ماہ رمضان اور بچوں کی تربیت

393

عائشہ بی
رمضان کا چاند نظر آگیا! سب بچے خوشی سے بے حال تھے ثوبیہ نے اپنے بچوں سے کہا: کل کون کون روزہ رکھے گا؟ پانچ سالہ معاذ اور چار سالہ سعد بھی تیار تھے۔ سات سالہ ابراہیم میں بھی روزہ رکھنے کا شوق و جذبہ تھا۔ اچھا بچوں! اگر روزہ رکھنا ہے تو پھر جلدی سے سونے کی تیاری کرو! جو اٹھ کر سحری نہیں کرے گا وہ روزہ نہیں رکھے گا!!
امی نے سحری کے لیے جگایا تو فوراً سارے بچے اٹھ بیٹھے۔ ’’بچ یہ اللہ کی ہے شان آیا ہے رمضان‘‘۔ ابراہیم نے سب کے ساتھ سحری کی! جو نماز نہیں پڑے گا ان کا روزہ بھی نہیں ہو گا!! جیسے ہی فجر کی آذان ہوئی تو ابراہیم نے جلدی جلدی وضو کیا اور اپنے ابو کے ساتھ مسجد چلا گیا۔ نماز با جماعت ادا کرنے کے بعد قرآن کی تلاوت بھی کی!!
ابراہیم نے اسکول کے لیے تیاری کی! اسکول جانے سے پہلے امی نے کہا: ابراہیم آپ کا روزہ ہے! خیال رکھنا! چپکے سے پانی نہیں پینا! کوئی نہیں دیکھ رہا ہے پر ’’اللہ تو دیکھ رہا ہے‘‘! ’’کوئی دیکھے یا نہ دیکھے اللہ دیکھ رہا ہے‘‘! ابراہیم نے پچھلے سال بھی ایک روزہ رکھ چکا تھا ۔
اسکول میں اسمبلی کے بعد پرنسپل نے بچوں کو رمضان کی فضیلت و اہمیت کے بارے میں بتایا! اور روزے دار بچوں کو سراہا اور جنہوں نے روزہ نہیں رکھا ان بچوں کو بھی روزہ رکھنے کی تلقین کی!!
جب لنچ بریک ہوا تو سب دوستوں نے ابراہیم سے کہا: ارے ابراہیم کھا لونا! اف کب تک بھوکا رہو گے؟ ابراہیم! کوئی نہیں دیکھ رہا ہے بس خاموشی سے تھوڑا کھا لو! جزاک اللہ میرے بھائیوں! ’’میں نے روزہ رکھا ہے! میں نے روزہ اللہ کے لیے رکھا ہے۔ بھائیوں! میرا روزہ خراب مت کرو۔ کھانے پینے سے روزہ ٹوٹ جائے گا! روزہ توڑنا بہت بڑا گنا ہے اللہ سے ڈرو! آپ لوگ بھی روزہ رکھو!!‘‘
ابراہیم اسکول سے گھر پہنچا تو امی نے کہا: بیٹا! آپ کو روزہ تو نہیں لگ رہا! نہیں امی! اللہ کا شکر و احسان ہے۔ اچھا بیٹا پہلے کپڑے چینج کر لو پھر وضو کرکے ظہر کی نماز پڑھ لو اس کے بعد تھوڑی دیر سو جانا۔ جی امی جان! ابراہیم اپنے ابو کے ساتھ عصر کے نماز مسجد میں ادا کی شام کو امی نے افطاری تیار کی۔ پڑوسیوں کے گھر افطاری لے کر گیا تو روزہ رکھنے پر سب نے ابراہیم کو شاباشی دی۔ ابراہیم خوشی خوشی گھر واپس آگیا۔ گھر میں دسترخواںبچھا ہوا تھا۔ دستر خواں پر چیزیں رکھنے کے لیے ابراہیم نے امی کی مدد کی! دعا مانگنے لگا۔ دعا پڑھ کر روزہ کھولنے کے بعد مغرب کی نماز ابو کے ساتھ مسجد میں ادا کی! الحمدللہ عشاء کی نماز کے بعد ابو کے ساتھ تراویح بھی ادا کی!!
ابراہیم دوسرے دن جب اسکول گیا تو دوستوں نے بھی روزہ رکھ لیا تھا۔ ابراہیم بہت خوش ہوا اور کہنے لگا: دوستوں آج میں بہت خوش ہوں اس لیے کہ آج آپ لوگوں نے بھی روزہ رکھ لیا پر دوستوں! لڑائی جھگڑے جھوٹ اور ہر برے کام سے بچنا ہو گا۔ نماز کی پابندی کرنی ہے۔ روزہ ہمارے لیے ایک تربیت ہے۔ اور ہمیں روزے کا اصل مقصد پورا کرنا ہے۔ ورنہ صرف بھوکا پیاسا رہنے سے کوئی فائدہ نہ ثواب!!
آج ابراہیم اسکول سے خوشی خوشی گھر آیا۔ امی امی آج ایک خوش خبری ہے! امی آپ کو پتا ہے ’’آج میرے دوستوں نے بھی روزہ رکھ لیا‘‘! اچھا بیٹا! یہ تو بہت ہی خوشی کی خبر ہے میں بھی بہت خوش ہوں! ماں نے ابراہیم کو خوب پیار کیا اور دعا کی کہ ’’اے اللہ تمام بچوں کو نیکی کی طرف چلنے کی توفیق عطا فرمائے!‘‘ آمین!!

غرور کی سزا

روبینہ ناز
ایک جنگل میں منٹواور پنٹونامی دو بندرہتے تھے۔ دونوں دن بھرخوب اچھلتے اور شرارتیں کرتے۔ منٹو عادت کا اچھا اور رحم دل تھاجبکہ پنٹو غصیلا اور مغرور طبیعت کامالک تھا۔ کبھی کبھی منٹواسے سمجھاتاتو منٹو کہتا۔
میں پھر تیلابندرہوں۔ میری پھرتی اور اونچی چھلانگ کاکوئی مقابلہ نہیں کرسکتا۔ منٹوایک دن جنگل میں پھل تلاش کررہاتھا کافی تلاش کے باوجود جب اسے اپنی پسند کاپھل نہیں ملا تو وہ درخت کے پتے اور بیرکھاکرپیٹ بھرنے لگا۔ اچانک پنٹو آگیا منٹوکوبیرکھاتادیکھ کرکہنے لگا‘ تم بیرکیوں کھارہے ہو؟ کیا تمہیں اچھے پھل نہیں ملے؟ منٹونے نفی میں سرہلایاتو پنٹو بولا‘‘ چلوہم جنگل کی دوسری جانب چلتے ہیں اور وہاں ہمیں اپنی پسند کے پھل ضرور ملیں گے۔
منٹونے کہا ہمارے بڑوں نے اس حصے میں جانے سے منع کیاہے وہاں اکثر شکاری گھومتے ہیں۔ پنٹو نے کہا‘ تم میرے ساتھ چلومیں دیکھتاہوں کیسے شکاری پکڑتے ہیں۔
منٹومجبور ہوکرپنٹو کے ساتھ چل پڑا۔ جنگل کے اس حصے میں انہیں پھلوں سے لدے ہوئے درخت ملے منٹونے کچھ پھل کھائے اورپنٹو سے کہا۔
چلواب ہم واپس چلتے ہیں۔ پنٹونے کہا۔ میں توایسی یہاں گھوموں گااور سیر کروں گا۔ یہ کہتے ہی پنٹونے چھلانگ لگائی اور درخت کے اوپر چڑھ کرایک شاخ پکڑ کے جھوٹنے لگا۔ کچھ دیر بعد انہیں درختوں کے بیچ ایک تھال میں پھل دیکھ کرپنٹو کی رال ٹکپنے لگی۔
وہ جیسے ہی ان پھلوں کی طرف لپک تومنٹو بولاپنٹو مجھے خطرے کی بوآرہی ہے۔ تم وہاں نہ جاؤ۔ پنٹونے اس کی بات نہ سنی اور نیچے چھلانگ لگادی اور جیسے ہی پنٹو نے تھال میں سے پھل اٹھایا ایک جال کہیں سے آگرا جس میں وہ پھنس گیا۔ کچھ ہی دیرمیں ایک شکاری آیااور پنٹو کو جال سے نکال کراس کے گلے میں رسی باندھ کراپنے ساتھ لیاگیا۔
منٹو بے چارہ درخت پربیٹھایہ سب دیکھ رہاتھا۔ وہ اپنے دوست کوبچانے کیلئے کچھ نہیں کرسکا۔ اسے خیال آیاکہ ان کے بزرگ کہتے ہیں۔ کہ بیٹا’’ بڑا بول آگے آتا ہے۔ پنٹو کے ساتھ بھی یہی ہوا۔ وہ اپنی پھرتی اور چالاکی پرغرور کرتاتھا لیکن وہ آج اس کے کچھ کام نہ آئی۔

حصہ