تتلی اور شاہ جی

91

قسط 2
میں وہیں کھانا کھاؤنگا۔ اس کی بیوی نے یہ سنا تو وہ سخت پریشان ہو گئی۔ بادشاہ کا دیا ہوا ہیرا گم ہوجانے کی وجہ سے اس کے شوہر کی صحت اتنی خراب ہوچکی تھی کہ اسے خونی پیچش تک لگ گئی تھی۔ حکیموں نے تو کسی بھی قسم کی ٹھوس چیز تک کھانے کو منع کردیا تھا۔ کہاں نرم غذائیں اور کہا ارہر کی دال اور دال بھری روٹی۔ اس نے شوہر سے کہا کہ کیا صحت کے ساتھ ساتھ آپ کا دماغ تو نہیں خراب ہوگیا؟۔ ارہر کی دال اور دال بھری روٹی کھاکر کیا آپ مرنا چاہ رہے ہیں۔ یہ سننا تھا کہ جوہری کو سخت غصہ آگیا اور نوبت جان سے ماردینے تک آ پہنچی تو بیوی نے کہا ٹھیک ہے جیسا آپ کہہ رہے ہیں میں ایسا ہی کروں گی۔ اس نے سوچا ہیرا نہیں ملا تو اسے بادشاہ مار دیگا۔ چلو مرنے سے پہلے کیوں نہ اس کی آخری خواہش ہی پوری کردوں۔ جوہری اپنی دکان پر بیٹھا ارہر کی دال اور دال بھری روٹی کا انتظار ہی کررہا تھا کہ اس کا ایک چھوٹا بیٹا ناشتہ دان لیکر آگیا اور اس کا کھانا دے کر گھر کو لوٹ گیا۔ اس نے وہیں اپنا ناشتے دان کھولا۔ اصلی گھی میں تڑکا لگی ارہر کی دال نے اس کی اشتہا ایسے بھڑکائی کہ وہ بلا روکے ہی کئی نوالے اپنے پیٹ میں نگل گیا۔ ارہر کی دال اور دال بھری روٹی کے چند نوالے ہی اس کے پیٹ میں اترے ہونگے کہ پیٹ میں آندھی طوفان چلنے لگے۔ اتنا مروڑ ہوا کہ کھانا ادھورا چھوڑ کر ہی باتھ روم کی جانب چھلانگ لگانا پڑی۔ بس پھر کیا تھا۔ ایسا آنا جانا لگا کہ کمر دکان کے فرش سے جالگی۔ جونہی وہ دکان کے فرش پر لمبا لمبا لیٹا اس کی نظر چھت پر گئی ۔
جہاں ایک بڑی ساری مینا نے اپنا گھونسلا بنایا ہوا تھا۔ غور سے دیکھنے پر اسے یاقوتی رنگ کی جھلمل جھلمل کرتی کوئی شے نظر آئی۔ معاملا سمجھ آنے پر وہ فرش پر لیٹے ہی لیٹے کئی فٹ اچھل پڑا۔ میری جان میری جان میراہیرامیرا ہیرامیرا ہیرا کہتا اٹھا۔ خوشی میں اتنی جان آگئی کہ سارے تکلیف دور ہوکر رہ گئی۔ بڑی ساری میز پر ایک اور میز رکھ کر وہ ایسے پھرتی کے ساتھ اٹھا جیسے کبھی بیمار ہی نہ رہا ہو۔ گھونسلے میں ہاتھ ڈالا تو وہی قیمتی ہیرا پایا جو باد شاہ نے اسے اپنی بیٹی کے ہار کی زینت بنانے کیلئے دیا تھا۔ پرندوں کو ہیرے بہت پسند ہوتے ہیں اسی لئے مینا اسے اٹھا لے گئی تھی۔ کیابات ہے شاہ جی کی۔ بے ساختہ اس کی زبان سے نکلا۔ نہ میں ارہر کی دال اور دال بھری روٹی کھاتا، نہ مجھے بار بار واش روم جانا پڑتا، نہ مجھ پر نقاہت طاری ہوتی، نہ میں فرش پر لیٹ جانے پر مجبور ہوتا، نہ گھونسلے پر نظر پڑتی اور نہ ہی میں ہیرا پاسکتا تھا۔ بس پھر کیا تھا۔ کئی تھان، ڈھیروں مٹھائی، ہزاروں روپے اور زیورات ایک بڑے سارے تھیلے میں جمع کئے اور شاہ جی کے پاس جا پہنچا۔ اس کو آتا دیکھ کر شاہ جی سارا ماجرا تو سمجھ ہی گئے تھے اس لئے سمٹ کر بیٹھ گئے۔ جوہری خوشامد پر خوشامد کرتا رہا، ہاتھ پاؤں دباتا رہا اور شاہ جی انکار پر انکار کرتے رہے۔ آخر کار جوہری سب کچھ ان کے قدموں پر نچھاور کرکیچلا گیا۔ اس کے جاتے ہی شاہ جی نے دائیں بائیں کا خوب اچھی طرح جائزہ لیا۔ اپنی جانب کسی کو متوجہ نہ پاکر سب کچھ سمیٹا اور گھر کی جانب تیز تیز قدموں کے ساتھ روانہ ہوگئے۔ آج تو گلی کے نکڑ ہی سے اپنی تتلی کو پکارر پکار کر کہنے لگے۔ دیکھ تتلی میں تیرے لئے کیا لایا، دیکھ تتلی میں تیرے لئے کیا لایا۔
اعلیٰ قسم کے کپڑوں کے تھان، ڈھیروں مٹھائی، ہزاروں روپے اور سونے چاندی کے زیورات نے تتلی کی آنکھوں کو خیرہ کرکے رکھ دیا۔ اتنا کچھ تو اس نے خواب میں بھی نہیں دیکھا تھا۔ آج پہلی بار اس نے سوچا تھا کہ بس اب وہ اپنے اتنے اچھے شاہ جی کو مزید اس کام کیلئے نہیں بھیجا کریگی اور اتنے پیسوں سے کوئی اور کام کرنے کا مشورہ دیگی۔ اس نے شاہ جی سے وعدہ کیا کہ آئندہ وہ ان کو تکلیف نہیں دے گی۔
ابھی چند ماہ ہی گزرے تھے کہ تتلی کی نیت بدل گئی۔ آج پھر جمعہ تھا۔ شاہ جی کے سامنے پھر اصلی گھی کا تڑکا لگائی ارہر کی دال رکھی تھی اور ساتھ ہی دال بھری روٹی بھی۔ بار بار کی کامیابیوں نے لالچ اور طمع بڑھادی تھی۔ شاہ جی کا اندر بھی اب بہت اجلا نہیں رہ گیا تھا اس لئے پہلے کی طرح انھوں نے تتلی سے کچھ کہے بغیر ساری تیاری پکڑلی۔ آج پہلی مرتبہ تتلی کا دل اندر سے رونے جیسا ہوا تھا۔ سوچ رہی تھی کہ میں انے اتنے اچھے شوہر کو بھی اپنے جیسا رنگ لیا۔ جب شاہ جی مسجد کیلئے جانے لگے تو تتلی پہلے کی طرح ان کو رخصت نہ کر سکی اور خود شاہ جی بھی پہلے کی طرح تتلی سے مل کر نہ گئے۔
جمعے کی نماز ختم ہوئی تو شاہ جی حسب سابق ابھی بیٹھنے کی تیاری ہی کر رہے تھے کہ چار شاہی گھڑ سوار ان کے پاس آن موجود ہوئے۔ شاہی گھڑ سواروں کو دیکھ کر شاہ جی کی جان ہی نکل گئی لیکن جب وہ نہایت عقیدت کے ساتھ جھک کر شاہ جی سے ملے تو شاہ جی کی جان میں جان آئی۔ ادب کے ساتھ ہاتھ باندھ کر عرض کیا کہ شاہ جی آپ کو بادشاہ سلامت نے یاد فرمایا ہے۔ یہ سن کر ایک مرتبہ پھر ان کا سارا بدن لرز کے رہ گیا۔ وہ اپنی حقیقت خوب اچھی طرح جانتے تھے۔ اپنے جعلی ہونے کا انھیں خوب علم تھا اس لئے خوف زدہ ہوجانا فطری بات تھی۔ بادشاہ نے یاد کیا ہے تو کوئی بہت ہی اہم بات ہوگی۔ وہ سچ مچ تو روشن ضمیر تھے نہیں اس لئے سوچا کہ کسی طرح بلا ٹلے اور وہ وہاں سے بھاگ نکلیں۔ شاہی دستے نے کہا کہ بادشاہ سلامت کا فرمان ہے کہ شاہ جی کو بصد عزت و احترام دربار میں لایا جائے۔ ذرا بھی بے ادبی لائق سزا ہوگی۔ شاہ جی نے سوچا کہ یہاں سے بوریا بستر سمیٹ کر کھسکنے میں ہی عافیت ہے اس لئے بیٹھنے کا ارادہ ترک کرکے گھر جانے کیلے مڑے ہی تھے کہ ایک سپاہی نے راستہ روک کر کہا کہ باد شاہ کا حکم ہے کہ شاہ جی اگر انکساری کی وجہ سے انکار کریں تو ان کو زبردستی بھی لایا جا سکتا ہے اس لئے آپ سے گزارش ہے کہ ہمارے ہمراہ چلے چلیں۔ شاہ صاحب سمجھ گئے کہ جان نہیں چھوٹے گی۔ بجائے اس کے کہ یہ زبردستی کریں اور دنیا مذاق اڑائے، بہتر ہے عزت کے ساتھ ہی چلا جائے۔
وہ ان کے ہمراہ جاتو رہے تھے لیکن دل ہی دل میں بہت خوف زدہ بھی تھے اور پہلی مرتبہ اپنے ضمیر کے میلا ہوجانے کو بھی کوس رہے تھے۔ باد شاہ کے دربار میں جاتے جاتے آدھے ہو گئے تھے۔ ان کو اور کوئی یاد آرہا ہو یا نہیں آرہا ہو اپنی تتلی بہت ہی یاد آرہی تھی۔ دربار میں پہنچی تو بادشاہ سلامت احترام میں کھڑے ہو گئے۔ بہت عزت و تکریم سے اپنے تخت پر ان کو جگہ دی۔ شاہ جی کا پورا جسم کسی خزاں زدہ پتے کی مانند لرز رہا تھا۔ چہرہ عرق آلود اور انکھیں نم تھیں۔
بادشاہ نے بڑی عقیدت کے ساتھ شاہ جی سے کہا کہ کہ میری بیٹی کا نولکھا ہار چوری ہو گیا ہے۔ ظاہر ہے یہ کام کسی باہر کے فرد نے تو نہ کیا ہوگا۔ سیکڑوں کنیزیں اور غلام ہیں۔ بظاہر سب کے سب وفادار اور ایماندار ہیں۔ بجائے اس کے کہ سب کو مشکوک بناؤں میں نے سوچا آپ سے گزارش کروں کہ آپ کے توسط سے اصل چور کو کیوں نہ تلاش کرواؤں۔ آپ کی شہرت پورے شہر میں پھیل چکی ہے اور پھر یہ کہ آپ قسمت والوں کو ہی ملتے ہیں۔ لالچ نہیں رکھتے۔کبھی کبھی اتفاقاً مسجد کی جانب آ نکلتے ہیں۔ میں نے مسجد کے آگے پہرے دار لگا دیئے تھے۔ میری قسمت کہ آپ آج دکھائی دیئے۔ بادشاہ یوں مخاطب تھا جیسے شاہ جی بادشاہ ہوں اور وہ نیاز مند۔ وہ سوچ رہے تھے کہ کاش بادشاہ جو جو کچھ ان کے بارے میں کہہ رہا ہے وہ ایسے ہی ہوتے۔ وہ تو جعلی شاہ ہیں اور قدرت ان پر اتفاقاً ہی مہربان ہوتی رہی ہے۔ کاش ان کا دل لالچ کا شکار نہیں ہو گیا ہوتا تو آج یہ دن دیکھنا نصیب نہ ہوتا۔
بادشاہ کی ساری باتیں سننے کے بعد وہ بادشاہ کے سامنے ہاتھ جوڑ کر کھڑے ہو گئے اور رو رو کر کہنے لگے کہ وہ اصلی شاہ نہیں ہیں۔ ان کو معاف کیا جائے اور گھر جانے دیا جائے۔ بادشاہ نے کہا کہ ٹھیک ہے۔ آپ کو ایک کمرے میں بند کردیا جائے گا اور آپ کو صبح چار بچے سے پہلے یہ بتانا ہوگا کہ میری بیٹی کا ہار کس نے چرایا ہے۔ اگر آپ سچے شاہ ہوئے تو آپ کو معلوم ہوجائے گا اور اگر سچے پیر نہ ہوئے تو صبح چار بجے آپ کو پھانسی دیدی جائے گی۔ یہ سن کر شاہ جی نے دل مضبوط کیا اور بادشاہ سے کہا اس کی بیوی جسے وہ تتلی کہتا ہے، اسے خبر دی جائے تاکہ وہ پریشان نہ ہو۔ بادشاہ نے کہا کہ اس کا انتظام پہلے ہی کردیا گیا ہے اور اسے بتادیا گیا ہے کہ آپ میرے مہمان ہیں۔
شاہ جی کو ایک بہت آرام دہ کمرے میں پہنچا دیا گیا۔ یہاں آسائش کی ہر شے موجود تھی اور دروازے کے باہر ایک خاص خادم بھی موجود تھا جو کسی بھی ضرورت کیلئے پکارا جاسکتا تھا۔ شاہ جی کیلئے جنت جیسا یہ کمرہ بھی دوزخ لگ رہا تھا۔ وہ جانتے تھے کہ صبح چار بجے ان کو پھانسی دیدی جائے گی۔ شام کے بعد رات نے بھی آلیا لیکن شاہ جی کی آنکھوں میں نیدک کا دور دور تک کوئی پتہ نہ تھا۔ ابھی رات آدھی ہی گزری تھی کہ شاہ جی کی موت کے خوف سے آنکھیں بھر آئیں۔ شاہ جی قدرتی طور پر سر کے بالوں سے محروم تھے۔ سر سے ٹوپی اتار،سر پر ہاتھ پھیر پھیر کر روتے جاتے اور زور زور سے کہتے جاتے کہ اے چندیا تیری خیر نہیں تو صبح چار بچے پھانسی پے چڑھے گی۔ اے چندیا تیری خیر نہیں تو صبح چار بچے پھانسی پے چڑھے گی۔ اب شاہ جی کی قسمت دیکھیں کہ قریب ہی ایک باندی تھی اور اس کا نام چندیا ہی تھا۔ جب اس کے کانوں میں یہ صدا پہنچی تو وہ تو بستر پر اچھل پڑی۔ اسی نے شہزادی کا ہار چرایا ہوا تھا لیکن اسے اتنی مہلت نہ مل سکی تھی کہ وہ اسے محل کے باہر لے جا سکے۔ اس نے دل میں کہا کہ ارے شاہ جی کو تو میرا نام تک معلوم ہو گیا۔ اس نے جھٹ ہار نکالا۔ ساتھ ہی ڈھیروں زیورات اور نقدی لی اور جلدی جلدی شاہ جی کے کمرے کی کھڑکی پر آن کھڑی ہوئی۔
شاہ جی شاہ جی، یہ میں ہوں چندیا باندی۔ خدا کیلئے مجھے پھانسی سے بچا لیجئے۔ ہار میں نے ہی چرایا ہے۔ آپ واقعی روشن ضمیر ہیں۔ مجھے معاف کردیں۔ مجھے پھانسی سے بچالیں۔ شاہ جی کے کانوں میں باندی کی آواز پہنچی تو ان کے رونے دھونے پر بریک لگ گیا۔

حصہ