تتلی اور شاہ جی

91

آخری قسط

ہفتے میں سات دن گزارنا شاہ جی کو کیسے گوارہ ہو سکتا تھا۔ تیسرے دن تتلی شدت سے یاد آنے لگی اور چوتھے دن تو شاہ جی پاگل ہی ہو گئے۔ آج تو عہد ہی کر بیٹھے تھے کہ وہ بادشاہ سلامت کو تگنی کا ناچ نچا کر ہی دم لیں گے۔ ایک نعرہ مستانہ لگا کر مہمان خانے سے دوڑ چلے اور دربار میں دوڑتے ہوئے ہی داخل ہوئے۔ حسب سابق محافظوں نے تلواریں نکال لیں لیکن باد شاہ نے سختی سے شاہ جی کا راستہ روکنے سے منع کیا۔ شاہ جی نے جو تتلی کی جدائی پر پاگل ہی ہو چکے تھے، نہ دائیں دیکھا اور نہ بائیں، تخت پر چڑھ کر بادشاہ کی دونوں ٹانگیں پکڑیں، بادشاہ کو تخت سے کھینچا اور پھر اسی عالم میں اسے کھینچے ہوئے دربار سے باہر لے گئے۔ ایک جانب ہر محافظ بار بار بادشاہ سے کہہ رہا تھا کہ شاہ جی کی گردن مارنے کا حکم دیں تو دوسری جانب باد شاہ چیخ چیخ کر ہر ایک محافظ اور درباری کو منع کرتا جارہا تھا۔ ایک عجیب ناقابل بیان اور ناقابل برداشت منظر اور دوسری جانب بیان سے باہر باد شاہ کے احکامات۔ کسی کے کچھ سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ کرے تو کیا کرے۔ پورا دربار خالی ہوگیا اور ہر کوئی باد شاہ کے ساتھ ساتھ بھاگنے لگا۔ ابھی چند گز کا ہی فاصلہ طے ہوا تھا کہ ایک زوردار دھماکے کے ساتھ پورے دربار کی چھت زمین پر آگری۔ دھول مٹی کا وہ طوفان اٹھا کے سارا منظر اس میں چھپ گیا۔ دھول مٹی کا طوفان چھٹا تو ایک بہت ہی خوفناک منظر سامنے تھا۔ سارادربار کھنڈر بن چکا تھا۔ یہ دیکھ کر بادشاہ چلا اٹھا، دیکھا تم سب لوگوں نے۔ شاہ جی نے اپنی جان خطرے میں ڈال کر مجھ سمیت ایک ایک محافظ اور درباری کی جان بچالی۔ ایسی حرکت دیکھ کر کوئی بھی شاہ جی کو قتل کرسکتا تھا۔ مجھے بھی غصہ آ سکتا تھا۔ شاہ جی چلا چلا کر بھی اگر کہتے رہتے کہ دربار کی چھت گرنے والی ہے تو کون یقین کرتا۔ نہ وہ میری ٹانگیں کھینچ کر دربار سے باہر لے کر آتے نہ کوئی اندر سے باہر نکلتا۔ یہ کہہ کر وہ شاہ جی کے قدموں میں ڈھیر ہوگیا اور اٹھ کر اعلان کیا کہ میں شاہ جی کو ایک ہفتے اور اپنا مہمان رکھوں گا۔
شاہ جی جو خود حیرت اور خوف کی تصویر بنے ہوئے تھے وہ اس حکم سے پریشان ہو کر رہ گئے۔ ان کا پاگل پن توختم ہوچکا تھا لیکن ایک ہفتے کی مزید قید ان کیلئے اور قیامت بن گئی تھی۔
ہر دربار میں کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جو کسی کی مراعات سے حسد کرنے لگتے ہیں۔ بادشاہ کا وزیر اعظم شاہ جی کی حقیقت سے کافی حدتک آگاہ تھا اسے لئے ان کی ہر کرامت کو اللہ کی جانب سے ایک اتفاق ہی سمجھتا تھا۔ ایک دن بادشاہ کے کان بھرنے بیٹھ گیا اور کہا کہ بادشاہ سلامت، یہ شاہ جی اصل میں نہ تو سید ہیں اور نہ ہی کرامت والے۔ میں ان کی ساری حقیقت جانتا ہوں۔ ان کا تعلق ایک بے حد غریب گھرانے سے ہے۔ یہ دو میاں بیوی جس محلے میں رہتے ہیں وہ نہایت غریب علاقے میں ہے۔ یہ وہ شاہ ہیں جن کو دو وقت کی روٹی بھی میسر نہیں تھی۔ قدرت مہربان ہوئی تو اوپر نیچے ایسے واقعات ہوتے گئے کہ لوگ ان کو با کرامت شاہ ماننے لگے۔ بادشاہ بہت تحمل سے اس کی باتیں سنتا رہا۔ غصہ تو اسے بہت آرہا تھا لیکن اس نے بھی ایک فیصلہ کر لیا تھا۔ اس نے وزیراعظم سے کہا کہ پیروں کو آزمانہ بہت ہی برا ہوتا ہے۔ اب تک شاہ جی نے جو جو کرامت دکھائی ہے اس کیلئے اس سے کوئی فرمائش نہیں کی گئی تھی۔ لیکن اب جو کچھ بھی تم کر رہے ہو وہ ایک پیر کو آزمانا ہے۔ آزمانے کے بعد ہمارا یا کسی کا بھی یہ حق کبھی نہیں بن سکتا کہ ان سے ہم کوئی اور کرامت دکھانے کا کہیں۔ ٹھیک ہے آپ شک دور کریں لیکن شرط یہ ہے کہ اگر وہ آزمائش پر پورا اترے تو ہمارا بھی ایک فیصلہ ہے کہ ہم آپ کی گردن مروادیں گے۔ یہ سن کر وزیراعظم کانپ کر رہ گیا لیکن کیونکہ وہ شاہ جی کی حقیقت سے واقف تھا اس لئے نہ صرف بادشاہ کی بات مان لی بلکہ بادشاہ سے کہا کہ ٹھیک ہے لیکن اگر میرا یہ دعویٰ کہ شاہ جی جعلی ہیں اور وہ میرے آزمائش پر پورا نہیں اتر سکے تو پھر مجھے بھی ان کی گردن کاٹ دینے کی اجازت ہونی چاہیے۔ بادشاہ جو شاہ جی کا مرید ہوہی چکا تھا، اس نے یہ شرط قبول کر لی۔ دن مقرر کردیا گیا اور سارے شہر میں منادی کرادی گئی کہ کہ سارے مردو زن، بچے اور بوڑھے فلاں دن اور فلاں وقت فلاں میدان میں جمع ہوجائیں کیونکہ شاہ جی کو وزیر اعظم نے چیلنج کردیا ہے۔ اس کے نتیجے میں یا وزیر اعظم زندہ نہیں رہیں گے یا شاہ جی۔
شاہ جی کو جب اس بات کی خبر ہوئی تو ایک بار ان کے قدموں کے نیچے سے ساری زمین نکل کر رہ گئی۔ اب تک مسلسل ہونے والی کرامات کا ان کو خوب علم تھا کہ یہ سارے اتفاقات ہیں۔ پہلے تو وہ بہت گھبرائے لیکن اچانک وہ مطمئن ہوکر سوچنے لگے کہ جس خدانے اب تک انھیں ہر آزمائش میں پورا اتارا ہے تو آخری آزمائش میں بھی وہی اللہ ان کے ساتھ ہوگا۔ دل مطمئن ہوا تو بادشاہ کی خدمت میں حاضری چاہی۔ باد شاہ خود ان کے پاس دوڑا دوڑا آیا۔ وزیر اعظم کے علم میں یہ بات آئی تو دل ہی دل میں خوش ہوا کہ شاید شاہ جی بادشاہ کے حضور جان کی امان مانگ رہے ہوں۔ بادشاہ جب شاہ جی کے پاس پہنچ کر دوزانوں ہوا تو شاہ جی نے کہا کہ میں ہر آزمائش کیلئے تیار ہو لیکن آپ کو بھی میری ایک بات ماننا ہوگی۔ میں ایک غریب آبادی کا رہائشی ہوں۔ مجھے یہ سارے ٹھاٹ باٹ بالکل پسند نہیں۔ آخری آزمائش کے بعد آپ مجھے میرے ہی محلے میں واپس بھیج دیجئے گا۔ میں اپنے سارے اہل محلہ کی جس حد تک بھی ہوگی خدمت کرتا رہوں گا۔ میں وہیں پیدا ہوا ہوں اور چاہتا ہوں کہ وہیں میرا آخری سانس نکلے۔
بادشاہ حیرت سے شاہ جی کی باتیں سننتا رہا۔ لوگ تو عزت و جاہ اور دنیا کی دولت و آرام کے خوہاں ہوتے ہیں لیکن شاہ جی تو کچھ اور ہی مانگتے ہیں۔ بادشاہ کی آنکھوں میں آنسو آگئے اور انھوں نے شاہ جی سے وعدہ کیا کہ آپ فکر نہ کریں ایسا ہی ہوگا۔
وہ دن بھی آگیا جب شاہ جی کو آخری آزمائش سے گزرنا تھا۔ اس رات ان کو اپنی تتلی بہت ہی یاد آئی۔ صبح تک وہ اللہ کے بعد تتلی ہی کو یاد کرتے رہے۔ ادھر تتلی بھی جیسے ساری رات کانٹوں پر ہی لوٹتی رہی اور شاہ جی کے حق میں دعائے خیر کرتی رہی۔ شاہ جی کے شاہی مہمان بن جانے کے بعد اس کے گھر دولت برسنے لگی تھی کیونکہ بادشاہ ہر روز تتلی کیلئے سونا چاندی اور ہیرے جواہرات بھیجتا رہتا تھا۔ کئی محافظ حفاظت کیلئے مقرر کر دیئے گئے تھے اور کچھ کنیزیں بھی مامور کردی گئیں تھیں تاکہ شاہ جی کی تتلی کو کوئی تکلیف نہ ہو۔ تتلی اسی محلے میں پل کو جوان ہوئی تھی اس لئے جو کچھ بھی اس کے پاس آتا وہ اہل محلہ کو بھی اس میں سے مناسب حصہ دیا کرتی تھی۔ محلہ کے حالات بدلنے لگے تھے۔ سب تتلی سے بہت خوش تھے اور جب انھیں یہ معلوم ہوا کہ سارا شہر مدعو کیا گیا ہے اور فیصلہ ہوگیا ہے کہ یا وزیر اعظم زندہ بچے گا یا پھر شاہ جی تو محلے کے سارے چھوٹے بڑے رات دن شاہ جی کیلئے دعائیں مانگنے لگے۔
میدان میں ایک مقام پر شاہ جی کو ایک تخت پر بٹھا دیا گیا تھا۔ سارا شہر جمع تھا۔ شاہ جی کی تتلی بھی اسی ہجوم میں تھی۔ بادشاہ اور اس کے سارے محافظ اور درباری بھی قریب ہی موجود تھے۔ اتنے میں وزیر اعظم اپنی مٹھی میں کوئی چیز چھپا کر لایا اور شاہ جی سے کہا کہ بتاؤ میری مٹھی میں کیا ہے۔ شاہ جی کیا جانے کہ اس کی مٹھی میں کیا ہے۔ سمجھ گئے کہ بس اب آخری دن آہی گیا ہے آنکھیں بند کیں تو ان کی آنکھوں میں اپنی تتلی ہی دکھائی دی۔ تصور میں صورت دیکھتے جاتے اور رو رو کر کہتے جاتے “تتلی آ تتلی آ” یہی تکرار جاری تھی کہ بادشاہ نے وزیر اعظم سے کہا کہ مٹھی کھولو۔ جونہی اس نے مٹھی کھولی، ایک تتلی اس کی مٹھی سے نکل کر فضا میں پروار کرتی نظروں سے اوجھل ہوگئی۔ ادھر بادشاہ سمیت ہر فرد کی زبان سے نعرہ تحسین بلند ہوا ادھر جلاد کی تلوار نے وزیر اعظم کا سر تن سے جدا کردیا۔
سارا محلہ آج شاہ جی کی بدولت ایک خوشحال محلہ بن چکا ہے لیکن شاہ جی نے ہر چھوٹے بڑے اور مردوزن کو یہی ہدایت کی ہے کہ دیکھو اپنی حیثیت کبھی نہ بھولنا اور اللہ سے سچی لو لگا کر رکھنا۔ آج وہ خود بھی رات دن اللہ کی عبادت میں مصروف نظر آتے ہیں۔ بیشمار دولت ہونے کے باوجود بھی دووقت کی روٹی کیلئے محنت مزدوری کرتے ہیں اس لئے کہ انھوں نے ساری دولت اہل محلہ کی خدمت کیلئے وقف کردی ہے۔

حصہ