امتحانات بچوں کے یا والدین کے؟۔

83

زاہد عباس
’’یار مجھے تمہاری یہ عادت بہت بری لگتی ہے کہ تم ایک بات کے پیچھے ہی پڑ جاتے ہو۔ انسان کو چاہیے وہ کسی بھی مسئلے پر ایک مرتبہ توجہ دلائے، پھر کوئی دوسری بات کرے۔ تم تو بال کی کھال نکالنے میں لگ جاتے ہو۔ ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے سارے جہاں کا درد تمہارے ہی جگر میں ہے۔ تمہارے نزدیک رواں سال ہونے والے میٹرک کے امتحانات پر ہی لکھنا کیوں ضروری ہے، لکھنے کے لیے اور بھی تو ہزاروں موضوعات ہیں۔ اگر اتنا ہی شوق ہے تو سڑکوں کی خستہ حالی پر لکھو… امن و امان کی صورتِ حال پر لکھو… پانی، بجلی اور گیس کی ابتر صورت حال پر لکھو… ملک میں بڑھتی مہنگائی اور بے روزگاری پر لکھو… حکومت کی جانب سے بنائی جانے والی ان عوام دشمن پالیسیوں پر لکھو جن کی بدولت غریب فاقہ کشی پر مجبور ہیں۔‘‘
یوں راشد اپنا بھاشن دے کر چلا گیا، لیکن اُسے کیا خبر کہ وہ جن موضوعات کی طرف اشارہ کررہا تھا اُن پر میں متعدد بار لکھ چکا ہوں۔ شاید وہ ٹھیک ہی کہہ رہا تھا کہ میں بال کی کھال نکالنے کے چکر میں پڑجاتا ہوں، یا کسی بھی مسئلے کو لے کر اربابِ اختیار کے ذہنوں پر سوار رہنے کی کوشش کرتا رہتا ہوں۔ اب راشد کو یہ بات کون بتائے کہ صحت و تعلیم سمیت عوام کے تمام بنیادی مسائل پر لکھنا ہی تو میرے فرائض میں شامل ہے۔ میں ایسے تمام مسائل پر نہ صرف لکھتا آیا ہوں بلکہ دوردراز علاقوں میں بسنے والے عوام سے مل کر اُن کا مؤقف بھی اپنی تحریروں کے ذریعے اربابِ اختیار تک پہنچاتا رہا ہوں، تو پھر ان حالات میں یعنی رواں سال ہونے والے میٹرک کے سالانہ امتحانات کے طریقہ کار میں کی جانے والی تبدیلی اور میدانوں میں شامیانے لگاکر لیے جانے والے امتحانات جیسے بھونڈے طریقہ کار پر مجھ سمیت کوئی بھی تعلیم دوست شخص کیوں کر خاموشی اختیار کر سکتا ہے! میری جانب سے عوام کی پریشانیوں کی نشاندہی پر نہ کل تساہل برتا گیا اور نہ ہی ایسے معاملات سے میں آج نظریں چرا سکتا ہوں۔ سو اس صورت حال میں جب کراچی تعلیمی بورڈز کی جانب سے رواں سال میٹرک اور انٹر کے سالانہ امتحانات لینے کے طریقہ کار میں تبدیلی کا اعلان کیا جا چکا ہے، طلبہ پر پڑنے والے ذہنی دبائو کو نظرانداز کرنا افسوسناک ہوگا، لہٰذا ان طلبہ کی رائے کا جنہیں اس نئے نویلے سسٹم میں باراتیوں کا کردار ادا کرنا ہے، احترام ضروری ہے… اور امتحانی طریقہ کار میں تبدیلی کے سلسلے میں ان کی رائے کا شامل نہ کیا جانا زیادتی سے کم نہیں۔ اسی بات کو مدنظر رکھتے ہوئے میں نے ان باراتیوں یعنی میٹرک کا امتحان دینے والے طلبہ کی ذہنی کیفیت کا اندازہ لگانے کے لیے مختلف اسکولوں کا دورہ کیا۔ اس خبر نے ان طلبہ پر کیا اثرات مرتب کیے، اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ محمد شاکر اور ان کا گروپ رواں برس ہونے والے میٹرک کے امتحانات کی تیاری میں تو مصروف ہیں لیکن عجیب سی ذہنی کشمکش میں بھی مبتلا ہیں۔ شاکر امتحانات کے لیے مختص کی جانے والی جگہوں، خصوصاً وہاں کے ماحول کے بارے میں سوچ کر کچھ زیادہ ہی پریشان دکھائی دیتا ہے۔ اس کے نزدیک شدید گرمی کے موسم میں گرد اڑاتے میدانوں کے درمیان شامیانے لگاکر امتحان لینا سزا سے کم نہیں، جبکہ اُس کے دوست کا کہنا تھا کہ ایک طرف تو حکومت عالیشان اسکول بنانے کے دعوے کررہی ہے، اور دوسری طرف نقل کی روک تھام کے نام پر مستقبل کے معماروں کو میدانوں کی خاک چھاننے پر مجبور کررہی ہے، ترقی کے اس دور میں جب دنیا چاند تک پہنچ چکی ہے، ہمیں واپس اُس زمانے میں دھکیلا جارہا ہے جب اسکول نہ ہونے کے باعث لوگ درختوں کے نیچے بیٹھ کر تعلیم حاصل کیا کرتے تھے۔ آج ترقی کا دور ہے، آج کے زمانے میں اس قسم کے اقدامات جگ ہنسائی کا باعث ہیں۔ ہمیں بتایا جارہا ہے کہ امتحان دینے والے بچوں کے لیے فول پروف سیکورٹی کے انتظامات کیے جارہے ہیں، دورانِ امتحان شامیانوں میں باقاعدہ سی سی ٹی وی کیمرے نصب ہوں گے، جبکہ ہماری حفاظت کے لیے پنڈال کے چاروں طرف سیکورٹی کے چاق و چوبند دستے تعینات کیے جائیں گے۔ اب سوچنے کی بات یہ ہے کہ کیا امتحان دینے والے بچے جرائم پیشہ ہیں جنہیں شامیانوں میں بٹھا کر چاروں طرف سیکورٹی لگا دی جائے اور کیمرے کی آنکھ سے ان پر مستقل نظر رکھی جائے! یہ ماحول سوچ کر ہی دل گھبرانے لگتا ہے۔ اس طرح کا رویہ توکسی عادی مجرم کے ساتھ بھی اختیار نہیں کیا جاتا۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ یہ سب کچھ نقل کی روک تھام کے نام پر کیا جارہا ہے۔ ہاں یہ بات ٹھیک ہے کہ گزشتہ کئی برسوں سے صوبہ سندھ خصوصاً کراچی میں نقل مافیا سرگرم رہا ہے، لیکن اس کا مطلب یہ بالکل نہیں کہ آپ بچوں کی عزتِ نفس کو اس طرح مجروح کرتے پھریں۔ اہم بات یہ ہے کہ نقل کی روک تھام کرنا کلاس میں تعینات نگراں اور بورڈ کے تحت بنائی جانے والی ویجیلنس ٹیموں کی ذمہ داری ہے، اگر گزشتہ کئی برسوں سے یہاں نقل مافیا سرگرم رہا ہے تو اس کی تمام تر ذمہ داری کلاسوں میں تعینات کیے جانے والے عملے سمیت ویجیلنس ٹیموں پر عائد ہوتی ہے۔ ان کے لیے سخت قوانین بنانے کے بجائے طلبہ پر سختی برتی جارہی ہے، جس سے طلبہ نہ صرف ذہنی دباؤ کا شکار ہورہے ہیں بلکہ اس فیصلے سے ان پرنفسیاتی اثرات بھی مرتب ہورہے ہیں۔ پڑھی لکھی قومیں ہی ترقی کی منازل طے کیا کرتی ہیں، اس سلسلے میں طلبہ کی ذہنی تربیت ہونی چاہیے۔ بے شک نقل کی روک تھام کے لیے اقدامات ضرورکیے جائی،ں مگر اس کے ساتھ ساتھ بچوں کی عزتِ نفس کا خیال رکھنا بھی انتہائی ضروری ہے۔
جب تک اس اسکول میں رہا مجھے مختلف باتیں سننے کو ملتی رہیں۔ اپنے تئیں ہر بچہ رواں سال ہونے والے میٹرک کے امتحانات کے انعقاد کے نئے طریقہ کار کی مخالفت کرتا ہوا دکھائی دیا۔ مجھے خاصی دیر ہوچکی تھی اور اسکول کی چھٹی بھی ہونے والی تھی، لہٰذا میں نے گھر جانے کا فیصلہ کیا۔ اسکول سے باہر نکلا تو دیکھا کہ سامنے والدین کی ایک بڑی تعداد اپنے بچوں کو لینے کے لیے اسکول کے مرکزی دروازے پر کھڑی تھی۔ اسکول کے باہر لگے درخت کے نیچے کھڑے چند بزرگوں کو دیکھ کر میں نے گھر جانے کا فیصلہ ترک کردیا اور اُن کے پاس جا پہنچا۔ بچوں کو لینے آنے والے والدین سے بات کیے بغیر میرا مضمون بے معنی تھا، یا یوں کہیے کہ تعلیمی بورڈ کی جانب سے اعلان کردہ امتحانی طریقہ کار پر والدین کی رائے لیے بغیر کچھ تحریر کرنا نامکمل تھا۔ بس اسی بنیاد پر میں نے وہاں کھڑے ایک ادھیڑ عمر شخص سے بات چیت شروع کردی۔ مستقیم مرزا فرنیچر بنانے کے کام سے منسلک تھے، میرے پوچھے گئے سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا: ’’بھائی جوں جوں وقت گزر رہا ہے نئے نئے قوانین بنتے جا رہے ہیں۔ ہم نے پیلے اسکولوں میں تعلیم حاصل کی، اُس وقت سرکاری اسکولوں میں بہترین تعلیم دی جاتی تھی۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ انگلش میڈیم کا دور آگیا، لوگوں نے اپنے بچوں کو پرائیویٹ اسکولوں میں داخل کروانا شروع کردیا، سرکاری اسکولوں کے اساتذہ نے بھی اپنے ذاتی اسکول بنا لیے۔ یوں رفتہ رفتہ سرکاری اسکول ویران ہوتے چلے گئے۔ اس ابتر ہوتی صورت حال میں حکومت نے سرکاری اسکولوں میں ماند ہوتی تعلیمی سرگرمیوں کو بچانے کے لیے کچھ نہ کیا۔ اب جبکہ پرائیویٹ سیکٹر بچوں کو تعلیم دینے میں مصروفِ عمل ہے، بجائے سرکاری اسکولوں کی حالت بہتر کرنے کے، حکومت نئے سے نئے قوانین بنانے پر تلی ہوئی ہے۔ اب اس نئے طرز کے امتحانی طریقہ کار کو ہی لے لیجیے جس میں شہر بھر کے بچوں کو میدانوں میں بٹھا کر امتحان لیا جائے گا۔ یہ کسی بھی ذی شعور انسان کے لیے حیرت سے کم نہیں۔ امتحان دینے والے چھوٹے چھوٹے بچوں کے ساتھ اس قسم کا سلوک سمجھ سے بالاتر ہے۔ ساری دنیا میں پڑھنے والے بچوں کے لیے آسانیاں پیدا کی جاتی ہیں جبکہ ہمارے یہاں الٹی گنگا بہتی ہے۔ نئی سے نئی پالیسیاں بنائی جارہی ہیں۔ حیرت کی بات تو یہ ہے کہ شدید گرمی کے موسم میں میدانوں میں بٹھاکر امتحان لینے کی پالیسیاں بنانے والے خود ایک لمحے کو بھی ٹھنڈے کمروں سے باہر نکلنے کو تیار نہیں ہوتے۔ ان کی جانب سے کیے گئے اقدامات کے نتیجے میں بچوں پر ذہنی دباؤ بڑھتا جارہا ہے، جبکہ دورانِ امتحان بچوں کی ذہنی و اعصابی کیفیت کو بہتر کرنے کے لیے انتہائی نرمی کے ساتھ پیش آیا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہماری پڑھائی کے زمانے میں بچوں کو دل لگا کر پڑھنے کا درس دیا جاتا، انہیں بتایا جاتا کہ تعلیم ہی وہ زیور ہے جس سے آراستہ نوجوان اس دنیا کو تسخیر کرسکتے ہیں۔ بچے اپنے والدین کی ایسی ہی نصیحتوں پر عمل کرتے ہوئے اوّل آنے کی دوڑ میں شامل ہوجاتے۔ امتحانات کے دوران بچوں پر کسی قسم کا کوئی دبائو نہ ڈالا جاتا، انہیں خوش رکھنے کی ہر ممکن کوشش کی جاتی، انہیں امتحان اور امتحانی نتائج کے خوف سے بچانے کے لیے مختلف طریقے استعمال کیے جاتے۔ امتحانات کی تیاری کے سلسلے میں سب سے پہلے بچوں کو مختصر سوالات یاد کروائے جاتے، پھر دیگر سوالات یاد کرنے کے لیے کہا جاتا۔ پڑھائی کے دوران بچوں کے ساتھ مکمل تعاون کیا جاتا۔ امتحان کے دنوں میں بچوں کے سونے، کھانے پینے کے اوقات اور طریقہ کار پر خصوصی توجہ دی جاتی۔ امتحانی مراکز گھروں سے قریب بنائے جاتے، تاکہ بچوں کو پہنچنے میں کسی قسم کی دشواری پیش نہ آئے۔ لیکن آج کے دور میں ایسا کچھ نہیں۔ جس دن سے ہم نے اس طریقہ کار کے متعلق سنا ہے ہماری راتوں کی نیندیں اڑ گئی ہیں، سارا گھر پریشان ہے۔ اس مرتبہ میرا ایک بیٹا میٹرک کا امتحان دے گا، اس سے پہلے میرے دو بچے میٹرک کرچکے ہیں۔ وہ دونوں خود امتحانی مراکز جاکر بآسانی امتحان دے کر آجاتے تھے، لیکن اِس مرتبہ گھر کے کسی فرد کو امتحان پنڈال کے باہر بیٹھنا پڑے گا۔ ظاہر ہے برے وقت کا کوئی بھروسا نہیں، اور پھر اس طرح امتحانات کے نام پر ہزاروں بچوں کو شامیانوں کے حوالے کرنا والدین کے لیے خود ایک بڑا امتحان ہے۔
رواں برس میٹرک اور انٹر بورڈ کے تحت ہونے والے امتحانات کے لیے اعلان کردہ طریقہ کار پر بچوں اور والدین کی بڑھتی ہوئی پریشانی اس بات کا تقاضا کرتی ہے کہ منتظمین امتحانات اور چیئرمین بورڈ فوری طور پر اس طریقہ کار پر نظر ثانی کریں اور نقل کی روک تھام کے لیے ایسے اقدامات کریں جن سے نہ صرف والدین مطمئن ہوں بلکہ امتحان دینے والے لاکھوں طلبہ وطالبات کی عزت نفس بھی مجروح نہ ہو سکے میرے نزدیک پرانے امتحانی سسٹم سیخامیاں دور کر کیامتحانات لینے سے ہی بچوں اور والدین کو مطمئن کیا جا سکتا ہے_

حصہ