تتلی اور شاہ جی

132

قسط 1
بچو! میں آپ کو اپنے بچپن میں سنی ایک کہانی سنانے لگا ہوں۔ دلچسپ کہانی ہے۔ سنو گے تو بہت ہی مزا آئے گا۔
پاکستان کے ایک دور دراز کے چھوٹے سے شہر میں میاں بیوی رہتے تھے۔ بہت غریب تھے۔ دو وقت کی روٹی بہت مشکل سے پوری ہوتی تھی۔ محنت مزدوری کرکے جو پیسے مل جاتے اس میں جو کچھ میسر آسکتا کھالیا کرتے۔ بہت صابر اور قانع تھے۔ خوددار اتنے کہ کسی کے آگے ہاتھ پھیلانا گوارہ نہ تھا۔ دونوں اولاد کی نعمت سے محروم تھے لیکن پھر بھی کوئی غم نہیں تھا۔ جانتے تھے کہ رب کی رضا کے آگے کسی کا کوئی بس نہیں۔ آپس میں مثالی محبت تھی۔ ایک دوسرے سے چند گھنٹوں کی دوری بھی برداشت نہیں تھی۔ بیوی بھی سلائی کڑھائی کرکے چار پیسے کمالیا کرتی تھی اس طرح کسی نہ کسی طرح ان کا گھر کا گزارا ہو ہی جایا کرتا تھا۔میاں پیار سے اپنی بیوی کو “تتلی” کہا کرتے تھے۔ اور بیوی ان کو شاہ کہا کرتی تھیں۔ وہ ان کو شاہ ،بادشاہ کے طور پر کہتی تھیں لیکن نہ جانے لوگ ان کو سید سمجھ کر “شاہ جی” کہنے لگے تھے۔ اہل محلہ کو انھوں نے بہت سمجھایا کہ وہ سید نہیں البتہ بیوی کی نظر میں وہ شاہ ہیں لیکن آہستہ آہستہ ان کی شہرت شاہ جی کے نام سے اتنی عام ہوئی کہ وہ اسی نام سے مشہور ہوگئے۔
ایک دن میاں صاحب یہ دیکھ کر حیران رہ گئے کہ ان کی “تتلی” نے آج ان کی پسند کی ارہر کی دال اور دال بھری روٹی پکائی ہے۔ ارہر کی دال اور دال بھری روٹی کے وہ دیوانے تھے لیکن دیسی گھی میں پکی ارہر کی دال اور دال بھری روٹی کھائے ہوئے نہ جانے کتنے برس بیت چکے تھے۔ یہ اچھے وقتوں کی باتیں تھیں لیکن فی زمانہ بہت تنگ دستی کا زمانہ تھا اس لئے جو روکھی سوکھی میسر آتی کھا لیا کرتے تھے۔ انھوں نے اپنی تتلی کی جانب بہت غور سے دکھا اور پوچھا کہ ایسا کیسے ممکن ہوا، کہنے لگی آپ فی الحال یہ تو کھائیں کیونکہ آپ کیلئے ابھی اور بھی حیران کردینے والی باتیں ہیں۔ وہ بڑے عجیب انداز میں بیوی کی جانب دیکھتے ہوئے کھانے میں مصروف ہوگئے۔ ایک تو بہت طویل مدت کے بعد ان کو ان کی پسند کا کھانا ملاتھا تو دوسری جانب ان کی تتلی نے کھانا پکانے میں بھی وہ ہنر دکھایا تھا کہ وہ انگلیاں چاٹتے رہ گئے۔ کھانا ختم ہوا تو تتلی نے ان کے سامنے بالکل نیا چوغہ اور پاجامہ لا کر رکھ دیا۔ وہ یہ دیکھ کر اچھل پڑے لیکن بیوی نے کہا ابھی کچھ نہ پوچھیں۔ اٹھیں اور غسل کریں، لباس تبدیل کریں اور جمعہ کی تیاری کریں۔ ان کا حلیہ بے شک شاہ جیوں جیسا ہی تھا لیکن مسجد کی شکل انھوں نے کبھی نہیں دیکھی تھی۔ حیرانی و پریشانی کے عالم میں اپنا نیا چوغہ اور پاجامہ سنبھال کر چپ چاپ اٹھ کھڑے ہوئے۔ منھ میں ارہر کی دال اور دال بھری روٹی کا ذائقہ اور نہایت پیار کرنے والی بیوی کا رویہ، دونوں انھیں کسی انکار کی اجازت ہی کب دے رہے تھے۔ نہا دھوکے باہر آئے تو مزید اور حیرتیں ان کی منتظر تھیں۔ پلنگ پر پڑی ایک بڑی ساری مالا، ایک شاندار چوخانے کا رومال اور ایک سفید براق ٹوپی نظر آئی۔ ان کے کچھ کہنے سے پہلے ہی بیوی نے کہا کہ کئی دنوں سے سلائی کڑھائی کرکے کچھ پیسے جمع ہوئیتھے جس کی وجہ سے یہ سب کچھ بنا۔شاہ جی نے نے کہا کہ چلو یہاں تک تو سب ٹھیک ہے لیکن اب مجھے کرنا کیا ہے۔ تتلی کہنے لگی کہ بس میری خاطر آپ نماز کے بعد مسجد کے دروازے پر رومال بچھا کر بیٹھ جائیے گا۔ یہ سن کر رومال، ٹوپی اور مالا زمین پر گرگئے۔ کہنے لگے کہ کیا میں بھیک مانگوں؟۔ بیوی نے کہا سب آپ کو شاہ جی سمجھتے ہیں۔ شاہ جیوں پر بھیک اور زکوٰۃ خیرات کے سارے پیسے حرام ہوتے ہیں۔ لوگ تو آپ سے دعائیں لینے آئیں گے اور نذرانہ دے کر جائیں گے اس لئے آپ غم زدہ نہ ہوں۔ اللہ آپ کی مدد کریگا۔ شاہ جی کو غصہ آیا تو تتلی کی آنکھوں میں بھی آنسو آگئے۔ کہنے لگی کہ کیا آپ اپنی تتلی کی خاطر اتنا بھی نہیں کر سکتے۔ بس پھر کیا تھا۔ شاہ جی نے بڑھ کر تتلی کے آنسو اسے چوخانے والے رومال سے صاف کئے، ٹوپی سر پر رکھی اور مالا سنبھالتے ہوئے مسجد کی جانب روانہ ہوگئے۔ گلی سے گزرے تو اہل محلہ بڑی حیرانی سے انھیں دیکھنے لگے۔ جہاں جہاں سے گزرتے دیکھنے والے حیرت کی تصویر بنے ان کو دیکھنے لگتے۔ ہر آنکھ میں ایک ہی سوال تھا کہ شاہ جی کو آج اللہ کا گھر کیسے یاد آگیا۔ ان کو نہ تو کسی کی حیرت میں ڈوبی نظروں کی پرواہ تھی اور نہ ہی لوگوں کے آوازے ان کو سنائی دے رہے تھے۔ ارہر کی دال اور دال بھری روٹی یاد تھی یا پھر تتلی کی پیار بھری فرمائش۔
جمعہ کی نماز ختم ہوئی تو وہ مسجد کے دروازے پر رومال بچھا کر اور بڑی سی مالا ہاتھ میں سنبھال کر بیٹھ گئے۔ عصر کا وقت بھی گزرگیا اور مغرب کا وقت بھی قریب آگیا لیکن نہ کوئی نیاز مند آیا اور نہ نیاز۔ اس صورت حال میں اللہ اللہ کی تکرار بیوی کی برائیوں میں بدلنا شروع ہو گئی۔ ابھی آواز میں بہت بلندی نہیں آیا تھا کہ ایک گوالا فریاد لیکر آیا۔ شاہ جی شاہ جی میری بھینس صبح سے لاپتہ ہے، کچھ بتائیں کہاں ہے۔ شاہ صاحب بیوی پر پہلے ہی غصے میں تھے۔ اس کے ایک تھپڑ رسید کرکے گھر جانے کو کہا۔ وہ کچھ نہ سمجھتے ہوئے گھر پہنچا تو گھر پر بھینس کو موجود پایا۔ بس پھر کیا تھا۔ فوراً بازار بھاگا۔ ایک تھان کپڑے کا لیا، پانچ کلو مٹھائی خریدی اور 100 روپے کا نوٹ (آج کل کے زمانے کے لحاظ سے دس ہزار روپے) لیکر شاہ صاحب کی خدمت میں حاضر ہو گیا۔ شاہ جی نے ایک نظر اٹھا کر دیکھا تو دل کنپٹی میں دھڑکنے لگا۔ لیکن تھے سمجھدار۔ عقیدت مند شاہ جی شاہ جی کہہ کر ان کے قدموں میں وہ رکھتا لیکن شاہ جی سب کچھ دور ہٹا دیتے۔ عقیدت مند نے قدموں میں سر ہی رکھ دیا تو شاہ جی نے بھی اپنے بڑے سارے رومال میں سب کچھ سمیٹ لیا اور اس کے سرپر دست شفقت پھیرنے لگے۔ وہ نذرانہ رکھ کر گیا ہی تھا کہ شاہ جی نے دائیں بائیں دیکھا اور کسی کو قریب نہ پاکر فوراً گھر کی راہ لی۔ ابھی دوتین گھر اور طے کرنا باقی تھے کہ زور زور سے چلانے لگے۔ دیکھ تتلی میں تیرے لئے کیا لایا۔ تتلی آواز سن کر گھر سے باہر نکلی تو شاہ جی لدے پھدے چلے آرہے تھے۔ شاہ جی نے سب کچھ اس کے حوالے کیا اور گھر میں داخل ہوگئے۔
تتلی کے چہرے پر ایک عجیب سی خوشی کا عالم تھا لیکن جب اس نے شاہ جی کی جانب دیکھا تو وہ کچھ بجھے بجھے سے نظر آئے۔
آپ کو کیا ہوا، تتلی نے پوچھا
دیکھ تتلی! شاہ جی بولے۔ ملا تو ہم کو اتنا ہے کہ پانچ سات ماہ بہت آرام سے گرز جائیں گے لیکن سچ پوچھ تو مجھے یہ سب اچھا نہ لگا۔ دیکھ اب مجھ سے ایسا سب کچھ کرنے کو نہ کہیو۔
نہیں شاہ جی! میں اب ایسا نہیں کہونگی۔
ابھی چند ماہ ہی گزرے تھے کہ ٹھیک جمعہ کے دن شاہ صاحب کے سامنے پھر اصلی گھی میں تڑکا لگی ارہر کی دال اور دال بھری روٹی رکھی تھی۔
یہ کیا، شاہ جی بولے۔
کچھ نہیں، میں نے سوچا ایک بار پھر “جمعہ” پڑھ آؤ۔ تم یہ کھاؤ جب تک میں تمہارے غسل کا انتظام کروں۔ تمہارے لئے نیا چوغہ سلوایا ہے۔ مالا اور خاص ٹوپی بھی تیار ہے۔ بس میری خاطر ایک پھیرا اور سہی۔
شاہ جی کو اپنی تتلی سے بہت ہی محبت تھی وہ کسی طور اس کی بات کو نہیں ٹال سکتے تھے۔ نہ چاہتے ہوئے بھی وہ تتلی کا کہا ماننے پر مجبور تھے۔ آج بھی تتلی نے غضب کر دیا تھا۔ کیا ذائقہ تھا دال اور دال بھری روٹی میں۔ کھایا تو انگلیاں ہی چاٹتے رہ گئے۔ کھانا کھاکر اٹھے، نہا دھوکر تیار ہوئے، کاندھوں پر چوخانوں کا رومال ڈالا، ٹوپی سر پر جمائی اور مسجد کی راہ لی۔
اب تو محلے میں ہی کیا، بازاروں میں بھی شاہ جی کی الگ سے ٹور ہونے لگی تھی۔ پرانے کپڑوں کی جگہ نئے کپڑوں نے لے لی تھی اور گھر کی صورت بھی کافی بہتر ہو گئی تھی۔ محلے والے حیران تھے کہ شاہ جی کے پاس کون سا قارون کا خزانہ نکل آیا ہے۔
جمعہ ختم ہوا تو شاہ صاحب مسجد کے دروازے کے باہر پھر سے بڑا سا رومال بچھا کر بیٹھ گئے اور بڑی ساری مالا کے منکے گھمانے لگے۔ لیکن ہوا وہی جو پہلے ہوا تھا۔ دور دور تک نہ کوئی نیازمند اور نہ ہی نیاز۔ حسب سابق پھر بیوی پر ہی غصہ نکالنا شروع کر دیا لیکن لہجہ اتنا دھیما تھا کہ سننے والا یہی سمجھتا کہ شاہ جی کسی ورد میں مشغول ہیں۔ مغرب کا وقت بھی قریب ہی آن پہنچا تھا اور شاہ جی بھی مایوسی کے عالم میں اب اٹھا ہی چاہتے تھے کہ ایک نیازمند دوڑا دوڑا آیا اور ہانپتے کانپتے بولا کہ شاہ جی صبح سے میرا اونٹ کھویا ہوا ہے۔ ہر جگہ تلاش کر چکا ہوں لیکن کچھ پتا ہی نہیں چل رہا کہ کدھر گیا۔ گوالے نے آپ کا پتہ بتایا ہے اور کہا ہے کہ وہ روشن ضمیر ہیں۔ انھیں سب علم ہوتا ہے۔ مہربانی کریں اس کا پتہ بتادیں۔ شاہ جی بڑے غصے میں تھے۔ دوتین مرتبہ ہاتھ اٹھا کر مارنا چاہا لیکن ہر مرتبہ ہاتھ ہوا میں ہی رک جاتا تھا۔ اونٹ والے نے جب جواب کی بجائے ہاتھ ہی کو لہراتے دیکھا تو خود ہی مطلب نکال کر مسجد کے پیچھے چل دیا کیونکہ اسے ایسا ہی لگا جیسے شاہ جی اشارے سے اسے مسجد کی پشت پر جانے کو کہہ رہے ہیں۔ وہ جونہی مسجد کے پیچھے گیا اسے اپنا اونٹ ایک درخت کے نیچے کھڑا نظر آگیا۔ وہ تو خوشی سے پاگل ہی ہوگیا۔ اونٹ کو اس نے اسی درخت کے ساتھ باندھا۔ ہانپتا کانپتا شاہ صاحب کے پاس آیا اور کہا شاہ جی کہیں جانا نہیں میں ابھی آیا۔ وہ گوالے سے زیادہ متوول تھا اس لئے دو دو تھان، دھیروں مٹھائی اور پانچ سو روپے شاہ صاحب کو تھما گیا۔ادھر وہ آنکھوں سے اوجھل ہوا ادھر شاہ ساھب نے سب کو اپنے بڑے سارے رومال میں لپیٹا اور لرزتے قدموں گھر کی جانب روانہ ہوئے۔ ابھی گھر دور ہی تھا کہ زور زور سے اپنی تتلی کو پکارنا شروع کردیا۔ دیکھ تتلی میں تیرے لئے کیا لایا ارے دیکھ تتلی میں تیرے لئے کیا لایا۔تتلی جو شدت سے شاہ جی کی منتظر تھی وہ جھٹ دروازہ کھول گلی میں نکلی اور جلدی سے شاہ جی کو گھر میں لے آئے۔ مٹھائیوں کے ڈھیر، دو دو تھان اور اتنی خطیر رقم۔ وہ تو خوشی سے پاگل ہو گئی لیکن جب شاہ جی پر نظر پڑی تو ان کو پہلے جیسا ہی اداس پایا۔ وہ سب کچھ سمجھ گئی تھی اس لئے شاہ صاحب سے کہنے لگی۔ شاہ جی اب تو سال نکل ہی جائے گا۔ اب میں آپ سے کچھ نہ کہوں گی۔ اللہ کوئی اور راہ نکال دے گا۔ شاہ جی اپنی تتلی کی اس بات سے کچھ مطمئن ہوگئے اور بانوں سے بنی چارپائی پر دراز ہو گئے۔
لالچ اگر دل میں گھر کرجائے تو اس کی آنکھوں میں اچھے سے اچھے کی تلاش رقص کرنے لگتی ہے خواہ اس کے حصول کا ذریعہ کچھ بھی ہو۔ سال تو بہت دور کی بات تھی، دوچار ماہ ہی گزرے تھے کہ ٹھیک جمعہ کے دن پھر اصلی گھی کے تڑکے کے ساتھ ارہر کی دال اور دال بھری روٹی شاہ جی کے سامنے رکھی تھی۔ شاہ جی جو ابھی تک اپنے ضمیر کو زندہ رکھے ہوئے تھے جونہی خفا ہوئے تو ان کی تتلی نے ان کی آنکھوں میں ایسا جھانکا کہ وہ ان میں ڈوب کر ہی رہ گئے۔ ساری خفگی دور ہوگئی اور بنا کچھ کہے کھانا شروع کردیا۔ آج تو لگتا تھا کہ تتلی نے ذائقے کے ساتھ اپنا پیار بھی ارہر کی دال اور دال بھری روٹی میں کھول کر رکھ دیا تھا۔ نہ جانے کتنی بار ارہر کی دال اور دال بھری روٹی تتلی کے ہاتھ کی پکی کھائی تھی لیکن آج تو پیٹ بھرجانے کے باوجود نیت تھی کہ بھر کر ہی نہیں دے رہی تھی۔ کھانے سے فارغ ہو کر اپنی تتلی پر ایک بھرپور نظر ڈالی، ٹوپی، چوخانے کا رومال اور مالا سنبھال کر مسجد کی راہ لی۔ نماز کے بعد مسجد کے باہر بیٹھے ابھی زیادہ دیر نہیں ہوئی تھی کہ شہر کا سب سے بڑا جوہری بڑی پریشانی کے عالم میں شاہ صاحب کے پاس آن موجود ہوا۔ منھ اس کا پیلا ہوا ہوا تھا اور نقاہت سے اس کے ہاتھ پاؤں بری طرح کانپے جارہے تھے۔ بات تھی بھی ایسی ہی۔ اپنی بے پناہ مشہوری کی وجہ سے وہ دربار میں بھی بڑی قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا۔ باد شاہ نے اپنی بیٹی کا ہار بنانے کیلئے اسے دنیا کا سب سے قیمتی ہیرا دیا تھا جس کی مالیت اس دور میں بھی نو لاکھ روپے تھے۔ آج کل کے حساب سے کھربوں روپے۔ وہ ہیرا اس کے پاس سے نہ جانے کہاں غائب ہو گیا تھا۔ وہ لاکھ کہتا کہ ہیرا اس کے پاس سے چوری ہوگیا ہے تو بادشاہ کہاں یقین کرنے والا تھا۔ دولت تو ویسے ہی انسان کو بے ایمان بنا دیتی ہے لہٰذا وہ کچھ بھی کر لیتا بادشاہ کو کسی بھی طرح یقین نہیں دلا سکتا تھا اور نہ ہی وہ اتنا دولت مند تھا کہ ہیرے کی قیمت ادا کر سکتا تھا۔ اس غم کی وجہ سے اس کی حالت مردوں جیسی ہو کر رہ گئی تھی۔ وہ اسی پریشانی میں تھا کہ اس کے کانوں میں شاہ جی کی پہنچ اور رسائی کا چرچہ پہنچا۔ یہ بھی معلوم ہوا کہ شاہ جی صرف جمعے کو دکھائی دیتے ہیں اور وہ بھی کئی کئی ماہ بعد۔ ایسے اللہ والے اور روشن ضمیر ہیں کہ بس دنیا کی کوئی شے ان کی نگاہوں سے اوجھل ہے ہی نہیں۔ نصیب اچھے ہوئے تو آپ ان کو ایک دن پا ہی لینگے۔ بس پھر جو وہ کہیں یا اشارہ کریں وہ کر گزریئے گا۔ اللہ نے چاہا تو آپ کی مراد ضرور بر آئے گی۔ یہ بات سن کر نہ جانے وہ کتنے جمعے شاہ جی کا انتظار کرتے رہے۔ آج شاہ صاحب پر نظر پڑی تو دیوانہ وار شاہ جی کی جانب بڑھے۔ شاہ جی اس جوہری کو پہچانتے تھے لیکن پھر بھی انجان بنے رہے۔ شاہ جی نے آج جو ارہر کی دال اور دال بھری روٹی کھائی تھی وہ ان کو اتنی مزے دار لگی تھی کہ مالا پر بھی اللہ اللہ کا ورد کرنے کی بجائے ارہر کی دال اور دال بھری روٹی ہی کا ورد کئے جارہے تھے۔ شاہ جی نہ تو واقعی شاہ (سید) تھے اور نہ ہی روشن ضمیر۔ اب تک جو کچھ بھی ہوا تھا وہ اتفاق کے علاوہ اور کچھ نہیں تھا اس لئے وہ جوہری کی بار بار شاہ جی شاہ جی کی تکرار کا جواب بھی دیتے تو کیا دیتے اس لئے ارہر کی دال اور دال بھری روٹی کا ورد اور زور زور سے کرنے لگے۔ شاہ جی کے بار بار ورد سے جوہری نے یہی نتیجہ نکالا کہ اسے بھی ارہر کی دال اور دال بھری روٹی کھانے کا کہا جارہا ہے۔ بس پھر کیا تھا وہ الٹے قدموں گھر بھاگا۔ گھر والی سے کہا کہ وہ اپنی دکان پر جا رہا ہے۔ بس جلدی سے اصلی گھی میں ارہر کی دال اور دال بھری روٹی پکا کر دکان پر بھیجو ۔
گڑیا

منیہا اسامہ

چھوٹی سی یہ گڑیا ہے
سرپر لمبی چٹیا ہے
چھوٹے چھوٹے بوٹ ہیں اس کے
کاٹن والے سوٹ ہیں اس کے
پہلی میں یہ پڑھتی ہے
خوب شرارت کرتی ہے
ہوم ورک اس کا اعلیٰ ہے
اوڑھے یہ دوشالا ہے
مِس نے مارا ہائے ہائے
چھٹی ہوئی تو بائے بائے

حصہ