ہمارا جسم اور بجلی

234

قاضی مظہرالدین طارق
ہمارا جسم دو طرفہ برقی نظام کی بنیادپر چل رہا ہے،کام کر رہا ہے ، ہمارے پورے بدن کے ایک ایک عضو تک ، بجلی کی ترسیل کے لئے تاروں کا ایک جال بچھا ہوا ہے ۔
یہاں طبیعات ، حیاتیات اورریاضی کا ملاپ ہے ، فزکس کے علم کے بغیر ہم بائیلوجی کا علم حاصل نہیں کر سکتے ، اور فزکس کا علم ’ میتھ میٹکس ‘ کے بنا پڑھا ہی نہیں جاتا ۔
جب سارے بدن میں بجلی دَوڑ رہی ہے تو ہم کو بجلی کا جھٹکا کیوں لگتا ہے ؟ جیسے پانی اونچائی سے نیچے کی طرف بہتا ہے ، توایسے ہی کرنٹ بھی زیادہ ’وولٹیج‘ سے کم کی طرف جاتا ہے ، مگر جب تک اُس کو آگے جانے کا راستہ نہیں ملتا وہ دَوڑ نہیں سکتا ، اس لئے ہی تو جب کوئی پرندہ ہائی ٹینشن لائین پر بیٹھے تب بھی اس کو کرنٹ نہیں لگتا ، ہم بھی اگر کسی ایسی چیز پر کھڑے ہو کر بجلی کے تار کو ہاتھ لگائیں گے تو ہم کو بھی شُاک نہیں لگے گا ۔
لیکن خبردار ! آپ خود اس کا تجربہ نہ کریں ، کیوں کہ کسی بھی چیز میں سے بجلی کے نا گزرنے کے لئے کڑی شرائط پوری کرنی پڑتی ہیں ۔
آئیے ! ہمارے بدن میں بجلی کے اس ترسیلی نظام کو دیکھتے ہیں ، اس کو اعصابی نظام (نروس سسٹم) بھی کہا جاتا ہے ۔
اس میں دماغ ، حرام مغز اوراعصابی ریشوں کا جال شامل ہے جو پورے جسم میں پھیلا ہوا ہے ، جس نظام کے واسطے سے سارے حواس اپنی کیفیّات دماغ یا حرام مغز تک بجلی میں تبدیل کر کے پہنچاتے ہیں ۔
اِن اعصابی خَلیوں(نیورانز) کی تین قسمیں ہیں،ایک وہ جو دماغ اور حرام مغز میں ہوتے ہیں ، دوسرے وہ جو حواس سے دماغ کو کیفیّت کا پیغام پہنچاتے ہیں،تیسرے وہ جو دماغ کے فیصلے اور اَحکامات بدن کے خَلیوں تک پہنچاتے ہیں۔
ایک انسان میں ستّرکھرب سے سو کھرب تک منفرد اور زندہ سَیلز ہوتے ہیں ، اِن کی زندگی ایک مکمل زندگی ہوتی ہے ، یہ ہر وہ کام انفرادی طور پر کرتے ہیں جو ہم کرتے ہیں ، یہ کھاتے ہیں ، پیتے ہیں ، سانس لیتے ہیں ، نشونما پاتے ہیں ، بول و براز خارج کرتے ہیں اور تو اور اَولاد پیدا کرتے ہیں،پھر بہت سَیلز مل کر ایک عضو(آرگن ) بنا تے ہیں،جو ایک اجتماعی مقصد کے لئے کام کرتے ہیں ۔
مختلف سَیلز کی مختلف عمریں ہوتی ہیں ، چندگھنٹوں سے لے کر چند سال تک ہوتی ہیں ، سب سے لمبی عمر والے سَیلز آنکھوں میں ’لینس ‘ کے سَیلز ہوتے ہیں ، رحمِ مادر سے لیکر قبر تک ،پوری زندگی اُس کا ہمارا ساتھ ہوتا ہے، اِلّا یہ کہ کوئی موتیا کا آپریشن کرواکر مصنوئی لینس لگوالے ۔
مگر دماغ مُحتاج اور معذورہے ، پہلے باہر کی جِلدمیں لپٹا ہے ، پھرہڈیوں کی کھوپڑی میں ، اس کے اندر بھی کئی پردوں میںہے ، جس میں پانی بھی بھرا ہے تاکہ اس کو ہر چوٹ کے نقصان سے محفوظ رکھا جائے ، پھراُس میں نہ ہوا کا گزر ہے نہ روشنی کا ! بے چارہ اندھیری کوٹھڑی میں بند ہے ۔
اگر دماغ کو یہ اعصابی خَلیے(نیورانز) اعصابی ریشوں (نروو فائیبرز)کی مدد سے پہنچائی ہوئی کیفیات نہ ملتی تو وہ کیاکر سکتا تھا ؟
پھر ایک وقت میںدماغ کو اربوں کھربوں برقیرے (اَیلیکٹریکل اِمپلسس)ملتے ہیں ، تو دماغ اللہ کریم کے عطا کردہ علم اور پہلے گزرے ہوئے تجربات کی بنیاد پر فیصلہ کرتا ہے ،اوراِتنے ساروں کو حکم دیتا کہ تم یہ کرو ، تم یہ کرو ، اور یہ اَحکام بھی اِن کو بجلی کے اشاروں (اِمپلسس )کی شکل میں ملتی ہیں،دماغ کے بہت سارے حصے ہیں ، یہ اِمپلسس اپنے لئے مخصوص حصوں میں جاتے ہیں ، وہاں وہ اس ’کوڈ ‘کو ’ڈیکوڈ‘ کرتا ہے اور عرشۂ دماغ کو بھیج دیتا ہے،عرشۂ دماغ فیصلے اور اَحکامات بھجتا ہے،جو بجلی کی سرعت سے متعلقہ عضو کے سَیلز تک پہنچادیا جاتا ہے۔
واہ!ہمارادماغ بھی کیا عجوبہ ہے !
کیا !یہ حیرت انگیز بات نہیں ہے ، کہ دماغ ایک وقت میں اِن ستّرکھرب سے سو کھرب سَیلز کو ہدایات دیتا ہے کہ کس کوکب کیا کرنا ہے،جب کہ ہر سَیل میں پورے جسم اور اَعضاء کا پورا ’بلو پرنٹ ‘ موجود ہوتا ہے،اِس میں تو سارے کام ایک ساتھ درج ہیں ،ہر خَلیے کو علم نہیں کہ کون سا پروٹین بنانا ہے ، مگر دماغ ہی ہے جس کی ہدایات کے مطابق وہ یہ کام کرتے ہیں۔دماغ مجموعی کام کو ’کوآرڈینیٹ ‘ کرتا ہے ، کاموں کی ترتیب بناتا ہے کہ کب ، کون ، کیا کام کرے۔مثلاً جیسے جب تک دماغ سے ہدایت نہ ملے ؛ خالی پیٹ میں جگر بائیل نہیں بھیجتا،اور دماغ بھی اُس وقت تک اس کا حکم نہیں دیتا ، جب تک پیغام دینے والا یہ نہ بتائے کہ معدے میں کھانا پہنچ گیا ، پھر جب تک معدے سے یہ اطلاع نہ ملے کہ کھانے کے ساتھ یہاں جو کام ہونا تھا وہ ہو چکا، وہ معدے کے منہ کو کُھلوا کر کھانے کو آنتوں کی طرف جانے کی اِجازت نہیں دیتا ۔
یہ سب انتظامات کیوں؟
اب ہم بنیادی اعصابی خَلیوں(نروو سَیلز) کو دیکھتے ہیں ، کہ وہ کیسے کام کرتے ہیں ، اور بجلی کا اس میں کیا دخل ہے:
ان بنیادی خَلیوں کو ربّ تعالیٰ باری و حکیم نے ایک زبردست خوبی یا صلاحیت عطا کی ہے ، وہ تونائی (انرجی ) کی ایک قسم کو دوسری قسم میں تبدیل کر سکتا ہے ؛مثلاً اِن میں سے کوئی تو ’روشنی‘ کو بجلی میں تبدیل کر رہا ہے ، کوئی’ آواز‘ کو ، کوئی’ بو‘ کو ، کوئی’ ذائقے‘ کو،اور کوئی’ لمس‘ کی کیفیات کو ؛ جیسے حرارت ، درد ، دباؤ ، کھچاؤ بجلی کے ’کوڈِڈ‘ اشاروں میں تبدیل کر کے دماغ کو بھیج دیتا ہے۔
لیکن انفرادی طور پر ہر خَلیہ اپنا ہی ایک فرض ادا کرسکتا ہے ، مثلاًروشنی کو بجلی میں بدلنے والا آواز کو نہیں بدل سکتا ، نہ بو بتانے والا ذائقہ کو ، نہ حرارت والا درد کو ، نہ دباؤ والا کھچاؤ ہی کو بتاسکتا ہے ۔
جِلد حواسِ خمسہ میں سے ایک حواس ہے ، یہ جِلد ہمارا سب سے بڑا عضو ہے ، اس میں بہت سی قسم کے بنیادی اعصابی خَلیات ہیں ، اگر یہ نہ ہوتے تو ہم کو یہ معلوم ہی نہ ہوتا کہ ہم جسے ہاتھ لگا رہے ہیں ؛ وہ ٹھنڈا ہے یا گرم ، نم ہے یا خشک ، چکنا ہے یا کُھردُرا ، چمڑا ہے یا کپڑا ،اُونی ہے یا ریشمی ، باہر اور اندر کا درجۂ حرارت کتنا ہے وغیرہ وغیرہ ۔
یہاں ایک اور کمال کا ذکر کرنے کے لائق ہے،ہم ایک تو وہ کام کرتے جو ہمارے اِرادے اور اِختیار میں ہوتے ہیں،مگر ہمارے جسم کے اندر بہت سے کام ہورہے ہیں جس میں ہمارے اِرادے کا کوئی دخل نہیں،مثلاً؛جو کھانا ہم کھاتے ہیں،وہ کہاں ہے،اس کے ساتھ کیا کیمیا گری ہو رہی ہے ہمیںکچھ خبر نہیں ہوتی۔دوسری مثال اس بھی زیادہ حیران کردینے والی ہے، ہم دیکھ سکتے ہیں کہ اکثر ہماراہاتھ کسی گرم یا چُبھنے والی چیز سے چھو جائے تو ہم بالکل غیر اِرادی طوردماغ کے حکم پر ایک جھٹکے کے ساتھ اپنا ہاتھ کھینچ لیتے ہیں جس حکم کا ہم علم بھی نہیں ہوتا،اگر ربّ العالمین نے ہم پر یہ کرم نہ کیا ہو تا تو ہم ہر وقت کسی نہ کسی حادثے کا شکار ہوتے۔
اِس بجلی کی ’سگنلینگ‘ کے سوا بھی جسم میں بجلی کے اور بھی استعمالات ہیں،بجلی کی لا تعداد مشینیں اور موٹرین نسب ہیں ،ایک خَلیہ بہت ہی چھوٹا ہوتا ہے اس بھی بجلی کی موٹر ہوتی ہے جو بال(فِلَیجِل) کو گھماتی ہے،ہماری سانس کی نالی میں بہت ہی باریک بال (سیلیا) ہوتے ہیں ہر سیلیا کے نیچے بجلی کی موٹر لگی ہے جو اس کو خاص طریقے سے ہلاتی ہے اور ہوا کی نالی کا کچرا یا بلغم باہر آتا ہے،آئیے اس موٹر کو بہت قریب سے دیکھتے ہیں۔
یہ اللہ ربّ اعلیٰ کی بنائی ہوئی بجلی سے چلنے والی موٹر ہے،یہ ڈائیگرام الیکٹران مائیکروسکوپ سے لئے گئے عکس کی بنیاد پر بنایا گیا ہے،یہ تصویر ہے ایک سَیل کے ایک سیلیا(بال )کی ہے،کہ اس کو موٹر کیسے گھماتی ہے۔
اندازہ کیجیے کہ اس کا حجم(سائیز) کتنا چھوٹا ہے،ایک سنٹی میٹر کا مطلب میٹر کا سواں حصہ،ایک مِلی میٹر کا مطلب ہزارواں حصہ،ایک نَینو میٹر کا مطلب ایک میٹر کا اربواں، یعنی ایک میٹر کو ایک ارب ٹکڑوں میں تقسیم کیا جائے تو ایک حصہ ایک نَینو میٹر کہلائے گا۔
پھر اندازہ کیجیے کہ اس موٹر کا حجم صرف ۴۵ نَینو میٹر ہے!یہ اتنا چھوٹا ہے کہ بصری خردبین(آپٹیکل مائیکروسکوپ) سے بھی نظر نہیں آتا ! اس کے لئے’ اَیلکٹران مائیروسکوپ‘ ہی کی ضرورت پڑتی ہے۔
اس موٹر کو غور سے دیکھیئے! چار رِنگز ہیں جس میں گھومنے والی شافٹ ہے ،ان رِنگوں کے اندر اور باہر چارجڈ پروٹینز ہیں،اس کے دوسرے حصے بھی خاص قسم کے لحمیات (پروٹینز)سے بنے ہیں۔
یہ سب خالقِ ارض و سما کے کمالات اور نشانیاں ہیں،کیا اِن کی ساخت کو جاننے والا خالق کا انکار کر سکتا ہے؟
٭…٭…٭

حصہ