سکھائے کس نے اسمٰعیل کو آدابِ فرزندی

58

قدسیہ ملک
دوسری قسط
حکایت ہے کہ ایک شخص اپنے والدین کو بہت ستاتا تھا یہاں تک کہ والدہ فوت ہو گئی اور والد بوڑھا ہو گیا اور کسی خطرناک بیماری کا شکار ہو گیا۔یہ شخص اس وقت والد کو ستانے سے باز نہ آیا اور اس سے جان چھڑانے کی سوچ لی اور بیمار والد کو اٹھا کر کسی ویران کنوئیں میں پھینکنے کے لیے چل پڑا راستے میں والد نے کہا بیٹا کچھ دیر ٹھہر جاؤ خود بھی آرام کر لو اور میری ایک بات بھی سن لو چنانچہ اس نے بیمار والد کو زمین پر بٹھایا تو والد نے کہا کہ بیٹا میں بھی اپنے والد یعنی تمہارے دادا کو اسی کنوئیں میں پھینک آیا تھا۔ یہ سن کر نوجوان کو حیرت ہوئی اور غور کیا تو کانپ اٹھا اور اپنا انجام بھی نظر آ گیا کہ اگر میرے والد نے اپنے والد کو ستایا اور کنوئیں میں پھینک دیا تھا اور میں بھی یہی کام کروں تو کل میرا بیٹا بھی میرا حشر یہی کرے گا اور کنواں میری قبر بنے گا۔ نوجوان نے وہیں توبہ کی اور والد کو لے کر واپس گھر آگیا اور اس کی زندگی تک اس کی خدمت میں لگا رہا۔ جو لوگ اپنے والدین کے نافرمان ہیں اس قصے میں ان کے لیے عبرت ہے۔
اللہ تعالیٰ تبارک وتعالیٰ قرآن پاک میں ارشاد فرماتا ہے:
اور آپ کا رب حکم دے چکا ہے کہ تم اللہ تعالیٰ کے سوا کسی اور کی عبادت نہ کرو اور ماں باپ کے ساتھ اچھا سلوک کرو۔ اگر تمہارے پاس ان میں سے کوئی ایک یا دونوں بڑھاپے کو پہنچ جائیں تو ان کو ’’اف‘‘ تک نہ کہو اور نہ ان کو جھڑکو بلکہ ان دونوں کے ساتھ بڑے ادب سے بات کرو۔ اور ان کے سامنے رحم دلی سے انکساری کے ہاتھ جھکائے رکھو اور (اللہ تعالیٰ کے حضور)عرض کرو: اے میرے رب! ان دونوں پر رحم فرما جس طرح انہوں نے بچپن میں مجھے (بڑی رحمت و محبت سے) پالا تھا
امام محمد غزالی نے والدین کے آداب بتاتے ہوئے فرمایا: بیٹے کو چاہیے کہ وہ اپنے والدین کی بات غور سے سنے:
٭جب وہ کھڑے ہوں تو کھڑا ہوجائے۔
٭ ان کا حکم بجا لائے۔
٭ ان کے آگے نہ چلے۔
٭ ان کی آواز سے اپنی آواز بلند نہ کرے۔
٭ جب وہ بلائیں تو حاضر ہو جائے۔
٭ ان کی رضامندی کے لئے حریص رہے۔
٭ ان کے ساتھ نرمی سے پیش آئے۔
٭ ان کے ساتھ نیکی کرنے پر احسان نہ جتائے۔
٭ انہیں ترچھی نظروں سے نہ دیکھے۔
٭انہیں گھور کر نہ دیکھے۔
٭ ان کی اجازت کے بغیر سفر نہ کرے
حضور اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا:’’جب اولاد اپنے والدین کی طرف نظرِ رحمت کرے تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے ہر نظر کے بدلے حج مبرور کا ثواب لکھ دیتا ہے۔‘‘عرض کیا گیا:’’چاہے دن میں سو مرتبہ نظر کرے؟‘‘رسول پاکؐ نے ارشاد فرمایا:’’ہاں۔‘‘ (بیہقی)
والدین کے حقوق کے حوالے سے اللہ کے رسولﷺ نے اولاد کو مخاطب کر کے فرمایا:’’وہ دونوں تیری جنت و دوزخ ہیں۔‘‘ یعنی ان کو راضی رکھنے سے جنت ملے گی اور ناراض رکھنے سے دوزخ کے مستحق ہو گے۔
والدین چاہے غیر مسلم ہی کیوں نہ ہوں ایک مسلمان کو اپنے والدین کیساتھ ہر حالت میں حسن سلوک کا حکم دیا گیا ہے، چنانچہ کسی بھی مسلمان کے لیے والدین کی نافرمانی یا ان کیساتھ بد سلوکی کرنا جائز نہیں ہے، اور اس کا یہ مطلب بھی نہیں ہے کہ گناہ اور معصیت کے کاموں میں ان کی اطاعت کرے یا کفریہ امور میں ان کا ہمنوا بنے۔قرآن میں ارشاد ربانی ہے ہم نے انسان کو والدین کے بارے میں حسن سلوک کی تاکیدی نصیحت کی ہے، اور اگر والدین کی طرف سے تمہیں میرے ساتھ شرک پر مجبور کیا جائے جس کے بارے میں تمہیں علم نہیں ہے تو تم ان کی اطاعت مت کرو، میری طرف ہی تم نے لوٹنا ہے، تو میں تمہیں تمہارے اعمال کی خبر دونگا۔(العنکبوت: 8)
اولاد کو چاہیے کہ والدین کے مقام و مرتبے کا خیال رکھیں، اور ان کے ساتھ حسن سلوک سے رہیں، چاہے والدین کی جانب سے آپ پر مباح چیزوں کے متعلق سختی کیوں نہ کی جائے؛ کیونکہ اللہ تعالی نے ہمیں اپنے والدین کے ساتھ حسن سلوک کا حکم دیا ہے صرف وہ والدین جومشرک ہوں اور شرک کی دعوت دیتے ہوں یا وہ والدین جو معصیت کے کاموں کی طرف دعوت دیں۔ جو والدین اپنے تئیں صرف خیر کی باتوں کا ہی ہمیں حکم دیتے ہیں، ان کے ساتھ حسن سلوک مزید ضروری ہے۔
اور اگر والدین تمہیں میرے ساتھ شرک پر مجبور کریں جس کے بارے میں تمہیں علم نہیں ہے تو تم ان کی اطاعت مت کرو، لیکن دنیا میں ان کیساتھ حسن سلوک کرو، میری طرف رجوع کرنے والوں کے راستے پر چلو، میری طرف ہی تم نے لوٹنا ہے، تو میں تمہیں تمہارے اعمال کی خبر دونگا۔ (سورۃالقمان: 15)
سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ان کے بارے میں قرآن مجید کی آیات نازل ہوئیں کہ ان کی والدہ نے قسم اٹھا لی کہ جب تک سعد اسلام ترک نہ کر دے اس وقت تک اس سے بات نہیں کرے گی، اور نہ ہی کچھ کھائے پیئے گی۔
چنانچہ سعد کی والدہ نے ان سے کہا: ”تم کہتے ہو کہ تمہارا نبی والدین کیساتھ حسن سلوک کا حکم دیتا ہے، تو میں تمہاری ماں ہوں اور تمہیں حکم دیتی ہوں کہ اسلام چھوڑ دو” سعد کہتے ہیں کہ: میری والدہ تین دن تک بھوکی پیاسی رہیں اور آخر تاب نہ لا کر بیہوش ہوگئی، اس پر سعد کے ایک اور بھائی نے جس کا نام عمارہ تھا اٹھ کر پانی پلا دیا، چنانچہ وہ ہوش میں آئی اور سعد کو بد دعائیں دینے لگی، تو اللہ تعالی نے قرآن مجید کی یہ آیات نازل کر دیں ۔
ہم نے انسان کو والدین کے بارے میں حسن سلوک کی تاکیدی نصیحت کی ہے، اور اگر والدین کی طرف سے تمہیں میرے ساتھ شرک پر مجبور کیا جائے۔۔۔ (العنکبوت: 8)
آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے والدین کے حقوق کی ادائیگی نہ کرنے کو کبیرہ گناہ قرار دیا۔ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا۔ کبیرہ گناہوں میں سے ایک یہ ہے کہ آدمی اپنے والدین پر لعنت کرے صحابہ کرام رضی اللہ عنھم نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کوئی شخص اپنے والدین پر بھی لعنت کر سکتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا
’’کوئی شخص کسی دوسرے شخص کے باپ کو گالی دیتا ہے تو وہ اس کے باپ کو گالی دیتا یہ اور کوئی شخص کسی کی ماں کو گالی دیے اور وہ (بدلے میں) اس کی ماں کو گالی دے (تو یہ اپنے والدین پر لعنت کے مترادف ہے)(بخاری)
والدین کی وفات کے بعد ان تمام لوگوں سے تعلقات کو بحال رکھنیچاہیں جن کے ان کے ساتھ تعلقات اور رشتہ داری تھی، مثلاً والدہ کے عزیز و اقارب اور سہیلیاں وغیرہ۔
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے سرکاردوعالم صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے دریافت کیا کہ مجھ پر خدمت اور حسن سلوک کا سب سے زیادہ حق کس کا ہے؟ سرکاردوعالم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ تمہاری ماں‘ پھر میں کہتا ہوں تمہاری ماں‘ پھر میں کہتا ہوں تمہاری ماں‘ اس کے بعد تمہارے باپ کا حق ہے‘ اس کے بعد جو تمہارے قریبی رشتہ دار ہوں پھر جو ان کے بعد قریبی رشتہ دار ہوں
جیسے کہ عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: (والدین کے ساتھ بہترین سلوک میں سے یہ بھی ہے کہ جب والد رخصت ہو جائے تو اُس کے ساتھ محبت کا رشتہ رکھنے والوں کے ساتھ اچھا سلوک کرے(مسلم)
بہت سے والدین کو اپنی اولاد کے طرزِعمل سے سخت اذیت پہنچتی ہے کیونکہ بچے ماں باپ کی نافرمانی کرتے ہیں اور اپنی تعلیم کو نظرانداز کردیتے ہیں۔ وہ والدین کے لیے پریشانی کا سبب بنتے ہیں اور ان کا جینا دوبھر کردیتے ہیں۔ اس مرحلے پر والدین کا پیمانۂ صبر لبریز ہوجاتا ہے اور وہ اولاد سے سختی کرتے ہیں۔ شیکسپیئر کا قول ہے:
’’محبت کرو اس سے پہلے کہ تم سے نفرت کی جائے۔‘‘
ایک تحقیقی مطالعے سے ثابت ہوا ہے کہ ایک فردہوش سنبھالنے سے لے کر کامل بلوغ تک61ہزار منفی ( بُرے) الفاظ سنتا ہے جبکہ وہ اس مدت میں مثبت (اچھے) الفاظ صرف چند سو ہی سنتا ہے۔ ہم لوگ اس بات پر غور نہیں کرتے کہ سلبی و منفی یعنی برے الفاظ و کلمات ہمارے بچوں کی تربیت پر کتنے بُرے اثرات مرتب کرتے ہیں۔
ماہرینِ تربیت اس بات پر زور دیتے ہیں کہ جب ماں باپ یا تربیت کرنیوالوں کی طرف سے بچے کی توہین کی جاتی ہے اور اسے بْرے بْرے القاب و صفات سے پکارا جاتا ہے تو بچہ اپنی ذات کے بارے میں اپنے ذہن میں ایک تصویر یا خاکہ بنا لیتا ہے۔ گویا اپنی ذات کے بارے میں یہ ذہنی تصویر، اس کلام کا نتیجہ ہوتا ہے جو وہ اپنے بارے میں لوگوں کی زبانوں سے سنتا ہے۔یوں سمجھئے کہ بچے کے بارے میں دوسروں کی باتیں نقاش (مصور) کا بُرش ہیں۔ نقاش بچے کے بارے میں باتیں کرنے والا ہے۔ اگر بچے کے بارے میں اور بچے سے بات کرنے والا شخص کالے رنگ کا بْرش استعمال کرتا ہے تو سیاہ تصویر وجود میں آتی ہے اور اگر وہ خوب صورت رنگ استعمال کرتا ہے تو تصویر بھی حسین ہوگی۔کچھ باپ جب اپنے بیٹوں سے بات کرتے ہیں تو اپنی گفتگو سے ان کی شخصیتوں کو مسخ کردیتے ہیں لہٰذا آپ اپنے بیٹے کی قدر و قیمت کم نہ کیجیے۔
عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ: (تم میں سے ہر ایک نگران ہے اور اس کے ماتحتوں کے متعلق اس سے سوال ہوگا۔ حکمران نگران ہے اور اس سے اس کی رعایا کے بارے میں سوال ہوگا۔ انسان اپنے گھر کا نگران ہے اور اس سے اس کی رعیت کے بارے میں سوال ہوگا۔ عورت اپنے شوہر کے گھر کی نگران ہے اور اس سے اس کی رعیت کے بارے میں سوال ہوگا۔ خادم اپنے آقا کے مال کا نگران ہے اور اس سے اس کی رعیت کے بارے میں سوال ہو گا) ابن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ: میرا خیال ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا کہ: (انسان اپنے باپ کے مال کا نگران ہے اور اس کی رعیت کے بارے میں اس سے سوال ہوگا اور تم میں سے ہر شخص نگران ہے اور سب سے ان کی رعیت کے بارے میں سوال ہوگا۔ (بخاری)
والدین کو بھی چاہیے کہ اپنی رعیت کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آئیں تاکہ ان کی اولاد ان کے ساتھ بڑھاپے میں اچھے طریقے سے پیش آئے۔

کرو مہربانی تم اہل زمیں پر
خدا مہرباں ہو گا عرش بریں پر

حصہ