اچھا دوست

39

عمیمہ خان
ارشد اپنی کلاس کا ایک ذہین طالب علم تھا وہ پڑھائی کے ساتھ ساتھ کھیل کود میں حصہ لیتا اور اس میں اپنے جو ہر دکھاتا لیکن اس کی تمام تر توجہ علم کے حصول پر مرکوز تھی۔ ارشد صرف ذہین ہی نہیں تھا بلکہ وہ بردبار اور سنجیدہ طبعت کا مالک تھا غیر ضروری کاموں میں قطعی شریک نہیں ہوتا اور نہ ہی غیر ضروری بات زبان سے نکالتا ان وجوہات کے باعث وہ اسکول اور محلے میں ایک اچھے بچے کی صورت مشہور تھا جبکہ اس کا گہرا دوست اور کلاس کا ساتھی سجاد بالکل الٹ تھا۔ سجاد ذہانت کے معاملے میں تو کم نہ تھا مگر اس کی توجہ پڑھائی سے زیادہ کھیل کود پر ہوتی سنجیدگی اور بردباری اسے چھو کر نہیں گزری تھی ہمیشہ فضول گفتگو کرتا غیر ضروری کام اس کی زندگی کا حصہ تھے شرارت اور لوگوں کو تنگ کرنا عادت میں شامل تھا وہ اچھا بچہ نہیں سمجھا جاتا تھا۔
ارشد اور سجاد میں گہری دوستی کو سب حیرت سے دیکھتے کہ ایک سنجیدہ اور بردبار دوسرا غیر ذمہ دار لا پروا مزاج کے فرق کے باوجود ان کی یہ دوستی ایک عرصے سے چلی آرہی تھی ارشد ایک اچھے دوست ہونے کے ناتے چاہتا تھا کہ سجاد لاپروائی کو چھوڑ کر سنجیدگی اختیار کرے اور وقت کو ضائع کرنے کے بجائے اس کا درست استعمال کرے پڑھائی پر توجہ دے سجاد کو سمجھانے کی کوشش کی مگر سجاد کا کہنا تھا کہ وہ کم وقت میں زیادہ پڑھائی کر لیتا ہے اور وہ ایک ذہین فرد ہے لہٰذا ہر وقت پڑھتے رہنے کا کیا فائدہ میں کھیل کود اور تفریح کو کیوں چھوڑ دوں گزرتے وقت کے ساتھ سجاد کی خراب عادتیں پختہ ہوتی چلی گئیں اور وہ ارشد اور پڑھائی سے دور ہوتا چلا گیا اب اس کی دوستیاں پڑھائی سے دور اور کھیل میں مگن رہنے والوں سے ہوگی اب وہ کھیل کے میدان میں زیادہ نظر آتا رفتہ رفتہ ان کی غلط عادتیں جھوٹ الزام تراشی، غیبت کا عادی ہو گیا۔ جب سالانہ امتحانات میں صرف تین ماہ کا عرصہ رہ گیا سجاد نے جو اپنی ذہانت کے زعم میں مبتلا تھا اپنی پڑھائی کا آغاز کیا وہ سوچ رہا تھا کہ تین ماہ کا عرصہ اس کے لیے کافی ہے اور وہ بغیر کسی کی مدد کے امتحانات کی تیاری کرے گا جب کتاب کھولی تو الفاظ اس کے سامنے اچھل کود کررہے تھے کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا سجاد حواس باختہ ہو گیا اور سوچنے لگا اب کیا کرے امتحان میں ناکامی سامنے تھی اسے اپنی غلطی کا احساس ہو رہا تھا۔
سجاد شام کو ارشد کے گھر پہنچا اور اسے اپنی مشکل سے آگاہ کیا ارشد نے ایک اچھے دوست کا کردار اداکرتے ہوئے اس کی بھرپور مدد کا وعدہ کیا مگر اس وعدے کے ساتھ کہ وہ آئندہ اپنا وقت ضائع نہیں کرے گا۔ پڑھائی پر بھرپور توجہ دے گا اور وقت کی قدر کرے گا کیونکہ گزرا وقت دوبارہ نہیں آتا جو وقت ضائع کرتے ہیں وقت ان کو ضائع کر دیتا ہے اور کوئی بھی فرد اپنے دوستوں سے پہچانا جاتا ہے بروں کی دوستی جھوڑ کر اچھوں سے دوستی کا رشتہ جوڑو گے سجاد نے ارشد سے وعدہ کیا کہ وہ ان باتوں پر ہمیشہ کا ربند رہے گا۔ اور صرف اور صرف علم کے حصول پر توجہ دے گا۔a

حصہ