روزہ اور احمد میاں

188

حذیفہ عبداللہ
احمد آج بہت خوش تھا کیونکہ اسے کل کا روزہ رکھنے کی اجازت مل گئی تھی سات سال کی عمر اور گرمی بلکہ شدید گرمی کے روزے، دادی اماں کے مطابق سخت گرمی کے روزے احمد میاں نہیں رکھ پائیں گے اسی لیے وہ اجازت نہیں دے رہیں تھیں لیکن احمد میاں کے شدید اصرار اور خواہش کے پیش نظر آج آخر دادی اماں نے روزہ رکھنے کی اجازت دیتے ہوئے احمد کی امی اور ابو کو پابند کیا کہا کل سحری اور افطار کا خصوصی اہتمام کیا جائے احمد کی روزہ کشائی کی جائے احمد کے دوستوں اور قریبی عزیزوں کو افطار پر بلایا جائے۔
احمد سحری کے وقت بہت جلد اٹھ گئے دسترخوان پر انواع و اقسام کے لوازمات سجے ہوئے تھے دادی اماں نے اپنے لاڈلے پوتے احمد کو اپنے ہاتھ سے سحری کرائی اور ہدایت کی کہ وہ آج غیر ضروری مصروفیات ترک کرتے ہوئے زیادہ آرام کریں احمد نے نماز فجر ابو کے ساتھ مسجد میں ادا کی اور اس کے بعد وہ آرام کے غرض سے اپنے کمرے میں چلے گئے۔
دادی اماں نے احمد کے روزے کے حوالے سے ایک شیڈول مرتب کیا ہواتھا جس کے مطابق احمد میاں دوپہر تک آرام کرتے رہے اور پھر نماز ظہر ادا کرنے کے بعد دادی اماں کے کمرے میں آگے۔ دادی اماں نے احمد میاں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آج آپ کا روزہ ہے روزہ صرف کھانے پینے کے چھوڑ دینے کا نام نہیں ہے بلکہ جھوٹ سے پرہیز، غیبت، چغلی سے اجتناب، لڑائی جھگڑوں سے دور رہنا بھی ہے۔ روزہ تو وہ عمل ہے جس میں حلال چیزوں کو بھی چھوڑنا ہوتا ہے حرام اور غلط کام تو بغیر روزے کے بھی کرنا منع ہے احمد نے اپنے دوست ذیشان کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ دادی اماں کل ذیشان کا روزہ تھا اور دوپہر کے وقت وہ گھر کے باہر کھیل کے دوران اپنے ہی ساتھیوں سے لڑ پڑا اور انہیں برا بھلا کہا، گالی گلوچ کی بلکہ نوبت لڑائی جھگڑے تک آجاتی اگر محلے کے بزرگ نہ چھڑاتے اور ان بزرگ کی طرف سے سمجھانے کو بھی ذیشان نے برا جانا اور بڑ بڑاتا ہوا گھر میں چلا گیا۔ دادی اماں نے کہا کہ یہ انتہائی غلط عمل ہے لڑائی جھگڑا، گالی گلوچ ایک شیطانی عمل ہے لڑائی جھگڑا کرنا، گالی گلوچ کرنا کسی کو تنگ کرنا اذیت پہنچانا یہ وہ اعمال ہیں جو کہ روزے کے بغیر بھی جائز نہیں تو روزے کی حالت میں ایسے کام کرنا ایسا ہی ہے کہ روزہ رکھا ہی نہیں۔ اسے روزہ دار کے لیے ہی کہا گیا ہے کہ بعض لوگوں کو سوائے بھوک و پیاس کے کچھ نہیں ملتا۔
دادی اماں نے احمد میاں کو روزے کی افادیت بتاتے ہوئے کہا کہ روزے کے مقاصد اسی وقت حاصل ہو سکتے ہیں جب اسے اس کی اصل روح کے ساتھ رکھا جائے نمازوں کا اہتمام بلکہ باجماعت نمازیں ادا کی جائیں قرآن پاک سے تعلق جوڑنا چاہے جھوٹ غیبت سے پرہیز کرتے ہوئے اچھے کاموں میں حصہ لیا جائے اور اچھائی کو قبول کرنے کے ساتھ دوسروں کو اچھائی کی دعوت دی جائے رمضان ایک تربیتی پروگرام ایک ماہ کے لیے ہوتا ہے تاکہ سال کے باقی گیارہ ماں اسی تربیت کے تحت گزارے جائیں اگر درست انداز میں تربیت نہ ہو سکے تو فائدہ کیا عصر کا وقت ہونے والا تھا نماز کے لیے مسجد جانا تھا احمد نے دادی سے وعدہ کیا کہ وہ روزے میں ہی نہیں بلکہ اس کے علادہ بھی کبھی جھوٹ نہیں بولوں گا نہ ہی غیبت کروں گا لڑائی جھگڑوں سے دور رہوں گا بد تمیز اور گالی گلوچ کرنے والے بچوں سے دوستی نہیں کروں گا اور کوشش کروں گا کہ جو قریبی دوست اس برے عمل کے عادی ہیں ان کی اصلاح کروں گا تاکہ روزے کا مطلوبہ مقصد حاصل ہوں۔

عزیر کا روزہ

دیا خان بلوچ
عزیر چھٹی جماعت کا طالبعلم ہے۔ وہ شرارتی ہونے کے ساتھ ساتھ تھوڑا لاپرواہ ہے۔ عزیر اکلوتا ہونے کی وجہ سے لاڈلا بھی ہے۔ جب سے رمضان المبارک شروع ہوا تھا وہ سارے روزے رکھ رہا تھا۔سحری کے بعد نماز پڑھتا اور سو جاتا ۔امی زبردستی اسے ظہر کی نماز کے لئے جگاتی تھیں۔اس وقت وہ بہت منہ بناتا کہ گرمی ہے یا پھر یہ کہتا کہ امی ابھی اور سونے دیں۔کبھی کبھار تو وہ بہت غصہ ہوتا اور آس پاس پڑی چیزیں بھی توڑ دیتا۔کل ہی اس نے پڑوس میں رہنے علی کو تھپڑ مارا تھا وجہ یہ تھی کہ وہ اس کی سائیکل چلا رہا تھا۔علی نے اس سے دوستی ختم کر لی تھی ۔علی سے دوستی ختم ہونے کی وجہ سے عزیر اور بھی پریشان رہنے لگا تھا کیوں کہ علی اس کا بچپن کا دوست تھا۔امی اس کے اس طرح کرنے سے بہت پریشان تھیں ۔انہوں نے کئی بار اسے سمجھانے کی کوشش کی ۔عزیر ہر بار ان سے معذرت کرتا لیکن پھر جب اس کو غصہ آتا تو وہ سب کچھ بھول جاتا تھا۔اب کی بار تو اس نے حد کر دی ۔اس روز ان کے گھر ہمسائے کا بچہ اپنی گیند لینے کے لئے آیا تو عزیر نے اسے گیند نہ دی بلکہ ڈانٹ کر بھگا دیا۔
امی نے زبردستی بال اس سے چھین کر باہر گلی میں بچوں کے پاس پھینک دی ۔انہوں عزیر کے والد عرفان احمد کو بتایا ۔وہ بھی کافی دنوں سے عزیر کو دیکھ رہے تھے لیکن اس کا مسئلہ سمجھ نہ پا رہے تھے ۔پہلا عشرہ تو جیسے تیسے گزر گیا۔دوسرے عشرے میں سحری کے وقت ابو نے کہا کہ آج سے عزیر روزہ نہیں رکھے گا۔عزیر نے جب یہ سنا تو اس کا منہ کھلے کا کھلا رہ گیا ۔لیکن کیوں ابو جان؟اس نے ہچکچاتے ہوئے پوچھا۔بیٹا ،روزہ اللہ کے لئے ہے،روزہ صبر کا نام ہے جب ہم روزہ رکھتے ہیں تو ہم صبر کرنا سیکھتے ہیں۔لیکن اگر ہم روزہ رکھ کر بھی اس طرح کا رویہ رکھیں کہ جیسے ہم دوسروں پر احسان کر رہے ہیں تو ایسے روزے رکھنے کا کوئی فائدہ نہیں۔اگر روزہ رکھنے سے آپ کے اندر برداشت کا مادہ پیدا نہیں ہوتا تو پھر آپ نے روزہ رکھ کر کیا سیکھا ہے؟لیکن ابو میں کسی پر احسان تو نہیں کرتا۔عزیر کی آنکھوں میں آنسو تھے۔لیکن آپ کا انداز تو ایسا ہوتا ہے۔مجھے بتائیں کیا وجہ ہے کہ آپ کا رویہ ایسا ہو گیا ہے؟پہلے تو عزیر خاموش رہا پھر بولا:ابو جان میرے سارے دوست میرا مذاق اڑاتے ہیں کہ میں سارے روزے رکھتا ہوں،اور گھر میں آرام بھی کرتا ہوں۔جب سے رمضان المبارک شروع ہوا ہے ایسا لگتا ہے کہ میں بس گھر میں قید ہو کر رہ گیا ہوں۔اکیلے رہنے کی وجہ سے مجھے غصہ بہت آنے لگا ہے۔مجھے ساری چیزیں بہت بری لگنے لگی ہیں۔مجھے گرمی بھی بہت لگتی ہے۔
بیٹا روزہ تو آپ پر فرض ہے اور آپ اچھی طرح جانتے ہیں کہ فرض کسی صورت معاف نہیں۔رمضان میں ایک روزہ بلا عذر چھوڑنے کا کتنا گنا ہ یہ آپ بھی جانتے ہیں۔اور آپ کو کس نے کہا کہ آپ گھر میں قید ہو کر رہیں ،آپ جایا کریں اپنے دوستوں کے پاس ۔ان سے ملو۔اگر وہ روزے نہیں رکھتے تو ان کا ذاتی مسئلہ ہے بیٹا۔لیکن ہم آپ کو اس طرح کھائی میں نہیں گرنے دیں گے۔آپ کو صحیح غلط ہم نے بتانا ہے بیٹا۔روزہ جبر کا نہیں صبر کا نام ہے،حبِ الہیٰ کا ذریعہ ہے۔اللہ تعالیٰ روزہ دار کو بہت سے انعام و اکرام سے نوازتا ہے ۔رہ گئی بات گرمی لگنے کی تو بیٹا اسی کا تو ثواب ملنا ہے۔رمضان المبارک میں ایک نیکی کا صلہ ستر گنا زیادہ ملتا ہے۔کسی سے مسکرا کر بات کرنا بھی نیکی ہے۔عزیر خاموشی سے یہ ساری باتیں سنتا رہا۔ اس نے سحری کھائی اور ابو کے ساتھ نماز ادا کرنے چلا گیا۔آج اس کو غصہ بھی نہیں آرہا تھا۔اس نے اطمینان سے نماز پڑھی اور گھر آکر تلاوت ِ قرآن پاک بھی کی۔جب امی ابو نے عزیر کو اس طرح پرسکون دیکھا تو ان کو بھی اطمینان ہوا۔اس دن عزیر نے امی کی کام میں مدد بھی کی اور ساتھ والی خالہ اماں کے گھر افطار بھی بغیر ضد کیے دینے چلا گیا۔افطار کے وقت عزیر نے ابو سے کہا:ابو جان مجھے سمجھ آگئی ہے روزہ صرف بھوکے پیاسے رہنے کا نام نہیں بلکہ ہر اعضاء کا روزہ ہے۔کسی کی دل آزاری بھی نہیں کر نی چاہیے اور اپنے بڑوں کا دب بھی کرنا چاہیئے۔آج کے بعد میں آپ کو کبھی بھی تنگ نہیں کروں گا۔اس کی بات سن کر وہ دونوں مسکرا نے لگے۔

مسکرائیے

٭ ایک پولیس سپاہی کی بیوی (سوتے ہوئے شوہر سے) جلدی اٹھیے گھر میں چور گھس آیا ہے۔
سپاہی سونے دو میں ڈیوٹی پر نہیں ہوں۔
٭٭٭
٭ باپ بیٹا تم رات کو کتنے بجے تک پڑھتے ہو۔
بیٹا جی! گیارہ بجے تک۔
باپ (حیران ہو کر) لیکن نو بجے تو بجلی چلی جاتی ہے۔
بیٹا۔ جی بات یہ ہے کہ میں پڑھائی میں اتنا مگن ہوتا ہوں کہ بجلی کے جانے کا پتا نہیں چلتا۔
٭٭٭
٭ ایک بچہ گلی میں کھڑا رو رہا تھا ایک بزرگ ادھر سے گزرے، انہوں نے کہا بیٹا میں تمہاری جگہ ہوتا تو اس طرح نہیں روتا۔
بچے نے جواب دیا مجھے تو اسی طرح رونا آتا ہے آپ جس طرح چاہیں رو لیں۔
٭٭٭
٭ جیلر تمہیں یہاں کوئی تکلیف تو نہیں۔
قیدی جی ہے جناب! یہاں سے نکلنے کا راستہ نہیں ملتا۔

چڑیاں

روبینہ اعجاز
چوں چوں چوں چوں کرتی ہیں
چڑیاں پیاری پیاری ہیں
میرے گھر میں آتی ہیں
سب کا دل لبھاتی ہیں
گرمی جب بھی ہوتی ہے
پیاسی یہ ہو جاتی ہیں
پانی انکا رکھو تو
خوش ہو کر پی جاتی ہیں
بھوکی جب یہ ہوتی ہیں
دانہ دنکا کھاتی ہیں
چوں چوں چوں چوں کر کے یہ
پھر سے اڑ جاتی ہیں

حسیات

مدیحہ صدیقی
جسم یہ کہتا ہے اک بات
پانچ ہیں میری حسیات
سونگوں
چکھوں
تھاموں
دیکھوں
اور سنوں میں ہر آواز
رب نے دی ہیں حسیات
تاکہ جان سکیں ہر بات
…….
ناک سے سونگیں
جان لیں خوشبو
کہ ہے معطر
یا کہ باس
…….
آنکھوں سے دیکھیں
ہر کام
کیا ہے چیز
اور کیا ہے نام
کیسے رنگ
اور کیسے لوگ
چلتے پھرتے ہیں
ہر گام
…….
کانوں سے سنْ کر آواز
جان گئے ہیں ہم
ہر ساز
کس کی دھیمی
کس کی تیز
کس کا ہے کیسا انداز
…….
ہاتھ بنیں ہیں ایسا آلہ
چیزیں تھامیں
جان لیں خواص
سخت,نرم
ٹھنڈا یا گرم
کیا ہے عام
اور کیا ہے خاص
…….
ذائقے جیسی نعمت دے دی
دنیا ہو گئی مزے دار
میٹھا,کھٹا
تھیکا,کڑوا
جانیں .چکھیں
اور پہچانیں
کون سی چیز
نہ دل کو بھائے
کون سی چیز میں
لذت پائے
کون سی چیز
نہ اندر جائے
زباں ہے ایسا چوکیدار
…….
رب نے دی ہیں حسیات
جسم ہمارا
واہ کیا بات

حصہ