بندگی سے عاشقی تک

56

سیدہ عنبرین عالم
عمران گارمنٹس فیکٹری کی رات کی شفٹ میں کام کرتا تھا۔ عموماً تو صبح 5 بجے چھٹی ہوتی تھی، لیکن کسی دن کام زیادہ ہوتا تو صبح 6 بج جاتے۔ جس وقت وہ فیکٹری سے نکلتا، کوئی سواری نہ ملتی تھی۔ غنیمت یہ تھا کہ ایک شارٹ کٹ اسے معلوم تھا، وہاں سے گزرتا تو آدھا گھنٹہ پیدل چل کر ہی گھر تک پہنچ جاتا۔ مسئلہ یہ تھا کہ اس شارٹ کٹ میں اسے قبرستان سے ہوکر گزرنا پڑتا تھا۔ عام طور پر خیریت ہی رہتی، کبھی کبھار عجیب و غریب واقعات سے واسطہ پڑتا، جیسے ایک بار وہ چلتے چلتے ٹھوکر لگنے سے گر گیا، تو جس قبر پر گرا، وہ اس قدر گرم تھی کہ اس کا پورا بازو جل گیا، اس کو کئی دن تک بازو پر مرہم لگانا پڑا۔ اسی طرح کبھی کسی قبر سے بھینی بھینی خوشبو آنے لگتی، تو کوئی قبر روشن سی لگتی۔
آج صبح سے عمران کی طبیعت ناساز تھی، بخار تھا اور چکر بھی آرہے تھے۔ سوچا کہ فیکٹری نہ جائوں۔ پھر اس خیال سے کہ ایک دن کے پیسے کٹ جائیں گے، چل پڑا۔ فیکٹری کا 11 بجے رات کا وقت تھا، وہ تقریباً پونے بارہ بجے پہنچا۔ سپروائزر کی ڈانٹ نے موڈ اور طبیعت مزید خراب کردی۔ تین بجے رات تک عمران کی طبیعت ایسی ہوگئی کہ اس نے دو شرٹیں غلط سلائی سے خراب کردیں۔ آخر سپروائزر نے اس سے کہا کہ ایک گھنٹے آرام کرو، طبیعت کچھ بحال ہو تو گھر چلے جائو، دہاڑی نہیں کاٹوں گا۔
جس وقت وہ فیکٹری سے نکلا 4 بج چکے تھے، وہ نڈھال سا چل رہا تھا، نیند بھی تھی اور طبیعت کی خرابی بھی، بلکہ اب تو بھوک نے بھی حالت خراب کردی تھی۔ وہ قبرستان میں داخل ہوا تو اسے چکر آنے لگے، پھر یوں محسوس ہوا کہ آگے کچھ روشنی ہے۔ وہ چلتا رہا۔ ایک جگہ آکر ٹھیر گیا۔ اچانک اس کی طبیعت اتنی خراب ہوئی کہ اسے الٹی آنے لگی۔
’’نہیں میاں! گندگی مت کرنا‘‘۔ ایک آواز آئی۔
’’کون… کون ہے؟‘‘ عمران گھبرا کر بولا۔
’’بیٹھ جائو، ابھی طبیعت ٹھیک ہوجائے گی‘‘۔ وہ آواز دوبارہ آئی۔ عمران کو ڈر لگنے لگا۔ روشنی میں اضافہ ہوگیا، وہ روشنی قریب آگئی، ایک ہیولا سا تھا، معطر معطر اور رنگوں میں ڈوبا ہوا۔ عمران کی چیخ نکل گئی ’’میں مرگیا ہوں کیا؟‘‘ وہ بولا۔
’’نہیں، میں مر گیا ہوں‘‘۔ ہیولے میں سے آواز آئی۔ ’’میں امتیاز اللہ بیگ کی روح ہوں۔‘‘
’’کون امتیاز اللہ بیگ…؟‘‘ عمران زمین پر بیٹھ چکا تھا اور اس کی حالت کچھ بہتر تھی۔
’’تم نہیں جانتے۔ میں تمہیں روز یہاں سے گزرتے ہوئے دیکھتا ہوں‘‘۔ امتیاز صاحب بولے۔
’’آپ کیا چاہتے ہیں مجھ سے؟ آپ مجھے کیوں نظر آرہے ہیں؟‘‘ عمران نے گھبرا کر سوال کیا۔
’’بیٹا! میں تم سے کچھ باتیں کرنا چاہتا ہوں، موت کے بعد کی حقیقتیں بتانا چاہتا ہوں۔ یہ اللہ رب العزت کا حکم ہے، تمہارے ذریعے یہ باتیں لوگوں کو معلوم ہوں گی‘‘۔ امتیاز صاحب نے کہا۔
’’مجھے تو موت سے بہت ڈر لگتا ہے، میں مرنا نہیں چاہتا‘‘۔ عمران بہت خوف زدہ ہوگیا۔
’’جن کو دنیا کی چیزوں سے عشق ہوتا ہے، وہ دنیا چھوڑ کر نہیں جانا چاہتے، اور جو توحید کے متوالے ہیں، اپنے رب سے عشق کرتے ہیں، وہ جلدازجلد اپنے رب کے پاس پہنچنا چاہتے ہیں۔ سارا کھیل یہی ہے کہ کس کو کس سے عشق ہے‘‘۔ امتیاز صاحب بولے۔
’’تو کیا خودکشی کرلیں، ہم کون سا زندگی سے خوش ہیں، مگر جینا تو ہے‘‘۔ عمران نے کہا۔
امتیاز صاحب نے قہقہہ لگایا ’’نہیں! سب کچھ اللہ کی مرضی سے۔ مریں گے بھی صرف اُس وقت جب اللہ کی مرضی ہو، اس کی مرضی پر اپنی مرضی قربان کرنا ہی تو مومن کی شان ہے‘‘۔ وہ بولے۔
’’سبحان اللہ‘‘۔ عمران اب بہتر محسوس کررہا تھا اور اس کا خوف بھی جاتا رہا۔ ’’امتیاز صاحب! آپ کی وفات کو کتنا عرصہ گزر گیا ہے؟ آپ تو کافی جوان لگ رہے ہیں‘‘۔ اس نے پوچھا۔
’’80 سال کی عمر میں فوت ہوا تھا، یا یوں کہو کہ 80 سال کی عمر میں حواس ختم ہوگئے تھے، جیا تو میں 96 سال کی عمر تک تھا۔ مگر ایسا جینا بھی کیا جینا، جب کسی چیز کا ہوش ہی نہ ہو، میرے بچوں نے میری بڑی خدمت کی، حالانکہ وہ بھی بوڑھے ہوچکے تھے، اور اپنی اولاد کے رحم و کرم پر تھے، اب پورے 21 سال ہوگئے ہیں مجھے مرے ہوئے‘‘۔ انہوں نے کہا۔
’’امتیاز صاحب! آپ کیا کام کرتے تھے؟ ماشاء اللہ اتنا اجر ملا ہے آپ کو‘‘۔ عمران نے پوچھا۔
’’تم بتائو، تمہارا کیا اندازہ ہے میرے بارے میں؟‘‘ امتیاز صاحب نے مسکرا کر جوابی سوال کیا۔
عمران بھی مسکرانے لگا ’’مجھے لگتا ہے آپ آرمی میں ہوں گے اور 1965ء کی جنگ لڑی ہوگی اور بہت بہادری سے لڑی ہوگی، جبھی میرا رب آپ سے اتنا خوش ہے‘‘۔ اس نے اندازہ لگایا۔
’’بیٹا! صرف جنگ لڑنا ہی جہاد نہیں ہوتا، آج کل کے دور میں اپنے بچوں کو حق حلال کا کھلانا بھی جہاد ہے، میں فوجی نہیں تھا بلکہ ایک مل میں معمولی مزدور تھا، میرے تین بیٹے اور چار بیٹیاں تھیں، والدہ بھی ساتھ ہی رہتی تھیں اور علیل تھیں، خاصے خرچے اور بہت زیادہ غربت‘‘۔ امتیاز صاحب نے بتایا۔
’’پھر امتیاز صاحب ایسا کیا عمل تھا؟ میرے خیال میں تو جہاد سے افضل کوئی عمل نہیں‘‘۔ عمران بولا۔
امتیاز صاحب مسکرائے، روشنی کچھ اور بڑھ گئی۔ ہوا میں خنکی تھی اور آس پاس کوئی آواز نہیں تھی سوائے نور کے ہالے میں دھیمی دھیمی گفتگو کرتے امتیاز صاحب کی، جو ایک روح تھے، مگر انتہائی بے ضرر۔ ’’بیٹا! میرا فیکٹری مالک گنے کے کسانوں سے جس قیمت پر گنا لیتا انہیں رسید اس کی دگنی قیمت پر دیتا، یعنی وہ رسید سے آدھی قیمت پر گنا دے جاتے، بعض کو تو اتنا نقصان ہوتا کہ وہ آئندہ کے لیے گنا اگانے سے ہی توبہ کرلیتے، بلکہ زمین کسی ہائوسنگ سوسائٹی بنانے والے کو بیچ کر کراچی جاکر مزدوری کرنے لگتے۔ بیٹا! ایک کسان کے کام چھوڑ دینے کا مطلب ہے کم از کم ایک ہزار لوگوں کی بھوک۔ ایک زرعی زمین بکنے کا مطلب ہے دس ہزار لوگوں کی بھوک۔ ملک کا زرمبادلہ پھر صرف خوراک درآمد کرنے میں خرچ ہوگا، یہ غلط ہورہا تھا بیٹا‘‘۔ انہوں نے بتایا۔
’’جی ہاں، اس طرح تو ملک میں مہنگائی بھی بڑھے گی، درست فرمایا آپ نے‘‘۔ عمران نے تائید کی۔
’’پھر بیٹا، جب چینی بن جاتی تو وہ کئی کئی من چینی ذخیرہ کرلیتا، جب قیمت بڑھ جاتی تو پھر چینی نکالتا اور کروڑوں کا ناجائز منافع حاصل کرلیتا۔ میں مل میں کام کرتا تھا، مجھے سب پتا تھا، میں نے یہ سب جاکر ایک اخبار کے دفتر میں بتایا۔ اخبار والوں نے میرے مل کے مالک کو میری شکایت کردی۔ میری بڑی پٹائی ہوئی بیٹا! نوکری سے بھی نکالا گیا اور عمر بھر کے لیے معذور الگ ہوگیا۔ پھر بھی میں نے ہار نہ مانی، میں نے پولیس اسٹیشن جاکر اس ظلم کے خلاف آواز بلند کی تو مل مالک نے میرے داماد کو لاکھوں روپے دیے کہ میری بیٹی کو طلاق دے دے۔ میری بچی اپنے پانچ بچوں کے ساتھ گھر آبیٹھی، میرے بیٹے ابھی چھوٹے تھے۔ بیٹا! یہ تھا جہاد، جس کا مجھے اجر ملا۔ ہم نے کئی کئی دن کے فاقے سہے لیکن ظلم کے خلاف آواز اٹھائی‘‘۔ امتیاز صاحب نے بتایا۔
’’مطلب یہ کہ جہاد صرف فوجی وردی پہن لینے کا نام نہیں، ہر انسان اپنے دائرے میں رہتے ہوئے جہاد کرسکتا ہے۔ یہ ہم پر منحصر ہے کہ ناانصافی اور ظلم کے خلاف آواز اٹھاتے ہیں یا نہیں‘‘۔ عمران نے تائید کی۔
’’ہاں بیٹا! کل تم نے اکرم صاحب کے چبوترہ آگے بڑھانے کے خلاف بات کی، پھر آج صبح تم نے ان کے خلاف پولیس میں رپورٹ کرائی کہ انہوں نے کنڈا لگایا ہوا ہے، اس لیے تم منتخب ہوئے، حالانکہ وہ تمہارے بہنوئی ہیں، تم نے ہمت کی اور حق کا ساتھ دیا‘‘۔ امتیاز صاحب نے فرمایا۔
عمران مسکرانے لگا ’’مرنے کے بعد آپ کو کیسا لگ رہا ہے، بعداز موت کے کچھ حالات بتایئے‘‘۔ عمران نے پوچھا۔
’’بہت آسان بیٹا، بہت آسان۔ میری سلطنت ہے، میری بادشاہت ہے، مگر ابھی ملی نہیں۔ روزِ حساب کے فیصلے کے بعد ملے گی۔ اب بھی بہت آرام سے ہوں، موت سے زیادہ حسین چیز کچھ نہیں۔ میرا رب، میرا محبوب مجھ سے قریب ہے، اور کیا چاہیے!‘‘ امتیاز صاحب ترنگ میں بولتے چلے گئے۔
’’ماشاء اللہ! اللہ مبارک کرے، میرے رب نے آپ کو کامیابی عطا کی‘‘۔ عمران نے مبارک باد دی۔
’’بیٹا! جیسے تم دنیا میں موبائل فون سے وڈیو بناتے ہو، اسی طرح میرے رب کے فرشتے بھی مسلسل ہماری وڈیو بناتے رہتے ہیں، اور وہ وڈیوز محفوظ رہتی ہیں۔ ایک ایک لفظ، ایک ایک حرکت، ہر زاویے سے۔ ہماری سوچ ریکارڈ نہیں ہوتی، اس لیے اس پر پکڑ نہیں ہے، لیکن یہ یاد رکھنا کہ ہمارے آس پاس کی بے جان اشیا جیسے تکیہ، چادر، الماری، فرش یا ہمارے چھوٹے بچے سب کے سب ہمارے خلاف عینی گواہ ہیں، کوئی گنجائش نہیں‘‘۔ امتیاز صاحب نے بتایا۔
عمران غور سے سن رہا تھا۔ ’’کیا اللہ ہر ہر انسان کی پوری وڈیو قیامت کے دن چلائے گا؟ اس طرح تو بہت وقت لگ جائے گا، جنت جانے میں دیر ہوجائے گی مجھے‘‘۔ اس نے اعتراض کیا۔
’’نہیں بیٹا! یہ ایک ڈیٹا بیس قسم کا نظام ہے، جو عمل جس بندے کا ہوگا وہ انٹر کرو اور اُس آدمی کے اُس عمل کی وڈیو چلنے لگے گی۔ تم تو یوٹیوب اور گوگل وغیرہ استعمال کرتے ہو، بس سمجھ لو کہ چوں کہ انسان میرے رب کا نائب ہے تو اُس نے اللہ رب العزت کے نظام کا چربہ تیار کرلیا، یا یوں کہو کہ قیامت سے پہلے میرے رب نے انسان کے ہاتھ سے وہ سب بنوا دیا جس کا انسان کو روزِ قیامت سامنا کرنا ہے، یعنی قیامت بہت نزدیک آگئی ہے‘‘۔ امتیاز صاحب نے تفصیل سے سمجھایا۔
’’قبر کے حالات کو آپ کیسے بیان کریں گے؟‘‘ عمران نے عجلت میں پوچھا۔ اسے ڈر تھا کہ صبح نہ ہوجائے، لوگوں کی چلت پھرت شروع ہوگئی تو امتیاز صاحب کی روح حاضر نہ رہے گی۔
امتیاز صاحب کے چہرے پر اس قدر نور تھا کہ عمران کی آنکھیں چندھیا رہی تھیں اور وہ حسرت سے سوچ رہا تھا کہ میں کب مروں گا اور میری بھی امتیاز صاحب جیسی شان ہو۔
’’بیٹا! قبر کے حالات انتہائی سادگی سے یوں سمجھ میں آسکتے ہیں کہ اگر تم 3D فلموں کی مثال لو، جیسے ہمیں ایک عینک لگا دی جاتی ہے اور اس عینک میں ہمیں ساری فلم نظر آتی ہے، ہم سمجھتے ہیں کہ ہم وہاں ہیں، لیکن ہم وہاں نہیں ہوتے، ہم قبر میں ہی ہوتے ہیں اور ہمیں جنت کی سیر کرائی جاتی ہے، جیسے کہ قرآن میں کہا گیا کہ فرعون اور اس کی افواج، صبح و شام جہنم پر پیش کی جاتی ہیں، یعنی وہ جہاں جس حالت میں ہیں جہنم اُن کے سامنے اُن کے دل دہلا رہی ہے، جب روزِ حساب آجائے گا اور ہمارا فیصلہ ہوجائے گا تو ہمیں اس جگہ داخل کردیا جائے، یعنی طبعی طور پر جو ہمیں قبر میں روزِ حساب سے پہلے دکھائی جاتی رہی‘‘۔ امتیاز صاحب نے بتایا۔
’’کیا آپ کو میرے رب کا دیدار میسر ہے؟ کیا آپ انبیاء کی ارواح سے ہم کلام ہوتے ہیں؟‘‘ عمران نے پوچھا۔
’’نہیں بیٹا! ابھی مجھے تو یہ سہولیات میسر نہیں ہیں۔ درجات میں فرق ہوتا ہے بیٹا، جیسے ایک وزیراعظم بھی حکومت میں ہے اور ایک میئر بھی، لیکن جو سہولیات اور اختیارات وزیراعظم کو حاصل ہیں وہ میئر کو نہیں۔ تمام جنتی ایک ہی جیسی سہولیات حاصل نہیں کرتے بلکہ ان کے اعمال کے مطابق ان کے مختلف درجات اور سہولیات ہوتی ہیں‘‘۔ امتیاز صاحب نے بتایا۔
عمران نے سر ہلایا ’’آپ کیا مجھے کوئی نصیحت کرنا چاہیںگے، مجھے خوشی ہوگی‘‘۔ اس نے کہا۔
’’امتیاز صاحب مسکرانے لگے ’’عمران بیٹا! آخرت پر کبھی سمجھوتا نہ کرنا۔ چاہے کوئی بھی لالچ ہو، کوئی بھی مشقت پیش آئے، کیسا بھی نقصان ہو، بات اللہ رب العزت کی ہی ماننا۔ کسی نفرت، محبت، خوف یا لالچ نے تم سے غلط فیصلہ کرا دیا تو تم بچ نہیں سکتے‘‘۔ انہوں نے فرمایا۔
’’مگر اللہ تو میرا رب ہے، وہ بہت رحمن و رحیم ہے، معاف کردے گا‘‘۔ عمران نے بڑے یقین سے کہا۔
امتیاز صاحب نے انکار میں سر ہلایا ’’یہ شیطان کا سب سے بڑا دھوکا ہے کہ اللہ معاف کردے گا۔ میں یہ نہیں کہتا کہ وہ ہرگز معاف نہیں کرے گا، لیکن اگر معاف نہ کرے تو تم کیا کرلوگے! یہ امتحان ہے، میرٹ کا سوال ہے۔ اگر دنیا میں کسی امتحان کے لیے کہا جائے کہ سب پاس ہوجائیں گے تو تم کہو گے کہ یہ ناانصافی ہے۔ جس نے محنت کی، ایمان داری سے پرچہ حل کیا اُس کا جر امتحان کے دوران کھیل کود کرنے والوں سے زیادہ ہونا چاہیے‘‘۔ انہوں نے عمران کو سمجھایا۔
’’درست فرمایا آپ نے، بات صرف رحمت کی نہیں، عدل کی بھی ہے‘‘۔ عمران نے امتیاز صاحب کی تائید کی۔
’’دیکھو عمران! ہم اللہ کے نائب ہیں، ہمیں مختلف عہدوں پر تعینات کیا جانا ہے بعداز امتحان۔ کوئی تو کام ہے جس کے لیے ہمارا امتحان لیا جا رہا ہے، اس لیے فیصلہ میرٹ پر ہوگا‘‘۔ امتیاز صاحب بولے۔
مشرقی افق پر سورج کی گلابی آہٹ نمودار ہونا شروع ہوگئی تھی، امتیاز صاحب کی روشنی مدہم ہونے لگی تو وہ بولے ’’چلتا ہوں بیٹا عمران! میری باتیں اوروں تک ضرور پہنچانا۔ اللہ حافظ‘‘۔ اور آہستہ آہستہ وہ نیک روح فضا میں تحلیل ہوتے ہوتے غائب ہوگئی۔
’’جی ضرور پہنچائوں گا آپ کا پیغام، سب تک… اللہ حافظ‘‘۔ عمران نے جواب دیا۔ وہ خاصی دیر تک فضا میں دیکھتا رہا، جہاں امتیاز صاحب تحلیل ہوئے تھے، پھر گھر کی طرف چل پڑا۔

حصہ