سنبھل کر منہ سے بات نکالیں

64

افروز عنایت
اپنے آس پاس پھیلی برائیوں پر نظر ڈالتی ہوں تو چند ایسی برائیاں نظروں کے سامنے آجاتی ہیں جو معاشرے میں تیزی سے سرایت کررہی ہیں، خصوصاً خواتین میں یہ برائیاں زیادہ نظر آرہی ہیں۔ میں یہاں اُن تین برائیوں کا خصوصی طور پر ذکر کروں گی جن کو کرنے کے باوجود عورتوں کو کراہیت محسوس نہیں ہورہی ہے، جبکہ یہ تینوں برائیاں سنگین ہیں۔ سنگین اس لیے کہ ان کی زد میں اللہ کے بندے آجاتے ہیں یعنی ’’جھوٹ‘‘ بول کر دوسروں کے دل میں کسی کے لیے ’’بدگمانی‘‘ پیدا کرنا، پھر یہ جھوٹ بھی کسی زوج کو ایک دوسرے سے دور کرنے یا ’’دونوں کے درمیان بدگمانی‘‘ پیدا کرنے کی کوشش میں بولا جائے۔ یہ تینوں برے فعل جن سے دینِ اسلام نے بچنے کی تاکید کی ہے، احادیث اور قرآنی احکامات کے مطابق یہ تینوں فعل بندے کو رب کی رضا سے محروم کرتے ہیں۔
٭٭٭
’’جو شخص کسی مسلمان پر تہمت کرے، عیب لگائے تو اللہ تعالیٰ اس کو جہنم کے پل پر روک رکھے گا جب تک اس کی سزا پوری نہ ہوگی۔‘‘ (ابو دائود)
اس حدیث سے واضح ہے کہ چاہے ایک شخص نمازی، حاجی اور روزہ دار ہو مگر کسی پر جھوٹا الزام لگاکر اس کو رسوا کرتا ہو یا تہمت اور عیب لگا کر رسوا کرتا ہو، اللہ تعالیٰ اسے دوزخ کے پل پر قید کرکے سزا دے گا۔
ایک اور جگہ ارشادِ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس طرح ہے کہ ’’منافق کی تین نشانیاں ہیں اگرچہ وہ آدمی نماز پڑھے اور روزہ رکھے اور دعویٰ کرے کہ وہ مسلمان ہے: جب بات کرے تو جھوٹ بکے، اور جب وعدہ کرے تو اس کو ایفا نہ کرے،اور اس کے پاس کوئی امانت رکھی جائے تو اس میں خیانت کرے۔‘‘
اسی طرح بخاری شریف کی ایک اور حدیث ِمبارکہ ہے جو حضرت عبداللہ بن عمروؓ روایت کرتے ہیں، کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’چار باتیں ہیں کہ وہ جس میں ہوں وہ منافق ہے، اور جس میں ان میں سے ایک ہو اس میں منافقت کی ایک نشانی ہے:
1۔ جب اسے امانت دی جائے تو خیانت کرے۔
2۔ جب بات کرے تو جھوٹ بولے۔
3۔ جب وعدہ کرے تو توڑ دے۔
4۔ جب جھگڑے تو فحش کلامی اور بدگوئی کرے۔‘‘
جھوٹ کے بارے میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
1۔ سنو اللہ کی پھٹکار (لعنت) ہو جھوٹوں پر۔
2۔ غارت ہوجائیں بے سند باتیں کرنے والے (یعنی جھوٹے)۔
3۔ اللہ ایسے شخص کو راہِ راست پر نہیں چلاتا جو حد سے گزرنے والا، بہت جھوٹ بولنے والا ہو۔
جس طرح جھوٹ بولنے کی وجہ سے بندہ اللہ کی رضا سے محروم رہ جاتا ہے، اسی طرح کسی پر بہتان لگانا بھی برا فعل ہے جس کی وجہ سے بندہ رب کی رضا سے محروم ہوجاتا ہے۔
حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’تم جانتے ہو کہ غیبت کیا چیز ہے؟‘‘ صحابہؓ نے عرض کیا ’’اللہ اور (اللہ کے بتانے سے) اس کا رسول خوب جانتے ہیں‘‘۔ آپؐ نے فرمایا ’’(سنو) غیبت یہ ہے کہ اپنے مسلمان بھائی کا اس طرح ذکر کرنا کہ اگر وہ سن پائے تو اسے ناگوار لگے‘‘۔ کہا گیا کہ اگر وہ بات (عیب اور بدی) اس میں (فی الواقع) ہو تو؟ آپؐ نے فرمایا ’’اگر وہ بات جو تُو کہتا ہے اُس میں ہو تو تُو نے اس کی غیبت کی، اور اگر وہ بات اس میں نہیں ہے جو تُو کہتا ہے تو تُو نے اس پر بہتان باندھا‘‘ (مسلم شریف)۔ اس حدیث میں دونوں برائیوں یعنی غیبت اور بہتان کی مذمت فرمائی گئی۔
سورۃ الحجرات میں اللہ تبارک وتعالیٰ نے اُن تمام برائیوں کا ذکر کیا ہے جن کا اثر نہ صرف دنیاوی زندگی میں نظر آتا ہے بلکہ آخرت میں بھی۔ دینِ اسلام ضابطۂ حیات ہے۔ معاشرے کو مستحکم کرنے اور خوشگوار ماحول کو برقرار رکھنے کے لیے، اور رشتوں ناتوں کے بندھن کو مضبوط کرنے کے لیے ان برائیوں سے بچنے کی تاکید کی گئی ہے۔ سورۃ الحجرات میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے: ’’اے ایمان والو! بچتے رہو بہت تہمتیں کرنے سے۔ بعض تہمتیں گناہ ہیں، اور بھید نہ ٹٹولو کسی کا، اور برا نہ کہو پیٹھ پیچھے ایک دوسرے کو، بھلا خوش لگتا ہے تم میں سے کسی کو کہ کھائے گوشت اپنے مُردہ بھائی کا، سو گھن آتی ہے تم کو اس سے۔ اور ڈرتے رہو اللہ سے۔ بے شک اللہ معاف کرنے والا ہے۔ سورۃ الحجرات کی اس آیت 12 میں بہت تہمتیں لگانے کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ انسان اپنے مقصد کے لیے دوسرے پر الزام یا تہمتیں لگاتا ہے، یہ سراسر گناہ ہے۔ قرآن پاک (جو اللہ کا کلام ہے) نے اس گھٹیا فعل سے بندوں کو روکا ہے، کیونکہ اس خرابی سے بدگمانی اور اختلافات جنم لیتے ہیں، رشتوں اور ناتوں میں پڑنے والی دراڑیں ایک دوسرے سے دور لے جاتی ہیں۔ اسی طرح غیبت کو بھی برا فعل کہا گیا ہے۔ یہ ایسا گھنائونا اور گندا کام ہے جیسے کوئی مرے ہوئے بھائی کا گوشت نوچ نوچ کر کھائے۔ ایک انسان کبھی پسند نہیں کرے گا کہ وہ مُردہ کا، اور وہ بھی اپنے مُردہ بھائی کا گوشت کھائے۔ اس آیتِ کریمہ سے واضح ہے کہ یہ فعل کس قدر گھٹیا ہے۔ افسوس کا مقام ہے کہ آج ہر دوسرا بندہ ان گھٹیا عادتوں میں مبتلا نظر آتا ہے۔ میں اپنے آس پاس خصوصاً عورتوں کو اس فعل میں مبتلا دیکھتی ہوں، یہاں تک کہ کچھ خواتین چوری اور بے حیائی کے الزامات اور تہمتیں بھی آسانی سے کسی پر لگا لیتی ہیں۔ ایک خاتون کو دیکھا، کسی شادی ہال میں بیٹھی ہوئی اپنی ساتھی خاتون سے گفتگو کررہی تھیں۔ کسی کی بات سننا بداخلاقی ہے لیکن اُن کی نازیبا بات نے میری توجہ اپنی طرف کھینچی، وہ اپنی مرحومہ ساس کی غیبت کررہی تھیں۔ میرے برابر بیٹھی میری دوست کے کانوں میں بھی اُن کی آواز پہنچ رہی تھی۔ اس نے استغفار پڑھا اور کہا کہ یہ جس مرحومہ ساس کی برائی کررہی ہے اور الزام لگا رہی ہے وہ انتہائی نیک عورت تھی اور اِس پر اِس کی ساس کے بڑے احسانات بھی تھے۔ مجھے اپنی دوست کی بات سن کر دکھ کے ساتھ حیرانی بھی ہوئی کہ لوگ مرحومین پر بھی الزامات اور تہمت لگاتے ہیں۔ اور نہ ڈرتے اور نہ کراہیت محسوس کرتے ہیں… لیکن ہمارے آس پاس سب ’’برا‘‘ ہی نہیں، اچھائی بھی ہے جس کا تذکرہ نہ کرنا سراسر ناانصافی ہوگی۔ میری ایک بہت اچھی دوست ہے جس کے ساتھ اُس کی ساس کا رویہ انتہائی نامناسب اور غیر منصفانہ تھا، لیکن اپنی دوست کے منہ سے میں نے کبھی ساس کی برائی نہیں سنی۔ اب جبکہ اس کی ساس اِس دنیا میں نہیں ہے تو اُس کے منہ سے میں نے ایک جملہ سنا کہ ’’یااللہ میں نے اُن کو ہمیشہ ماں کا درجہ دیا ہے، میری وجہ سے اُن کی پکڑ نہ کرنا، میں نے انہیں بہت پہلے ہی معاف کردیا تھا، اور انجانے میں اگر مجھ سے اُن کے بارے میں کبھی غلطی سرزد ہوئی ہو تو یارب مجھے بخش دینا‘‘۔ میں اپنی دوست کی اعلیٰ ظرفی کی داد دوں گی۔
٭٭٭
بے شک ہمارے آس پاس لوگوں سے غلطیاں سرزد ہوجائیں تو انہیں فراخ دلی سے معاف کرنا اپنے رب کو راضی کرنے کے مترادف ہے۔ اور جو لوگ بے گناہ ہوں اُن پر الزامات لگانا، تہمتیں باندھنا، یا اُن کے پیٹھ پیچھے غیبت کرنا غیر اخلاقی اور غیر معیاری عمل ہے جو اللہ کو پسند نہیں۔ ہمیں ہر قدم اٹھاتے وقت، ہر بات بولتے وقت اپنا محاسبہ کرنا چاہیے کہ کہیں یہ بات کسی کی دل آزاری کا سبب تو نہیں بنے گی؟ کیا میں جو بول رہی ہوں وہ حقیقت ہے یا سنی سنائی ہے؟ یا میں جھوٹ باندھ کر وقتی طور پر اپنے دل کو خوش کررہی ہوں، یا دو دلوں کو ایک دوسرے سے دور کرنے کی کوشش کررہی ہوں جس سے نہ صرف زمین پر فساد کا امکان ہے بلکہ آخرت کی دنیا بھی برباد ہے؟ اسی لیے سورۃ الحجرات میں بغیر تحقیق کے دل سے اخذ کرکے یا سنی سنائی بات کو آگے پہنچانے کی مذمت کی گئی ہے۔ پھر آخری بات، جس کا میں بار بار تذکرہ کرتی ہوں میاں بیوی کے درمیان دوریاں اور فاصلے پیدا کرنا انتہائی برا فعل ہے جس پر سب سے زیادہ شیطان خوشیاں مناتا ہے۔
اللہ رب العزت سے دعا ہے کہ ہم خواتین کو ان تمام برائیوں سے بچائے، کیونکہ یہی برائیاں جو معاشرتی برائیاں اور بداخلاقیاں ہیں بندوں کو بندوں سے دور کرتی ہیں، نفرتیں پیدا کرتی ہیں، فساد اور جھگڑے کا باعث بنتی ہیں۔ ایسی برائیوں میں ملوث لوگوں سے لوگ دور رہنے کی کوشش کرتے ہیں، ان کے دلوں میں ایسے لوگوں کے لیے محبت اور اپنائیت کے جذبات اجاگر نہیں ہو پاتے، یعنی ’’دنیا و آخرت برباد‘‘ ایسی ہی بد اخلاقیوں کی وجہ سے ہوتی ہے۔ آئیے سب اپنا اپنا محاسبہ کریں کہ کہیں ان متذکرہ بالا برائیوں میں سے کوئی برائی ہمارے اندر تو موجود نہیں ہے؟ اگر ہے تو اس سے ہر ممکن طور پر بچنے کی کوشش کریں، صرف ایک بات کو ہی ذہن میں رکھ کر کہ کہیں میرا رب مجھ سے خفا نہ ہوجائے اور قیامت کے دن ان برائیوں کی وجہ سے میری پکڑ نہ ہو۔ اللہ ہم سب کی توبہ قبول فرمائے (آمین)

حصہ