سالانہ امتحانی میلہ

44

زاہد عباس
’’بشیر بھائی! آج کل شکور بھائی کے مجاج نہیں ملتے، بڑی اونچی اڑانیں اڑ رہا ہے، کسی کو بھی کھاتے میں نہیں لاوے ہے۔‘‘
’’تیرے کو غلطی لگی ہوگی، ایسا نہیں ہے۔‘‘
’’نہیں بشیر بھائی! سچ بولے ہوں۔ غلطی مجھے نہیں، غلطی تو تمہیں لگی ہے، وہ تو تمہارے بارے میں بھی نہ جانے کے کے بولے ہے۔‘‘
’’میرے بارے میں کے بولے ہے، اسے معلوم نہیں کہ میں برادری کا بڑا (سرپنچ) ہوں، اگر کچھ کہوے گا تو برادری سے ہُکا پانی بند کرا دوں گا۔‘‘
’’اگر یہ بات ہے تو بند کرادو۔ وہ مجھے بہت تنگ کرتا ہے۔‘‘
’’تُو میری طاقت دیکھنا چاہوے ہے؟‘‘
’’نہیں نہیں، شکور کے سامنے اپنی حیثیت منوانا چاہوں، اسے نیچا دیکھنا چاہوں۔‘‘
’’اچھا ایسا ہے تو سسرے کو ٹھیک کردیویں گے۔‘‘
’’وہ کیسے؟‘‘
’’اس کے بیٹے کی سادی ہے، بائیکاٹ کردیویں گے، جب منانے آوے گا تو معافی منگوالیں گے، یوں تیری عجت بھی ہوجاوے گی اور سسرے کی عقل بھی ٹھکانے آجاوے گی۔‘‘
’’بشیر بھائی یہ تو کمال کی بات ہوگی، ویسے اس طرح کے کھیال تمہارے جہن میں آوے کیسے ہیں!‘‘
’’ارے پاگل، عقل مند بندہ وہی ہووے جو اپنی بات وقت پہ منواوے۔ دیکھ جب اُس کے لڑکے کی سادی ہوگی تو اسے برادری کی جرورت ہوگی۔ سادی میں سرکت نہ کرنے کی دھمکی دینے سے وہ ہماری ساری سرطیں مان لے گا، یوں تیرا مسئلہ بھی حل ہوجاوے گا اور اس کی اکڑ بھی نکل جاوے گی۔‘‘
’’واہ واہ بشیر بھائی واہ‘‘۔
…………٭٭٭…………
رواں ماہ صوبہ سندھ خصوصاً کراچی میں ہونے والے میٹرک کے امتحانات سے چند روز قبل سرکاری اسکولوں کے اساتذہ کی جانب سے اپنے مطالبات کے حق میں دیے جانے والے احتجاجی دھرنوں اور امتحانات کے بائیکاٹ کا نعرہ لگا کر اپنے مطالبات منوانے سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان اساتذہ نے یہ کامیابی بشیر بھائی کے دیے ہوئے فارمولے پر من وعن عمل کرکے ہی حاصل کی ہے، یعنی میٹرک بورڈ کی جانب سے جاری کردہ امتحانی شیڈول کے ساتھ ہی امتحانات سے صرف 3 روز قبل گورنمنٹ سیکنڈری اسکولوں کے اساتذہ کی ایسوسی ایشن (گسٹا) نے اپنے مطالبات منوانے کے لیے سندھ بھر میں جو احتجاج شروع کیا اور جس کے نتیجے میں حکومت کو ان احتجاجی اساتذہ کے سامنے گھٹنے ٹیکنے پڑے، اور کامیاب مذاکرات کے نتیجے میں گسٹا کی جانب سے دیے گئے چند نکات پر صوبائی وزیر تعلیم کی جانب سے فوری طور پر عمل درآمد کرنے کے احکامات جاری کردیے گئے، اور دیگر مطالبات کی منظوری کے سلسلے میں ایک مذاکراتی کمیٹی قائم کردی گئی ہے، اس سارے کھیل کے پیچھے بشیر بھائی جیسے کردار نظر آتے ہیں۔
واضح رہے کہ رواں ماہ ہونے والے میٹرک کے امتحانات کے سلسلے میں سجنے والے میلے کے لیے کُل 367 امتحانی مراکز بنائے گئے ہیں۔ ان میں سے طلبہ کے لیے 199 اور طالبات کے لیے 168 مراکز ہیں۔ امسال نویں سائنس اور آرٹس کے ایک لاکھ 80 ہزار 400 سے زائد طلبہ و طالبات، جبکہ دسویں سائنس و آرٹس کے ایک لاکھ 84 ہزار 956 سے زائد طلبہ و طالبات امتحان میں حصہ لیں گے۔ یوں اس سال مجموعی طور پر 3 لاکھ 65 ہزار 356 طلبہ امتحان دے رہے ہیں۔
میٹرک کے امتحانات کے بائیکاٹ کی دھمکی دے کر اساتذہ نے اپنے مطالبات تو منوا لیے، لیکن امتحانات کی شفافیت کے لیے کوئی کردار ادا نہ کیا۔ اس سال بھی سندھ بھر میں ہونے والے امتحانات ماضی سے مختلف نہیں ہیں۔ ہر سال کی طرح اِس سال بھی کھڑکی توڑ نقل کا سلسلہ جاری ہے۔ بنائے گئے امتحانی مراکز کے باہر لوگوں کا رنگ دیکھ کر اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ اس میلے میں سب کو حصہ لینے کی پوری آزادی ہے۔ نقل مافیا کی بلاتعطل جاری سرگرمیاں اور پرچہ آؤٹ ہونے تک تمام کارروائیاں جوں کی توں جاری ہیں۔ موبائل فون کا استعمال کھلے عام کیا جارہا ہے۔ یعنی اِس سال بھی تمام طلبہ سائنس و ٹیکنالوجی کی ترقی کا بھرپور فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ مطالبات کی منظوری کے بعد جن اساتذہ نے اپنا احتجاج ختم کیا تھا وہ اس صورتِ حال سے نمٹنے کے لیے دور دور تک دکھائی نہیں دیتے۔ اگر کچھ اساتذہ ان امتحانات میں اپنی خدمات پیش کرتے دکھائی دے بھی رہے ہیں تو اُن کی تمام تر توانائیاں امتحانات میں شفافیت کے بجائے اپنے ذاتی معاملات کی درستی، یا یوں کہیے کہ پیسے لے کر نقل کروانے میں ہی صرف ہورہی ہیں۔ ایسے اساتذہ پرچہ ختم ہوتے ہی کسی ہوٹل یا پہلے سے مخصوص جگہ پر جا بیٹھتے ہیں، جہاں اگلے پرچے کے لیے باقاعدہ پلاننگ کی جاتی ہے۔
بے شک ہر ایک کو اپنے جائز مطالبات کے لیے آواز اٹھانے کا پورا حق ہے، میرے نزدیک ہر شخص کو اُس کا حق ملنا چاہیے۔ میں یہ بھی مانتا ہوں کہ خرابی سارے معاشرے میں نہیں ہوا کرتی۔ میں یہ بھی جانتا ہوں کہ ہمارے یہاں تعلیم جیسے پیشے کو خدمت کا درجہ دینے والے اساتذہ کی بھی کمی نہیں۔ میرا سوال تو یہ ہے کہ جب حکومتِ سندھ نے اساتذہ کے مطالبات مان لیے ہیں تو اساتذہ کی جانب سے اپنے فرائض سے غفلت کیوں برتی جارہی ہے؟ وہ امتحانات میں نقل کی روک تھام میں کیوں ناکام دکھائی دیتے ہیں؟ میٹرک بورڈ کے تحت ہونے والے امتحانات سے اساتذہ کی دوری کہیں اس بات کی دلیل تو نہیں کہ ہمارے نزدیک قومی مفادات کے بجائے اپنے ذاتی مفادات کی تکمیل زیادہ اہمیت اختیار کرچکی ہے۔ مال کی چمک نے ہماری آنکھیں چندھیادی ہیں جس کی وجہ سے ہمیں تعلیم جیسے مقدس پیشے میں بھی کتابوں کے بجائے کاغذی نوٹ ہی نظر آتے ہیں۔
تعلیمی اداروں کی بگڑتی صورت حال کو دیکھ کر مجھے وہ زمانہ یاد آنے لگتا ہے جب حصولِ علم کے لیے لوگ سرکاری اسکولوں کا رخ کرتے تھے۔ مجھے اب بھی یاد ہے کہ سرکاری اسکولوں میں طلبہ کی تعداد ہزاروں میں ہوا کرتی تھی۔ سرکاری اسکول ’’پیلے‘‘ اسکول کہلاتے تھے۔ پاکستان چلانے والی بیوروکریسی ہو، یا ملکی سرحدوں کا دفاع کرنے والے عسکری ادارے… سیاست دان ہوں یا ایٹمی سائنس دان… ادیب ہوں یا معروف شاعر… سبھی ان سرکاری ’’پیلے‘‘ اسکولوں سے پڑھ کر کامیابیوں کی بلندیوں تک پہنچے۔ صحت کا شعبہ ہو یا تعلیمی میدان، ہر جگہ ’’پیلے‘‘ اسکولوں سے فارغ ہونے والے طلبہ و طالبات نے اپنے جوہر دکھائے اور دنیا بھر میں پاکستان کا نام روشن کیا، اور ترقی یافتہ ممالک میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا بھی منوایا۔ قیام پاکستان کے بعد 1980ء کی دہائی تک ’’پیلے‘‘ اسکولوں کا تعلیمی نظام بہتر انداز میں چلایا جاتا رہا۔ اُس وقت اساتذہ کا رویہ اپنے طلبہ کے ساتھ والدین کی طرح ہوا کرتا تھا اور معاشرے میں پیسے کمانے کا لالچ نہ تھا۔ اگر کہیں دولت کمانے کی دوڑ تھی بھی، تو اساتذہ اُس میں شامل نہ تھے۔ وہ اپنا وقت درس و تدریس اور نصابی سرگرمیوں کو دینا پسند کرتے تھے، ان کے نزدیک تعلیم ایمان کا درجہ رکھتی تھی۔ اُس وقت اسکول کی چھٹی کے بعد بھی طلبہ و طالبات کو روک لیا جاتا، تاکہ کلاس میں پڑھائے جانے والے ریاضی اور انگریزی کے مضامین کی دوبارہ مشق کروائی جائے۔ اس عمل سے طلبہ وطالبات کی ذہنی صلاحیتوں کو ابھارا جاتا۔
اساتذہ کی جانب سے دی جانے والی شفقت اور محبت سے طلبہ نہ صرف نصابی سرگرمیوں بلکہ غیر نصابی سرگرمیوں میں بھی اپنا اور اپنے اسکول کا نام روشن کرتے۔ پڑھائی میں کوتاہی برتنے پر سزا ملا کرتی۔ یوں ’’پیلے‘‘ اسکولوں کے اساتذہ نے ملک کو وہ ہیرے تراش کر دیے جن کی چمک سے دہائیوں تک وطن عزیز میں اجالا رہا۔
وقت گزرتا گیا۔ رفتہ رفتہ علم بانٹنے والے اساتذہ کرام ریٹائر ہونے لگے، اور آنے والے اساتذہ نے اس معزز پیشے کو پیسے کمانے کا ذریعہ بنانا شروع کردیا۔ اس طرح ہمارے تعلیمی اداروں پر سب سے پہلی ضرب خود تعلیم کے شعبے سے وابستہ افراد نے لگائی۔ طریقۂ واردات یہ اپنایا گیا کہ اسکولوں میں پڑھنے والے بچوں کو ٹیوشن کے نام پر ایک جگہ اکٹھا کیا جانے لگا۔ پہلے جو تعلیم اسکول کی چھٹی کے بعد مفت دی جاتی تھی، اب کسی گھر یا سینٹر میں فیس لے کر دی جانے لگی۔ استاد ’’ٹیچر‘‘ کہلانے لگے۔ یوں استاد اور شاگرد کے درمیان احترام کا جو رشتہ تھا وہ ختم ہونے لگا اور آپسی دوستیاں بڑھنے لگیں، اور ٹیوشن پڑھنے والے بچوں کو امتحانات کے پرچوں میں آنے والے سوالات بتاکر ماہانہ لی جانے والی فیس ’’حلال‘‘ کی جانے لگی۔ ہر دوسرا بچہ اپنے ہی کلاس ٹیچر سے ٹیوشن پڑھنے کو ترجیح دینے لگا۔ اس طرح سارا سال پڑھنے، پڑھانے اور بچوں کو محنت کرکے پاس ہونے سے جان چھڑا دی گئی۔ یوں امتحانات میں کامیابی کے لیے چور دروازہ کھول دیا گیا۔ ٹیوشن پڑھانا اور پڑھنا غلط کام نہیں، طلبہ کا حق ہے کہ وہ کہیں بھی جاکر تعلیم حاصل کریں، لیکن اپنے ہی اسکول کے کلاس ٹیچر کو جب کہ وہ سرکاری ملازم بھی ہو، ٹیوشن سینٹر چلانے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔ ہاں کسی دوسری جگہ یا ادارے میں تعلیم دینا اور حاصل کرنا ہر کسی کا حق ہے۔ 1980ء کی دہائی میں اربابِ اختیار کی چشم پوشی کی وجہ سے اس کاروبار نے دن دونی رات چوگنی ترقی کی۔ ظاہر ہے جب کوئی پوچھنے والا نہ ہو تو حوصلے بلند ہو ہی جایا کرتے ہیں، اور اسی بنیاد پر ایسے اساتذہ نے جن کے نزدیک تعلیم کاروبار بن چکی تھی، ایک قدم اور آگے بڑھاتے ہوئے نجی درس گاہیں بنانا شروع کردیں۔ اس زمانے میں یہ سلسلہ بھی بڑی تیزی کے ساتھ شروع کیا گیا، یعنی یہاں بھی ابتدا کرنے والے تعلیم کے پیشے سے وابستہ لوگ ہی تھے، حالانکہ اُس وقت سرکاری اسکولوں کے مقابلے میں نجی درس گاہیں بنانا اور انہیں چلانا بہت مشکل کام تھا، اور سرکاری اسکولوں کا معیارِ تعلیم بہتر ہونے کی وجہ سے لوگ پرائیویٹ اسکول بنانے کے چکر میں نہیں پڑتے تھے۔ چاہے آپ کتنی ہی بڑی اور خوبصورت عمارت بنا لیں، آپ کے اسکول میں بچوں کا داخل نہ ہونا اس بات کا ثبوت تھا کہ اُس وقت ہمارے ملک میں رائج نظام تعلیم اُن اساتذہ کی بدولت کامیاب تھا جو حقیقتاً تعلیم دیا کرتے تھے۔ خیر جب سرکاری اسکولوں میں ملازمت کرنے والے اساتذہ نے پیسے کمانے کی دوڑ میں شمولیت اختیار کی اور اپنے اسکول قائم کیے تو انہیں خاصی کامیابی ملی۔ ظاہر ہے جب سرکاری اسکول میں پڑھنے والے بچوں کی تعداد سینکڑوں میں ہوگی تو بڑی آسانی سے اپنے اسکول کی اشتہاری مہم چلائی جا سکتی ہے، اور سو سے زائد بچوں کی کلاس میں جب کہ آپ خود کلاس ٹیچر ہوں تو اپنے نجی اسکول کے لیے داخلے کرنا کوئی مشکل کام نہیں۔ یہ نفسیاتی بات ہے کہ طلبہ اپنے اساتذہ کی بات مانتے ہیں، ایک طالب علم کی سرشت میں یہ بات شامل ہوتی ہے کہ ٹیچر جو بھی کہہ رہا ہے وہ ٹھیک ہے۔ اسی نفسیات کا سہارا لے کر اس زمانے میں سرکاری اسکولوں کے اساتذہ نے اپنے نجی اسکولوں میں بچے شفٹ کرنا شروع کردیے۔ سرکاری اسکول ٹیچرز نے عدم سہولیات کے باعث پیلے اسکولوں کو بدنام کرنا شروع کردیا اور نجی اسکولوں میں داخلے کے لیے باقاعدہ مہم چلائی گئی۔ حکمران سرکاری اسکولوں کے خلاف ہونے والی سازش کا حصہ بنے رہے۔ ہر آنے والے دن کے ساتھ سرکاری عمارتیں کھنڈرات میں تبدیل ہونے لگیں۔ جو تھوڑی بہت سہولیات تھیں وہ بھی ختم ہوتی گئیں، اور یہ مخصوص طبقہ اہداف حاصل کرتا رہا۔ پھر وہ وقت آگیا جب سرکاری اسکولوں میں داخلہ لینے والوں کو یہ کہہ کر نجی اسکولوں میں بھیجا جانے لگا کہ یہاں پڑھائی نہیں ہوتی، کہیں اور جاکر داخلہ لے لو۔ یوں تعلیم کاروبار بن گئی، کاروباری طبقے نے بڑی عمارتیں بنا کر ملکی تعلیمی نظام میں ایسے پنجے گاڑے جس سے چھٹکارا حاصل کرنا ممکن نہیں۔ اس ساری صورت حال میں اگر کوئی قصوروار ہے تو وہ حکومتیں ہیں، جن کی جانب سے سرکاری اسکولوں کی صورت حال میں بہتری لائی جاسکتی تھی، لیکن اس کے بجائے کاروباری لوگوں کو نجی درسگاہیں بنانے کے اجازت نامے جاری کیے جانے لگے۔ اجازت نامے دیتے وقت اسکول مالکان کی تعلیمی قابلیت اور صلاحیت دیکھنا تو درکنار، دودھ والوں سے لے کر گٹکا فروشوں تک کو اسکول بنا کر تعلیم کے نام پر کاروبار کرنے کی اجازت دے دی گئی۔ میں نے خود کئی ایسی سڑکیں دیکھی ہیں جن کے دونوں طرف رہائشی مکانات میں اتنی زیادہ تعداد میں اسکول قائم ہیں جو کسی جمعہ بازار کا منظر پیش کرتے ہیں، جبکہ سرکاری اسکولوں کو کھنڈرات اور بھوت بنگلہ بناکر رکھ دیا گیا ہے۔ ایک زمانہ گزرنے کے باوجود ہمارے حکمران آج بھی ایسے مخصوص سرکاری اساتذہ کی جانب سے چلی جانے والی چالوں کو سمجھنے میں ناکام ہیں جن کا مقصد صرف اور صرف اپنے لیے فوائد حاصل کرنا ہوتا ہے۔ماضی کے تجربات کو دیکھتے ہوئے موجودہ حکومت کو چاہیے کہ وہ ایسے اقدامات کرے جن کی بدولت سرکاری اسکولوں کی تعلیمی سرگرمیوں میں بہتری لائی جا سکے۔ اگر حکمرانوں نے سنجیدگی کا مظاہرہ کیا تو یقینا ہمارے سرکاری تعلیمی ڈھانچے میں بہتری لائی جا سکتی ہے، ورنہ اہداف کا حصول ناممکن ہوگا۔

حصہ