سید مودودیؒ کی تحریر کی چھ خصوصیات

83

اگر آپ نے سید مودودیؒ کو نہیں پڑھا تو سمجھیے کچھ نہیں پڑھا

تحریر: پروفیسر خورشید احمد
ترتیب: محمد طارق خان
سید ابو اعلیٰ مودودیؒ کی تحریر کی تازگی آئندہ سو برسوں میں بھی ماند نہیں پڑے گی۔ زبان و بیان کی سادگی اپنی جگہ لیکن دلیل و برہان کی قوت نے ان کی ہر تحریر کو مستند بنا دیا ہے، آپ بیسویں اور اب اکیسویں صدی کے علما کو لے لیجیے، ان کے خطبات اور تحریروں کا مزاج دیکھیے اور پھر عملی زندگی کو بھی پرکھ لیجیے پھر بھی آپ کو مولانا کے پائے کا عالم فاضل نہیں ملے گا۔ کوئی شخص عقل و شعور کے ساتھ اسلام سے متعلق ذرا بھی دلچسپی لیتا ہو، وہ مولانا مودودیؒ کی تحریروں کو قطعاً نظر انداز نہیں کر سکتا۔ اگر یہ کہا جائے تو بالکل بے جا نہ ہو گا کہ ’’جس نے سید مودودیؒ کو نہیں پڑھا، در حقیقت اس نے کچھ نہیں پڑھا ،اگر آپ کو اپنے کثرت مطالعہ پر زُعم ہے اور اب تک آپ نے سید مودودیؒ کو نہیں پڑھا یا پھر سرسری پڑھا ہے تو یہ زعم ختم کیجیے…کیوں کہ آپ نے سید مودودیؒ کو نہیں پڑھا۔ مولانا کو پڑھیے پھر اپنے اندر جھانکیے علم، دلیل کی نت نئی جہتوں سے خود کو مالا مال پائیں گے۔
جماعت اسلامی کراچی سوشل میڈیا ٹیم نے ایک قدم بڑھاتے ہوئے’’آئیے سید مودودیؒ کو پڑھتے ہیں‘‘ (Let’s Read maududi) کمپین متعارف کروائی ہے تاکہ نئی نسل سید مودودیؒ کے کارناموں اور نام سے روشناس ہو سکے اور پرانی نسل کے لیے مولانا کی تحریریں تذکیر کا باعث بنیں۔

سید ابو الاعلیٰ مودودی گزشتہ صدی کے عظیم ترین انسان تھے۔ وہ25ستمبر 1903ء کو حیدر آباد (دکن) کے شہر اورنگ آباد میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم اپنے والد سے حاصل کی اور 1914ء کو مولوی فاضل کا امتحان گیارہ سال کی عمر میں پاس کیا۔صحافت کا پیشہ اختیار کیا 15سال کی عمر میں اخبار ’ ’مدینہ‘‘ بجنور بھوپال میں شمولیت اختیار کی بعدازاں آپ نے جمعیت علمائے ہند کے ترجمان اخبار ’’مسلم‘‘ کی ادارت سنبھالی اخبار ’’مسلم ‘‘ کی بندش کے بعد آپ نے بھوپال میں قیام کیا اور وسیع مطالعہ کا آغاز کیا تقریباً 5سال بعد جمعیت علما ہند کے نئے اخبار ’’الجمعیتہ ‘‘ دہلی کی ادارت سنبھالی اور چار سال تک اس اخبا رکی جان میں جان ڈالی پھر آپ الجمعیتہ کی ادارت سے مستعفی ہو گئے۔یہ1928کا زمانہ تھا جب ہندوستان میں مسلمانوں کو خون خوار، دہشت گرد، قاتل جیسے الزامات کا سامنا تھا انتہا پسندمتعصب ہندوؤں نے طوفان بدتمیزی برپا کر رکھا تھا۔سید مودودی نے جہاد اور اسلام کا دفاع کرتے ’’الجہاد فی السلام ‘‘ کتاب لکھی اور ہندوؤ ں کو منھ توڑ جواب دیا اس وقت آپ کی عمر 24سال تھی آپ کچھ عرصے کے لیے دہلی سے واپس حیدر آباد تشریف لے گئے۔جہاں آ پ نے تحقیق وتصنیف کا کام کیا1932ء میں آپ نے رسالہ ترجمان القران حیدر آباد سے جاری کیا۔ترجمان القران کی ادارت میں آپ نے منفرد کتابیں تصنیف کی اسلامی تہذیب اور اس کے اصول ’دینیات‘ اسلامی عبادات پر تحقیقی نظر ، تجدید واحیا ء دین، جیسی کتب شامل ہیں۔آپ نے 1937کو علامہ اقبال سے لاہور میں ملاقات کی اور علامہ اقبال کی دعوت پر آپ حیدر آباد سے پنجاب منتقل ہوئے۔اسی زمانے میں تقریباً 1940کو اسلامی نظام حکومت کا خاکہ تیا ر کرنے کے لئے مسلم لیگ نے علما کی کمیٹی بنائی آپ بھی اس کمیٹی کے ممبر نامزد ہوئے، 1941ء کو آپ نے ہندوستان میں مسلمانوں کی حالت زار دیکھتے ہوئے جماعت اسلامی کی بنیاد رکھی اس کے پہلے امیر منتخب ہوئے۔ 1950ء سے1960ء تک یہ دہائی عظمت کے پیکر سید مودودی کے لیے آزمائشی تھی ان دس برسوں میں آپ نے چومکھی جنگ لڑی ہے ، یہ زمانہ تھا کہ نام نہاد علما کرام آپ پر شدید تنقید کرتے تھے۔ حکمران آئے روز ہتھکڑیاں لگا کر قیدو بند میں ڈال رہے تھے ۔
آپ نے تقریباً150کتابیں لکھی ہیں۔ 70کے قریب وہ کتب ہیں جو آپ نے تحریر کی ہیں۔ باقی آپ کی تقریر وں کو کتابی شکل دی گئی ہے۔ہر ایک کتاب شاندار ہے اپنے مضمون پر سند ہے۔ سید مودودی کے دو اہم کام جو امت کی رہنمائی کے لیے ہیں وہ ۔ ’’تفہیم القرآن‘‘ اور ’’جماعت اسلامی‘‘ کا قیام ہیں۔ یہ دونوں کام آپ کو رہتی دینا تک زندہ رکھیں گے۔
22ستمبر 1979ء شام پونے چھہ بجے آپ کا انتقال ہوا۔ اے ذیلدار پارک اچھرہ جہاں آپ کا گھر ہے وہاں تدفین ہوئی۔

پہلی خصوصیت
سید مودودی ؒ کی نثر کی سب سے پہلی خصوصیت مقصدیت ہے۔ وہ اپنے سامنے زندگی کا ایک واضح اور متعین تصور رکھتے ہیں اور جس موضوع پر بھی وہ قلم اُٹھاتے ہیں مقصد کا یہ شعور کہیں ماند نہیں ہونے پاتا۔ وہ نہ عباسی کے احیا کے داعی ہیں اور نہ مغلیہ جاہ شوکت یا وکٹورین کلچر کے۔ وہ بیسویں صدی میں اسلام کے اُصولوں کے مطابق زندگی کا نقشہ از سر نو تعمیر کرنا چاہتے ہیں۔ اس چیز نے ان کے ادب کو مقصدیت کے ساتھ ساتھ جدت اور جدیدیت سے مالا مال کر دیا ہے۔ ان کی تحریرات میں کہیں یہ احساس نہیں ہوتا کہ انسان ماضی کے کسی دور میں سانس لے رہا ہے بلکہ مستقبل کی صورت گری کا جذبہ اُبھرتا ہے۔ وہ آج کی فضا میں سانس لیتے ہیں اور آج کی دنیاسے خود کو متعلق کرتے ہیں مگر اپنے قاری کو اس میں گم نہیں ہونے دیتے بلکہ ایک اعلیٰ نصب العین اور ایک بہتر زندگی کی تعمیر کا احساس اس میں اُبھارتے ہیں۔
دوسری خصوصیت
ان کی نثر کی دوسری خصوصیت اعتماد اور قطعیت ہے۔ ان کی تحریروں میں وثوق کا رنگ پایا جاتا ہے۔ وہ جو بات کہتے ہیں غورو فکر کے بعد کہتے ہیں اور اعتماد اور یقین کے ساتھ کہتے ہیں ان کویہاں یہ بھی اور یہ بھی کا رنگ نہیں پایا جاتا کہ قارئین کی حالت یہ ہو کہ مذبذبین بین زالک لا الیٰ ہؤُلاء ولآ الیٰ ہٰؤ لاء (بیچ میں لٹک رہے ہیں، نہ اُن کی طرف ہوتے ہیں نہ ان کی طرف:النساء 143) ایسی تحریریں ذہنی پریشانی کی پیداوار ہوتی ہیں اور پڑھنے والے میں ژولیدہ فکری پیدا کرتی ہیں۔ مودودی صاحب کے سامنے منزل کا واضح تصور ہے اور وہ اس کی صحت پر پورا یقین رکھتے ہیں۔ ان کو اپنے مقصد کی درست اور بالا دستی پر بھی کامل اعتماد ہے۔ اس لیے وہ پورے وثوق سے بات کرتے ہیں اور پڑھنے والے میں بھی اعتماد کی کیفیت پیدا کرتے ہیں۔
تیسری خصوصیت
ان کی نثر کی تیسری خصوصیت، جو دراصل اول الذکر دونوں خصوصیات کا اثر ہے ان کے اسلو ب پر، اس کی واضحیت ہے، ان کی تحریر ابہام سے پاک ہوتی ہے۔ ان کا ابلاغ تام اور ان کا اظہار کامل ہے اور یہ نتیجہ ہے فکر کی پختگی اور صلابت اور زبان اور ادب پر مکمل قدرت کا۔ ان کی تحریر میں حشو وزوائد کا کوئی نشان نہیں ملتا۔ نہ الفاظ اتنے زیادہ کہ داستان طرازی کی کیفیت پیدا ہو اور نہ اتنے کم کہ مفہوم واضح نہ ہو۔
الفاظ کا انتخاب جملوں کی ترتیب، عبارت کی بندش، پیرا گراف کی تقسیم اور مضامین کی ترتیب مل کر ان کی تحریر کو واضح اور محکم بناتے ہیں۔ ان کا ہر مقالہ ایک ایسی دلکش تصویر کے مانند ہوتا ہے جس کا ہر خط واضح اور موزوں اور ہر رنگ مناسب اور نمایاں ہو۔ ان کی دلیل سے اتفاق یا اختلاف کیا جا سکتا ہے۔ مگر ان کی تحریر کو مبہم اور غیر واضح کبھی نہیں کیا جاسکتا۔ وہ الفاظ کو ایک ماہر صناع کی حیثیت سے استعمال کرتے ہیں اور ان کو خیال کے ابلاغ کا ذریعہ بناتے ہیں معنی کو چھپانے کا پردہ کبھی نہیں بننے دیتے۔
چوتھی خصوصیت
مودودی صاحب کے اسلوب کی چوتھی خصوصیت فکر کا نظم دلیل کی قوت اور منطقی ربط ہے۔ ان کے دلائل محکم ہوتے ہیں اور پوری تحریر میں بلا کا نظم و ضبط پایا جاتا ہے۔ اگر قاری ان کے ابتدائی مقدمہ(Premise) سے اتفاق کرے تو پھر اس کے لیے آگے کے مباحث سے اختلاف ناممکن ہو جاتا ہے۔ وہ قاری کو قدم بہ قدم دلیل کی قوت سے اپنے ساتھ لے کر چلتے ہیں اور اخیر میںپڑھنے والا محسوس کرتا ہے کہ ؎

میں نے جانا کہ گویا یہ بھی میرے دل میں ہے

پانچوں خصوصیت
ان کی نثر کی پانچوں خصوصیت زبان کی صحت ہے۔ وہ دلّی کی وہ زبان بولتے اور لکھتے ہیں جو شرفا اور ادبا کی زبان تھی۔ ان کی ہزاروں صفحات پر پھیلی ہوئی تحریرات میں شاید زبان کی گنتی کی غلطیاں بھی نہیں نکالی جاسکیں۔ ان کے بارے میں بلا خوف تردید کہا جا سکتا ہے کہ ’’مستند ہے ان کا فرمایا ہوا‘‘ پھر بڑی اہم بات یہ ہے کہ دلی کے مقامی یا عامیانہ الفاظ روز مرہ کا ان کے ہاں کہیں شائبہ بھی نظر نہیں آتا۔ ان کی زبان کو اُردوئے مبین کہا جا سکتا ہے۔
چھٹی خصوصیت
ان کے اسلوب کی چھٹی خصوصیت زبان کی سادگی ہے، وہ مشکل الفاظ اور ترکیبوں سے اجتناب کرتے ہیں۔ انگریزی، عربی اور فارسی کے اجنبی الفاظ اور نامانوس ترکیبیں کبھی استعمال نہیں کرتے۔ طول طویل جملوں سے احتراز کرتے ہیں۔ شوکت الفاظ سے طلسم طاری نہیں کرتے۔ ان کی نثر سائنسی نثر ہے۔ سادہ، قابل فہم، متوازن ، واقعیت پسندی سے معمور مگر لطف بیان سے بھر پور۔ اگر کسی پہلو سے مودوی صاحب کی نثر میں گزشتہ ۴۰ سال میں کوئی تبدیلی آئی ہے تو وہ سادہ اور آسان زبان کی طرف ان کی مراجعت ہے۔ ۱۹۴۱ء میں جماعت اسلامی کے قیام او ر۱۹۴۲ء میں تفہیم القرآن کے شروع کرنے کے بعد سے مودودی صاحب کی نثر بڑی سادہ اور آسان تر ہوتی گئی ہے۔ غالباً اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ۱۹۴۱ء کے بعد سے ان کے مخاطب قوم کے صرف اُونچے پڑھے لکھے طبقے ہی نہ رہے بلکہ پوری قوم ہو گئی۔ اس ضرورت کے پیش نظر اُنھوں نے زبان کو اور بھی سادہ اور عام فہم بنایا تا کہ زیادہ سے زیادہ لوگ اسے سمجھ سکیں لیکن سادگی کے اس رجحان نے زبان کو بے مزہ نہیں بنایا۔ واقعیت پسندی میں کبھی روکھا پن نہ پیدا ہوا۔ لطافت او رسلیقہ بدرجہ اتم موجود رہے اور تحریر کے حسن اور اثر انگیزی میں اضافہ ہی ہوا ہے۔
مودودی صاحب کی نثر کی ایک اور خصوصیت ادبیت اور نفاست ہے۔ وہ صرف زبان کی صحت کا ہی خیال نہیں رکھتے بلکہ محاورہ اور روز مرہ پر ان کی پوری قدرت حاصل ہے۔ وہ اپنی بات بڑے سلیقے سے ادا کرتے ہیں۔ ان کے فقرے چُست اور ترکیبیں بڑی موزوں ہوتی ہیں۔ استعارہ، کنایہ اور رمز سے وہ بھر پور کام لیتے ہیں۔ ان کا تخیل بڑا بلند اور جاندار اور اس کا اظہار فکرو بیان دونوں میں ہوتا ہے۔ ان کا مشاہدہ وسیع اور گہرا ہے۔ تمثیل کے استعمال پر ان کا بڑا ملکہ ہے اور اس کے ذریعہ وہ بات قاری کے دل میں اُتار دیتے ہیں۔ طرز ادا کو خوب سے خوب تر بنانے کے لیے اُنھوں نے بے شمار تجربات کیے ہیں جس سے ان کی نثر میں اساسی اسلوب کی وحدت کے ساتھ ساتھ طریق اظہار و ابلاغ میں خاصا تنوع رونما ہوا ہے۔ نتیجتاً بے روح یکسانی کی جگہ ان کے ہاں ایک رنگا رنگی کی کیفیت پائی جاتی ہے۔ پھر ان کی تحریر میں بلاکی شوخی اور ذہانت ہے وہ طنز و مزاح سے بھی حسب موقع کا م لیتے ہیں۔ اس سے ان کی تحریر میں بڑی رعنائی پیدا ہوئی ہے لطیف طنز اور برجستگی ان کی نگارش میں لطف اور مزہ پیدا کرنے میں وہی کام انجام دیتی ہے جو کھانے کا ذائقہ بنانے میں نمک انجام دیتا ہے۔
معیاری نثر کیا ہوتی ہے…اس کے لیے مولانا کی تحریروں سے چند اقتباسات ملاحظہ کیجیے۔
مقدمہ ترجمہ قرآن سے اقتباس:
’’پہلی چیز ( جو قرآن پاک) کے ایک لفظی ترجمے کو پڑھتے ہوئے محسوس ہوتی ہے وہ روانی عبارت، زور بیان، بلاغت زبان اور تاثیر کلام کا فقدا ن ہے۔ قرآن کی سطروں کے نیچے آدمی کو ایک ایسی بے جان عبارت ملتی ہے جسے پڑھ کر نہ اس کی روح و جد میں آتی ہے، نہ اس کے رونگٹے کھڑے ہوتے ہیں، نہ اس کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوتے ہیں، نہ اس کے جذبات میں کوئی طوفان برپا ہوتا ہے، نہ اسے یہ محسوس ہوتا ہے کہ کوئی چیز عقل و فکر کو تسخیر کرتی ہوئی قلب و جگر تک اُترتی چلی جارہی ہے۔ اس طرح کا کوئی تاثر رونما ہونا تو درکنار ترجمے کو پڑھتے وقت تو بسا اوقات آدمی یہ سوچتا رہ جاتا ہے کہ کیا واقعی یہی وہ کتاب ہے جس کی نظیر لانے کے لیے دنیا بھر کو چیلنج دیا گیا تھا؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ لفظی ترجمے کی چھلنی صرف دوا کے خشک اجزا ہی کو اپنے اندر سے گزرنے دیتی ہے۔ اس ادب کی وہ تیز و تند اسپرٹ جو قرآ ن کی اصل عبارت میں بھری پڑی ہے۔ اس کا کوئی حصہ ترجمے میں شامل نہیں ہونے پاتا، وہ اس چھلنی کے اوپر ہی سے اُڑ جاتی ہے۔ حالاں کہ قرآن کی تاثیر میں اس کی پاکیزہ تعلیم اور اس کے عالی مضامین کا جتنا حصہ ہے، اس کے ادب کا حصہ بھی اس سے کچھ کم نہیں ہے، یہی تو وہ چیز ہے جو سنگ دل آدمی کا دل بھی پگھلا دیتی ہے۔
جس نے بجلی کے کڑکے کی طرح عرب کی ساری زمین ہلا دی تھی۔ جس کی قوت تاثیر کا لوہا اس کے شدید ترین مخالفین تک مانتے تھے اور ڈرتے تھے کہ یہ جادو اثر کلام جو سنے گا وہ بالآخر نقد دل ہار بیٹھے گا۔ یہ چیز اگر قرآن نہ ہوتی اور وہ اسی طرح کی زبان میں نازل ہوا ہوتا جیسی کہ اس کے ترجموں میں ہم کو ملتی ہے تو اہل عرب کو گرمانے اور نرمانے میں اسے ہر گز وہ کامیابی نہ ہو سکتی جو فی الواقع اسے حاصل ہوئی۔‘‘
تنقیحات سے اقتباس:
’’چار پانچ سو سال تک مسلمان اپنے بزرگوں کے بچھائے ہوئے بستر پر آرام سے سوتے رہے اور مغربی قومیں اپنے کام میں مشغول رہیں اس کے بعد دفعتہ مغربی اقتدار کا سیلاب اُٹھا اور ایک صدی کے اندر اندر تمام روئے زمین پر چھا گیا۔ نیند کے مارے آنکھیں ملتے ہوئے اُٹھے تو دیکھا کہ مسیحی یورپ قلم اور تلوار دونوں سے مسلح ہے اور دونوں طاقتوں سے دنیا پر حکومت کر رہا ہے۔ ایک چھوٹی سی جماعت نے مدافعت کی کوشش کی مگر نہ قلم کا زور تھا نہ تلوار کا۔ شکست کھاتی چلی گئی۔ رہا قوم کا سودا اعظم تو اس نے اسی سنت پر عمل کیا جو ہمیشہ سے کمزوروں کی سنت رہی ہے۔ تلوار کے زور، استدلال کی قوت، علمی شواہد کی تائید اور نظر قریب حسن جمال کے ساتھ جو خیالات، نظریات اور اصول مغرب سے آئے۔
آرام طلب دماغوں اور مرعوب ذہنیتوں نے ان کو ایمان کا درجہ دے دیا۔ پرانے مذہبی معتقدات، اخلاق اصول، اور تمدنی آئین جو محض روایتی بنیادوں پر قائم رہ سکتے تھے، اس نئے اور طاقت ور سیلاب کی رو میں بہتے چلے گئے اور ایک غیر محسوس طریقے سے دلوں میں یہ مفروضہ جا گزیں ہوگیا کہ جو کچھ مغرب سے آتا ہے وہی حق اور وہی صحت و درستی کا معیار ہے۔‘‘
تحریک آزادی ہند اور مسلمان سے اقتباس:
’’جمود بہر حال ٹوٹنا چاہیے۔ حرکت کی ضرورت ہے اور شدید ضرورت ہے۔ مگر نری حرکت کسی کام کی نہیں حکمت اور تدبر کے ساتھ حرکت ہونی چاہیے۔ خصوصاً نازک اوقات میں تو حرکت بلا تدبر کے معنیٰ خود اپنے پاؤں چل کر خندق میں جا گرنے کے ہیں۔ یہ اندھے جوش کا وقت نہیں۔ قدم اُٹھانے سے پہلے ٹھنڈے دل و دماغ سے کام لے کو سوچییے کہ قدم کس سمت میں اُٹھانا چاہیے؟ آپ کی منزل مقصود کیا ہے؟ اس کی طرف جانے کا صحیح راستہ کون سا ہے؟ اس راستے پر چلنے کے لیے آپ کو کس سامان کی ضرورت ہے؟ کن کن مرحلوں سے بسلامت گزر جانے کے لیے کیا تدبیریں اختیار کرنی پڑیں گی؟‘‘
سود کتاب سے اقتباس:
’’اگر اخلاقی نقطۂ نظر کو چھوڑ کر خالص معاشی نقطۂ نظر سے دیکھا جائے تو اس نظریہ سرمایہ داری، کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ تقسیم دولت کا توازن بگڑ جائے وسائل ثروت رفتہ رفتہ سمٹ کر ایک زیادہ خوش قسمت یا زیادہ ہوشیار طبقہ کے پاس جمع ہو جائیں او رسوسائٹی عملاً دو طبقوں میں تقسیم ہو جائے ایک مالدار اور دوسرا نادار… ظاہر ہے کہ اس قسم کا نظم معیشت ایک طرف ساہو کار ، کارخانہ دار اور زمیندار پیدا کرے گا اور دوسری طرف مزدور، کسان اور قرضدار، ایسے نظام کی عین فطرت اس کی مقتضی ہے کہ سوسائٹی میں ہمدردی اور امداد باہمی کی اسپرٹ مفقود ہو۔ ہر شخص اپنے ذاتی وسائل سے زندگی بسر کرنے پر مجبور ہو۔ کوئی کسی کا یارو مددگار نہ ہو۔ محتاج کے لیے معیشت کا دائرہ تنگ ہو جائے۔ سوسائٹی کا ہر فرد بقاے حیات کے لیے دوسرے افراد کے مقابلے میں معاندانہ جدو جہد کرے۔ زیادہ سے زیادہ وسائل ثروت پر قابو پانے کی کوشش کرے۔ جو جو لوگ اس جدو جہد میں نا کام ہوں یا اس میں حصہ لینے کی قوت نہ رکھتے ہوں ان کے لیے دنیا میں کوئی سہارہ نہ ہو۔ وہ بھیک بھی مانگیں تو یہ آسانی سے نہ مل سکے۔ کسی دل میں ان کے لیے رحم نہ ہو۔ کوئی ہاتھ ان کی مدد کے لیے نہ بڑھے۔ یا تو وہ خود کشی کر کے زندگی کے عذاب سے نجات حاصل کرے، یا پھر جرائم اور بے حیائی کے ذلیل طریقوں سے پیٹ پالنے پر مجبور ہوں۔‘‘
معاشیات اسلام کا اقتباس:
انسانی شخصیت اپنے ارتقا کے لیے سب سے زیادہ جس چیز کی محتاج ہے وہ یہ ہے کہ اسے آزادی حاصل ہو، کچھ وسائل کار اس کے اپنے ہاتھ میں ہوں جنھیں وہ اپنے اختیار سے استعمال کر سکے، اور وہ ان وسائل پر اپنے رجحان کے مطابق کام کر کے اپنی مخفی قوتوں کے اُبھارسے اور چمکائے۔ مگر اشتراکی نظام میں اس کا کوئی امکان نہیں۔ اس میں وسائل افراد کے اختیار میں نہیں رہتے بلکہ جماعت کی ہیئت انتظامیہ کے ہاتھوں میں چلے جاتے ہیں اور وہ ہیئت انتظامیہ جماعتی مفاد کا جو تصور رکھتی ہے اسی کے مطابق وہ وسائل کو استعمال کرتی ہے۔ افراد کے لیے اس کے سوا چارہ نہیں اگر وہ ان وسائل سے استفادہ کرنا چاہیں تو اس نقشہ کے مطابق کام کریں، بلکہ اسی نقشے کے مطابق اپنے آپ کو ڈھالے جانے کے لیے ان منتظمین کے سپرد کر دیں جو انھوں نے جماعتی مفاد کے لیے تجویز کیا ہے۔ یہ چیز عملا ًسوسائٹی کے تمام افراد کو چند انسانوں کے قبضے میں اس طرح دے دیتی ہے کہ گویا وہ سب بے روح مواد خام ہیں اور جیسے چمڑے کے جوتے اور لوہے کے پرزے بنائے جاتے ہیں اسی طرح وہ چند انسان مختار ہیں کہ ان بہت سے انسانوں کو اپنے نقشے کے مطابق ڈھا لیں اور بنائیں۔‘‘
تجدید واحیاے دین سے اقتباس:
’’مسلمانوں میں جو لوگ الامام المہدی کے آمد کے قائل ہیں وہ بھی ان متجدد دیں سے جو اس کے قائل نہیں ہیں، اپنی غلط فہمیوں میں کچھ پیچھے نہیں ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ امام مہدی کوئی اگلے وقتوں کے مولویانہ و صوفیانہ وضح و قطع کے آدمی ہوں گے ۔ تسبیح ہاتھ میں لیے یکایک کسی مدرسے سے یا خانقاہ کے حجرے سے برآمد ہوں گے۔ آتے ہی انا المہدی کا اعلان کریں گے۔ علما اور مشائخ کتابیں لیے ہوئے پہنچ جائیں گے اور لکھی ہوئی علامتوں سے ان کے جسم کی ساخت وغیرہ کا مقابلہ کرکے اُنھیں شناخت کرلیں گے۔ پھر بیعت ہو گی اور اعلان جہاد کر دیا جائے گا۔ چِلّے کھینچے ہوئے درویش اور سب پرانے طرز کے ’’ بقیہ السلف‘‘ ان کے جھنڈے تلے جمع ہوں گے۔ تلوار تو محض شرط پوری کرنے کے لیے برائے نام چلانی پڑے گی۔ اصل میں سارا کام برکت اور روحانی تصرف سے ہو گا۔ پھونکوں اور وظیفوں کے زور سے میدان جیتے جائیں گے۔ جس کافر پر نظر مار دیں گے تڑپ کر بے ہوش ہو جائے گا اور محض بد دعا کی تاثیر سے ٹینکوں اور ہوائی جہازوں میں کیڑے پڑ جائیں گے۔‘‘

پردہ

مغربی تہذیب کی برق پاشیوں اور جلوہ سامانیوں نے اہل ِمشرق کی عموماً اور مسلمانوں کی نظروں کو خصوصاً جس طرح خیرہ کیا ہے وہ اب کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں اور عریانی نے جس سیل رواں کی شکل اختیار کی ہے اس نے ہماری ملی اور دینی اقدار کو خس و خاشاک کی طرح بہادیا گیا۔ اس کی چمک دمک نے ہمیں کچھ اس طرح مبہوت کردیا کہ ہم یہ بھی تمیز نہ کر سکے کہ اس چمکتی ہوئی شے میں زرِخالص کتنا ہے اور کھوٹ کتنا۔ اس تیز وتند سیلاب کے مقابلہ میں ہم اتنے بے بس ہو کر رہ گئے ہیں کہ ہماری اکثریت نے اپنے آپ کو پوری طرح اس کے حوالے کردیا۔ نیتجتاً ہمارا معاشرہ تلپٹ ہوگیا اور ہمارے خاندانی نظام کا شیرازہ کچھ اس طرح منتشر ہواکہ کوچہ کوچہ ہماری اس تہذیبی خودکشی پر نوحہ کر رہا ہے۔مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی ؒ ان با بصیرت اصحاب میں سے ہیں جنھوں نے اس سیلاب بلا خیز کی تباہ کا ریوں کا بروقت اندازہ لگا کر ملت کو اس عظیم خطرے سے متنبہ کیا اور اسے روکنے کے لیے مضبوط بند باندھنے کی کو شش کی۔
’’پردہ ‘‘ آپ کی انھی کوششوں کی آئینہ دار ہے۔
عصرِ حاضر میں اس موضوع پر اب تک جتنی کتابیں لکھی گئی ہیں ،’’پردہ ‘‘ان میں ممتاز مقام رکھتی ہے اس کا دل نشین اندازِ بیان، پرزوراستدلال اور حقائق سے لبریز تجزیے اپنے اندروہ کشش رکھتا ہے کہ کٹر سے کٹر مخالف بھی قائل ہوئے بغیر نہیں رہتا۔یہی وجہ ہے کہ پورے عالمِ اسلام میں اس کتاب کو جو مقبولیت حاصل ہوئی وہ بہت کم کتابوں کو نصیب ہوئی ہے ۔مشرقِ وسطیٰ میں اس کا عربی ایڈیشن ہاتھوں ہاتھ لیا گیا۔ یہی حال اس کے اردو اور انگریزی ایڈیشن کا ہے۔

اسلامی نظامِ زندگی

کئی برس قبل ایک ایسی کتاب کی ضرورت محسوس کی جا رہی تھی جس میں اسلامی نظام کے جملہ پہلوئوں پر مختصر مگر جامع طور پر روشنی ڈالی گئی ہو اور جو ایک عام آدمی کو ذہنی اور فکری طور پر اسلام پر مطمئن کردے ۔چناں چہ اسی مقصد کے پیش نظر مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ کے مشورے سے یہ کتاب شائع کی گئی تھی،اور کئی برس گزرنے کے باوجود یہ کتاب آج بھی اتنی ہی مفید اور کارآمد ہے جتنی پہلے تھی۔ اس میں مولانا محترم کے ان تمام مضامین اور تقاریر کو یک جا کیا گیا ہے جو ــــــــــــــــــــــــــــــــ’’اسلامی نظام زندگی ‘‘کی فکری بنیادوں سے بحث کرتے ہیں۔ اس مجموعے میں آپ کو ہستی ٔ باری تعلی،توحید ،رسالت اور آخرت کے برحق ہونے پر ایسے دلائل ملیں گے جو جدید ذہن کو اپیل کریں اور دل میں اُتر جائیں۔ نہایت مضبوط عقلی دلائل اسلام کا ’’دین ِ حق ‘‘ہونا ثابت کیا گیا ہے ۔اس میں اسلام کا فلسفۂ اخلاق ،فلسفۂ تاریخ اور نظریۂ جہاد بڑے دل نشیں انداز میں پیش کردیا گیا ہے۔اس کے ساتھ اسلام کے نظامِ زندگی کا ایک جامع اور مختصر نقشہ بھی پیش کردیا ہے تاکہ ایک نظر میں اس نظام کا ایک جامع تصّور سامنے آجائے جو اسلام برپا کرنا چاہتا ہے ۔
امید ہے کہ اس مجموعے میں اسلامی نظام زندگی کو روشناس کرانے اور اس کی طرف مائل کرنے کے لیے ایک بڑا سرمایہ علم وعمل ملے گا ۔مْفّکِر اسلام مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی ؒکا نام ہی اس بات کی کافی ضمانت ہے کہ یہ کتاب مستند اور محقق ہے۔

خلافت و ملوکیت

مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودیؒ نہ صرف پاکستان بلکہ پوری دنیا میں ایک تاریخ ساز انسان کی حیثیت سے معروف و متعارف ہیں۔ اُنھوں نے مسلمانوں کے فکر و عمل کو اسلام کے تقاضوں کے مطابق صحیح سمت عطا کی ہے اور اسلامی تعلیمات کی روشنی میں جدوجہد کے نئے رخ متعین کیے ہیں۔ مولانا کی دعوت انقلابی، ان کا پیغام حیات آفریں اور ان کا کام ہمہ گیر ہے۔ فکر و نظر کا کوئی گوشہ ، سعی و عمل کی کوئی جولان گاہ ایسی نہیں جو مولانا کے افکار و نظریات سے متاثر نہ ہو۔ وہ چونکہ ایک ہمہ گیر انقلاب کے داعی ہیں اِس کے لیے اُنھوں نے پوری زندگی کو خدا پرستی کی بنیاد پر استوار کرنے کی کوشش کی ہے۔ سیاست بھی چونکہ دین کا ہی ایک حصہ ہے، اس لیے مولانا نے سیاسی اور دستوری مسائل پر بھی بڑی بڑی شرح و بسط کے ساتھ فکر انگیز بحث کی ہے اور اسلامی نظامِ حیات کے حقیقی خدوخال کو بڑے عمدہ انداز میں نمایاں کیا ہے۔
سیاست حیاتِ انسانی کا ایک نہایت اہم شعبہ ہونے کی حیثیت سے ہر دور میں انسانوں کی توجہ کا مرکز رہا ہے۔ مگر دورِ جدید میں زمان و مکان کے سمٹ جانے کی وجہ سے ہئیت حاکمہ کی قوت میں چونکہ غیر معمولی اضافہ ہوا، اس لیے نظم اجتماعی میں سیاست کی حیثیت بہت بڑھ گئی ہے اور دور جدید کا کوئی شخص، خواہ اس کا تعلق کسی شعبۂ زندگی سے ہو اسے نظر انداز نہیں کر سکتا۔ مولانا نے اس موضوع کی غیر معمولی اہمیت کے پیش نظر زیر نظر کتاب تحریر فرمائی ہے۔ جس میں اسلامی نظام حکومت جسے دینی اصطلاح میں خلافت کہا جاتا ہے کہ اہم گوشوں کو بڑی خوبی کے ساتھ نمایاں کرتے ہوئے یہ بھی بتایا ہے کہ یہ نظام ملوکیت سے کس طرح اور کس لحاظ سے ممیز و ممتاز ہے۔

تنقیحات

سید ابو الاعلیٰ مو دودیؒ کی تحریروں کا اعجاز ہے کہ وہ حق کا راستہ محض دکھاتی ہی نہیں بلکہ اس پر چلنے اور دوسرے لوگوں کو ساتھ لے کر چلنے کی تڑپ بھی پیدا کرتی ہیں کہ یہ تحریریں کسی مسلک اور فرقے کی نہیں بلکہ خالص اسلام کی دعوت ہے۔
ترقی یافتہ مغرب کی بے خدا تہذیب نے افراد کو مادہ پرستی اور تنہائی کا شکار بھی کیا ہے اور معاشرتی مسائل میں بھی اُلجھایا ہے لیکن معاشرتی مسائل میں حوصلہ شکن اضافے کے سبب سے بے چین مغرب میں خود کشی اور قبول ِاسلام کے واقعات خود اس تہذیب کی نا پائیداری اور اسلام کی حقانیت کا زندہ اور واضح ثبوت ہیں۔
حقیقی اسلام کو جاننے کے لیے سید ابو الاعلیٰ مودودیؒ کی تحروں کو پڑھیے کہ یہ کفر والحاد کی تندوتیز آندھیوں میں ایمان کی شمع کو روشن رکھنے کا ذریعہ ہیں۔
جی ہاں! ایمان، قوت اور زندگی سے آشنا کرنے والی تحریریں۔
تنقیحات میں سید مودودیؒ نے مغرب کی بے خدااور چکا چوند تہذیب سے مرعوب مسلمانوں کو اسلام کی اس فطری اور قابلِ فخر تہذیب کو اپنانے کی دعوت دیتے ہیں جو ایک ہزار برس تک دنیا پر حکمران رہی۔ سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ یہ بھی بتاتے ہیں کہ انحاط اور تنزل سے پریشان مسلم معاشروں کی ترقی غیروں کی نقالی سے نہیں، بلکہ اسلام کے زرّیں اصولوں کو اپنانے ہی سے ممکن ہے۔ مسلم اُمّہ کو اقوام عالم میں اپنا تشخص قائم اور برقرار رکھنے کے لیے اسلام کی آغوش کی طرف پلٹنا ہوگا۔ جدید علوم سے استفادہ وقت کی ضرورت ہے لیکن غیروں کی غلامی بہر حال تباہی کا راستہ ہے۔

حصہ