بوعلی سینا

77

عبداللہ

بچوں آج میں آپ کو جس انسان کے بارے میں بتائوں گا وہ ہے مسلمانوں کے عظیم سائنس دان شیخ حسن عبداللہ یعنی بوعلی سینا ہیں ان کا نام مسلمان سائنسی دانوں میں بہت اعلیٰ ہے۔
ان کی ولادت قصبہ خرئین (بخارا) میں ہوئی 980ء میں ابن سینا چار علوم کا ماہر تھا علم طبیعات (Physics) علم تشریح الا عضا (Biology) علم منافع الا عضا (Physiology) اور علم الامراض (Materia madica) ان کی والد نے ان کی ابتدائی تعلیم کے بعد انہیں مشہور ریاضی دان جو ریاضی میں بہت ماہر تھے کہ سپرد کیا جن کا نام محمد مساح تھا ان سے انہوں نے ریاضی کی تعلیم حاصل کی۔ جن کا تعلق ہندوستان سے تھا ان کے بعد ایک اور استاد ابو عبداللہ ناتلی جو قابل فلسفی تھے سے تعلیم حاصل کی۔ بو علی سینا کی ذہانت سے وہ بہت متاثر ہوئے۔ بوعلی سینا نے ان سے علم اقلیدس کی تعلیم حاصل کی۔ استاد نے کہا تم کتاب کو پڑھو اور اس کو سمجھوں تم نے جو کچھ سمجھا ہے اسے میرے سامنے دہرا دو۔ بوعلی سینا کی ذہانت کا یہ عالم تھا کہ ایسے نکتے پیدا کیے اور مضمون بیان کیے کہ استاد حیران رہ گئے۔ بوعلی سینا کی اس قابلیت کو دیکھتے ہوئے اور ان کے علمی شوق عمدہ اصلاحیت کو دیکھتے ہوئے سراہا۔ ابن سینا نے اس کے بعد علوم و فنون (علم اور فن) کی کتابیں خود پڑھنا شروع کر دیں اس سے اس پر علم و فن کی دروازے کھل گئے۔
بچوں آپ کو یہ سن کر حیرت ہوگئی کہ اس زمانے میں ہندوستان کا ریاضی کا علم بہت مشہور تھا لہٰذا بو علی سینا یہ چاہتے تھے کہ وہ بھی ہندوستان کا علم ریاضی حاصل کرے لہٰذا انہوں نے محمود مساح سے ہندوستان کا علم ریاضی پڑھا۔ اس کے بعد ابن سینا نے فلسفہ اور بعد میں علم طب میں کمال حاصل کیا اور تھوڑے ہی عرصے میں اتنی مہارت حاصل کرلی کہ اپنا مطلب کھول لیا۔ اس میں بھی ابن سینا کو کامیابی حاصل ہوئی۔
ابن سینا نے علم فقہ کا مطالعہ بھی کیا بچوں آپ کو بتاتے چلیں کہ عم فقہ دینی علم کو کہتے ہیں جو اسے پڑھتا ہے وہ مولانا بنتا ہے۔
پیارے بچوں آپ کو بتاتا چلوں کہ ابن سینا کہ شہرت بہت دور دراز تک پہنچ گئی تھی ایک دفعہ بادشاہ وقت سلطان نوح بن منصور بیمار پڑ گیا حکیموں نے بادشاہ کو مشورہ دیا کہ ابن سینا کو بھی بلایا جائے چنانچہ ابن سینا کو بھی حکیموں کی جماعت میں شامل کر لیا گیا بادشاہ کو فائدہ پہنچا اور ابن سینا کو دربار میں شامل کر لیا گیا۔
بادشاہ کا کتب خانہ بہت بڑا تھا ابن سینا نے اس سے بھی کتابیں پڑھیں۔ ابن سینا کی دو کتابیں بہت مشہور ہوئیں ایک ’’کتاب الشفا‘‘ اور دوسری کتاب ’’النجاۃ‘‘۔۔
بچوں آپ کو بتاتا چلوں کہ ابن سینا کو فن طب تھے سے بڑا لگائو تھا وہ اس پیشے کو لوگوں کی خدمت کا ذریعہ سمجھتا تھا انہوں نے علاج پر نئے نئے طریقے اور نکتے نکالے۔ مشاہدے اور تجربے کرتا نتائج کی تحقیق کرتا اور صحیح واقفیت حاصل کرتے۔ لوگ ان کی کم عمری کہ باجود قابلیت کے فائل ہو گئے تھے۔
بچوں آپ کو ان کے شاگردوں کہ نام بھی بتائوں جو کہ خاص شاگردوں میں، شمار ہوتے ہیں ان میں ایک ابو عبید اور دوسرا عروضی سمرقندی تھے۔
ابن سینا کی مشہور تصنیف ’’القانون‘‘ ہے اس کا انگریزی ترجمہ ڈاکٹر کیمبرون نے 1930ء میں گیا۔ ڈاکٹر کیمبرون نے ابن سینا کی قابلیت کی بہت تعریف کی ہے۔ اس کے علاوہ ڈی بورو ابن سینا کہ بارے میں لکھتا ہے یورپ میں شیخ کو ساحر (جادوگر) سمجھا جاتا ہے۔
بچوں آخر میں آپ کو یہ بھی بتاتا چلوں کہ علم طب کہ علاوہ ابن سینا علم ریاض اور علم طبیعات کا بھی ماہر تھا۔ آخر وقت میں اس نے تمام مال فقراء (فقیروں) اور حاجت مندوں میں تقسیم کر دیا اور قرآن پاک کی تلاوت میں مشغول ہو گئے۔
بچوں یقینا آپ کو پتہ چل گیا ہو گا کہ ابن سینا کتنا بڑا سائنسدان تھا اگلی دفعہ پھر ایک مسلم سائنسدان کہ بارے میں بتائوں گا۔

حصہ