خونِ مسلم کی داستاں

231

اے اے کشمیر
روئے زمین پر پہلا خون جس نے بہایا، وہ آدم علیہ السلام کا فرزند اور ہمارا بھائی قابیل تھا۔پھر یہ کشت و خون کا سلسلہ چلتا رہا اور تاحال جاری و ساری ہے ۔کوئی مذہب کے نام پر تو کوئی زمین کی خاطر تو کوئی اپنے توسیع پسندانہ عزائم کی تکمیل کے لیے تو کوئی نسلی بنیادوں پر اس خون کی ہولی میں شریک ہے ۔لاکھوں انسانوں کا خون ابن آدم کے نامہ اعمال میں آج بھی لکھا جارہا ہے ۔اسی کی ایک صورت ہمارے پڑوس میں بھارت جیسا انتہاء پسند ملک اس ہولناک قتل ِانسان کے جرم میں ملوث ہے۔تین دہائیوں سے بھارت کشمیریوں کے خلاف طاقت کا اندھا دھند استعمال کرنے کے باوجود ناکام و نامراد ہے اورآج اہلیانِ کشمیر کے آزادی کے عزم کو دبا نہیں سکا۔
مسلمانان ِکشمیر کے خون کا سودا تو معاہدہ امرتسر 16مارچ 1846ء میں ہی کردیا گیا تھا، جب انگریز نے گلاب سنگھ کے ہاتھوں صرف 75لاکھ نانک شاہی کے عوض بیچ دیا تھا۔کتنا کم ظرف انسان تھا کہ جاہ و حشمت کی خاطر جیتے جاگتے انسانوں کا ہی سودا کردیا۔قتل ِ انسان کا یہ جرم عارضی طور پر تو رک گیا لیکن 1913ء میں ایک بار پھر سری نگر کی جیل کے احاطے میں انتہائی وحشیانہ طریقے سے فائرنگ کرکے 22مسلمانوں کو شہید جبکہ 47کو شدید زخمی کردیا۔جب اس قدر خون بہایا گیا تو آل انڈیا مسلم لیگ حرکت میں آئی اور علامہ اقبال رحمۃ اللہ علیہ کی سربراہی میں ’’ کشمیر کمیٹی ‘‘ قائم کی گئی تاکہ مسئلہ کشمیر کو دنیا کے سامنے اجاگر کیا جائے ۔اسی لڑی کی ایک صورت کو آگے بڑھاتے ہوئے ’’تحریک ِ احرار‘‘ نے غیر مسلح اور سول نافرمانی کا آغاز کیا تاکہ اہل ِکشمیر پر جو مظالم کے پہاڑ توڑے جارہے ہیں انہیں روکا جائے ، اسی سبب سے گلینسی مشن قائم کیا گیا۔
جب ڈوگرہ راج کی طرف سے کوئی لچک نظر نہ آئی تو 1934ء میں پہلی ملک گیر ہڑتال کی گئی ۔مسلمانوںکے مسائل کو اجاگر کرنے کے لیے مسلم کانفرنس نے 1946ء میں قائد اعظم علیہ الرحمہ کو سری نگر کے دورے کی دعوت دی،جنکی دور اندیش نگاہوں نے خطہ کشمیر کی دفاعی ،جغرافیائی اور اقتصادی صورت حال کے پیش نظر کشمیر کو پاکستان کی شہ رگ قرار دیا۔ایک بار پھر مسلم کانفرنس نے مسلمانان کشمیر کے درد کو محسوس کرتے ہوئے 19جولائی 1947ء میں سردار ابراہیم کے گھر سری نگر میں الحاق ِ پاکستان کی قرار داد پیش کی ۔اہلیانِ جنت نظیر کے باسیوں کی ہڑتالوں، قراردادوں ،سول نافرمانیوں کی طرف جب کچھ بھی توجہ نہ دی گئی تو مسلمانوں نے جہاد جیسی عظیم عبادت کے ذریعے سے جابر و ظالم ڈوگرہ و انگریز افواج سے نمٹنے کا فیصلہ کیا ، اور اپنی پہلی مسلح جدوجہد کا آغاز’’ امیر المجاہدین مولانا فضل الہی وزیر آبادی ‘‘کی قیادت میں ’’ نیلا بٹ‘‘ کے مقام سے کیا ، اور یہ مسلح جدوجہد کا ہی کا ثمر تھا کہ فقط پندرہ ماہ کے قلیل عرصے کی مدت میں ایک بہت بڑا علاقہ جسے دنیا آج ’’ آزاد کشمیر ‘‘ کے نام سے جانتی ہے ،حاصل ہوا ۔
جب مسلمانوں نے جہاد ہند کا آغاز کیا تو ہندو بنیا جان گیا کہ اگر یہ سلسلہ مزیدجاری رہا تو پورے کشمیر سے ہی ہاتھ دھونا پڑیں گے ،پنڈت جواہر لال نہرو بھاگم بھاگ ’’ اقوام متحدہ ‘‘ کی چوکھٹ پر سجدہ ریز ہوا اور جنگ بندی کے مطالبے کے ساتھ ساتھ یہ وعدہ بھی کیا کہ مسئلہ کشمیر عوامی امنگوں کے مطابق حل کیا جائے گا۔یوں نہرو اقوام متحدہ کے ذریعے مہلت حاصل کرنے میں کامیاب ہوگیا کیونکہ بنئے کے بارے میں کہاوت مشہور ہے ’’ بغل میں چھری اور منہ میں رام رام ‘‘اور پھربنئے نے اسکا پورا پورا فائدہ اٹھایا۔جب بھارتی ہٹ دھرمی اور اقوام متحدہ کی بے حسی کی وجہ سے مسئلہ جوں کا توں رہا تو ٹھیک 41سال بعد 1989ء میں وادی کے لوگوں نے ایک بار پھر مسلح تحریک آزادی کا آغاز کردیا ۔اس دوران بھارت کی معاندانہ سرگرمیوں کوئی کمی واقع نہ ہوئی بلکہ مظالم روز ایک نئی شکل میں سامنے آنے لگے ،قتل و غارت گری ،جنسی زیادتی ،کھیتوں کھلیانوں کو تباہ و برباد کیا جانے لگا تو 5فروری 1989ء میں ہی اہل پاکستان نے اپنے بھائیوں کے ساتھ اظہار یکجہتی اور پوری دنیا میں ہندو بنئے کا چہرہ بے نقاب کرنے کے لیے ’’یوم ِکشمیر ‘‘منانے کا آغاز کیا جو 28 برسوں سے تاحال جاری ہے اور ہر سال ہمیں اس بات کا احساس دلاتا ہے کہ اپنے مظلوم کشمیری بھائیوں کو بھول مت جانا،جو اپنی آزادی کی خاطر تن من دھن کی بازی لگائے ہوئے ہیں۔
قارئین کرام! ہماری ذمے داری یہ ہے کہ ہم اپنے بھائیوں کے دست و بازو بن جائیں، دامے درمے سخنے ہر حال میں انکو یاد رکھیں۔زبان ،قلم اور جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے سے بھارت کے ظلم کو بے نقاب کریں۔شکوک و شبہات اور پروپیگنڈا کرنے والوں سے ہوشیار رہیں ۔مسلمان تو جسد واحد کی مانند ہیں، اگر ایک عضو میں دردہو تو سارا جسم تکلیف محسوس کرتا ہے ۔ آج کے دن ہم بھی عہد کریں کہ ہم اپنے بھائیوں کی ہر طرح سے مدد و نصرت میں لگے رہیں گے ،ان شاء اللہ پھربہت جلد آزادی کا سورج طلوع ہوگا۔

حصہ