حضرت صالح علیہ السلام اور قومِ ثمود

71

سید مہرالدین افضل
سورۃ الاعراف آیت73 تا 79 میں ارشاد ہوا: اور ثمود کی طرف ہم نے اُن کے بھائی صالح کو بھیجا۔ اس نے کہا ’’اے برادرانِ قوم، اللہ کی بندگی کرو، اس کے سوا تمہارا کوئی خدا نہیں ہے۔ تمہارے پاس تمہارے ربّ کی کھلی دلیل آگئی ہے۔ یہ اللہ کی اونٹنی تمہارے لیے ایک نشانی کے طور پر ہے، لہٰذا اِسے چھوڑو کہ خدا کی زمین میں چَرتی پھرے۔ اس کو کسی برے ارادے سے ہاتھ نہ لگانا ورنہ ایک دردناک عذاب تمہیں آلے گا۔ یاد کرو وہ وقت جب اللہ نے قومِ عاد کے بعد تمہیں اس کا جانشین بنایا اور تم کو زمین میں یہ منزلت بخشی کہ آج تم اُس کے ہموار میدانوں میں عالی شان محل بناتے اور اس کے پہاڑوں کو مکانات کی شکل میں تراشتے ہو۔ پس اس کی قدرت کے کرشموں سے غافل نہ ہوجائو اور زمین میں فساد برپا نہ کرو۔‘‘
اُس کی قوم کے سرداروں نے جو بڑے بنے ہوئے تھے، کمزور طبقے کے اُن لوگوں سے جو ایمان لے آئے تھے، کہا ’’کیا تم واقعی یہ جانتے ہو کہ صالح اپنے ربّ کا پیغمبر ہے؟‘‘ اُن بڑائی کے مدعیوں نے کہا ’’جس چیز کو تم نے مانا ہے ہم اس کے منکر ہیں۔‘‘
پھر انہوں نے اس اونٹنی کو مار ڈالا اور پورے تمّرد کے ساتھ اپنے ربّ کے حکم کی خلاف ورزی کر گزرے، اور صالح سے کہہ دیا کہ ’’لے آ وہ عذاب جس کی تُو ہمیں دھمکی دیتا ہے اگر تُو واقعی پیغمبروں میں سے ہے۔‘‘ آخرِکار ایک دہلا دینے والی آفت نے اُنہیں آلیا اور وہ اپنے گھروں میں اوندھے پڑے کے پڑے رہ گئے۔ اور صالحؑ یہ کہتا ہوا ان کی بستیوں سے نکل گیا کہ ’’اے میری قوم، میں نے اپنے ربّ کا پیغام تجھے پہنچا دیا اور میں نے تیری بہت خیر خواہی کی، مگر میں کیا کروں کہ تجھے اپنے خیر خواہ پسند ہی نہیں ہیں۔‘‘ حضرت نوحؑ کے بعد ایک عرصے تک ان کی اولاد اور ان پر ایمان لانے والوں کی اولادیں ہدایت پر قائم رہیں… اللہ سبحانہٗ وتعالیٰ نے قوم عاد کو فضیلت بخشی لیکن وہ اپنی بڑائی کے گھمنڈ میں آگئے اور ہلاک ہوئے۔ ان کے بعد اللہ تعالی ٰ نے قوم ثمود کو فضیلت عطا کی۔ عاد اونچے اونچے ستونوں والی عمارتیں بناتے تھے، تو ثمود پہاڑوں کو تراش کر ان کے اندر عالیشان عمارتیں بناتے تھے۔ اسی لیے سورہ فجر میں عاد کو ’’ستونوں والے‘‘ کا لقب دیا گیا ہے اور ثمود کے بارے میں کہا کہ ’’وہ جنہوں نے وادی میں چٹانیں تراشی ہیں، وہ اپنے میدانی علاقوں میں بڑے بڑے محل تعمیر کرتے تھے‘۔ اور یہ سب کچھ اپنی بڑائی، اپنی دولت و قوت اور اپنے کمالاتِ فن کی نمائش کے لیے تھا، کوئی حقیقی ضرورت نہ تھی۔ ایک بگڑے ہوئے معاشرے میں یہی ہوتا ہے کہ غریبوں کو سر چھپانے کی جگہ نہیں ملتی اور مالدار اور طاقتور لوگ رہنے کے لیے ضرورت سے زیادہ محل بناتے ہیں اور اپنی شان و شوکت دکھانے کے لیے بِلا ضرورت نمائشی یادگاریں تعمیر کرنے لگتے ہیں۔ اب تک پتھروں کی وہ عمارتیں موجود ہیں جن کو ثمود کے لوگوں نے پہاڑوں میں تراش تراش کر بنایا تھا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوۂ تبوک کے موقع پر یہاں سے گزرتے ہوئے مسلمانوں کو یہ آثارِ عبرت دکھائے اور وہ سبق دیا جو آثار قدیمہ سے ہر صاحب ِ بصیرت انسان کو حاصل کرنا چاہیے۔ ایک جگہ آپؐ نے ایک کنویں کی نشان دہی کرکے بتایا کہ یہی وہ کنواں ہے جس سے حضرت صالحؑ کی اونٹنی پانی پیتی تھی… اور مسلمانوں کو ہدایت کی کہ صرف اسی کنویں سے پانی لینا، باقی کنووں کا پانی نہ پینا۔ ایک پہاڑی درے کو دکھا کر آپؐ نے بتایا کہ اسی درے سے وہ اونٹنی پانی پینے کے لیے آتی تھی۔ ان کے کھنڈروں میں جو مسلمان سیر کررہے تھے اُن کو آپؐ نے جمع کیا اور ان کے سامنے ایک خطبہ دیا جس میں ثمود کے انجام پر عبرت دلائی اور فرمایا کہ یہ اُس قوم کا علاقہ ہے جس پر خدا کا عذاب نازل ہوا تھا، یہاں سے جلدی گزر جاؤ، یہ سیرگاہ نہیں ہے بلکہ رونے کا مقام ہے۔ انسانی تاریخ اور قومِ عاد و ثمود اور دوسری اقوام کے آثارِ قدیم گواہ ہیں کہ جس قوم نے بھی اسی دنیا کی زندگی کو اصل زندگی سمجھا اور اس بات کو جھٹلا دیا کہ انسان کو آخرکار خدا کی عدالت میں اپنا حساب دینا ہوگا، وہ سخت اخلاقی بگاڑ میں مبتلا ہوئی، یہاں تک کہ خدا کے عذاب نے آ کر دنیا کو اس کے وجود سے پاک کردیا۔
یہ لوگ اللہ کو مانتے تھے لیکن اللہ کی اطاعت اور بندگی کے لیے تیار نہ تھے۔ ان میں شرک و بت پرستی عام تھی۔ قوم کے بدترین لوگ اس کے لیڈر بنے ہوئے تھے۔ شہر کو 9 جتھے داروں میں تقسیم کیا ہوا تھا۔ اب یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ ان کے درمیان ایک خاموش معاہدہ تھا کہ اپنے علاقے کے کمزوروں کو ظلم کے شکنجے میں جکڑے رکھیں۔ یہ اپنی بڑائی کے گھمنڈ میں مست تھے۔ حضرت صالحؑ نے ان سے کہا کہ تم اپنے ان سرداروں اور رہنماؤں کی اطاعت چھوڑ دو جن کی قیادت میں تمہارا یہ ظالمانہ نظام زندگی چل رہا ہے۔ یہ کرپٹ لوگ ہیں، بداخلاقی کی ساری حدیں پار کرچکے ہیں۔ ان کے ہاتھوں سے کوئی اصلاح نہیں ہوسکتی، تمہاری بھلائی اسی صورت میں ہے کہ اللہ سے ڈرو اور فساد پھیلانے والوں کی اطاعت چھوڑ کر میری اطاعت کرو، کیونکہ میں خدا کا رسول ہوں، میری امانت و دیانت کو تم پہلے سے جانتے ہو، اور میں ایک بے غرض آدمی ہوں، اپنے کسی ذاتی فائدے کے لیے اصلاح کا یہ کام کرنے نہیں اٹھا ہوں… یہ مختصر منشور تھا جو حضرت صالح علیہ السلام نے اپنی قوم کے سامنے پیش کیا۔ اس میں صرف مذہبی تبلیغ ہی نہ تھی، معاشرتی اصلاح، انفرادی اخلاق کی درستی اور سیاسی تبدیلی کی دعوت بھی ساتھ ساتھ موجود تھی۔حضرت صالحؑ کی دعوت کو کچھ کمزور لوگوں نے قبول کیا لیکن اونچے طبقوں نے اسے ماننے سے یہ کہہ کر انکار کردیا کہ ’’جس چیز پر تم ایمان لائے ہو اس کو ہم نہیں مان سکتے‘‘۔ اور انکار کی وجہ یہ بتائی کہ وہ بھی انسان ہیں تو ہم کیوں انہیں بڑا مانیں… وہ ہماری اپنی ہی قوم کے ایک عام فرد ہیں کوئی بڑے سردار نہیں… نہ ان کے پاس کوئی لشکر ہے۔ گو کہ حضرت صالحؑ اس قوم کے نیک ترین اور ذہین انسان تھے، ان کی امانت و دیانت اور غیر معمولی قابلیت کی گواہی کو خود اس قوم کے لوگوں کی زبان سے قرآن مجید نقل کرتا ہے ’’انہوں نے کہا: اے صالح، اس سے پہلے تو تم ہمارے درمیان ایسے آدمی تھے جس سے ہماری بڑی امیدیں وابستہ تھیں‘‘(ہود،آیت 62)۔ اور ان کی دعوت قبول کرنے والے اپنی زندگی میں بہترین تبدیلی لا رہے تھے جو ان کے پیغمبر ہونے کی واضح دلیل تھی، اور انہیں اس میں کوئی شک نہیں تھا… لیکن انہوں نے ایک ایسی نشانی کا مطالبہ کردیا جو ان کے، اللہ کے پیغمبر ہونے کی کھلی دلیل ہو، اس کے جواب میں حضرت صالحؑ نے اونٹنی کو پیش کیا تھا۔ اس اونٹنی کا ظہور معجزے کے طور پر ہوا تھا اور حضرت صالحؑ نے اسے پیش کرکے مطالبہ کرنے والوں سے کہا تھا کہ بس اب اس اونٹنی کی جان کے ساتھ تمہاری زندگی جڑی ہوئی ہے۔ یہ آزادانہ تمہاری زمینوں میں چرتی پھرے گی۔ ایک دن یہ اکیلی پانی پیے گی اور دوسرے دن پوری قوم کے جانور پئیں گے، اور اگر تم نے اسے ہاتھ لگایا تو تم پر خدا کا عذاب ٹوٹ پڑے گا۔ ظاہر ہے کہ اس چیلنج کے ساتھ وہی چیز پیش کی جا سکتی تھی جس کا غیر معمولی ہونا لوگوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا ہو۔ وہ اونٹنی معجزے کی حیثیت رکھتی تھی، یہ قرآن سے ثابت ہے۔ مگر قرآن اس بات کی کوئی وضاحت نہیں کرتا کہ یہ اونٹنی کیسی تھی اور کس طرح وجود میں آئی۔ کسی صحیح حدیث میں بھی اس کے معجزے کے طور پر پیدا ہونے کی کیفیت بیان نہیں کی گئی ہے۔ اور انسانوں کی ہدایت کے لیے یہ جاننا ضروری بھی نہیں کہ کیسے وجود میں آئی… حقیقت یہ ہے کہ اللہ قادرِ مطلق ہے، وہ جب چاہے، جیسے چاہے، جو کچھ چاہے پیدا کرسکتا ہے۔ ہاں یہ سوچنا ضروری ہے کہ ایک اونٹنی کو ان کے لیے آزمائش کیوں بنایا گیا؟ اور ذرا سے غور و فکر کے بعد ہم یہ جان سکتے ہیں کہ ایک جانور سے زیادہ کمزور انسانوں کے معاشرے میں کون ہوسکتا ہے! یہ اونٹنی کوئی صدیوں تک تھوڑی رہتی۔ اس کے ذریعے تو یہ توجہ دلانا مقصود تھا کہ تم اپنے معاشرے میں کمزوروں کے حق پر جو ڈاکا ڈال رہے ہو وہ ختم کرو… اور ضروریاتِ زندگی پر غاصبانہ قبضہ نہ کرو… بلکہ اللہ کی نعمتوں سے سب کو فائدہ اٹھانے دو۔ اگر وہ اس پیغام کو سمجھتے اور مانتے اور حضرت صالح علیہ السلام کی ہدایت پر عمل کرتے تو کچھ دنوں کی تربیت کے بعد یہ اونٹنی واپس بلا لی جاتی۔ لیکن وہ ایمان لانے کے بجائے کچھ دن تک تو اس سے ڈرتے رہے اور اونٹنی جہاں چاہتی، جاتی اور چرتی رہی… اور ایک دن صرف وہی پانی پیتی رہی۔ لیکن یہ بات انہوں نے زیادہ دن برداشت نہ کی اور آپس میں مشورہ کرکے اپنی قوم کے سب سے بے رحم انسان کو اس اونٹنی کو مارنے پر اکسایا، اور اُس نے پوری بے خوفی کے ساتھ یہ کام کردیا۔ اونٹنی کو جان سے مارا ایک شخص نے تھا، لیکن قرآن اسے پوری قوم کا عمل قرار دیتا ہے… کیوں؟ اس لیے کہ وہ قوم کمزوروں پر ظلم کرنے، ظلم ہوتے ہوئے دیکھنے، اور ظلم سہنے کی عادی تھی، اور قوم کی اکثریت اس ظالم شخص کے ساتھ تھی۔ اس قوم کے حالات اور انجام کو دیکھ کر ہم اپنا انجام بھی جان سکتے ہیں۔ آج اگر ہمارے حکمران اور لیڈر سود کو جائز قرار دیتے ہیں، جمعہ کا تقدس پامال کرتے ہیں، ہماری پارلیمنٹ اگر حقوقِ نسواں کے نام پر بے حیائی کو عام کرتی ہے تو ہم یہ کہہ کر نہیں چھوٹ سکتے کہ یہ کام تو کسی فرد یا کچھ لوگوں نے کیا تھا۔ اگر کوئی بچ سکتا ہے تو اسی طرح کہ وہ اس کے خلاف آواز اٹھائے اور اس کے برے انجام سے خبردار کرے۔ آج جو لوگ قرآن کو سمجھ کر پڑھتے ہیں وہ صالحؑ کی اونٹنی کے مارے جانے پر تو بہت افسوس کرتے ہیں اور اس قوم کو برا بھی بہت سمجھتے ہیں جس نے ایسا کیا، اور اس کے برے انجام کو بھی حق سمجھتے ہیں، لیکن ان کے اپنے معاشرے میں روزانہ جو اونٹنیاں مظلومانہ قتل ہوتی ہیں ان پر انہیں کوئی افسوس نہیں ہوتا۔ ان کے حق میں کوئی آواز بلند نہیں ہوتی۔ ظالموں کو ان کے انجام سے کوئی نہیں ڈراتا۔ کیا ایک اچکزئی سردار کا ایک معمولی سپاہی کو اپنی گاڑی سے کچل کر مار ڈالنا… کیا ایک ڈی۔ ایس۔ پی کے بیٹے کا ایک نوجوان کو گولیوں سے بھون دینا ایک اونٹنی کے قتل سے زیادہ بڑا جرم نہیں؟ آپ کہیں گے کہ اونٹنی کی پیدائش معجزے کے ذریعے ہوئی تھی… تو کیا انسان کی پیدائش معجزہ نہیں ہے؟ ایک اونٹنی کے مر جانے سے اس کے پیچھے کوئی متاثر نہیں ہوتا لیکن ایک انسان کے مارے جانے سے تو اس کے پیچھے رہ جانے والے دسیوں لوگوں کا جینا دوبھر ہوجاتا ہے۔ قرآن مجید کے مطالعے سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ… ہر وہ گناہ جو قوم کی خواہش کے مطابق کیا جائے… یا جس کام میں قوم کی مرضی شامل ہو ایک قومی گناہ ہے، چاہے اس کا کرنے والا ایک اکیلا فرد ہو… بلکہ جو گناہ قوم کے درمیان کھلے عام کیا جائے اور قوم اسے گوارا کرے وہ بھی قومی گناہ ہے۔حضرت صالح علیہ السلام نے اپنی دعوت کے آغاز میں اپنی قوم سے کہا کہ اگر تم توبہ و ایمان کی راہ اختیار نہ کرو گے تو ایک خاص وقت تک ہی تم کو دنیا میں عیش کرنے کی مہلت نصیب ہوسکے گی اور اس کے بعد تمہاری شامت آجائے گی، اور ایسا ہی ہوا۔ قرآن مجید میں مختلف مقامات پر اس قوم پر آنے والے عذاب کے لیے مختلف الفاظ استعمال ہوئے ہیں۔ کہیں اسے ’’رجفہ‘‘ (اضطراب انگیز، ہلا مارنے والی) اور کہیں صَیحَۃَ (چیخ)، ’’صاعقہ‘‘ (کڑاکا) اور ’’طاغیہ‘‘ (سخت زور کی آواز)کے الفاظ استعمال کیے گئے ہیں۔ غالباً یہ عذاب ایک ایسے زلزلے کی شکل میں آیا تھا جس کے ساتھ خوفناک آواز بھی تھی۔ ارشاد ہوا:’’آخرکار جب ہمارے فیصلے کا وقت آگیا تو ہم نے اپنی رحمت سے صالحؑ کو اور اُن لوگوں کو جو اس کے ساتھ ایمان لائے تھے، بچا لیا اور اُس دن کی رسوائی سے ان کو محفوظ رکھا۔ بے شک تیرا ربّ ہی دراصل طاقتور اور بالادست ہے۔ رہے وہ لوگ جنہوں نے ظلم کیا تھا تو ایک سخت دھماکے نے ان کو دھر لیا اور وہ اپنی بستیوں میں اس طرح بے حس و حرکت پڑے رہ گئے کہ گویا وہ وہاں کبھی بسے ہی نہ تھے۔ سنو! ثمود نے اپنے ربّ سے کفر کیا۔ سنو! دور پھینک دیے گئے ثمود!‘‘ (سورۃ ہود)
مویشی پالنے والے اپنے جانوروں کے باڑے کو محفوظ کرنے کے لیے لکڑیوں اور جھاڑیوں کی ایک باڑھ بنا دیتے ہیں۔ اس باڑھ کی جھاڑیاں رفتہ رفتہ سوکھ کر جھڑ جاتی ہیں اور جانوروں کی آمد و رفت سے پامال ہوکر ان کا برادہ بن جاتا ہے۔ قوم ثمود کی کچلی ہوئی بوسیدہ لاشیں اسی برادے کی طرح ہوگئیں۔
اللہ سبحانہٗ وتعالیٰ ہم سب کو اپنے دین کا صحیح فہم بخشے، اور اُس فہم کے مطابق دین کے سارے تقاضے، اور مطالبے پورے کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین
وآخر دعوانا ان لحمد للہ رب العالمین۔

حصہ