سوشل میڈیا پر جعلی خبروں کا طوفان

92

اس وقت پاکستان بھارت میں بالخصوص اور بالعموم دنیا بھر میں جھوٹی خبروں کے پھیلاؤ کو روکنے کے حوالے سے سوچ بچار کا عمل جاری ہے ۔یہ کوئی معمولی بات نہیں رہی ، معلومات کے تیز ترین بہاؤ ،لوگوں کے رجوع اور اس کے نتیجے میں رائے عامہ کی تبدیلی بہت اہمیت کی حامل ہے ۔برطانوی نشریاتی ادارے کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں ڈیجیٹل رائٹس پر کام کرنے والی تنظیم ‘بولو بھی’ کے ڈائریکٹر اسامہ خلجی کا کہنا ہے ’جعلی خبریں انڈیا میں ایک بہت سنگین مسئلہ ہے۔ ہم نے دیکھا ہے کہ مذہب کے نام پر بیف کھانے یا بیچنے والوں کو قتل کیا گیا ہے اور اس کی تشہیر بھی واٹس ایپ کے ذریعے ہی کی جاتی رہی ہے۔‘ان کا کہنا تھا کہ ’سیاسی جماعتیں خصوصاً واٹس ایپ کا بہت استعمال کرتی ہیں اور ان جماعتوں کے حامی لوگ، پیغامات بغیر تصدیق کیے آگے فارورڈ کردیتے ہیں، اس لیے سوشل میڈیا کی کمپنیوں پر بھی بہت دباؤ ہے کہ وہ اس متعلق اقدامات اٹھائیں۔‘
میڈیا کوئی بھی ہوصدیوں سے پروپیگنڈا کا ایک اہم ٹول رہا ہے، فی زمانہ انٹرنیٹ اتنا تیز ترین ذریعہ بن کر سامنے آیا ہے جس کو لگام دینے کا طریقہ وضع نہیں ہو سکا( ماسوائے پابندی کے)۔ عالمی نشریاتی ادارے، میڈیا کے تدریسی تحقیقی ادارے اس موضوع پر تحقیق کے عمل کو 2012سے جاری رکھے ہوئے ہیں۔ اکتوبر2018میں نیو یارک یونیورسٹی کی محقق ہنٹ ایلکوٹ ، اسٹینفرڈ یونیورسٹی سے میتھیو گینٹزکواور چوان یو کی مشترکہ کاوش سے شائع ہونے والے اس تحقیقی مقالے کے مطابق انہوں نے :
We measure trends in the diffusion of content from 570 fake news websites and 10,240 fake news stories on Facebook and Twitter between January 2015 and July 2018. User interactions with false content rose steadily on both Facebook and Twitter through the end of 2016. Since then, however, interactions with false content have fallen sharply on Facebook while continuing to rise on Twitter, with the ratio of Facebook engagements to Twitter shares decreasing by 60 percent .
برطانوی نشریاتی ادارے نے جعلی خبروں کے بارے میں ہونے والی دنیا کی سب سے بڑی تحقیق کو رپورٹ کرتے ہوئے بتایا کہ ’سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ جعلی خبریں بہت تیزی سے اور بہت دور تک پھیلتی ہیں۔ اس حد تک کہ صحیح خبریں بھی ان کے سامنے ختم ہو جاتی ہیں۔گذشتہ دس برسوں میں انگریزی زبان میں 30 لاکھ افراد کی سوا لاکھ سے زیادہ ٹویٹس پر تحقیق کے بعد محققین کا دعویٰ ہے کہ جعلی خبریں زیادہ تیزی سے پھیلتی ہیں۔‘اس ریسرچ کی نگرانی کرنے والے میساچوسیٹس یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی کے سوروش ووشوگی نے بتایا کہ ’ہماری ریسرچ میں یہ واضح ہے کہ یہ انسانی مزاج کی کمزوری ہے کہ وہ ایسا مواد پھیلائے۔مطلب یہ ہے کہ افواہیں پھیلانا یا ان پر یقین کر لینا انسانی مزاج کا حصہ ہے اور سوشل میڈیا سے انھیں ایک ذریعہ مل گیا ۔‘یہ تو صرف امریکہ کا معاملہ ہے اور مذکورہ تحقیقات صرف فیس بک اور ٹوئٹر کے دائرہ کار پر مشتمل رہی ہیں ۔
اپنے خطے میں جھانکیں تو پتہ چلتا ہے کہ ’دنیا بھر میں جعلی معلومات سے انتخابات پر اثر انداز ہونے کی کوشش کی جاتی ہے مگر انڈیا میں اس کی شدت کچھ زیادہ ہے۔ انڈیا کے سوشل میڈیا پر بھی اس ڈرامائی انداز کا عنصر دیکھا جاسکتا ہے اور اس سے لوگوں میں، طبقات میں اور درجات میں جو نفرت پائی جاتی ہے، اس کی مزید تشہیر ہوتی ہے ۔بدقسمتی سے انڈیا کی انتہا پسند جماعتیں واٹس ایپ کا استعمال کر کے قوم پرست لوگوں میں پاکستان کے خلاف نفرت پھیلاتی ہیں۔ جس کا بنیادی مقصد انتخابات میں نفرت کی بنیاد پر ووٹ حاصل کرنا ہوتا ہے۔ صحافی عمارسعود کا کہنا تھا کہ ’پاکستانی اور انڈین جذباتی قوم ہیں۔ اس لیے ٹوئٹر پر بھی یہ دیکھا جاتا ہے کہ اگر کوئی یہ خبر شائع کرے کہ ہم نے دشمن ملک کے 50 فوجی مار دیے، تو لوگ بغیر سوچے سمجھے اور اس کی تصدیق کیے اس خبر کو ہزاروں کی تعداد میں ری ٹویٹ کر دیتے ہیں۔مسئلہ ٹوئٹر، واٹس ایپ یا فیس بک کا نہیں مسئلہ سوچ کا ہے اور سب سے پہلے سوچ کو تبدیل کرنا ضروری ہے۔‘ (عمار ،انٹرویو بی بی سی)
یہ جو راتوں رات لاکھوں ویوز ہو جاتے ہیں اس کے انسانی دماغ پر کہیں نہ کہیں بے شمار اثرات مرتب ہوتے ہیں، یہاں تک کہ لوگ ایک دوسرے کو قتل کر دیتے ہیں ، پاکستان، بھارت اور دنیا بھرمیں ایسے بے شمار واقعات کی مثالیں موجود ہیں۔فیس بک نے پاکستان اور انڈیا سے چلائے جانے والے ایسے درجنوں صفحات، گروپس اور پروفائلز کو بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ فیس بک نے اپنے بیان میں کہا کہ ہم نے ان پیجز، گروپس اور اکاؤنٹس کو اس وجہ سے بلاک کیا کیونکہ یہ مربوط اور غیر مصدقہ طرز عمل میں ملوث پائے گئے۔
سوشل میڈیا پر پوسٹ کی گئی کوئی بھی بات بغیر تصدیق کے ایک سے دوسرے اکاؤنٹ میں منتقل ہوتی اور پھلتی پھولتی رہتی ہے جس پر لوگ یقین بھی کرنے لگتے ہیں۔ سیاسی مخالفین ہوں تو بحث بھی کرتے ہیں۔۴ اپریل کو سارا دن پاکستان کے ٹوئٹر ٹاپ ٹرینڈز پر قائد عوام، بھٹو، 4اپریل،SZB، چھائے رہے کیونکہ ذوالفقار علی بھٹو کی برسی تھی۔اس دن کتنا شور مچایا گیا ہوگا آپ اندازہ کرلیں۔ سندھ حکومت نے صوبہ بھر میں عام تعطیل کا اعلان بھی کیا تھا ۔اتفاق یہ تھا کہ شب معراج کی چھٹی بھی اگر دی جاتی تو 4اپریل ہی تھی ، لیکن حکومت نے سیاسی صورتحال کو کیش کرایا ۔بہر حال بھٹو صاحب کو مظلوم بنا کر پیش کیا گیا، کسی نے وجہ پوچھنا گوارا نہیں کیا کہ قتل کیوں کیا گیا؟جو پوچھتا اس پر لعن طعن شروع ہو جاتی تھی۔معلومات کو اس طرح بھی امپوز کرایا جاتا ہے۔اسی طرح اس سے ایک دن قبل ہی پیٹرول بم کے ایشو پر اپوزیشن نے خوب شور مچایا اور عوام الناس پر امپوز کروا ڈالا کہ حکومت ظلم کر رہی ہے پٹرول قیمتیں بڑھا کر ۔حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ پٹرول قیمتیں سب ہی حکومتیں اپنے پانچ سالہ دور میں بڑھاتی ،گھٹاتی رہتی ہیں اور اس پر احتجاج کا ہونا عمومی سی بات ہے ۔اس سارے کام میں ہوتا یہ ہے کہ اصل ایشوز پیچھے یا دب کر رہ جاتے ہیں ۔سوشل میڈیا پر جعلی اکاؤنٹس ایک عمومی بات بن چکی ہے ۔سیاسی جماعتیں، ڈجیٹل میڈیا مارکیٹنگ کے ادارے اس کے ذریعہ اپنا کام چمکاتے ہیں ۔ ٹوئٹر اور فیس بک نے اکاؤنٹ ویری فیکیشن یا تصدیق کا عمل شروع اسی تناظر میں شروع کیا، جس کے بعد آپ دیکھتے ہوں گے کہ مختلف اکاؤنٹس اور پیجز کے نام کے ساتھ نیلے رنگ کا چھوٹا سا ’رائٹ ٹک‘کا نشان بھی متعارف کرایا ۔ یہ عمل خاصی تصدیق کے بعد مکمل ہوتا ہے اور اس سے کم از کم یہ بات تو ثابت ہو جاتی ہے کہ وہ فلاں شخص کا ہی اکاؤنٹ ہے ۔یہی وجہ ہے کہ کئی بار ایسے اکاؤنٹس جنہیں ’ویری فائڈ ‘ کہتے ہیں اُن سے اپنے کسی عمل یا غلط بات پر معذرت بھی کی گئی ہے ۔فیس بک نے یہ سہولت فی الحال روکی ہوئی ہے البتہ ٹوئٹر پر یہ سہولت موجود ہے۔ مگر اس وقت دنیامیں سوشل میڈیا استعمال کرنے والے کروڑوں لوگ اس سہولت کے معنی ، مفہوم طریقہ کار کو صحیح سے جانتے ہی نہیں۔ چنانچہ ایسے واقعات بہت ہوتے ہیں کہ ایک صاحب نے پاناما پیپرز پر کام کرنے والی جرمن صحافی ونیزہ وورمر کے اکاؤنٹ کو کلون کر کے انہی کی ٹویٹ کو آگے بڑھایا اور لوگوں نے بغیر دیکھے اور تصدیق کیے اسے ری ٹویٹ کیا۔اور یہی اکاؤنٹ اس سے قبل ایک اور جرمن صحافی جو پاناما پیپرز پر کام کر چکے ہیں ان کی نقل کر کے اکاؤنٹ بنا چکے ہیں اور لوگوں کو بے وقوف بنا چکے ہیں۔دوسری جانب ایک روسی اخبار کے صحافی کو اچانک سے پاکستان سے ویسی ہی محبت اور عشق ہو گیا ہے جیسا رانی مکرجی کو کچھ عرصہ قبل اسلام سے ہوا تھا۔دلچسپ بات یہ ہے کہ روسی صحافی کی پہلے ایک تصویر لگائی گئی جب ایک اور ٹوئٹر صارف نے اس کی نشاندہی کر کے بھانڈا پھوڑ دیا تو تصویر بدل دی گئی اور نجانے اب کن صاحب کی تصویر استعمال کی گئی ہے اور اسے ٹوئٹر نے تصدیق شدہ اکاؤنٹ قرار دیا ہے۔( بی بی سی رپورٹ)۔ انفو گرافک فیس بک پوسٹوں کی تو بہار ہے ۔آپ ذرا فوٹو شاپ پر کام جانتے ہوں تو دنیا کی کوئی بڑی سے بڑی سچی یاجھوٹی خبر بریک کر سکتے ہیں۔یہ بات ٹھیک ہے کہ فیس بک ، ٹوئٹر صارفین کی شکایات پر بھی عمل کرتے ہیں ، لیکن ان سب کے باوجود فیک نیوز کا بہاؤ تواتر سے جاری ہے۔
اس میں ایک اور پہلو بھی ہوتا ہے جو کہ بہت ساری پوسٹوں سے ظاہر ہوتا ہے ، وہ پہلو ہے ’مزاح ‘ـکا ۔ ٹک ٹاک ایپ لیکیشن کی مقبولیت بتاتی ہے کہ شایدیہ اسی ذوق کی تسکین کیلیے بنائی گئی ۔اب آپ نے ایسی کئی پوسٹیں دیکھی ہوںگی کہ ٹی وی کی بریکنگ نیوز کا امیج بناکر سوشل میڈیا پر یہ جھوٹی خبر پیش کی گئی کہ ’عمران خان نے بنی گالہ کی 150 کنال زمین ڈیم فنڈ میں دینے کااعلان کیا ہے ‘جبکہ یہ ایک مکمل جھوٹی خبر تھی ، جسے اس انداز سے پیش کیا گیا کہ لوگ ایک نظر میں دیکھیں اور تحریک انصاف کے تمام سپورٹرز آنکھ بند کرکے اپنے محبوب قائد کی شان بیان کرتے ہوئے شیئرنگ پر لگا دیں ۔ اس طرح اسی ایشو پر آپ کو یاد ہوگا کہ فیس بک کے بانی مارک زکر برگ کا جعلی اکاؤنٹ بنایا گیا جس میں لکھا گیا کہ ’انہوں نے ڈیمز فنڈ میں پچاس لاکھ ڈالرز دیئے ہیں‘۔اسی طرح یہ دو خبریں بھی آپ کو یاد ہونگی کہ بیرسٹر ملیکہ بخاری کو بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کی چیئر پرسن جبکہ بشریٰ بی بی کی صاحبزادی اور عمران خان کی سوتیلی بیٹی مہرو کو ساڑھے 7 لاکھ روپے کی تنخواہ کے عوض وزیر اعظم کا مشیر مقرر کیا گیا ہے۔گو کہ فواد چوہدری سمیت اہم حکومتی عہدیدار ان خبروں کی تردید کرچکے ہیں لیکن اس کے باوجود ان خبروں سے اٹھنے والے طوفان میں کوئی کمی نہیں آئی۔
انٹرنیشنل فیڈریشن آف لائبریری ایسوسی ایشنز اینڈ انسٹیٹیوشنز نے دماغی سائنس کے ماہرین کی مدد سے خبر پرکھنے کے کچھ بنیادی اصول وضع کیے ہیں جن کے مطابق:
1:خبر کے ذرائع کو سمجھیں ۔2: خبر لکھنے والا یا سنانے والے کا قابل اعتماد ہونا ۔3:خبر کے متعلق تاریخ، وقت، دلائل اور ثبوتوں کو کون سے ذرائع مستند قرار دے رہے ہیں ۔
لیکن حقیقت یہ ہے کہ اتنا وقت کسی کے پاس نہیں ہوتا۔ مجھے سورۃ الکہف ایسے وقت میں شدت سے یاد آتی ہے ۔ آپ اس سورۃ کے بارے میں جانتے ہونگے کہ اِس سورۃ مبارکہ کو نبی کریم ﷺ نے دجال کے فتنے سے محفوظ رہنے کا ایک اہم ذریعہ قرار دیا ہے ۔ ہر جمعہ کو اس کی تلاوت ، کم ازکم پہلے و آخری رکوع کی تلاوت کیسے آپ کو دجال سے بچائے گی ؟ یہ تحقیق کرنے کے لیے آپ کو قرآن مجید کی 18ویں سورۃ کی 110آیات میں ڈوبنا ہوگاورنہ سیدھے سیدھے مخبر صادق ﷺ کی صحیح حدیث پر عمل کرلیں۔خیر بات کہیں اور نکل جائے گی ، بات ہو رہی تھی فی زمانہ سوشل میڈیا پر تیز ترین خبروں کے طوفان میں جھوٹ ،سچ کا فرق کیے بغیر اندھا دھندخود کو بہانے کااور اسکے اثرات کا ۔سورۃ کہف میں حضرت موسیٰ علیہ السلام اور خضر علیہ السلام کا واقعہ غیر معمولی نوعیت کا ہے ۔اس کے کئی پہلو ہیں لیکن یہ پہلو نہایت اہمیت کا حامل ہے کہ آپ کی آنکھوں کے سامنے ہونے والا واقعہ جو کچھ دکھاتا، بتاتا سمجھاتا ہے حقیقت اس سے یکسر مختلف بھی ہو سکتی ہے۔ تفصیلی گفتگو جاری رہے گی۔

حصہ