برصغیر میں اسلام کے احیا اور آزادی کی تحریکیں

98

(ساتواں حصہ)
قسط 179
اب تذکرہ کرتے ہیں برصغیر ہندو پا کستان کی اس قد آور اور دور اندیش شخصیت کا کہ جس کو پوری دنیا مولانا سید ابو اعلی مودودی کے نام سے جانتی ہے ۔ قارئین کرام آپ نے نہایت اطمینان اور گزشتہ چار سالوں سے جاری برصغیر میں اسلامی احیا اور آزادی کی تحا ریک کے عنوان سے جسارت میں شائع ہونے والے مضامین کو پڑھا ہے، حضرت مجدد الف ثانی علیہ رحمہ سے لیکر پاکستان کے سقوط تک کا ایک ایک مرحلہ ناچیز نے آپ کے سامنے جیسا محسوس کیا ویسا ہی بلا کسی اضافے اور کمی کے پیش کردیا ہے ۔
ان تمام مضامین میں خاکسار کی ہے کہ مستند تاریخی کتابوں سے حوالے لیے جائیں اور جہاں جہاں مزید تحقیق کی گنجائش ہو اساتذہ سے رہنمائی لی جائے ، جن مقامات پر دوستوں نے غلطی کی نشان دہی کی ہے، انہیں نوٹ کرلیا ہے اور انشاللہ اغلاط درست کرلی جائیں گی ۔
آپ کے سامنے برصغیر کی تاریخ کے چار سو سال پر مشتمل اہم ترین حالات سے لیکر بھٹو صاحب کے وزیر اعظم بننے تک کی پوری تاریخ موجود ہے ۔ دوران مطالعہ آپ نے بخوبی اندازہ لگایا ہوگا کہ ان چار سو سالوں میں احیا اسلا م اور استعمار سے حقیقی آزادی کی جدوجہد پر مشتمل کی تحریک کسی نہ کسی انداز میں جاری رہی باوجود اس کے کہ بہت سے مواقعو ں پر اسلام کی بنیادی تعلیمات معاشرے میں ماند بھی پڑیں ، لیکن کوئی نہ کوئی ولی اللہ ہر دور میں پیدا ہوتا رہا جس نے اسلام کی حقانیت کو بھرپور انداز میں پیش کرنے کی کوشش کی ۔ ان ہی شخصیات میں سے ایک قد آور اثر پزیر ہستی سید ابو اعلی مودودی علیہ رحمہ کی صورت میں ہے جس کا ہم نے جہاں جہا ں ان کا کردار تھا، پیش کرنے کی سعی کی ہے ۔
مولانا سید ابو اعلی مودودی نے اپنی پیدائش 25 ستمبر 1903 سے لیکر 1973 یعنی 31 سال تک تحریک اسلامی کی رہنمائی و قیادت کی، آپ کے اعضا مضمحل ہوتے جارہے تھے، بیماری میں شدت آتی جارہی تھی، مگر اپنی اس بشری کمزوری پر قابو پانے کی کوشش کے باوجود اللہ ٹیلی کی طرف سے آء ہوئی بیماری کو نہ ٹال سکے، آپ نے امارت کی بری ذمہ داری سے فراغت کا فیصلہ کرتے ہوئے جماعت اسلامی کی امارت سے استعفی دیا اور نئے امیر کے انتخاب کا مطالبہ کیا، یہ وقت اراکین جما عت اسلامی ہی نہیں تحریک کے ہر کارکن کے لیے نہایت بھاری اور کٹھن تھا ۔
مولا نا محترم کے اس اقدام کی بہت سے اراکین نے مخالفت کی اور دبے دبے الفاظ میںآپ سے استعفے کے واپس لینے کا مطالبہ بھی کیا جاتا رہا ۔ لیکن جماعت اسلامی اپنے دستور کی مضبوط بنیادوں پر قائم کی گئی تھی لہذا مولانا نے اپنی زندگی میں ہی امارت سے علیحدگی اختیار کی اور اراکین جماعت اسلامی نے میاں طفیل احمد کو جماعت اسلامی کا امیر مقرر کیا ۔
مولانا کی تمام تر زندگی آمریت کیخلاف جدوجہد اور اسلام کے حقیقی رنگ کو اوم الناس تک پہنچانے میں گزری اور جس طرح ساری دنیا ایسے لوگوں کو مشکلات، قید و بند اور دارو رسن کے راستے گزر کر منزل تک جانا ہوتا ہے اسی طرح کا معاملہ مولانا سید ابو اعلی مودودودی اور ان کے رفقا کار کے ساتھ ہوا مولانا سید ابو اعلی مودودی علیہ رحمہ کی زندگی ان تمام آزمائشوں میں استقامت اور جوانمدی کا اعلی نمونہ ثابت ہوئی ۔ آپ کی پہلی گرفتاری بانی پاکستان قائد اعظم ؒ کی وفات (11 ستمبر1948) سے صرف تین ہفتے قبل 4 اکتوبر 1948 ء عمل میں آئی۔ یہ وقت وہ تھا جب آپ شام کے وقت اپنے گھر کے دالان میں درس قرآن دے رہے تھے کہ اس دوران ایک ڈی ایس پی صاحب درس میں شریک ہوئے اور درس کے بعد انہوں نے مولانا سے علیحدگی میں بات کی۔ مولانا کھاناکھانے اور تیار ہونے کے لیے اندر چلے گئے جبکہ درس میں شریک تمام لوگوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی۔ اس دوران مولانا کا بستر باہر لا کر رکھ دیا گیا۔ کچھ دیر بعد مولانا بھی ہشاش بشاش چہرے کے ساتھ نمودار ہوئے۔ برآمدے کے کنارے پر کھڑے کھڑے فرمایا ’’ڈبیہ کہاں ہے، آخری پان کھا لیا جائے‘‘ پوچھا گیا آخری کیوں؟ ہنستے ہوئے فرمایا’’بس اب طلاق دے رہا ہوں۔‘‘ کسی رفیق نے پوچھا جیل کے بعد بھی یہ طلاق جاری رہے گی تو فرمایا ’’نہیں یہ طلاق رجعی ہے مغلظ نہیں۔‘‘پھر دوستوں سے ہنستے مسکراتے ہاتھ ملایا اور مسلح پہرے میں پولیس کی جیپ گاڑی میں بیٹھ کر روانہ ہو گئے۔ اس قید سے بیس ماہ بعد رہائی ہوئی۔
(بحوالہ مولانا مودودی، ایک تعارف از نعیم صدیقی)
دوسری مرتبہ قادیانیت کے خلاف ختم نبوت کی تحریک کے دوران مولانا کو 28 مارچ 1953 ء کی صبح منہ اندھیرے گرفتار کر لیا گیا۔اسی کیس کے دران میں مولانا کو ایک خصوصی فوجی عدالت کے ذریعے سے قادیانیوں کے خلاف کتاب لکھنے کے الزام میں’’سزائے موت‘‘سنا دی گئی۔ اس ظالمانہ اور غیر عدالتی فیصلے پر مولانا نے جس عزیمت کا مظاہرہ کیا اس نے سلف صالحین کی سنہری تاریخ کو زندہ کر دیا۔ حکومت نے معافی نامہ داخل کر کے رہا ہو جانے کی شرط پیش کی تو اسے یکسر ٹھکرا دیا۔ آخر 28 اپریل 1955 ئکو حکومت کو مجبوراً اس بے گناہ قیدی کو رہا کرنا پڑا جس کے استقبال کے لیے جیل کے دروازے پر جمع ہجوم مسلسل ایک نعرہ لگا رہا تھا ’’فاتح تختہ دار، مولانا مودودی زندہ باد۔‘‘ واضح رہے کہ اس قید کے دوران ملتان جیل میں مولانا نے تفہیم القرآن لکھنے کا کافی کام مکمل کر لیا۔ ملتان سے لاہور کا سفر 29 اپریل کو ہوا اور وہی نعرہ ملتان سے لاہور تک راستے کے ہر ریلوے اسٹیشن پر گونجتا رہا۔ جب یہ صاحب عزیمت شخص لاہور پہنچا تو ریلوے اسٹیشن پر ایک بہت بڑا مگر منظم ہجوم اس کے لیے دیدہ و دل فرش راہ کیے ہوئے تھا مگر وہ مجسم انکسار، ہاتھ ہلا کر سب کا شکریہ ادا کرتا رہا۔
مولانا مودودی کا سیاسی موقف بالکل واضح تھا اور وہ یہ کہ حکمرانوں کو عوام کے بنیادی حقوق سلب کرنے کا کوئی حق حاصل نہیں۔ اگر حکمران یہ حقوق دینے سے انکار کر دیں تو انہیں حاصل کرنے کے لیے جدوجہد جمہوری، آئینی اور قانونی دائروں کے اندر رہ کر کی جائے۔ کوئی زیر زمین کارروائی یا مسلح اور پر تشدد راستہ اختیار کرنا ان کے نزدیک درست نہ تھا۔ انہوں نے اپنی اس فکر کو’’جماعت اسلامی‘‘کے ’’دستور‘‘ میں بھی سمودیا اور کارکنان جماعت کی تربیت کے ذریعے ان کے ذہنوں میں بھی راسخ کر دیا۔ جماعت اسلامی ہمیشہ آمریت کا مقابلہ کرتی رہی ہے۔ اس کے کارکنان سے لے کر قائدین تک جھوٹے مقدمات میں قید و بند کے مراحل سے گزارے گئے ہیں مگر جماعت نے کبھی کوئی غیر قانونی راستہ اختیار نہیں کیا۔ نہ ہی ان شا ء اللہ کبھی ایسا کرے گی۔
اکتوبر 1963 ء میں لاہور میں منعقد ہونے والے جماعت اسلامی کے کل پاکستان اجتماع عام پر حکومتی سرپرستی میں مسلح حملہ کیا گیا۔ اس کے نتیجہ میں ایک کارکن اللہ بخش صاحب شہید اور کئی زخمی ہوئے۔ اس انتہائی اشتعال انگیز ماحول میں بھی مولانا نے کارکنان جماعت کو صبر و تحمل کی تلقین فرمائی اور حکومت کی اس سازش کو ناکام بنا دیا جو وہ جماعت کو دہشت گرد قرار دینے کے لیے تیار کر چکی تھی۔ گولیوں کی بوچھاڑ میں ایک جانب کارکنان کو نظم و ضبط کا پابند بنانا اور دوسری جانب عزم و ہمت کا بے مثال مظاہرہ سید مودودی جیسی جامع شخصیت ہی سے ظہور پذیر ہو سکتاتھا۔ اسٹیج پر کھڑے چوہدری غلام محمد مرحوم نے از راہ احتیاط کہا ’’مولانا آپ بیٹھ جائیے، مناسب یہی ہے‘‘ سید صاحب نے جواب میں ایک فقرہ کہاکہ جو صبر و استقامت، عزیمت و عظمت کی بیسیوں داستانوںپر بھاری ہے۔ ’’چوہدری صاحب میں بیٹھ گیا تو پھر کھڑا کون رہے گا؟‘‘ (بحوالہ قافلہ سخت جان از سید اسعد گیلانی ص 337)
حکومت کی اس غنڈہ گردی کے باوجود جب جماعت اشتعال میں نہیں آئی تو صوبائی اور مرکزی وزرانے جماعت اور امیر جماعت کے خلاف انتہائی زہر آلود اور لچر بیانات دینا شروع کر دیئے۔ آخر کار بلی تھیلے سے باہر آ گئی اور امیر جماعت اور مرکزی شوریٰ کے تمام ارکان کو 4 جنوری 1964 ئکی صبح گرفتار کر لیا گیا۔ جماعت اسلامی پر پابندی لگ گئی اور اس کے تمام دفاتر سر بمہر کر دیئے گئے۔
جماعت نے گرفتاریوں اور پابندی کے خلاف مغربی اور مشرقی پاکستان کی ہائی کورٹس میں استغاثہ دائر کر دیا۔ مشرقی پاکستان ہائی کورٹ نے 13 جولائی 1964 ء کو چیف جسٹس عبدالستار کی سربراہی میں قائم فل بنچ کے ذریعے متفقہ طو رپر حکومتی فیصلے کو کالعدم قرار دیا جبکہ مغربی پاکستان کی ہائی کورٹ نے جماعت اسلامی کی رٹ خارج کر دی اور حکومت کے فیصلے کو برقرار رکھا۔ اب حکومت پاکستان مشرقی پاکستان ہائی کورٹ اور جماعت اسلامی مغربی پاکستان ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف اپنا اپنا کیس سپریم کورٹ میں لے گئیں۔ سپریم کورٹ نے دونوں عدالتوں کے فیصلوں کے مطالعہ اور فریقین کے دلائل کی سماعت کے بعد ۹ اکتوبر 1964 ء کو وہ تاریخی فیصلہ سنایا جو پاکستان کی عدلیہ کی تاریخ میں یاد گار ہے۔بعدکے ادوار میں داغدار ساکھ کے باوجود عدالت عظمیٰ کے حالیہ فیصلوں کی طرح یہ بھی اس کا ایک عظیم الشان دستوری فیصلہ ہے۔ سپریم کورٹ کے سپیشل بنچ نے چیف جسٹس اے آر کارنیلیس کی سربراہی میں متفقہ فیصلہ دیا جس کا اعلان جسٹس یعقوب علی خان نے ان الفاظ میں سنایا ’’متفقہ فیصلہ ہے، نظر بندی غیر قانونی ہے۔ نظر بندوں کو فوراً رہا کیا جائے۔‘‘ (ہفت روزہ آئین 17 اکتوبر 1964 ء)
حوالہ جات: مضمون ۔ مجددِ دوراں مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی ؒ
(جاری ہے)

حصہ