میانہ روی

226

سیدہ امبرین عالم
مدرّسہ ایک مسحور کن شخصیت کی مالک تھیں، ان کی نہایت نرمی سے پُر دلائل گفتگو حاضرین کو جکڑ لیتی تھی، مقررین والی گھن گرج ناپید تھی، اس قدر دل کش انداز کہ ان کی ہر بات مان لینے کو جی چاہتا تھا۔ ’’آپ اگر سچے مومن ہیں تو آپ کا دل گواہی دے گا کہ اللہ کیا چاہتا ہے، آپ مختلف لوگوں کی مختلف باتیں سننے کے بجائے یہ دیکھیے کہ دین کا مزاج کیا ہے اور کس مسئلے پر دین کیا چاہے گا۔‘‘ شازیہ باجی نے کہا۔
سمعیہ نہایت دھیان سے ایک ایک لفظ سن رہی تھی۔ ’’اب جیسا کہ پردے کا مسئلہ ہے…‘‘ شازیہ باجی نے آگے بات بڑھائی ’’لوگ برقعے میں پورے پردے کے ساتھ شادی کی ایسی تقریبات میں پہنچ جاتے ہیں جہاں مخلوط انتظام ہو، یعنی مرد اور عورتیں ساتھ ساتھ۔ حالانکہ دین چاہتا ہے کہ آپ ایسی تقریبات میں شریک ہی نہ ہوں، مکمل بائیکاٹ کیجیے، آہستہ آہستہ لوگ آپ کے بائیکاٹ کی وجہ سے مرد اور عورتوں کا الگ الگ انتظام کریں گے۔ جن لوگوں کی تقریب کا آپ بائیکاٹ کررہی ہیں اُن سے الگ سے گھر جاکر ملیے اور تحفہ دے آیئے تاکہ قطع رحمی کا اندیشہ بھی نہ رہے، کیوں کہ اگر آپ مکمل پردے کے ساتھ بھی شریک ہوں گی تو آپ نظر تو آرہی ہیں، اس لیے کسی کے دل میں بھی برا خیال آسکتا ہے۔‘‘ انہوں نے فرمایا۔
سمعیہ کو بات بالکل سمجھ میں نہ آئی۔ ’’مگر بعض شادیوں میں مخلوط انتظام ہونے کے باوجود باپردہ خواتین کے لیے الگ انتظام کردیا جاتا ہے۔‘‘ اس نے کہا۔
’’ہاں! ڈبے میں بند کردیا جاتا ہے۔ پردے والوں کے ساتھ یہی ہوتا ہے۔ آپ چھپ کر بیٹھی رہیں گی، اس سے بہتر ہے نہ جائیں۔‘‘ شازیہ باجی نے دلآویز مسکراہٹ کے ساتھ جواب دیا۔
’’لیکن میں پردہ کرکے ایسی تقاریب میں شریک ہوں گی تو دوسروں کے لیے مثال بن جائوں گی، اوروں کو بھی مجھے دیکھ کر پردہ کرنے کی ہمت ہوگی، شیطان کے لیے میدان خالی چھوڑ کر بھاگ جانا کہاں کی عقل مندی ہے! اللہ کے تابعداروں کی نمائندگی بھی ہونی چاہیے۔ پوری تقریب میں زرق برق لباس میں کھلکھلاتی لڑکیوں کے درمیان اگر دو چار بھی باپردہ خواتین گھومتی نظر آئیں تو اللہ کے فرماں برداروں کی بھی نمائندگی ہوگئی۔ رنگ میں بھنگ تو ڈالا گیا، لوگوں کو فرق تو نظر آگیا۔‘‘ سمعیہ نے کہا۔
’’لیکن آپ بائیکاٹ کریں گی تو وہ آئندہ مرد عورت ساتھ کا انتظام ہی نہیں کریں گے، ورنہ آتے جاتے آپ مردوں سے ٹکرا بھی سکتی ہیں۔‘‘ شازیہ باجی اپنی بات پر قائم رہیں۔
’’بہتر… آپ درست فرما رہی ہوں گی۔‘‘ سمعیہ نے کہا۔ کچھ دیر بعد کلاس ختم ہوگئی۔
سمعیہ سب سے ہاتھ ملا کر درس والے گھر سے باہر نکلی تو روڈ پر لڑکے کرکٹ کھیل رہے تھے۔ سبزی والا، غبارے والا، فرنچ فرائز والا بھی موجود… یعنی مرد ہی مرد۔ سمعیہ نے سوچا کہ میں تو پردے میں ہونے کے باوجود نظر آرہی ہوں کہ ایک لڑکی جارہی ہے۔ یعنی اب پردہ کرنا ہے تو گھر میں بند ہونا پڑے گا، ورنہ کسی کے دل میں برا خیال بھی آسکتا ہے۔ تیز تیز چلتی ہوئی گھر پہنچی، ابھی پانی پینے کا سوچ ہی رہی تھی کہ امی نے لاکر پیسے تھما دیے ’’ابھی برقع مت اتارو، پہلے دہی اور انڈے لادو مجھے، اور اگر اکرم بھائی کی دکان کھلی ہو تو شام کی چائے کے لیے سموسے بھی لیتی آنا۔ جلدی کرو، وقت مت ضائع کرو۔‘‘ امی نے کہا۔
سمعیہ بڑی پریشان ہوئی ’’امی بے پردگی ہوجائے گی، کیسے جائوں؟‘‘ وہ بولی۔
’’کیا بالکل ہی باولی ہوگئی ہو! سر سے پائوں تک ٹینٹ جتنا برقع پہنا ہوا ہے، بھلا بے پردگی کیسے ہوگئی! اب کیا شامیانہ سلوا کر دوں تمہیں!‘‘ امی نے جھلّا کر کہا۔
’’نہیں امی! وہ ہماری مدرّسہ کہہ رہی تھیں کہ جہاں نامحرم مرد ہوں وہاں برقع پہن کر بھی نہیں جانا چاہیے، ایسی جگہوں کا بائیکاٹ کرو۔‘‘ سمعیہ نے بے چارگی سے کہا۔
’’تو تمہاری مدرّسہ گھر سے نکل کر درس دینے کیسے آتی ہیں؟‘‘ امی نے پوچھا۔
’’پتا نہیں، شاید گاڑی میں آتی ہیں، ڈرائیور کے ساتھ۔‘‘ سمعیہ نے جواب دیا۔
’’بیٹا! اگر اتنے نقاب اور برقعے میں بھی بے پردگی ہورہی ہے تو میں زمین میں گڑھا کھود کر تمہیں دفنا دیتی ہوں، وہاں کسی کی تم پر نظر نہیں پڑے گی۔‘‘ امی نے غصے سے کہا۔
’’آپ بھائی سے منگوا لیں ناں سودا، میرا پردہ کیوں خراب کررہی ہیں!‘‘ سمعیہ نے کہا۔
’’اچھا جی! کمائے بھی وہی، رات کو دس بجے آکر سودا بھی لائے وہی، تم کیا صرف گھر میں بیٹھ کر کھانے کے لیے پیدا ہوئی ہو! برقع پہنا ہوا تھا تم نے، تو میں نے سوچا تم سے منگوا لوں، ورنہ میں خود جاکر لے آتی‘ ڈرامے بند کرو اور جائو۔‘‘ امی نے حکم دیا۔
…٭…
خالہ کبریٰ کے بیٹے کی شادی تھی، وہ اپنی دونوں بیٹیوں کے ساتھ کارڈ دینے آئی ہوئی تھیں، خوب ہنسی مذاق ہورہا تھا، شادی پر پہنے جانے والے کپڑوں کے بارے میں فیصلے ہورہے تھے۔ ’’خالہ! مخلوط محفل تو نہیں ہوگی ناں؟‘‘ سمعیہ نے سوال کیا۔
’’بیٹا! عورتیں اور مرد الگ کرنے کے لیے بڑے بڑے ہال چاہیے ہوتے ہیں، ہم نے تو 200 افرادکی گنجائش والا چھوٹا سا ہال بک کیا ہے، بیچ میں شامیانہ لگا کر علیحدہ کیا تو جگہ کم پڑ جائے گی، تم برقع پہن کر آجانا، سب اپنے ہی لوگ ہیں، جیسے عید، بقرعید کی دعوت میں سب جمع ہوتے ہیں۔ دلہن بھی تمہیں معلوم ہے تمہارے ماموں کی ہی بیٹی ہے، سب کزنز اور رشتے دار ہی ہوں گے جن کے سامنے تم بچی سے بڑی ہوئی ہو۔‘‘ خالہ نے سمعیہ کو سمجھایا۔
’’ٹھیک ہے پھر میں ایک دن پہلے آپ کے گھر آکر نوید بھائی سے ملوں گی اور مبارک باد دے آئوں گی، کوئی تحفہ بھی دے آئوں گی، میں شادی میں نہیں آسکتی۔‘‘ سمعیہ نے قطعی جواب دیا۔
’’ہماری طرف سے لعنت ہے تم پر بھی اور تمہارے تحفے اور مبارک باد پر بھی۔‘‘ خالہ نے غصے سے کہا۔
’’خالہ! لوگوں کو پتا تو چلے گا ناں کہ برقعے میں ہے تو لڑکی ہی ہوگی اور ان کی نیت خراب ہوسکتی ہے، جس کا گناہ مجھے ملے گا۔‘‘ سمعیہ نے دھیمے لہجے میں کہا۔
’’بے فکر رہو، شادی میں بہت سی لڑکیاں کھلے عام پھر رہی ہوں گی، جسے تنگ کرنا ہوگا انہیں کر لے گا، کسی کو فرصت نہیں ہے کہ تمہیں تمہارے ٹینٹ جتنے برقعے میں آکر چھیڑے۔ پتا نہیں خوب صورت ہوتیں تو کیا کرتیں، اس شکل پر اتنا پردہ!‘‘ خالہ نے کہا۔
’’سمعیہ شرمندہ سی ہوگئی۔ واقعی جنہوں نے شکل دیکھی، انہوں نے کبھی پسند نہیں کیا، اب برقعے میں بھلا کون توجہ کرتا! ’’اچھا خالہ یہ آپ مانتی ہیں کہ قرآن میں لکھا ہے: عورتوں کو گھروں میں ٹک کر بیٹھنا چاہیے۔‘‘ سمعیہ نے کہا۔
’’قرآن میں یہ بھی تو لکھا ہے کہ آسمان دیکھو، درخت دیکھو، اونچے اونچے پہاڑ اور بڑے بڑے سمندر دیکھو، اور ان کے ذریعے اللہ کو پہچانو۔ جب تم گھر میں بیٹھی رہوگی تو یہ سب کیسے دیکھو گی؟ کیسے میرے اللہ کودریافت کرو گی؟‘‘ خالہ نے سوال کیا۔
’’یہ حکم مردوں کے لیے ہے، عورتوں کے لیے تو بس گھرداری ہے۔‘‘ سمعیہ نے جواب دیا۔
’’یہ کیا جہالت کی بات کردی تم نے! دنیا میں 60 فیصد عورتیں ہیں اور 40 فیصد مرد… اور اللہ تعالیٰ نے تمام انسانوں کو امتحان دینے بھیجا ہے، جو اس امتحان میں پاس ہوگا وہ اللہ کا نائب بنے گا۔ کیا تمہارا خیال ہے کہ کروڑوں عورتیں جو یہ امتحان دے رہی ہیں انہیں قرآن نے مخاطب ہی نہیںکیا، انہیں اللہ کی نشانیوں پر غور کی دعوت ہی نہیں دی! عورت اور مرد کا صنفی فرق تو صرف دنیا کے معاملات چلانے کے لیے ہے، سزا جزا اور امتحان کا قانون تو دونوں پر ہر صورت لاگو ہوگا۔‘‘ خالہ نے وضاحت سے سمعیہ کو سمجھایا۔
’’اگر میں اللہ کے لیے قربانی دینا چاہتی ہوں اور مکمل پردہ چاہتی ہوں تو آپ لوگوں کو کیا تکلیف ہے؟ یہ اسلام کا حکم ہے، میری اپنی مرضی نہیں ہے‘‘۔ سمعیہ اپنی ضد پر قائم تھی۔
’’یعنی جو اسلام پر عمل کرے، وہ دنیا کی ہر خوشی اور تفریح سے منہ موڑ لے! تم تو پھر کسی کے جنازے پر بھی نہیں جائو گی، کیوں کہ چھوٹے چھوٹے گھروں میں میت ہوجائے تو عورت مرد سب رشتے دار اکٹھے ہوتے ہیں گھروں میں۔‘‘ خالہ نے اپنا مؤقف پیش کیا۔
’’آپ جو مرضی کہہ لیں، میں نوید بھائی کی شادی میں نہیں آئوں گی، ہماری شازیہ باجی نے ہمیں یہی سکھایا ہے اور ہمیں اُن پر پورا اعتماد ہے۔‘‘ سمعیہ نے کہا اور اٹھ کر جانے لگی۔
’’ٹھیک ہے پھر ہم بھی تمہاری شادی پر شریک نہیں ہوں گے، بلکہ تم مرگئیں تو تمہارے جنازے پر بھی نہیں آئیں گے۔ جب تمہیں ضد ہے تو ہمیں بھی ضد ہے۔‘‘ خالہ نے پیچھے سے کہا۔
…٭…
صبح ہوگئی تھی، پرندے چہچہا رہے تھے، سمعیہ اپنے بستر پر پریشان بیٹھی تھی کہ یونیورسٹی کیسے جائے۔ امی کی آواز آئی ’’بیٹا سمعیہ ناشتا تیار ہے، جلدی آئو، تمہیں یونیورسٹی سے دیر ہوجائے گی، فرنچ ٹوسٹ بنائے ہیں تمہارے لیے۔‘‘
وہ دھیمے دھیمے قدموں سے دسترخوان پر آبیٹھی۔ ’’امی یونیورسٹی کیسے جائوں، وہاں تو سب لڑکے ہوں گے، میری بے پردگی ہوجائے گی، میں یونیورسٹی چھوڑ دیتی ہوں۔‘‘ اس نے کہا۔
امی نے زور سے سر پر ہاتھ مارا ’’ارے میں کیا کروں تیرا، لاکھوں روپے لگاکر تجھے انجینئرنگ پڑھا رہے ہیں اور تُو بیچ میں سے چھوڑ دے گی! اتنا بڑا برقع، نقاب سب تو ہے، پھر کیسے ہوجائے گی بے پردگی! کیا بالکل ہی پاگل ہوگئی ہو! اسلام میں اتنا جبر نہیں ہے، اللہ ہم سے ستّر مائوں سے زیادہ محبت کرتا ہے، ایسے ہم پر ظلم تھوڑی کرے گا۔‘‘ امی نے سمعیہ سے کہا۔
’’مگر شازیہ باجی نے کہا تھا کہ جہاں مرد اور عورتیں ساتھ ہوں، ایسی جگہ کا بائیکاٹ کرو تاکہ لوگ آہستہ آہستہ مخلوط انتظام کرنا چھوڑ دیں۔‘‘ سمعیہ نے بے چارگی سے کہا۔
’’بیٹا! ایسا ہوتا تو اللہ مردوں کو الگ سیارے پر پیدا کردیتا اور عورتوں کو الگ سیارے پر پیدا کرتا، لیکن ہم ایک ہی سیارے پر ہیں تو آپس میں واسطہ تو پڑے گا، تم تو سبزی پھل تک نہیں خرید سکو گی اگر تم مردوں کے بالکل ہی سامنے نہیں آئیں۔ بیٹا سب کرو، بس اپنی حد یاد رکھو اور پردے میں رہو۔ امتحان تو یہی ہے کہ تمہارا مردوں سے واسطہ پڑے پھر بھی تم پاکیزگی برقرار رکھو، واسطہ ہی نہ پڑے تو کیسا امتحان؟‘‘ امی نے سمجھایا۔
’’تو میں کیا کروں! شازیہ باجی نے کہا تھا کہ دین تو یہی چاہتا ہے۔ اگر دین یہی چاہتا ہے تو مجھے تو یونیورسٹی جانا چھوڑنا پڑے گا۔‘‘ سمعیہ کو بات سمجھ میں آہی نہیں رہی تھی۔
’’میں تمہیں بتاتی ہوں کہ تم کیا کرو، تم درس میں جانا چھوڑ دو۔‘‘ امی نے فیصلہ سنا دیا۔
’’ہائیں، تو پھر میں اچھی اچھی باتیں کیسے سیکھوں گی‘ کیا کہہ رہی ہیں آپ؟‘‘ سمیعہ بولی۔
’’بیٹا! اہلِ مذہب کے یہی انتہا پسندانہ خیالات ہیں جن کی وجہ سے اسلام بدنام ہوتا ہے اور مسلمانوں پر طرح طرح کے الزامات لگائے جاتے ہیں۔ بیٹا! ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ میانہ روی اختیار کرو، شدت پسندی ہر صورت نقصان کا باعث بنتی ہے۔ اگر تم یونیورسٹی نہیں جائو گی تو پاکستان ایک انجینئر سے محروم ہوجائے گا اور امتِ مسلمہ ایک پڑھی لکھی ماں سے محروم ہوجائے گی۔‘‘ امی نے سمعیہ کو سمجھایا۔
’’مگر ایسا بھی تو ہوسکتا ہے کہ صرف خواتین کی یونیورسٹی ہو۔‘‘ سمعیہ نے کہا۔
’’بیٹا ہیں، صرف خواتین کی یونیورسٹیاں بھی ہیں لیکن مشکل مضامین جیسے انجینئرنگ کے لیے ایک ہی یونیورسٹی پاکستان میں بن جائے تو حکمرانوں کا احسان مانو۔ یہاں کس کو توفیق ہے کہ الگ الگ یونیورسٹیاں بنائے! اللہ کرے کہ اسلامی نظام آئے اور مخلوط درس گاہوں کا نظام ختم ہو، مگر اُس وقت تک ہم جاہل تو نہیں رہ سکتے، علم تو حاصل کرنا ہے اور اپنی صلاحیت کے مطابق حاصل کرنا ہے۔‘‘ امی نے سمجھایا۔
’’ٹھیک ہے امی! میں مکمل پردے میں یونیورسٹی جائوں گی اور آپ کو ایک کامیاب انجینئر بن کر دکھائوں گی۔ اسلام مشکلات پیدا کرنے نہیں بلکہ آسانیاں پیدا کرنے آیا ہے۔ ان شاء اللہ میرا رب مجھے راہِ راست دکھائے گا۔‘‘ سمعیہ آخرکار مان گئی۔
’’بالکل، اور مدرسین کو بھی ہر لفظ مکمل تصدیق کے ساتھ ادا کرنا چاہیے، ورنہ جیسے اللہ نے انہیں ہدایت کا سبب بنایا، گمراہی کا سبب بھی بنا سکتا ہے۔‘‘ امی نے کہا۔

حصہ