برصغیر میں اسلام کے احیا اور آزادی کی تحریکیں

107

قسط نمبر 183
(گیارہواں حصہ)
جب ہم ‘ مولانا سید ابو الاعلی مودودی کو مجدد دوراں’ کہہ رہے ہیں یہ سمجھنا اشد ضروری ہے کہ ہم مولانا سید ابو الاعلی مودودی کو مجدد کہہ کرکوئی نئی بات نہیں کر رہے ، بلکہ ہم سے پیشتر بھی اس حوالے سے بہت کچھ لکھا اور کہا جا چکا ہے –
، مولانا سید ابو الاعلی مودودی رسا لے ‘ الجمیعتہ’ تک ایک فرد کی حیثیت سے اصلاح معاشرہ کا کا م کر رہے تھے – لیکن جیسے جیسے آپ نے اپنے علمی کام اوراس وقت کے حالا ت پر لکھے جانے والے ادارتی مضامینکے ذریعے ہندوستان میں اپنی پہچان بنانی شروع کی – 1932 میں جب آپ نے رسالہ’ ترجمان القرآن ‘ کی ابتدا کی تب مولانا ایک ‘فرد ‘ سے نکل کر ایک عظیم شخصیت کے روپ میں ڈھلتے چلے گئے –
مولانا سید ابو الاعلی مودودی اور علامہ محمد اقبال ان دونوں عظیم شخصیا تکے تعلق کی بنیاد دراصل مولانا مرحوم کی تصنیف ” الجہاد فی الاسلام ” ہی تھی – جس پر علامہ اقبال نے تبصرہ کرتے ہوئے فرمایا تھا کہ “”اسلام کے نظریہ جہاد اور اس کے قانونِ صلح و جنگ پر یہ ایک بہترین تصنیف ہے اور میں ہر ذی علم آدمی کو مشورہ دیتا ہوں کہ وہ اس کا مطالعہ کرے”-
‘جدید دور میں جن مسلم مفکرین و مصلحین نے فکر و نظر کی دنیا میں انقلاب برپا کیا ہے ان میں مولانا مودودی کا نام سرفہرست ہے – آپ نے فکری رہنمائی ہی نہیں دی بلکہ عملی میدان میں بھی حیات آفرین کارہائے نمایاں انجام دئے ہیں – آپ کی فکر نے حیات ملی کے جن گوشوں کو متاثر و منور کیا ہے ان میں سے ایک اہم شعبہ ‘ سیاست ‘ بھی ہے – مولانا مودودی نے برصغیر کی آزادی کے مختلف مراحل سے لیکر اپنی جان جا ن آفرین کے سپرد کرنے تک ( 1979 ) ایک اسلامی سیاسی مفکر، ایک اصول پسند سیاستدان ، اور امت مسلمہ کے ایک حقیقی مصلح کے طور پر اپنا بھرپور اور فعال کردار ادا کیا ہے ، وہ اس لحاظ سے پہلے مفکر اسلام ہیں جنہوں نے اسلامی نظا م زندگی کو مربوط و منظم انداز میں پیش کیا – اسلامی ریاست کے ایک مکمل نقشے ( روڈ میپ ) کو امت کے سامنے رکھا – اور پھر اس نقشے میں رنگ بھرنے کے لئے ‘ جماعت اسلامی ‘ کی صورت میں ایک عظیم الشان اسلامی تحریک بھی شروع کی -”
( مقالہ – برائے – پی ایچ -ڈی ‘ سید مودودی اور ان کے سیاسی افکار -عصری افکار کے تناظر میں ‘ مقالہ نگار – فرید احمد پراچہ )
اس حوالے سے مولانا مودودیلکھتے ہیں کہ ” 1926 میں جب میں نے اپنی کتا ب’الجہاد فی الاسلام’ لکھی ، میرے دماغ میں یہ تصور پوری طرح مستحکم ہو چکا تھا کہ مسلمانوں کا اصل نصب العین اسلامی نظام زندگی کا قیام ہے – آپ لکھتے ہیں کہ میرا نصب العین ایک قومی حکومت کا قیام نہیں بلکہ ایک ایسی ریاست قائم کرنا ہے جو دنیا میں اللہ کا کلمہ بلند کرے ، جس کی تھذیب و ثقافت ، جس کا معاشرتی نظام ، جس کا معاشی نظام ، جس کا اخلاقی ماحول ، جس کی عدالت ، جس کی پولیس ، جس کے قوانین ، جس کی فوج جس کی سفارت غرض جس کی ہر چیز دنیا کے سامنے اسلام کا نمونہ پیش کرنے والی ہو ، جس کو دیکھ کر دنیا یہ جانے کہ اسلا م اور کفر میں کیا فرق ہے ؟ اور اسلا م ہر حیثیت میں کتنا بلند ہے -اسی چیز کو ہم نے جماعت اسلامی کا نصب العین قرار دیا -اور اسلا م کی
اصطلا ح میں اس کا نام اقامت دین ہے -”
آگے چل کر آپ لکھتے ہیں کہ ” جو چیز جماعت کی تشکیل کے وقت میرے پیش نظر تھی وہ یہ تھی کہ جماعت ایسے افراد پر مشتمل ہونی چاہیے جو نہ صرف عقیدے میں مخلص ہوں بلکہ اپنی انفرادی سیرت و کردار میں بھی قابل اعتماد ہوں – میرے بائیس سال کے مشاہدات یہ بتا رہے تھے کہمسلمانوں کی جماعتوں اور تحریکوں کو آخر کار جس چیز نے خراب کیا وہ اچھے لوگوں کے ساتھ بہت سے نا قا بل اعتماد لوگوں کا شریک ہوجانا تھا -… تحریک خلافت میں بڑے بڑے نیک اور فاضل اور بہترین اخلاق کے لوگ شامل تھے لیکن ایک کثیر تعداد ایسے کارکنوں کی بھی آکر شامل ہوگئی تھی جو سیرت و کردار کے لحاظ سے نا قص تھے … لیکن جب میں نے دیکھا کہ میری آواز صدابصحرا ثابت ہورہی ہے تو پھر دوسرا قدم جو میری سمجھ میں آیا ‘ یہ تھا کہ اپنی طرف سے ایک ایسی جماعت منظم کرنی چاہیے جو صاحب کردار لوگوں پر مشتمل ہو اور ان فتنوں کا مقابلہ کرسکے جو آگے نظر آرہے تھے – جس وقت تحریک پاکستان اٹھی اور 1940 میں قرارداد پاکستان منظور ہوئی ..اس وقت کوئی شخص بھی یقین کے ساتھ نہیں کہہ سکتا تھا کہ ملک یقینا تقسیم ہوجائے گا – اور پاکستان بن جائے گا – حتی کہ 1947 کے آغاز تک بھی یہ بات یقینی نہیں تھی کہ واقعی پاکستان بن جائے گا – اس وقت جو اہم ترین سوالات میرے سامنے تھے وہ یہ تھے کہ حالت جس رخ پر جارہے ہیں ان کی ایک شکل تو یہ پیش آسکتی ہے کہ پاکستان کے لئے کوشش کرکے مسلم لیگ ناکام ہوسکتی ہے اور ہندوستان میں انگریز واحد ہندوستانی قومیت کی بنا پر ایک جمہوری حکومت قائم کرکے چلا جائے – اس صورت میں کیا کرنا ہوگا ؟
دوسری شکل یہ پیش آسکتی ہے کہ مسلم لیگ اپنے مقصد میں کامیاب ہوجائے اور ملک تقسیم ہوجائے ، اس صورت میں جو کروڑوں لوگ ہندوستان میں رہ جائیں گے ان کا کیا کیا جائے،ان کا کیا حشر ہوگا ؟ اور خود پاکستان میں اسلام کا کیا حشر ہوگا ؟ – جس قسم کے عناصرپاکستان کی تحریک میں شامل ہورہے تھے ان کو دیکھتے ہوئے میں یقینی طور پر سمجھ رہا تھا یہ عناصر ایک ملک تو بنا سکتے ہیں لیکن ان عناصر سے یہ امید نہیں لگا ئی جا سکتی کہ یہ ایک اسلامی حکومت بنا لیں گے -”
مولانا مزید لکھتے ہیں کہ میرے سامنے تین مسئلے تھے –
1- اگر ملک تقسیم نہ ہوا تو جو مسلمان ہندوستان میں رہ جائیں گے ان کے لئے کیا کیا جائے ؟
2- اور آزادی کی صورت میں جو ملک مسلمانوں کے قبضے میں آئے گا اس کو مسلمانوں کی کافرانہ حکومت بننے سے کیسے بچایا جائے ؟
3 -اور آزاد ملک کی حکومت کو اسلامی حکومت کے راستے پر کیسے ڈالا جائے ؟
آپ نے لکھا کہ ” کئی سال سے میں جن خیالات کی اشاعت کر رہا تھا ، اگرچہ ان کی بنا پر مختلف حلقوں کی طرف سے مجھے گالیاں بھی دی جارہی تھیں ، لیکن بہت سے لوگ ایسے بھی تھے جو ان خیالات سے متفق تھے اور سمجھتے تھے کہ حق بات یہی ہے جو میں کہہ رہا ہوں -انھی لوگوں کے اتفاق و اشتراک سے یہ جماعت قائم کی گئی – ”
مولانا مودودی کا اہم ترین کارنامہ یہ ہے کہ آپ نے اسلام کو معذرت خوا ہا نہ انداز میں پیش نہیں کیا جیسے کہ مولانا سے پہلے کے کچھ مفکرین نے کرنے کی کوشش کی تھی -بلکہ پورے اعتماد اور یقین کے ساتھ اسلامی نظریہ حیات کی طرف دعوت دی اور انتہائی قلیل عرصے میں ان تمام شکوک و شبہات کے نقوش مٹا دئیے جو جدید پڑھے لکھے لوگوں کے ذہنوں میں اسلام اور اسلامی نظام کے بارے میں موجود تھے – مولانا مودودی کے افکار نے امت مسلمہ کو اس کے مققام و منصب سے روشناس کرایا –
آج اگر پاکستان اسلامی جمہوریہ ہے ‘ اگر قرارداد مقا صددستور پاکستان کا فعال حصہ ہے ‘ اگر آئین پاکستان میں قرآن و سنت کی بالادستی اور اللہ تعالی کی حاکمیت اعلی کو تسلیم کیا گیا ہے’ اگر پاکستان کے عام شہری سے لیکر عدلیہ کے جج حضرا ت ، اہل فکر و نظر ، صاحبان اقتدار و اختیار اصحاب علم و دانش اور حکمرانوں و سیاستدانوں تک ہر فرد اسلام کا نام لینے پر مجبور ہے اور اسلا م سے وابستگی ایک طعنہ نہیں ‘ایک اعزاز اور فخر ہے … افغانستان سے اٹھنے والی تحریک جہاد نے فلسطین ، بوسنیا ، کشمیر ، چیچنیا ، کوسووا ، فلپائن اور اری ٹیریا کے مظلوم مسلمانوں کے دلوں میں بھی جذبہ جہاد کی بجلیاں بھر دی ہیں -اگر ترکی -الجزائر جیسے مغربی تہذیب کے پڑوسی مما لک میں بھی نسل نو اسلام اور اسلامی تحریک سے وابستہ ہورہی ہے ‘اگر اتحاد عالم اسلامی ایک خواب سے بڑھ کر ایک تعبیر میں ڈھل رہا ہے ، اگر ایران کے اسلامی انقلاب اور وسط ایشیا کے مسلمانوں میں اسلام اور قران کی وابستگی نے دنیا کو ہلا کر رکھ دیا ہیتو بلا خوف و تردید یہ بات کہی جاسکتیہے کہ ان تمام کامیابیوں اور پیش قدمیوں کے پس منظر میں مولانا سید ابو الاعلی مودودی کے افکار کی روشنی اور ان کی بے مثال جدوجہد کی خوشبو موجود ہے –
اب آئیے دیکھتے ہیں مولانا مودودی علیہ رحمہ خود اس جدوجہد کے ابتدائی مرحلے کی بابت کیا کہہ رہے ہیں آپ کہتے ہیں کہ “جب میں نے حیدر آباد (دکن – ہندوستان )سے 1932 میں رسالہ ترجمان القران کی ابتدا کی اس وقت کا م کی جو ترتیب میرے ذہن میں تھی وہ یہ تھی کہ سب سے پہلے مغربی تہذیب و افکار کے اس غلبے کو توڑا جائے جو مسلمانوں کے ذہین طبقے پر مسلط ہورہا ہے – یہ بات ان کے ذہن نشین کی جائے کہ اسلام اپنا ایک نظام زندگی رکھتا ہے ، اپنا ایک نظام فکر اور نظام تعلیم رکھتا ہے اپنا ایک نظام تہذیب رکھتا ہے ، اپنا ایک سیاسی نظام رکھتا ہے جو ہر لحاظ سے مغربی تہذیب اور اس کے متعلقات سے فائق ہے -یہ خیال ان کے دماغ سے نکالا جائے کہ تہذیب و تمدن کے معاملے میں انہیں کسی سے بھیک مانگنے کی کوئی ضرورت ہے – ان کو بتایا جائے کہ اپنا ایک پورا نظام زندگی موجود ہے جو دنیا کے تمام نظا موں سے بہتر ہے – بھرپور تنقید کر کے ان پر واضح کیا جائے کہ مغرب کے جس نظام سے وہ مرعوب ہیں وہ اپنے ہر پہلو میں کیا کیا کمزوریاں رکھتا ہے -……. آپ مزید کہتے ہیں کہ پھر اس کے بعد 1939 اور اس کے بعد کا دور آیا – مسلم لیگ کی تحریک نے زور پکڑا – پاکستان کی تحریک اٹھنی شروع ہوئی – جس نے آخر کار 1940 میں قرارداد پاکستان کی شکل اختیار کی -اس زمانے میں جو بات میرے نزدیک اہم تھی وہ یہ تھی کہ مسلمانوں کو اس بات کا احساس دلایا جائے کہ تم محض ایک قوم نہیں اور تمہارا مقصود بھی محض ایک قومی حکومت کا قیام نہیں ہونا چاہیے – تم ایک مبلغ قوم ہو ، تم ایک مشنری قوم ہو ، تم اپنے مشن کو کبھی نہ بھولو – تمہیں وہ حکومت قائم کرنی ہے جودنیا میں اسلا م کے لئے ایک مشنری حکومت بن جائے –
حوالہ جات : تحریک اسلامی -ایک تاریخ ایک داستان – سید ابو الاعلی مودودی کی نگارشات پر مبنی تحریکی رپوتاز
( مقالہ – برائے – پی ایچ -ڈی ‘ سید مودودی اور ان کے سیاسی افکار -عصری افکار کے تناظر میں ‘ مقالہ نگار – فرید احمد پراچہ )
(جاری ہے )

حصہ