سنڈے گرم

100

اصولاً یہ ہفتہ تو نظریاتی و جغرافیائی محاذ پر اہمیت کا حامل رہا۔ ’امن کے ہیضہ‘ کا شکار ہمارے حکمرانوں نے جو کچھ کیا اُس کے اثرات اپنی جگہ ، اندرونی نظریاتی جنگ بھی سامنے آگئی۔ ایک جانب فیاض الحس چوہان کا ہندوؤں کے مذہبی نظریات کا اسلامی روایات سے موازنہ کرنا اور دوسری جانب فیصل واڈا کے ناقابل بیان الفاظ جنہیں تمام علماء کرام نے ، عقل و شعور رکھنے والے افراد نے شرک، کفر، توہین رسالت ﷺ، خلاف شرع، جرم سمیت سب کچھ قرار دیا۔اب ہوا کیا یہ ہے اہم بات ۔ فیصل واوڈا آج بھی وفاقی وزارت کے مزے اڑا رہے ہیں جبکہ فیاض الحس چوہان پنجاب کی وزارت اطلاعات سے مستعفی ہو چکے ہیں ۔ یہ کوئی معمولی بات نہیں ، منہ کے فائر بھی نہیں ۔ ان کے پچھے سخت نظریاتی بنیادیں ہیں جن کو پوری قوت سے توڑا گیا۔ ماس کمیونیکیشن کے ذریعہ معصوم اذہان کی رائے غلط سمت بنائی گئی ۔
کیا ہندوؤں نے جو پاکستان میں رہتے ہوں یا دنیا کے کسی حصہ میں ’’گائے کیلیے مختص اپنے مذہبی بیانیے کو رد کر دیا ہے ‘‘ جو انہیں تکلیف ہوئی کہ اُن پر غلط بات منسوب کی گئی ؟ اگر کسی مسلمان کو کہا جائے کہ تم پانچ وقت نماز پڑھتے ہو یا بیٹھ کر پانی کا حکم ہونے کے باوجود عرب کے ایک کنوئیں کا پانی کھڑے ہو کر پیتے ہو تو کیا یہ توہین ہو گی یا دل آزاری ہوگی؟
ذرا سوچیں کہ یہ کس کی اور کیوں دل آزاری ہو رہی تھی ۔فرنود عالم کی پوسٹ ملاحظہ فرمائیں اور اندازہ کریں اس بیانیے کا جو فیصل واوڈا کے بیان کو ہلکا مگر فیاض الحسن کے بیان کو سخت بھاری قرار دے رہے ہیں :
’’فیصل واڈا پہ گرفت بے کار ہے۔ توہین نہیں کی، بس اٹھائی گیری میں ہاتھ کو جھٹکا زیادہ دے دیا۔ میاں نواز شریف کو جوتا اوراحسن اقبال کو گولی اسی گھن چکر میں لگی تھی،مگر ہم وہی شعلے بھڑکانے سے باز نہیں آرہے۔ کسی کی جان کے درہے ہو جانا تو جیسے کوئی بات ہی نہ ہو۔ مرکھپ جائیں گے، دوا ہم عطار کے اسی لونڈے سے لیں گے۔ فیاض الحسن کا معاملہ البتہ سنجیدہ ہے۔ فیاض الحسن ہمارے داخلی تضاد کا مجسم نمونہ ہے۔ ہم کہتے ہیں اس پرچم کے سائے تلے ہم ایک ہیں۔ اسی سانس میں کہتے ہیں دو قومی نظریہ اب بھی زندہ ہے۔ ایک ہی سانس میں دو مختلف باتیں سکھانے کا نتیجہ کیا ہوتا ہے، اس کا جواب فیاض الحسن کے بیان اور اس کی وضاحت میں پوشیدہ ہے۔ فیاض الحسن نے کہا ’’او گائے کا یورین پینے والو! توہاڈی وغیرہ وغیرہ‘‘۔ اب وضاحت سنیے!’’میں نے تو انڈیا میں رہنے والے ہندووں کو کہا تھا‘‘۔یعنی؟ یعنی دل ہی دل میں وہ سوال کررہا ہے کہ یہ پاکستانی ہندو کا دل کس خوشی میں دکھ گیا رے۔ یقین مانیے آپ ابھی بھی سائیڈ پہ لے جاکر فیاض الحسن سے بات کر لیں، اتنا وقت گزرنے کے بعد بھی اسے سمجھ ہی نہیں آیا ہوگا کہ اصل میں ہوا کیا ہے۔ خوش آئند بات یہ ہے کہ نئی پود کو ٹکڑوں ٹکڑوں میں سہی، مگر بات سمجھ آرہی ہے۔ وہ بھی اس لیے کہ نئی پود زیادہ لمبے چکر میں نہیں پڑتی، وہ سیدھی سیدھی سی ایک بات جانتی ہے کہ بھئی کسی کا دل نہیں دکھنا چاہیے بس۔ ورنہ سچ تو یہ ہے کہ ایک سطح پہ جاکر ہمارے اجتماعی شعور کو فیاض الحسن ہی لاحق ہے۔ وہ کیسے؟ وہ ایسے! نصابِ تعلیم اجتماعی شعور کا نمائندہ سبق ہوتا ہے۔ نصاب کی زبان اور اس کا بیان سماج کے تمام طبقات کا لحاظ رکھتا ہے۔ اس کا لب ولہجہ جنس، عقیدے، رنگ و نسل اور مذہب ومسلک سے بالاتر ہوتا ہے۔ مگر آپ اپنا نصاب اٹھالیجیے۔ وہ درس گاہ میں بیٹھے ہوئے مسیحی طالب علم سے کہتا ہے ۔
“بائبل تحریف شدہ کتاب ہے” یہی نصاب ہندو طالب علم کوبتاتا ہے کہ خواتین سے متعلق تمہارے رجحانات بالکل ٹھیک نہیں ہیں۔ ٹھیک تصور تو وہ ہے جو اسلام بتاتا ہے۔
اچھا، یہ بات اگر آپ کسی کے سامنے رکھ دیں تو وہ پہلے جھٹکے میں الٹا آپ سے کہتا ہے، تو اس میں غلط کیا ہے؟ قرآن حدیث میں یہی تو لکھا ہے! اب ہم قرآن کی بات چھوڑ دیں کیا؟
میں اس کا مزید تجزیہ کرنا چاہتا ہوں۔ مگرایسا نہیں کروں گا۔ کیونکہ میرے تجزیے سے زیادہ وہ کمنٹس اہم ہیں، جو ابھی آنے والے ہیں۔ بس پڑھتے جائیں اور سوچتے جائیں کہ ہماری مشکل کیا ہے۔ صرف ایک مشکل ہے۔ کنفیوژن!‘‘
یہ سوچ بہت ساری سوچوں کی عکاسی کر رہی ہے ، اس یجنڈے کی بھی جسے پاکستان میں نافذ کرنے کی پوری کوشش جاری ہے۔ عالمی یوم خواتین کا شور ہے ،اس شور میں خواتین مارچ ، خواتین حقوق کی باتیں ہیں لیکن پاکستان میں اس ایجنڈے کے نفاذ کی کریہہ تصویر کو اس طرح دیکھیں کہ کوئی اس کا جواب دینے کو تیار نہیں ہوتا کہ ’’ایک جانب ہمارے ہاں اولڈ ہومز اور ڈے کیئر سینٹر کھلتے جا رہے ہیں،فیملی سپورٹ کا تصور ختم ہو رہا ہے ۔اس کے نتیجے میں سوسائٹی اندر سے کھوکھلی ہوتی جا رہی ہے ۔دوسری جانب وومن ایمپاورمنٹ کے پیچھے عورتوں پر مظالم کو ایشو بنایاجا رہا ہے ، جس کے پیچھے صرف مغرب کے رنگ میں رنگنے کا منصوبہ ہے۔اعداد و شمار کو دیکھیں جو اس کے بر عکس تصویر پیش کرتے ہیں۔ 2018کے اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں 30عورتیں 2018 میں غیرت کے نام پر ماری گئیں ۔ جبکہ امریکہ نے 2016میں ڈومیسٹک وائلنس کا ڈیٹا بتاتا ہے کہ تمام ریاستوں میں 1809خواتین کی اموات ہوئیں ۔جبکہ پچھلے سال 30%بڑھا ہے۔2000خواتین روزانہ کال کرتی ہیںاور اپنے اوپر مظالم کی شکایت درج کراتی ہیں ۔ اتنے واضح اعداد و شمار کے باوجود بھی پاکستان میں عورتوں پر مظالم کا رونا گانا کیا معنی رکھتا ہے آپ سوچ سکتے ہیں ۔‘‘
اس ہفتہ پاک بھارت جنگ کے تناظر میں آگ مستقل بھڑکتی رہی ۔ پاکستانی عوام نے دل کھول کر جہاں بھارت کی بینڈ بجائی وہاں بھارتی میڈیا کا جھوٹ کھلنے پر خود بھارتی بھی غصہ میں آ گئے اور بھارتی میڈیا کی خوب کلاس لی۔ ٹوئٹر پر دو دن ٹرینڈ بنا رہا’indian fake media‘۔ اس دوران بھارت نے سمندری راستے سے بھی ہل جل کرنے کی کوشش کی جسے پاکستانی بحریہ نے ناکام بنا دیا۔
اسی طرح صہیب جمال لکھتے ہیں کہ ــہمارے دو شیر مولانا اسد محمود ، عبدالرشید۔سنو غنڈو!جس وقت کراچی کے علاقے لیاری میں موت کا کھیل چل رہا تھا جب روز وہاں لاشیں گرتی تھیں ، دہشت کا دور دورہ تھا تو یہ سندھ اسمبلی میں متحدہ مجلسِ عمل کا ممبر واحد ممبر اسلامی جمعیت طلبہ کا سابق ناظم اعلیٰ ، جماعت اسلامی کا کارکن وہاں شیر کی طرح رہتا تھا ، بہار کالونی کراچی کا میرا سابقہ محلے دار ، اس وقت اس نے وہاں کے نوجوانوں کو اسلحہ ، دہشت گردی ، لوٹ مار سے الگ کرنے کی ٹھانی ، بچپن سے ساتھ رہنے والے اس کے لیاری کے ساتھی جن کو وہ تباہ ہوتے نہیں دیکھ سکتا تھا اس نے وہاں امن و محبت کے لیے نوجوانوں کو اکھٹا کیا منشیات کے خلاف کام کیا ، خوف اور دہشت کے ماحول میں جب چوہدری اسلم بھی لیاری کے اندر نہیں جاسکتا تھا یہ جوان وہاں ہی رہتا اور نوجوانوں کو راہ راست دکھاتا۔اس کے ساتھ جو نوجوان ہیں جو عوام ہیں ان کی جماعت اسلامی سے کوئی ہمدردی نہیں وہ بس عبدالرشید کو جانتے ہیں ان کو مجلس عمل سے کوئی کام نہیں وہ صرف عبدالرشید کو جانتے ہیں۔یہ پی ٹی آئی والے ازل سے بدتہذیب ، بدتمیز ، اور لشکری غنڈے جن کو ایم کیو ایم نے جوتے لگائے آج وہ الطاف حسین کے بیوفا غنڈوں کے ساتھ ہم رکاب ہیں اور کراچی میں اسی غنڈہ گردی کا آغاز سندھ اسمبلی سے شروع کر رہے ہیں۔وہی گیڈر اور لکڑ بھگوں والا انداز ٹولی بنا کر شیر لیاری پر حملہ اکیلے اور نہتے شخص پر حملہ۔ دھرنوں کے پیدائشو! یہ یک سیٹر تم کو چبھتا رہے گا جیسے ہمارے شیر اسد محمود کی نمازِ مغرب تم کو چبھ رہی ہے۔مجلسِ عمل کے دو شیر۔‘‘
یہ تو جذباتی اظہار تھا ، ایسی پر جوش ٹیم تھی سید عبد الرشید کی جس نے واقعہ کی رات ہی ٹوئٹر پر ٹاپ ٹرینڈ بنا دیا ایک جماعتی سب پر بھاری ۔ پاکستان تحریک انصاف اپنے تمام تر ٹولے کے باوجود ، ماضی میں کئی ٹرینڈ بنانے والی قوت کے باوجود اس ٹرینڈ کا مقابلہ نہیں کر سکی۔ ویڈیو کلپس اور سید عبد الرشید کی مقبولیت ،لیاری کی عوام جنہوں نے سالہا سال سے پاکستان پیپلز پارٹی کے گڑھ سے نیا امیدوار منتخب کیا تھا اُسن سب کی سپورٹ نے سید عبد الرشید کا سر جھکنے نہیں دیا۔ ان کا دعویٰ ہے کہ جتنی اپوزیشن اسمبلی فلور پر اُنہوںنے پیپلز پارٹی کے خلاف کی ہے اتنی اپوزشین تمام69ارکان نے بھی نہیں کی۔‘‘ اپوزیشن لیڈر فردوس شمیم نے دو روز قبل متحدہ مجلس عمل کے اکلوتے رکن اسمبلی کو جو کہ خود انکی اپوزیشن بینچوں کا حصہ ہیں اُنہیں پاکستان پیپلز پارٹی کابغل بچہ کہہ دیا ۔ یہ بات ہر لحاظ سے ناقابل برداشت تھی چنانچہ اپنا قانونی حق استعمال کرتے ہوئے سید عبد الرشید نے اپوزیشن لیڈر کے خلاف تحریک استحقاق سند ھ اسمبلی میں پیش کرنے کا تاریخی اعلان کیا۔اس کو بروقت رکوانے اور افہام و تفہیم کے بجائے سیاسی عدم بلوغت کا مظاہرہ کرتے ہوئے تحریک انصاف بشمول اپوزیشن نے مذکورہ تحریک استحقاق منظور ہونے کے بعد ہنگامہ آرائی کر دی ۔ اس کا نتیجہ الٹا ان کے خلاف ہی نکل آیا۔بہر حال سوشل میڈیا پر اس ایشو کو مناسب جگہ ملی ۔

حصہ