محبت روشنی ہے

408

خالد معین
کراچی شاعرات کا اہم مرکز ہے ۔اس کا مطلب یہ نہیں کہ پاکستان کے باقی چھوٹے بڑے ادبی مراکز میں شاعرات ناپید رہی ہیں۔تاہم کراچی کو یہ افضلیت یقینا حاصل رہی ہے کہ یہاں ادا جعفری ،زہرا نگاہ، فہمیدہ ریاض ،پروین شاکر جیسی مستند شاعرات نے شعرو ادب کی کٹھن اور دشوار گزار راہوں پر اپنی اپنی شخصی انفرادیت اور اپنے اپنے ہونے کے خوش نما گلاب کھلائے ۔اس سفر میں کراچی سے باہر بھی بہت سے اہم نام شامل رہے ہیں ،جن میںکشور ناہید وغیرہ کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا ۔پھر ستر کی دہائی میں کراچی سمیت پورے ملک میں شاعرات کی ایک ایسی نسل رونما ہوئی ،جس نے اپنی پیش رو شاعرات کے تخلیقی تجربات اور شعرو ادب کے اعتبار و اختیار کی نسبتاًنئی راہوں پر روایت کے احترام اور روایت کے انحراف کے ساتھ قدم رکھا ۔نثری نظم نے ساٹھ کی دہائی سے چلتے چلتے ستر کی دہائی میں نام ور ناقد ،دانش ور اور شاعر قمر جمیل کی سربراہی میںکراچی کی شاعرات کو بہ طور ِ خاص متاثر کیا ۔اسی دہائی میں نثری نظم کا مقدمہ شدیدردو قبول کی منزل سے گزرتا ہوا ایک جان دار تحریک کی صورت میں دکھائی دیا ۔سارہ شگفتہ ،عذرا عباس ،اور دیگر شاعرات نثری نظم کی اسی صف سے نکل کے اعتبار کی روشنی تک پہنچیں۔دوسری جانب پروین شاکر، شاہدہ حسن اور عشرت آفرین وغیرہ نے روایت کے احترام کے ساتھ جدید غزل اور نظم کے سفر میں نسائی اعتبار کو آگے بڑھایا ۔اسی سفر میں ایک اہم نام نسیم نازش کا بھی ہے ۔یہاں ایک بات کا خیال رہے کہ شاعرات کے نام کسی حتمی فہرست کے طور پر درج نہیں کیے گئے بلکہ تمام نام اپنے اعتبار اور احترام کے ساتھ ساتھ ایک علامتی وصف بھی رکھتے ہیں ۔
نسیم نازش صاحبہ سے ہماری پہلی ملاقات کب ہوئی ۔یہ تو ہمیں یاد نہیں ،لیکن اتنا گمان ضرور ہے کہ ہم نے انہیں ایک مختصر شعری نشست میں سماعت کیا ۔ یہ غالبا ً2001ء کی بات ہے ۔اس نشست کے فوراًبعد ایک اور شعری محفل میں نسیم نازش صاحبہ کو قدرے تفصیل سے سننے کا موقع ملا ’’ کسی پہ اب نگہ ِ انتخاب کیا رکھنا ۔۔۔۔لہو بھری آنکھوں میں خواب کیا رکھنا ‘‘ایک غزل کے بعد دوسری غزل ’’ زندہ تیرے بغیر رہ لیں گے ۔۔۔۔رنج ایسا نہیں کہ مر جائیں‘‘ ایک تو خوب صورت غزلیں ،اس پر ترنم کی دل آویز آمیزش نے اس شعری نشست کی فضا کو دو آتشہ بنا دیا تھا ۔ نسیم نازش کا ترنم بھر پور ہے۔اس ترنم میں گائیکی کے جوہر کم کم اور ایک گہری اداسی کی اندورنی لہر کا غلبہ حاوی رہتا ہے ۔یہ ترنم سامعین کی خوش ذوقی کو ضرور ابھارتا ہے ،لیکن اس ترنم میں تغزل کی تہذیب کا رفرما رہتی ہے ۔وہ اپنی بعض ہم عصر شاعرات کی طرح ترنم اور تحت الفظ میںعامیانہ پن کا مظاہر نہیں کر تیں ۔ان ابتدائی شعری نشستوں کے بعد گاہے گاہے نسیم نازش صاحبہ کا کلام سنا اور محسوس کیا کہ وہ مشرقی قدار کی دل دادہ ایک باشعور شاعرہ ہیں ۔ان کی شاعری میں نام نہاد باغی شاعرات کی طرح بلاوجہ کی جذباتی اشتعال انگیزی نہیں ، کیوں کہ وہ اپنی شاعری کو فکر دانش کی دین اور تہذیبی روایات کا ثمر جانتی ہیں ۔نسیم ا پنی غزل کی فنی آرایش میں بھی ایک ایسی ترتیب اور تہذیب سے کام لیتی ہیں کہ لفظیات کی فطری بنت کاری نمایاں رہے اور اس پر سادگی و پرکاری اور احساس و خیال کی شعلگی کا غلبہ رہے ، اسی لیے بے کیف مصنوعی پن ،ثقالت کے انبار ،بھاری تراکیب کا بوجھ اور چبے چبائے خیالات ان کی شاعری میں کم کم نمود کرتے ہیں ۔یہ بھی 2002ء کے آپس پاس کا واقعہ ہے جب آرٹس کونسل،کراچی میں ایک ایسی شام منائی گئی ،جس میں ہمارے ساتھ نسیم نازش بھی مہمان شاعرہ کے طور پر شریک ہوئیں ۔یہ بڑی یاد گار شام تھی ۔ اُس شام نسیم نازش کے فکرو فن پر بڑے خوب صورت مقالے پیش کیے گئے اور انہوں نے اس شام اپنی منفرد شاعری اور دل آویز ترنم سے خوب خوب فضا بنائی ۔اسی شام کے دوران ہمیں شدت کے ساتھ احساس ہوا کہ نسیم نازش کا مجموعہ ِ کلام شائع ہوجانا چاہیے ۔تاہم اس شام کے بعد سال پر سال گزرتے رہے ،لوگ ان سے مجموعے کا تقاضا کرتے رہے ،گاہے گاہے ہم بھی مجموعے کی فرمایش کرتے رہے ،لیکن وہ جو کہتے ہیںکہ ہر کام کا ایک وقت مقرر ہوتا ہے ،سو ایسا ہی ہوا ۔اب 2014 ء میںان کا پہلا مجموعہ ’’محبت روشنی ہے ‘‘کے نام سے شائع ہوا ہے ۔208 صفحات پر مشتعمل اس مجموعے میں حمد ،نعت اور سلام کے علاوہ باقی شاعری غزل پر مبنی ہے اور غزل ہی نسیم نازش کا اصل جوہر بھی ہے ۔
نسیم نازش صاحبہ کی شاعرانہ اور شخصی خوبیوں کا شمار بڑا مشکل ہے ۔ایک جانب اُن کی سنجیدہ ،پُرخلوص اور متوازن شخصیت ہے اور دوسری طرف ان کی خوب صورت ،منفرد اور فطری نمود کے ساتھ پروان چڑھنے والی تہہ دار شاعری کے چمک دار رنگ ہیں۔نسیم نازش نے اپنی تخلیقی ریاضت کا بڑا حصہ غزل کو دیا اور اسی لیے ان کے پہلے مجموعے میں غزل ہی غزل چھائی ہوئی ہے ۔یہ غزل کا عشق بڑا سفاک ہوتا ہے اور عموماًیہ لکھنے والے کو کسی اور صنف کا نہیں رہنے دیتا ۔اگرچہ نسیم نازش نے ہائی کو کے علاوہ نظم اور دیگر اصناف میں بھی طبع آمازئی کی ہے مگر اپنے پہلے مجموعے میںانہوں نے غزل ہی کو فوقیت دی ہے ۔نسیم نازش کی غزل روایت کے خمیر سے اٹھی ہے اور عصر ِ حاضر کی تازہ کاری سے آنکھ ملاتی ہوئی ،اپنے مخصوص طرز ِ اظہار میں سمٹ جاتی ہے ۔ویسے تو انہوں نے مشاعروں میںعام طور پر درمیانی بحروں والی غزلیں ہی زیادہ سنائی ہیں، تاہم اپنی پہلی کتاب میں وہ حیران کُن حد تک سجی سنوری ،پُر اثر ،گہری ،با معانی مختصر بحروں والی غزلوں کے ساتھ بھی سامنے آئی ہیں۔اس کا مطلب یہ بھی نہیں کہ انہوں نے مستعمل اور عام طور پر برتی جانے والی درمیانی بحروں والی غزلیں اپنے انتخاب میں شامل نہیں کیں،نہیں !ایسا ہر گز نہیں ہے ، تاہم ایسی غزلیں تو پہلے ہی ان کی پہچان بن چکی ہیں،جیسے لہو بھری ہوئی آنکھوں میں خواب کیا رکھنا ،تمھارے فیض سے یہ آتش ِ سخن جاگی ،ویرانی مرے ساتھ ہی چلنا چاہتی ہے وغیرہ ،البتہ انہوں نے اپنے پہلے مجموعے میں مختصر بحروں میں جو گُل بوٹے کھلائے ہیں ،وہ قابل داد اور علاحدہ سے ستایش چاہتے ہیں،مثلا ً
خود ہی خم لگاتا ہے۔۔۔۔خود ہی چارہ ساز ہے دل
جیون اک جلتا صحرا ہے ۔۔۔۔در ہے نہ یہاں دیوار اپنی
تھا نشہِ قربت چند ساعت۔۔۔۔مجھ کو ہی خمار ہے زیادہ
آرہا ہے بہار کا موسم ۔۔۔۔رُت بدلنے لگی چلے آئو
میرے ساتھ سفر میں ہے ۔۔۔۔جاڑے کی متوالی دھوپ
اس میں دیکھ نہ چہرہ اپنا۔۔۔۔میرا دل ہے ٹوٹا درپن
گلشن گلشن پھول کھِلے۔۔۔۔خالی ہے دامن میرا
ملنا روز نہیں اچھا ۔۔۔۔۔عادت سی پڑجاتی ہے
یہ رنگ کم سے کم ہماری نظر سے نہیں گزرا تھا ۔اس لیے باقی تمام غزلوںکے ساتھ ساتھ اس طرز کی غزلوں نے ایک جدا گانہ مزا دیا ۔اب رہا ’’محبت روشنی ہے ‘‘کے بارے میں دیگر تاثر تو اسے مختصر طور پر اسی طرح پیش کیا جاسکتا ہے کہ ہوئی تاخیر تو کچھ باعث ِ تاخیر بھی تھا اور اب جو صورت ِحال ہے ،وہ سنجیدہ مطالعے کی متقاضی ہے ۔ایسا مطالعہ جو اس کتاب کے مسودے کا رسا چغتائی،سحر انصاری ،محمود شام ،محسن بھوپالی ، انوار احمد زئی ، شاہدہ حسن ، ڈاکٹر شاداب احسانی اورڈاکٹر رئوف پاریکھ صاحبان نے مشترکہ طور پرکیا ہے اور نسیم نازش کے فکر وفن کے اہم پہلو قارئین تک پہنچائے ہیں۔یہ تمام تفصیلی آرا ہمارے عصری ادب کی نام ور اور معتبر شخصیات نے دی ہیںاور ان آرا کی موجودگی میں ’’محبت روشنی ہے‘‘ کی قدروقیمت میں یقینا اضافہ ہوا ہے، لیکن کچھ لوگوں کے نزدیک آرا کا اتنا ہجوم قاری کے تفہیمی ادراک پر مصنوعی قدغن بھی لگا سکتا ہے ۔ دوسری جانب خوشی کی بات ہے کہ نسیم نازش صاحبہ نے اپنے طویل فنی سفر کے زرئعے ثابت کیا ہے کہ وہ اسقامت پسند ہیں اور ان کی سلجھی ہوئی تخلیقی شخصیت ، اُس عجلت پسندی کی موجودہ روش کو مسترد کرتی ہے ،جس پر بعض شاعرات محض نام و نمود کے لیے سر پٹ دوڑتی نظر آتی ہیں ،کیا ٹی وی اسکرین ،کیا اخبارات کے ادبی صفحات ،کیا ادبی جرائد کے بل پر اپنے قد کو بڑھانے کی بچگانہ خواہش ،کیا موبائل فون کے زرئعے ایس ایم ایس کی بارش ،کیا فیس بُک اور کیا پی آر کی ناپختہ مشق ،یہ سب ہورہا ہے اور اس روش پر شاعرات ہی کیا شعرا بھی خوب دوڑتے دکھائی دیتے ہیںلیکن نسیم نازش ایسے تمام وقتی کرتبوں کی انجام آشنا ہیں کیوں کہ انہوں نے یقینا پہلی معلوم یونانی شاعرہ سیفو سے لے کر ادا جعفری تک اور پھر نئی نسل کی تازہ کار شاعرات تک کے کلام پر نظر ڈالی ہے،فن کے ساتھ شخصیات کا تجزیہ کیا ہے ا،دوسری جانب وہ اچھی طرح جانتی ہیںکہ سنجیدہ شعرو ادب فیشن کے تحت تخلیق نہیں کیا جاتا ۔وہ زندہ روایت کی اہمیت سے بھی واقف ہیں اور انہیںمستقبل بینی کا ہنر بھی آتا ہے ۔اسی لیے نسیم نازش کا پہلا شعری مجموعہ ’’محبت روشنی ہے ‘‘ ایسی کرنوں سے مزین ہے، جو ان کے تاب ناک مستقبل کا اشاریہ ہے اور نئے شعری منظر نامے میں نسائی شاعری کا معتبر حوالہ بھی ہے ۔

حصہ