برصغیر میں اسلام کے احیا اور آزادی کی تحریکیں

65

”مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ (1903۔1979) بیسویں صدی میں اور ڈاکٹر علامہ محمد اقبالؒ (1877۔1938) کے بعد احیائے دین و ملت کے سب سے بڑے علمبردار تھے۔ ان کے علمی اور فکری کام کا دائرہ بہت وسیع ہے۔ انہیں درگاہ حق سے اظہار و بیان کی وہ قوت ارزانی ہوئی تھی کہ وہ گنجلک اور پیچیدہ علمی مسائل کی گرہیں باآسانی کھول دیتے تھے اور اس کے نتیجے میں تفہیم و تعبیر کے نور سے قلب و ذہن منور ہوجاتے تھے۔ مولانا خانقاہی بزرگوں کی طرح گوشہ نشین، زاہد خشک اور مریدین کے مخصوص حلقے کے اسیر نہیں تھے بلکہ وہ ایک مجلسی انسان تھے۔5۔اے۔ ذیلدار پارک کی عصری مجلس میں شرکت کے لئے صلائے عام تھی، نہ کوئی پہرہ نہ دربان، نہ پروٹوکول، عام آدمی سے لے کر وقت کے حکمران تک، ہر ایک کے لئے شام کی اس مجلس سے علم و آگہی کے حصول اور استفادہ کرنے میں کوئی رکاوٹ نہ تھی۔ان کی عصری مجلس تک رسائی نہ پانے والے اور دور دراز علاقوں اور شہروں میں رہنے والے، قلم و قرطاس کے ذریعے رہنمائی اور روشنی حاصل کرتے۔ان کے مکتوب علیہان کا حلقہ بہت وسیع تھا۔اردو انگریزی اور عربی زبانوں میں مکتوب نگاری کا سلسلہ پوری دنیا تک پھیلا ہوا تھا۔ہر خط میں زندگی کے کسی نہ کسی عملی اور نظری مسئلے پر دلائل کے ساتھ بات کی گئی ہے۔ مضمون نگار مزید لکھتے ہیں کہ ” مولانا مودودی نے اپنی زندگی میں ہزاروں خطوط لکھے ہوں گے۔ حاصل کردہ معلومات کے مطابق خطوط پر مشتمل گیارہ مجموعوں کے علاوہ مختلف افراد (اور غالبا بعض اداروں) کے پاس بڑی تعداد میں مولانا مودودی کے غیر مطبو عہ خطوط موجود ہیں، جو گاہے بگاہے منظر عام پر آتے رہتے ہیں۔”
(حوالہ؛ مضمون۔” سید ابوالاعلیٰ مودودی کے چند غیر مطبو عہ مکاتیب”۔ ظفر حسین ظفر۔استاد شعبہ اردو۔علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی، اسلا م آباد)۔
مولانا مودودی کے صاحبزادے جناب حسین فاروق مودودی اپنے ایک مضمون ” علامہ اقبالؒ، مولانا مودودیؒ اور تحریک پاکستان” میںجو روزنامہ نوائے وقت میں 26 ستمبر 2018 کو شا ئع ہوا اس طرح لکھتے ہیں کہ ”علامہ اقبال اور سید مودودی دونوں مفکر تھے اور اپنی اپنی فکر رکھتے تھے لیکن ان کا مشترک نظریہ تھا بلکہ ہے وہ ہے ’’دو قومی نظریہ‘‘ جو نظریہ پاکستان کی بنیادی اساس ہے، یعنی دونوں مفکرین ہندوستان کے مسلمانوں کی بقا اس بات میں سمجھتے تھے کہ وہ ایک الگ خطہ ارضی پر اسلام کی تعلیمات کے مطابق زندگی گزار سکیں۔ علاوہ ازیں دیگر مسلمان زعماء و قائدین بھی تھے جنہوں نے اس نظریہ کے مطابق اپنا اپنا موقف پیش کیا۔ جیسے قائد اعظم محمد علی جناحؒ کے سیکرٹری سید شریف الدین پیرزادہ نے ان الفاظ میں لکھا ہے۔
’’وہ تجاویز اور مشورے جو سر عبداللہ ہارون، ڈاکٹر لطیف، سر سکندر حیات، سر ظفر الحسن، ڈاکٹر قادری، مولانا ابوالاعلیٰ مودودیؒ، چوہدری خلیق الزماں وغیرہ نے دئیے، وہ ایک معنی میں پاکستان تک پہنچنے والی سڑک کے سنگ ہائے میل ہیں۔‘‘ آگے چل کر حسین فاروق مودودی لکھتے ہیں کہ‘‘
’’مولانا مودودیؒ نے ترجمان القرآن کے سلسلہ ہائے مضامین کے ذریعے جو 1938۔39ء شائع ہوئے، کانگریس کے چہرے سے نقاب اتاری اور مسلمانوں کو متنبہ کیا۔ مولانا نے برصغیر میں مسلمانوں کی تاریخ کا جائزہ لیا، کانگریس کی لادینیت کی قلعی کھولی اور یہ ثابت کیا کہ ہندوستان کے مخصوص حالات میں اس کے لیے جمہوریت ناموزوں ہے، اس لیے کہ اس میں مسلمانوں کو ایک ووٹ اور ہندوؤ ں کو چار ووٹ ملیں گے، انہوں نے ہندوؤ ں کے قومی استعمار کی بھی مذمت کی اور اس رائے کا اظہار کیا کہ محض مخلوط انتخاب یا اسمبلیوں میں کچھ زیادہ نمائندگی اور ملازمتوں میں ایک شرح کا تعین مسلمان قوم کے سیاسی مسائل کا حل نہیں ہے۔ جو تجویز انہوں نے پیش کی اس میں تین متبادل صورتوں کی نشاندہی کی گئی تھی ان صورتوں میں آخری صورت تقسیم ملک کی تھی۔‘‘ اسی مضمون میں لکھا کہ…. ” ایک نظر علامہ اقبالؒ اور مولانا مودودیؒ کے تعلق پر ڈال لیتے ہیں۔ علامہ اقبالؒ 1930ء کے بعد سیاست میں کافی حد تک متحرک ہوئے لیکن ایک مفکر کے طور پر انہوں نے تخلیق اور فکر پر زیادہ زور دیا، یہ ان کی تخلیق اور فکر کے حوالے سے اوج کا زمانہ تھا، انہوں نے اپنی تخلیق اور فکر کے تصور کو عملی صورت میں ڈھالنے کے لیے جہاں قائد اعظم محمد علی جناحؒ و دیگر شخصیات کو ابھارا، وہاں مولانا ابوالاعلیٰ مودودیؒ کو بھی لاہور منتقل ہونے کا مشورہ دیا تاکہ وہ اس خطے میں جہاں ان کے خیال کے مطابق اسلامی ریاست بنانا مقصود تھی بیٹھ کر عملی جدوجہد کریں۔ علامہ اقبالؒ مولانا مودودیؒ کی تحریروں سے یہ اندازہ لگا چکے تھے کہ وہ ’’دو قومی نظریے‘‘ کے زبردست داعی بن سکتے ہیں۔ انہوں نے جس طرح کانگریس اور ان کے ہمنواؤ ں کا محاسبہ کیا وہ ان کے نزدیک قابل تحسین تھا، اس وقت ایک ایسے مصلح کی ضرورت تھی جو اپنی تحریروں سے قوم کو ہلاکت سے بچائے اور اسلامی ہند کی گزشتہ تاریخ اور موجودہ حالت پر محض ایک صحافی، ادیب، مورخ یا سیاست دان کی حیثیت سے نہیں بلکہ ایک مسلمان کی حیثیت سے اپنا کردار ادا کرے، اس کے مخاطب صرف وہ لوگ ہوں جو اول بھی مسلمان ہیں اور آخر بھی مسلمان۔ ایک ایسی شخصیت جسے صرف سیاسی آزادی اور معاشی استقلال ایک ہندوستانی کی حیثیت سے درکار نہ ہو، جو کانگریس کے’ نظریہ قوم پرستی’ کے پرخچے اڑا سکے، جس کا قلم اس قابل ہو کہ مسلمانوں کے دل میں اس کی بات اتر جائے، جو اعلیٰ ادبی صلاحیتوں کے ساتھ ساتھ جرأتِ ایمانی اور صفاتِ مومن سے مالا مال ہو، انہوں نے بھانپ لیا کہ یہ مولانا مودودیؒ ہی ہو سکتے ہیں جو کانگریس کے حقیقی روپ کو بے نقاب کرنے اور ہندو سامراج کے ہتھکنڈوں سے ملت اسلامیہ کو آگاہ کر کے انہیں اس جال سے بچنے کی تلقین کریں جو بعض علماء اور مسلمانوں کی مدد سے کانگریس پھینک رہی تھی۔(کانگریس کے پھندے سے مسلمانوں کو بچانے کے لیے انہوں نے دن رات کام کیا جس کے باعث وہ آج تک مسلمانوں کے ایک گروہ کے نزدیک معتوب ہیں)۔
ا قبالؒ سمجھتے تھے کانگریس کے پروپیگنڈے کے توڑ کے لیے مؤثر اور لاجواب دلائل بہم پہنچانے والی شخصیت مولانا مودودیؒ ہی ہو سکتے ہیں۔مولانا مودودیؒ اور علامہ اقبالؒ کی اولین ملاقات کا باعث پٹھان کوٹ کا ’’دارالسلام‘‘ بنا۔ ہوا کچھ یوں کہ موضع جمال پور (پٹھانکوٹ) کے ایک ریٹائرڈ ایس ڈی او (محکمہ انہار) چودھری نیاز علی ایک جرمن نو مسلم محمد اسد کی معیت میں لاہور آئے اور عرض کی کہ انہوں نے جمال پور میں ایک دینی مدرسے کے لیے 70 ایکڑ زمین وقف کر دی ہے۔ علامہ اقبالؒ نے فرمایا دینی مدرسے تو اور بھی کافی تعداد میں ہیں، اس وقت اس امر کی اشد ضرورت ہے کہ فقہ اسلامی کو جدید زمانے کے تقاضوں کے مطابق ڈھالنے کا کام سر انجام دیا جائے، چنانچہ اس ادارے کے اغراض و مقاصد میں یہ چیز شامل ہونی چاہیے، چنانچہ مذکورہ کام کو بطریق احسن سر انجام دینے کے سلسلے میں کئی نام زیر غور آئے، مولانا عبیداللہ سندھی، سید سلیمان ندوی، عبداللہ یوسف علی اور علامہ محمد اسد سے اس ضمن میں رابطہ قائم کیا گیا لیکن ان حضرات نے اپنی مجبوریوں کی بنا پر معذرت کر دی۔ اس وقت مولانا ابوالاعلیٰ مودودیؒ کا نام بھی علامہ اقبالؒ نے چودھری نیاز علی کے سامنے پیش کیا۔
چنانچہ علامہ اقبالؒ اور چودھری نیاز علی نے الگ الگ مولانا مودودیؒ سے حیدر آباد میں مراسلت شروع کر دی، علامہ اقبالؒ نے مولانا مودودیؒ سے وعدہ کیا کہ وہ بھی سال میں چھ مہینے اس ادارے میں گزاریں گے، اس پر مولانا مودودیؒ نے چوہدری نیاز علی کے نام مکاتب میں اس ادارے کے لیے ایک جامع خاکہ لکھ کر انہیں بھیجا، اس دوران علامہ اقبالؒ کا اصرار بھی حد سے زیادہ بڑھ گیا کہ مولانا مودودیؒ شمالی ہندوستان کو اپنی سرگرمیوں کا مرکز بنائیں چنانچہ مولاناؒ نے چوہدری نیاز علی کو دہلی میں ملنے کا کہا، دہلی میں اس معاملے میں بات چیت ہوئی، مولانا مودودیؒ کچھ قائل ہو گئے، چنانچہ اگست 1937ء کے اواخر میں دونوں صاحبان جالندھر سے ہوتے ہوئے لاہور آئے اور علامہ اقبالؒ سے ملاقات کی جس میں طے پایا کہ علامہ اقبالؒ سال میں چھ ماہ پٹھانکوٹ میں گزاریں گے۔ اس کے بعد نیاز علی صاحب کے پاس آئے، اور ان کی علامہ اقبالؒ سے تفصیلی ملاقاتیں مسلسل تین دن ہوتی رہیں، ان ملاقاتوں میں جمال پور (پٹھانکوٹ) کے اس مدرسے کا نام مولانا مودودیؒ نے ’’دارالسلام‘‘ تجویز کیا جسے علامہ اقبالؒ نے انتہائی پسند فرمایا، اس دوران میں وہ حیدر آباد چلے گئے تاکہ اپنا سازوسامان لے آئیں، وہ اپنا سامان لے کر 18 مارچ کو پٹھان کوٹ پہنچے۔ ان کا ارادہ تھا کہ وہ جلد لاہور پہنچ کر علامہ سے ملاقات کر کے آئندہ کا لائحہ عمل مرتب کریں گے لیکن 21 اپریل کو علامہ اقبالؒ انتقال کر گئے۔
دوسری طرف غور کریں تقسیم ہند کے منصوبے کی تجویز بھی انہی ملاقاتوں کے درمیان مولانا مودودیؒ نے تحریر کی۔ یہ عجب اتفاق ہے کہ 1930ء کے خطبہ الٰہ آباد کے بعد برصغیر کی بدلتی ہوئی سیاسی صورتحال میں علامہ اقبالؒ کے ساتھ گفتگو مولانا مودودیؒ کی لازمی ہوئی، علامہ اقبالؒ نے اسے سراہا تبھی تو ان کا اعتماد مولانا مودودیؒ پر اتنا بڑھا کہ انہوں نے نہ صرف مولانا مودودیؒ کی ’’دارالسلام‘‘ کی تجویز کو قبول کیا بلکہ چھ ماہ ان کے ساتھ گزارنے کی حامی بھی بھر لی، مولانا مودودیؒ کی ان تجاویز کو بھی مفکر پاکستان کی حمایت حاصل رہی، کم از کم ہم کہہ سکتے ہیں کہ مولانا مودودیؒ کا پلان علامہ اقبالؒ کی نظر سے ضرور گزرا ہو گا اور اس پر تفصیلی گفتگو ہوئی ہو گی، اگر علامہ اقبالؒ کو اس پلان سے اختلاف ہوتا تو وہ ’’دارالسلام‘‘ کے منصوبے میں کبھی بھی مولانا مودودیؒ کے ساتھ شراکت و تعاون کا اقرار نہ کرتے…
حوالہ جات: (حوالہ؛ مضمون۔” سید ابوالاعلیٰ مودودی کے چند غیر مطبو عہ مکاتیب”۔ ظفر حسین ظفر۔استاد شعبہ اردو۔علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی، اسلا م آباد)۔
حوالہ:؛ مضمون، علامہ اقبالؒ، مولانا مودودیؒ اور تحریک پاکستان
روزنامہ نوائے وقت،اشاعت۔ 26 ستمبر2018۔مضمون نگار: حسین فاروق مودودی
(جاری ہے)

حصہ