ادبی تنظیم دراک کا ایک سو تین واں تنقیدی نشست اور مشاعرہ

37

ڈاکٹر نثار احمد نثار
سلمان صدیقی معروف شاعر اور ادیب ہیں وہ تنقید نگاری کے ساتھ ساتھ ایک ٹی وی چینل پر ادبی شخصیات کے انٹرویوز کر رہے ہیں۔ یہ تمام پروگرام بہت جلد کتابی شکل میں شائع ہونے جارہے ہیں ان کے دو شعری مجموعے بازگشت اور سردست بھی ادبی حلقوں میں جگہ بنا رہے ہیں وہ کئی اہم ادبی اداروں سے وابستہ ہیں اور زبان و ادب کی خدمت میں مصروف ہیں۔ اس تمہید کی ضرورت اس لیے محسوس ہوئی کہ وہ اپنی ادبی تنظیم ’’دراک‘‘ کے پلیٹ فارم سے 102 تنقیدی نشستیں اور مشاعرے ترتیب دے چکے ہیں۔ جب کہ 30 مارچ 2019 کو 103 ویں نشست میٹرو پولیس گرلز کالج فیڈرل بی ایریا میں منعقد ہوئی جس کی صدارت سینئر افسانہ نگار نورالہدیٰ سید نے کی۔ مہمان خصوصی شاعر و نقاد شفیق احمد شفیق تھے جب کہ نظامت کے فرائض سلمان صدیقی نے انجام دیے۔ نشست کے پہلے حصے میں شاکر انور کا افسانہ ’’دھند میں لپٹے ارماں‘‘ تخلیق کار کے نام کا اعلان کیے بغیر رحمن نشاط نے پڑھ کر سنایا۔ جس پر گفتگو کا آغاز کرتے ہوئے حامد علی سید نے کہا کہ یہ افسانہ مجھے پڑھا ہوا لگتا ہے‘ کہیں چھپ چکا ہے۔ یہ ایک مختصر افسانہ ہے‘ معاشی محرومیوں پر مبنی ہے۔ فرد کی کم مائیگی کا احساس بیان کیا گیا ہے۔ یہ ایک اچھا افسانہ ہے۔
احمد سعید فیض آبادی نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اس میں افسانویت ہے‘ یہ شروع سے آخر تک افسانویت کے تسلسل کا افسانہ ہے۔ صحافیانہ بیان نہیں ہے جیسا کہ آج کل افسانوں میں دیکھا جارہا ہے۔ نسیم شیخ نے رائے دیتے ہوئے کہاکہ اس افسانے کا بیانیہ محبت کی معراج پر استوار ہے‘ اس افسانے سے محبت کی فتح کا احساس ہوتا ہے بلکہ یہ کہنا چاہیے کہ اس افسانے کا خیال محبت کی معراج پر مبنی ہے۔ مجید رحمانی نے خیال ظاہر کیا کہ یہ مختصر افسانہ ہے‘ بطور عام قاری میرا خیال ہے کہ یہ نہ کرداری افسانہ ہے اور نہ Eventoriented ہے یعنی اس میں کسی واقعہ کو بنیاد نہیں بنایا گیا ہے بلکہ یہ تاثر کا افسانہ ہے۔ ایک جوڑا ہے جو ایک دوسرے سے اپنی محبت کا اظہار کر رہا ہے۔ یہ معاشی محرومی کے ذکر کا افسانہ ہے۔ کافی کا مگ‘ چائے کی پیالی‘ سانولے رنگ کی لڑکی اور ہلکی موسیقی کی گونج جیسے عناصر اپنی معنویت کا حق ادا نہیں کرتے۔
شاہد اقبال شاہد کے خیال میں افسانہ پتھر سے مجسمہ تراشنے کا عمل ہے اور اس افسانے میں بہت سے پتھر ابھی اضافی ہیں جو منہا کیے جا سکتے تھے۔ اس میں فنی لوازمات کی بھی کمی ہے۔ کشور عدیل جعفری نے رائے دی کہ افسانے کے اختتام کو چونکا دینے والا بنانے کی کوشش کی گئی جو کامیاب نہیں ہو سکی۔ آخری مرحلے میں بچوں کے کپڑوں کا اسٹال دیکھ کر لگا کہ جیسے یہ اولاد کی محرومی کے احساس پر ختم ہونے والا افسانہ ہے۔
فوزیہ عالم کا خیال تھا کہ اس افسانے میں تعلیمی نفسیات اور فرد کی Inner Process کا ذکر ہے اور بیرونی ماحول سے محسوسات کا اظہار کیا گیا ہے۔ ڈاکٹر عرفان شاہ کا تجزیہ تھا کہ یہ افسانہ Teen Ager محسوسات کا افسانہ ہے‘ اس میں وہ تاثر نہیں ہے جس کی توقع تھی۔ اگرچہ یہ افسانہ ایک اچھی کوشش ہے مگر اس نشست کے معیار کا افسانہ نہیں ہے۔ تاثر بہت محدود ہے‘ کئی پہلو تشنہ ہیں۔ انجلاہمیش نے کہا لکھنے والے کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنی تحریر پر نظر ثانی کرے۔ یہ عجلت میں پیش کی گئی تحریر ہے اس میں بے ترتیبی بہت ہے‘ یہ درست ہے کہ یہ Teen Ager محسوسات کا افسانہ ہے‘ کہانی لکھنا ایک سنجیدہ کام ہے‘ کیسے لکھی جائے اس کا شعور بہت ضروری ہے۔
رحمن نشاط کا خیال تھا کہ یہ کہہ دینا کافی نہیں ہے کہ افسانہ کمزور ہے‘ خامیوں کا ذکر بھی کرنا چاہیے اور نشاندہی بھی کریں‘ یہ کردار کا افسانہ نہیں ہے‘ یہ تاثرات کا افسانہ ہے اور مرد کردار کی مالی کمزوری کی وجہ سے خدشات کا افسانہ ہے‘ اس میں اختتام پر دونوں نے ایک دوسرے کے محسوسات کا مان رکھا ہے۔
عباس رضوی نے تبصرہ کیا کہ افسانہ نگار کو اپنے افسانے پر محبت آمیز رویے کی توقع نہیں رکھنی چاہیے‘ لکھنے والے کا رویہ بہت عاجلانہ ہے‘ یہ دراصل افسانچہ ہے اس میں کرداروں کے اطراف کی زندگی شامل نہیں کی گئی ہے۔ جس سے افسانے کی فضا نہیں بن سکی اور میں افسانے کی فضا کو محسوس نہیں کر پایا۔ افسانے میں فضا ہونا ضروری ہے۔ اگر یہ افسانہ اچھا نہیں تو بھی خیال رہے کہ اچھے افسانے انہوں نے ہی لکھے ہیں جنہوں نے بُرے افسانے لکھے ہیں۔
مہمان خصوصی شفیق احمد شفیق نے رائے دی کہ تنقید آسان ہے مگر تخلیق کرنا مشکل ہے۔ بلاسبہ اس افسانے کو جلدی شروع اور جلدی میں ختم کیا گیا ہے مگر یہ ایک احساس کا افسانہ ہے۔ افسانے کا جو مقصد تھا وہ قاری تک پہنچ گیا ہے جو پیغام افسانے کے کردار ایک دوسرے کو دینا چاہتے تھے وہ ہم تک پہنچ گیا ہے یہی افسانے کی کامیابی ہے۔صدارتی خطاب میں نورالہدیٰ سید نے بات سمیٹتے ہوئے کہا کہ افسانے پر متنوع رائے سامنے آئی ہے اس میں جو کمی ہے اس کا بھی اظہار ہوا اور خوبیاں بھی بیان ہوئیں۔ فضا افسانے کی Unity of Place کے ضمن میں آتی ہے۔ افسانے کا کینوس بہت مختصر ہے۔ معاشیات محبت کو کمزور نہیں کرسکتی۔ دیکھنا یہ ہے کہ لکھنے والے نے اپنے قلم کو کتنا مضبوط رکھا ہے اور یہ کہ مواد متناسب ہے کہ نہیں۔
نشست کے دوسرے حصے میں ضیا ندیم کی غزل ان کے نام کا اعلان کیے بغیر ناظم تقریب نے پڑھ کر سنائی جس پر گفتگو کا آغاز کرتے ہوئے شاہد اقبال نے کہا کہ اس غزل میں کوئی نئی بات نہیں ہے۔ سارے خیالات روایتی ہیں۔ شاعر غزل کی ردیف نبھا نہیں پائے۔ کوئی چونکا دینے والی بات نہیں ہے‘ لب و لہجہ بھی نیا نہیں ہے۔ کشور عدیل جعفری نے غزل پر رائے دی کہ سادی سی غزل ہے‘ نئی بات نہیںہے مگر ردیف خوبی سے نبھائی گئی ہے‘ موضوعات بھی اچھے ہیں۔نسیم شیخ نے کہا کہ غزل اپنے رنگ پر ہے‘ مراۃ النظیر کا اہتمام ہے‘ غزل میں شاعر کا لہجہ نمایاں ہے‘ غزل کا پورا ایک کینوس ہے میں شاعر کو مبارک باد دیتا ہوں۔ حامد علی سید کے خیال میں غزل کو مسترد نہیں کیا جاسکتا گو کہ نئی بات کوئی نہیں ہے مگر ایک سسک اور درد کی لہر محسوس ہوتی ہے۔ غزل گنجلک نہیں ہے‘ سیدھی سادی باتیں کی گئی ہیں۔ حجاب عباسی نے رائے دی کہ غزل میں فنی خامی کوئی نہیں ہے۔ ایک سادگی ہے‘ کوئی وضاحت طلب بات کسی شعر میں نہیں ہے مگر ہر شعر میں محبت کا بھرپور تاثر ہے۔ کوئی شعر بے معنی نہیں ہے۔ شامی شمسی نے کہا کہ مطلع میں اگر مصرع ثانی کو اولیٰ کر دیا جائے تو زیادہ اچھا ہو جائے گا۔ یہ غزل ایک مسلسل غزل کا رنگ لیے ہوئے ہیں۔ چوتھے شعر کے دوسرے مصرع میں چشم نگراں کا وزن دوبارہ دیکھ لیں۔
احمدسعید فیض آبادی کا کہنا تھا کہ یہ یک رخی غزل ہے‘ سمجھنے میں کوئی مشکل نہیں ہے۔ یہ غزل بتا رہی ہے کہ اسے کسی سینئر شاعر نے لکھا ہے جو شاعری کے رموز سے واقف ہے۔ آخری شعر بہت عمدہ ہے۔ عباس رضوی نے مختصر رائے میں کہا کہ مطلع‘ ردیف‘ قافیہ اور بحر ہے لہٰذا یہ ایک مکمل غزل ہے۔
مہمان خصوصی شفیق احمد شفیق نے غزل کو سادہ قرار دیا۔ اس میں جو باتیں کہی گئی ہیں وہ بھی نئی نہیں ہیں‘ سادہ ہیں اور سادگی حسن ہے‘ سب کی یہی رائے ہے تو پھر ٹھیک ہے‘ مگر بعض جگہ ردیف نبھی نہیں ہے۔ صدر محفل نورالہدیٰ سید نے کہا کہ غزل ایک ایسی صنف ہے جس میں موضوعات کو دو مصرعوں میں طاقت سے بیان کیا جاتا ہے۔ غزل کو اسی پیمانے پر دیکھتے اور پرکھتے ہیں۔ اس غزل میں بہائو سست ہے‘ تلاطم کی کمی ہے۔
بعدازاں موجود شعرا نے کلام پیش کیا جن میں مہمان خصوصی کے علاوہ عباس رضوی‘ احمد سعید فیض آبادی‘ حجاب عباسی‘ ضیا ندیم‘ حامد علی سید‘ شاہد اقبال شاہد‘ صاحبزادہ عتیق الرحمن‘ رازق عزیز‘ کشور عدیل جعفری‘ نسیم شیخ‘ محمد یعقوب‘ شامی شمسی اور خالد احمد سید شامل ہیں۔ میٹرو پولیس ایجوکیشن سسٹم کے چیئرمین مشتاق احمد بھٹی کے اظہار تشکر اور ہائی ٹی پر یہ نشست اختتام پذیر ہوئی۔

ادبی تنظیم نیاز مندان کراچی کے زیراہتمام عالمی مشاعرہ

۔22 ماچ 2019ء کو نیاز مندان کراچی کے زیراہتمام میٹرو ون ادبی فورم کے تعاون سے مرکزِ ساداتِ امروہہ بلڈنگ میں ایک عالمی مشاعرہ منعقد ہوا جس کی مجلس صدارت میں محسن اعظم ملیح آبادی‘ پروفیسر منظر ایوبی‘ رحمن خاور شامل تھے۔ سلطان مسعود شیخ اور رفیع الدین راز مہمانان خصوصی تھے۔ مہمان توقیری کی فہرست میں سید منیف اشعر ملیح آبادی‘ راشد حسین راشد‘ نور شمع نور‘ ڈاکٹر عقیل دانش‘ پروفیسر راشدہ ماہین ملک‘ پروفیسر رضیہ سبحان‘ اکرم سلیم اکرم اور یاسین برلاس کے اسماء گرامی شامل تھے۔ ڈاکٹر نزہت عباسی اور آئرین فرحت نے مشاعرے کی نظامت کی۔ نیاز مندان کراچی کے روح رواں اور میزبانِ مشاعرہ رونق حیات نے خطبۂ استقبالیہ پیش کیا جس میں انہوں نے اپنی تنظیم کے اغراض و مقاصد پر تفصیلی روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ان کی تنظیم کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ وہ زبان و ادب کی ترویج و ترقی کے علاوہ نظر انداز قلم کاروں کے مسائل حل کریں اس سلسلے میں ہم نے ایک عالمی کانفرنس بھی منعقد کی تھی جس میں ہم نے قلم کاروں کے مسائل کے لیے حکومتی اداروں کو لکھے گئے خطوط کی تفصیل سے آگاہ کیا تھا نیز ہماری تنظیم نے اکادمی ادبیات پاکستان کے اہم عہدیداروں سے اسلام آباد میں میٹنگ کی اور قلم کاروں کے لیے گروپ انشورنس ‘ میڈیکل کی سہولت اور ملازمتوں کی فراہمی پر بات کی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ کراچی علم دوست شہر ہے‘ یہاں ایک دن میں کئی کئی ادبی تقریبات ہوتی رہتی ہیں آج اس شہر میں دو عالمی مشاعرے ہو رہے ہیں یہ بڑی خوش آئند بات ہے کہ ہم شعر و سخن سے جڑے ہوئے ہیں۔ مشاعرے میں جن شعرا نے کلام نذر سامعین کیا ان میں پروفیسر منظر ایوبی‘ محسن اعظم ملیح آبادی‘ پروفیسر رحمن خاور‘ شوکت رضوی‘ رفیع الدین راز‘ رونق حیات‘ سلطان مسعود شیخ‘ عقیل دانش‘ ڈاکٹر نزہت عباسی‘ آئرین فرحت‘ فراست رضوی‘ سید غضنفر علی‘ راشدہ ماہین‘ رضیہ سبحان‘ ندیم نقوی‘ چاند علی چاند‘ ناز عارف‘ آصف علی آصف‘ عینہ میر‘ حنا علی‘ پرویز نقیب‘ ہما اعظمی‘ عبدالرحیم ہمراز‘ تاج علی رانا‘ علی کوثر‘ عاشق شوکی‘ عباس شہیر‘ ارم زہرہ‘ نسیم نازش‘ نسیم شیخ‘ فیروز برہان پوری‘ یاسر سعید‘ نجیب ایوبی‘ لبنیٰ عکس‘ طاہرہ سلیم سوز‘ آمنہ عالم‘ قیصر وجدی‘ شاہدہ عروج‘ تنویر سخن‘ سعد الدین سعد‘ سید صغیر جعفری‘ صبیحہ صبا‘ راشد نور‘ گل افشں‘ نعیم انصاری‘ سحر تاب رومانی‘ اسد قریشی‘ عارف شیخ عارف‘ افضل ہزاروی‘ وقار زیدی‘ احمد سعید خان‘ ظفر محمد خاں ظفر‘ عظیم حیدر سید‘ طاہر سلطانی‘ آسی سلطانی‘ امت الحئی وفا‘ صفدر علی انشا‘ چمن زیدی‘ کشور عدیل جعفری‘ ذوالفقار حیدر پرواز‘ حنیف راجپوت‘ رشید صارب‘ عزیز مرزاز‘ صاحبزادہ عتیق الرحمن‘ راشد حسین راشد‘ نور شمع نور‘ عبدالمجید محور‘ سید منیف اشعر‘ نظر فاطمی‘ ریحانہ احسان‘ ضیا رضوی‘ سید فیاض علی فیاض‘ یامین وارثی اور دیگر شامل تھے۔

O……بزمِ شعر و سخن کا مشاعرہ……O

بزم شعر و سخن وہ ادبی تنظیم ہے کہ جس کے کریڈیٹ پر کئی شان دار تقاریب موجود ہیں اس تنظیم کے تحت 23 مارچ 2019ء کو کشمیر روڈ کراچی میں ایک عظیم الشان مشاعرہ منعقد ہوا جس کی گونج تمام ادبی حلقوں میں سنائی دے رہی ہے۔ اس مشاعرے کے حوالے سے گزشتہ اتوار کو طارق جمیل نے اپنی رہائش گاہ پر خالد میر‘ عبید ہاشمی اور اراکین و انتظامیہ کمیٹی (تیسرا یوم پاکستان مشاعرہ) کے اعزاز میں ایک پروگرام ترتیب دیا جس میں مشاعرے کا اہتمام بھی شامل تھا۔ اس پروگرام میں پروفیسر منظر ایوبی صدر تھے‘ رفیع الدین راز مہمان خصوصی جب کہ سعید الظفر صدیقی اور سلمان صدیقی مہمانان اعزازی تھے۔ طاہر سلطان پرفیوم والا نے نظامت کے فرائض انجام دیے۔ طارق جمیل نے خطبۂ استقبالیہ میں کہا کہ بزمِ شعر و سخن محض تفریح طبع کے لیے نہیں بنائی گئی ہے بلکہ اس تنظیم کا مقصد یہ ہے کہ ہم اپنی تہذیبی روایات سے جڑے رہیں‘ ہمیں اردو زبان کو بچانا ہے اس کی حفاظت ہماری ذمے داری ہے اس زبان کا دائرۂ کار بہت وسیع ہے لیکن اب رومن انگریزی میں اردو لکھی جارہی ہے جس کے باعث ہماری نوجوان نسل اردو سے دور ہوتی جارہی ہے ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اپنے گھروں میں اردو بولیں اگرچہ انگریزی زبان سیکھنا ہماری مجبور بن گئی ہے کہ تمام دفتری خط و کتابت انگریزی میں ہو رہی ہے مزید یہ کہ الیکٹرانک میڈیا کی وجہ سے کتب بینی کا شوق آہستہ آہستہ ختم ہوتا جارہا ہے آج کا شاعر جب اپنا مجموعہ کلام شائع کراتا ہے تو وہ اپنی کتاب تحفتاً تقسیم کرتا ہے لوگ قیمتاً کتابیں نہیں خریدتے یہ ایک المیہ ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم کتاب کلچر کو فروغ دیں۔ ہم اربابِ سخن کا احترام کریں کہ یہ طبقہ معاشرتی عروج و زوال میں اہم کردار کا حامل ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ آج کی تقریب ہم نے عبید ہاشمی اور خالد میر کے ساتھ ساتھ بزم شعر و سخن کے دیگر عہدیداران و اراکین کے لیے سجائی ہے کہ ان افراد کی کوششوں کے سبب ہمارا تیسرا یوم پاکستان مشاعرہ کامیابی سے ہمکنار ہوا۔ ہماری کوشش ہے کہ ہم زبان و ادب کے فروغ میں بھرپور حصہ لیں ہم جن اہم شعرا کو تیسرے یوم پاکستان مشاعرے میں شامل نہیں کر پائے تھے آج ہم نے انہیں دعوت دی ہے کہ وہ اپنا کلام سنائیں ہم ان شعرائے کرام کے بہت ممنون و شکر گزار ہیں کہ جنہوں نے اپنی مصروفیات میں سے وقت نکال کر ہماری انجمن سجائی۔ اس موقع پر تمام مسندِ نشیانِ ذی وقار کی خدمت میں بزم شعر و سخن کی جانب سے شیلڈ پیش کی گئی۔ صدر مشاعرہ نے کہا کہ بزم شعر و سخن کے تمام لوگ قابل مبارک باد ہیں کہ زبان و ادب کی ترقی میں مصروف ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ کچھ لوگ اردو کے رسم الخط کو تبدیل کرنا چاہتے ہیں ان کی یہ تجویز ناقابل عمل ہے کہ اردو اب عالمی زبان بن چکی ہے اور دنیا بھر میں اس کے چاہنے والے موجود ہیں۔ اس کی ترویج و اشاعت کا عمل جاری ہے۔ مشاعرے میں صاحبِ صدر‘ مہمان خصوصی اور مہمانانِ اعزازی کے علاوہ اختر سعیدی‘ ڈاکٹر اقبال پیرزادہ‘ راقم الحروف‘ ڈاکٹر حبیب مصطفی‘ شمس الغنی‘ نجیب ایوبی‘ ڈاکٹر اورنگ زیب‘ خالد میر‘ نورالدین نور‘ سہیل شہزاد‘ احسن طارق اور ارحم ملک نے اپنا کلام نذر سامعین کیا۔

حصہ