اپنے لیے تو سب ہی جیتے ہیں اس جہاں میں

47

نون۔ الف
گزشتہ تین دہایوں سے کراچی جو اپنی اصل شنا خت کھو بیٹھا تھا الحمد للہ اپنی اصل کی جانب لوٹ آیا ہے – کراچی جس کی شہرت غریب پرور شہر کی تھی ، جو’ منی پاکستان ‘ پکارا جاتا تھا ، جہاں کے دن مصروف اور راتیں جگمگا تی تھیں ، مگر اس کے بعد پھر لوٹ مار اور فسادات کے حوالے سے بدنام ہونا شروع ہوا ،لیکن کچھ اللہ کے بندے نامساعد اور خراب ترین حالا ت کے باوجود شہر میں بندگان خدا کی خدمت کے جذبے سے سرشار ،ہمہ وقت مستعد و مصروف عمل دکھائی دیتے تھے – اہل کراچی انہیں ” الخدمت ” کے نام سے جانتے ہیں –
الخدمت فاونڈیشن کی جانب سے’ ایک شام ” ضرورت مندوں کے نام ” گزشتہ ہفتے کراچی کے مقامی ہوٹل کے وسیع و عریض ہال میں سجا ئی گئی مجھے اس میں شرکت کا اعزاز حاصل ہوا اور سچی بات تو یہ ہے کہ مجھ جیسے ‘ مڈل کلاسئیے ‘ کے لئے زندگی میں پہلی مرتبہ کسی چیرٹی ڈنر میں جانے کا اتفاق ہوا تھا –
تقریب میں جانے سے پہلے پروگرام کے بارے میں منتظمین اور الخدمت -کراچی کے ڈائریکٹر مارکیٹنگ نوید علی بیگ صاحب کے ساتھ کچھ مشاورت رہی جس میں مجھے اندازہ ہوا کہ کراچی ہی نہیں پورے پاکستان میں’ الخدمت فاونڈیشن ‘ کس طرح کام کر رہی ہے – مزید یہ کہ “الخدمت فاونڈیشن کے کام کا دائر کار اتنا پھیلا ہوا کہ ان کی خدمات کا چند الفاظ میں احاطہ کرنا نا ممکن نہیں تو مشکل ضرور ہے –
فنڈ ز ریزنگ کے سلسلے میں منعقد ہونے والی یہ تقریب رات آٹھ بجے شروع ہونی تھی جو نماز عشاءکی ادائیگی کی بنا پر رات نو بجے شروع ہوسکی – میری ذمہ داری کیونکہ تقریب میں مدعو بطور خاص بلائے گئے شعرا کرام کو ہوٹل پہنچانے کی تھی لہذا صبح ہی سے خاصا مصروف رہا تھا – صبح نو بجے معروف شاعر و صحافی جناب اجمل سراج صاحب کو ان کے گھر سے لیا، ان کے ہاں چائے پی اور دونوں بھائی تازہ دم ہوکر صبح دس بجے اسلا م آباد سے آنے والے محترم جناب افتخار عارف صاحب کو لینے ایر پورٹ پہنچ چکے تھے – حیرت انگیز طور پر فلائیٹ بروقت پہنچی اور ہم افتخار صاحب کو لیکر ہوٹل کی جانب روانہ ہوئے دوران سفر جب افتخار عارف صاحب سے پروگرام کی نوعیت اور ‘ ضرورت مند افراد ‘ کے چیریٹی ڈنر کی تفصیلات پر گفتگو ہوئی تو انہوں نے ‘ ہوٹل میں ٹہرنے سے منع کرتے ہوئے فوری طور پر کلفٹن چلنے کا حکم دیتے ہوئے فرمایا کہ
” میاں جب چیریٹی ڈنر ہے تو میرے ہوٹل کا خرچہ کیوں منتظمین پر ڈالتے ہو ؟ دو راتوں کی بات ہے میں کسی اور جگہ رہ لوں گا “لہٰذا میں نے حکم کی تعمیل میں افتخار صاحب کو کلفٹن میں ان کے ایک قریبی دوست کی رہائش گاہ پہنچا یا – واقعی بڑے لوگ اپنے عمل اور کردار سے بڑے بنتے ہیں – کم و بیش یہی معاملہ محترم جناب امجد اسلا م امجد کا رہا ، انھوں نے بھی منتظمین کو ہوٹل کی بکنگ سے منع کردیا -رات نو بجے ہم ہال میں پہنچ چکے تھے ، جہاں الخدمت کے رضاکار موجود تھے . اسٹیج سے “الخدمت” کے تحت ہونے والی سرگرمیوں اور آئندہ کے پروجیکٹس پر بات ہورہی تھی – ایک جانب خلیل اللہ فاروقی اسٹیج سے الخدمت کے کاموں پر گزشتہ سال خرچ کی جانے رقم اور دوسری جانب صابر احمد اور کراچی الخدمت کے ڈائریکٹر جناب سلیم اظہر صاحب ‘الخدمت- کراچی ‘ کے تحت چلنے والے پروجیکٹس کی تفصیلات بیان کر رہے تھے ، ہال اہل خیر حضرا ت سے تقریبا بھر چکا تھا ، دوران پروگرام عطیات کا انبار لگ چکا تھا ، الخدمت کے ڈائریکٹر آپریشنز جناب راشد قریشی اور قاضی صدر الدین صاحب مستقل طور پر عطیات کے اعلانات اسٹیج پر موجود خلیل اللہ فاروقی اور سلیم اظہر سحاب تک پہنچا رہے تھے ، کوئی اپنے مرحومین کے نام سے پانی اور کنواں پروجیکٹس کے لئے عطیہ دے رہا تھا ، تو کسی کو الخدمت ڈائگنو سٹک لیب کے پروجیکٹ میں عطیہ دینا مناسب لگ رہا تھا ، کوئی ” آغوش ” یتیم پچوں کے پروجیکٹ کے لئے عطیہ دے کر جنت میں اپنے لئے شاندار گھر بک کروا رہا تھا ، کوئی لمحہ ایسا نہیں گزرتا تھا جب لاکھ ، پانچ لاکھ ، ایک ملین ، دو تین ملین کا اعلان نہ ہوتا ہو -ایسا لگتا تھا کہ مخیر حضرات ‘الخدمت’ کے برس ہا برس سے جاری کام اور خدمات کے پہلے سے ہی معترف تھے اور ان کا الخدمت پر برسوں کا اعتماد تھا – دیکھتے ہی دیکھتے سات کروڑ سے زیادہ رقم اسٹیج پر لگے ہوئے اسکرین پر دکھائی دی جو مزید بڑھتی ہی جا رہی تھی ، اسٹیج پر مسلسل اعلانات جاری تھے ، ایک سے ڈیڑھ گھنٹے میں ہی مطلوبہ رقم سے کہیں زیادہ کے عطیات جمع ہوچکے تھے ، حیرت انگیز منظر تو یہ دیکھا کہ جب اسٹیج پر شعراءکرام کو مدعو کیا گیا اور جب الخدمت پاکستان کے صدر جناب عبدالشکور صاحب نے محترم امجد اسلام امجد صا حب کے حوالے سے سید تقی عابدی کی لکھی ایک کتاب، امجد فہمی ‘ کے لئے شرکاءسے اپیل کی کہ کون ہے جو اس کتاب کو آج چیریٹی ڈنر میں اچھی بولی لگا کر خریدے گا ، اعلان کرنے کی دیر تھی کہ سب سے پہلی بولی پچاس ہزار کی لگی ،( امجد اسلام امجد صاحب کا کہنا تھا کہ میری تو قع بھی پچاس ہزار کی ہی تھی ) فوری طور پر ایک طرف سے ایک لاکھ کی قیمت لگائی گئی ، ابھی اس اعلان کی بازگشت جاری تھی کہ ایک مخیر دوست طاہر سلطان پرفیوم والا نے ایک لا کھ پچاس ہزار کی قیمت لگا کر نیکی کی اس دوڑ میں سبقت حاصل کرنے کی کوشش کی ، مگرالخدمت فاونڈیشن کے جناب صا بر احمد صاحب جنھوں نے پہلے ایک لا کھ کی رقم بولی تھی انھوں نے ایک لا کھ اکیاون ہزار کی بولی لگائی مگر جب دو لا کھ کی رقم کا اعلان ہوا تب جاکر ” امجد فہمی ” کی بولی رکی ، مگر اس سے بھی زیادہ حیرت کا مقام یہ تھا کہ تمام بولی لگانے والے احباب نے اپنی جو رقم بھی بولی کی صورت میں لگائی تھی اسے الخدمت میں عطیہ کرنے کا اعلان کیا –
امجد اسلام امجد صاحب نے بولی لگانے والے حضرات کو اپنی دستخط کے ساتھ یہ کتاب تحفتا دی –
جیسا کہ میں نے ابتدا میں کہا چونکہ الخدمت کے کام و خدمات کا دائر? اتنا پھیلا ہوا ہے کہ اس کو بیان کرنے میں اختصار سے کام نہیں لیا جاسکتا – یوں سمجھ لیں کہ ‘ انسان کی پیدائش سے موت ” تک کے مختلف مراحل میں ا لخدمت کے رضاکار خدمات انجام دیتے دکھائی دیتے ہیں ،
محترم سینئر صحافی نصیر سلیمی صاحب لکھتے ہیں کہ ‘ الخدمت کے پاس ملک بھر میں دنیاوی لالچ کے بغیر کام کرنے والے ہزاروں رضاکاروں کی ٹیم موجود ہے جو ایک ٹیلی فون کال پر رضاکارانہ کام کرنے کے لیے حاضر ہوجاتے ہیں۔ صرف الخدمت کراچی کے پاس پانچ ہزار رضاکاروں کی رجسٹرڈ تعداد موجود ہے۔ جو دکھی انسانیت کی خدمت کو کسی نام و نمود اور دنیاوی لالچ کے بغیر فقط اللہ کی رضا کی خاطر اپناتے ہیں۔’کراچی کبھی بھی خیر کے کاموں میں پیچھے نہیں رہا ہے ، کراچی میں سینکڑوں دستر خوان صبح شام کھلے ہیں جہاں کوئی بھی ضرورت مند بیٹھ کر عزت کے ساتھ اپنا پیٹ بھر سکتا ہے ، اجتماعی شادیوں کی روایت پروا ن چڑھ رہی ہے ، رفائی ہسپتال ، آئی کلینکس جہاں مفت آپریشن تک کی سہولیات موجود ہیں ، الخدمت تعلیم، صحت، سماجی شعبوں میں کام کرتی ہے اور بلاامتیاز مستحق افراد تک پہنچ کر ان کی مدد کرتی ہے۔ تعلیم، صحت سمیت دیگر ضروریات پر الخدمت نے گزشتہ سال چار ارب روپے سے زیادہ رقم خرچ کی ہے۔ ماہانہ بنیاد پر ہزاروں گھرانوں میں راشن پیکج کی تقسیم وہ بھی اسطرح کہ کسی خاندان کی عزت نفس مجروع نہ ہو اور لینے والے کو دینے والے ہاتھ کا بھی معلوم نہ ہو -الخدمت کی جانب سے ان تمام امور کو سات حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے جن میں صاف پانی کی فراہمی پروجیکٹس( فلٹر پلانٹس ، میٹھے پانی کنویں اور ایک روپے فی لیٹر صاف پانی کی بوتل ) -* شعبہ ہیلتھ کئیر (میڈیکل سہولیات ہسپتال ، او پی ڈی ، آنکھوں کا ہسپتال ، جنرل ہسپتال ، زچہ و بچہ ہسپتال ، بلڈ بینک ، ڈائگونسٹک لیبارٹری وغیرہ وغیرہ ) –
*شعبہ تعلیم -( تین ہزار سے زائد بچوں کو تعلیم کی فراہمی – وظائف ، اسکول کی کتابیں ، اسکول بیگ ، ماہانہ تعلیمی وظائف، وغیرہ وغیرہ- ایسے بچے جنہیں والدین کی شفقت اور سرپرستی میسر نہیں۔ ایسے بچوں کی تعلیم، صحت اور دیگر تمام ضروریات پوری کرنا *شعبہ روزگار و مواخات ( تعلیم یافتہ نوجوانوں کو قرض حسنہ، ملازمت کے سلسلے میں مدد ، آسان اقساط پر کاروبار)
*کمیونٹی سروسز ( میت گاڑی ، کراچی میں سب سے بڑا نظام الخدمت کا ہی ہے- میزور افراد کے لئے وہیل چیر ، بستر اور دیگر سازو سامان ، شادیوں کے لئے جہیز کی فراہمی اور دیگر معا ملات میں سہولت فراہم کرنا ، ایمبولینسز – پاکستان میں تین سو سے زیادہ ایمبولینسز -)*
جیل میں قید افراد کو رہائی دلوانا : ان قیدیوں کو جرمانے کی رقم دے کر جیل سے آزاد کروانا جو بے گناہی کی سزا بھگت رہے تھے یا رقم نہ ہونے کی وجہ سے معمولی جرم میں قید برداشت کر رہے ہوں ، جیل میں تعلیم کا مربوط پروگرام ، کمپیوٹر اسکلز کلاسز وغیرہ ، )
*یتیم و بے سہارا بچوں کے لئے آغوش پروگرام : اس پروگرام کو اسٹیٹ آف دی آرٹ پروجیکٹ کھا جائے تو بے جا نہ ہوگا –
پورے ملک میں بچوں کی ایک بہت بڑی تعداد ہے۔ جنہیں والدین کی شفقت میسر نہیں ہے اْن میں کچھ ایسے ہیں جن کی والدہ نہیں ہیں، کچھ ایسے بچے ہیں جنہیں والد کی شفقت میسر نہیں، اور ان بچوں کی خدمت ہی ہمارا اصل ہدف ہے۔ ان کے لیے الخدمت فاؤنڈیشن تعلیم، رہائش، خوراک، صحت کے علاوہ دیگر ضروریاتِ زندگی کے لیے ان کی ضرورت کے مطابق مدد فراہم کرتی ہے۔ اس کے لیے الخدمت نے دو شعبے قائم کیے ہوئے ہیں، ایک شعبہ ہے جس کے تحت فیملی سپورٹ پروگرام کے ذریعے کام کرتے ہیں۔ اس میں بچوں کی تعلیم، صحت، خوراک کی فراہمی شامل ہے، اور انہیں ہم گروم بھی کرتے ہیں، ان کی کوچنگ بھی کی جاتی ہے تاکہ وہ مستقبل میں بہتر اور مفید شہری بن سکیں۔ ان میں خوداعتمادی پیدا کی جاتی ہے، انہیں لیکچر دیے جاتے ہیں، اور باقاعدہ پروفیشنل طریقے سے ان کے لیے کام کیا جاتا ہے۔ آغوش میں” آرفن ہاؤس” ( یتیم بچوں کے لئے آغوش ) بھی ہے، یہاں چوبیس گھنٹے ایسے بچے رکھے جاتے ہیں جن کے والدین اس دنیا میں نہیں رہے۔ ان بچوں کو تعلیم، صحت، خوراک اور ہر قسم کی بنیادی ضروریات مہیا کی جاتی ہیں۔ کم و بیش گیارہ ہزار ایسے بچے ہیں جو الخدمت کے شعبوں میں ہیں اٹک، راولپنڈی، راولاکوٹ اور شیخورپورہ سمیت دس شہروں میں ایسے مراکز ہیں۔کراچی میں گلشن معمار کے بہت بڑا مرکز تقریبا مکمل ہے او ر انشاللہ اس سال کے اختتام تک اپنا کا م شروع کردے گا –
* ڈیزاسٹر منیجمنٹ : ہنگامی آفا ت میں فوری مدد ، زلزلہ ، روڈ حادثات، طوفانی بارشوں میں مفلوج نظام اور سیلاب زدگان کی ہر قسم کی امداد ان کی آباد کاری و بحالی وغیرہ وغیرہ
الغرض آسان ترین الفاظ میں الخدمت جو کا م کر رہی ہے اسے ہم کہہ سکتے ہیں کہ ” جہاں ضرورت – وہاں الخدمت ”
کراچی کے ان مخیر حضرات کو خراج تحسین کہ انھوں نے اس چیریٹی ڈنر میں اپنی بھرپور شرکت اور عطیات سے یہ ثابت کردیا کہ کراچی اب بھی فرشتوں کا شہر ہیاور اللہ کے مخیر بندے بصورت خضر مخلوق کی خدمت کرتے دکھائی دیتے ہیں -کامیاب پروگرام کے انعقاد پر الخدمت کے تمام ذمہ داران کو بھی بھرپور مبارکباد – تقریب کے اختتام پر مہمانان خصوصی جناب افتخار عارف ، امجد اسلام امجد اور پیرزادہ قا سم صاحب نے الخدمت کے کام کے حوالے سے نہ صرف اپنے تاثرات پیش کیے بلکہ شرکا کی فرمائش پر کلام سے بھی نوازا –
تقریب میں شرکت کرکے میرے دل سے یہی الفاظ نکلے کہ آفرین ہے ان پر کہ جن کے لئے کہا گیا

اپنے لئے تو سب ہی جیتے ہیں اس جہاں میں
ہے زندگی کا مقصد اوروں کے کام آنا

حصہ