جھوٹ

34

مناہل امجد
آج جب ذیشان اپنی کلاس میں داخل ہوا تو دیکھا کہ سامنے کی دوسری ڈیسک پر ایک نیا بچہ بیٹھا ہوا ہے ذیشان نے بچے پر نظر ڈالی تو بچے نے ایک بھرپور مسکراہٹ سے استقبال کیا جس میں سنجیدگی اور ذہانت جھلک رہی تھی۔ ذیشان اپنی پچھلی نشت پر چلا گیا وہ ہمیشہ سے پچھلی نشست پر بیٹھنے کا عادی تھا وہ کلاس کا ایک شرارتی بچہ تھا ہر روز کوئی نہ کوئی شرارت کیا کرتا گویا اگر وہ شرارت نہ کرے تو اس کا کھانا ہضم نہ ہو یہ کیفیت صرف اسکول تک ہی نہیں تھی بلکہ وہ محلے اور گھر میں شرارتی بچے کے نام سے مشہور تھا۔ بہت سمجھانے کے باوجود وہ باز آنے کو تیار نہ تھا بلکہ اب تو کیفیت یہ ہو گئی تھی کہ وہ کوئی حرکت کرکے اس کا الزام کسی اور پر لگا دیتا اور اپنی بات پر ڈٹ جاتا یعنی جھوٹ، الزام تراشی اور ہٹ دھرمی اس کی طبیعت کا حصہ بن چکی تھیں۔
کلاس ٹیچر نے بچوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آج ہماری کلاس میں ایک نئے طالب علم کا اضافہ ہوا ہے جس کا نام نعمان ہے یہ ایک ذہین بچہ ہے نعمان کے والد ایک سرکاری ملازم ہیں اُن کا ہمارے شہر میں تبادلہ ہوا ہے یہ ہماری کلاس میں ایک اچھا اضافہ ہے اس کے بعد وہ پڑھانے میں مصروف ہو گئیں۔
ذیشان نے محسوس کیا کہ کلاس ٹیچر کی کہی ہوئی بات سو فی صد درست ہے کیوں کہ وہ ہر سوال کا فوراً جواب دیتا ہے اور تعریف کا متحق قرار پاتا ہے۔ نعمان انٹرویل میں کلاس سے باہر نہیں جاتا وہ اپنی نشست پر بیٹھا رہتا وہیں لنچ کرتا اور پڑھائی میں مصروف ہو جاتا۔ ذیشان کے ذہین میں نت نئی شرارتیں آرہیں تھیں جو وہ نعمان سے کرنا چاہتا تھا اس نے محسوس کہا کہ اس کے کلاس میں آنے سے پہلے ہی وہ اپنی نشست پر بیٹھا ہوتا ہے اور چھٹی کے وقت بھی جلد بازی نہیں کرتا اطمینان سے اپنی نشست پر بیٹھا رہتا ہے لہٰذا نعمان کے ساتھ کوئی شرارت کرنا ممکن نظر نہیں آرہا تھا۔
ایک دن ذیشان انٹرویل میں کھیل کود چھوڑ کر کلاس میں کھڑکی کے ذریعے داخل ہوا اور بڑی خاموشی سے بچوں کے بیگ کھول کر کئی بچوں کی کتابیں ایک دوسرے کے بیگ میں رکھ دیں اور خاموشی سے وہاں سے نکل گیا اس دوران اس نے دیکھا کہ نعمان بڑی توجہ سے پڑھنے میں مصروف ہے ذیشان نے نعمان کی طرف دیکھا اور کہا بڑا آیا پڑھاکو… اب مزا آئے گا۔
انٹرویل کے بعد بچے کلاس میں آئے اور انہوں نے اپنے بیگ دیکھے تو کتابیں غائب تھیں انہوں نے ٹیچر سے کہا ہماری کتابیں غائب ہیں کسی نے نکال لیں۔ ٹیچر نے کہا یہ کیسے ہو سکتا ہے ان کا خیال تھا کہ یہ حرکت صرف اور صرف ذیشان کو ہی ہوسکتی ہے انہوں نے ذیشان کو کھڑا کیا اور کہا آپ کو کئی مرتبہ سمجھایا مگر آپ باز آنے والے نہیں ہو آج پھر یہ حرکت کی ہے۔ ذیشان نے کہا میں نے کچھ نہیں کیا۔ کلاس ٹیچر آپ جھوٹ بول رہے ہو۔ ذیشان نے کہا میں شرارت اور جھوٹ سے توبہ کر چکا ہوں۔ یہ حرکت نعمان نے کی ہے وہ ہی انٹرویل میں کلاس روم تھا اور اس کا یہ معمول ہے آج میں نے اسے انٹرویل میں ایسا کرتے ہوئے دیکھا ہے۔
ٹیچر نے ذیشان کو اپنے پاس بلایا اور کہا شرارت، جھوٹ اور الزام تراشی آپ کی طبیعت میں ایسی داخل ہو چکی ہے کہ آج آپ نے ایک ایسے بچے پر الزام لگا دیا جو اسی وقت چلنے پھرنے کی پوزیشن میں بھی نہیں ہے نعمان کا ایک حادثے کے باعث دونوں پیروں میں فریکچر ہے اور پلاسٹر چڑھا ہوا ہے وہ چل نہیں سکتا صبح گھر کا کوئی فرد اسے یہاں چھوڑ کر جاتا ہے اور وہ ہی اسے لیکر جاتا ہے آپ کو کیا معلوم آپ تاخیر سے آتے ہو اور چھٹی کے وقت جلدی نکل جاتے ہو آپ نعمان کے پاس جاکر دیکھ سکتے ہو ابھی پلاسٹر اترنے میں ایک ماہ اور لگے گا۔
ذیشان کلاس کے سامنے شرمندہ کھڑا تھا کلاس ٹیچر نے کہا ذیشان آپ نے شرارت کی پھر انکار کیا اور الزام ایک معصوم بچے پر لگایا اسے دکھ پہنچایا اس طرح آپ نے کئی جرم کیے۔
ذیشان نے شرمندگی کا اظہار کرتے ہوئے نعمان سے الزام لگانے پر معافی مانگتے ہوئے عہد کیا کہ وہ آئندہ کوئی شرارت نہیں کروں گا جھوٹ اور الزام تراشی سے دور رہتے ہوئے ایک اچھا بچہ بنوں گا۔

حصہ