہوتا ہے۔ پھر اگلا ماہ شروع ہوتا ہے۔ پھر وہی ریہرسل شروع ہو جاتی ہے۔

حصہ