حرمتِ مومن

296

در صدف ایمان
کوئی نئی بات تو ہے نہیں، ہر چند ماہ بعد کسی نہ کسی ملک میں مظلوم مسلمان ہوتے ہیں اور دشمنان مسلم، اب چاہے وجہ کوئی بھی ہو سیاسی فکری، اقتصادی، اعتقادی، مفادی تختہ مشق مسلمان ہی ہوتا ہے اور بد قسمتی سے دشمنان اسلام و امت مسلمہ کے ساتھ ساتھ ہاتھ کچھ کلمہ گو اور نام کے مسلمانوں کے بھی ہوتے ہیں۔ کاش انہیں بے دریغ قتل کرنے والوں کو معلوم ہونا چاہیے کہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نزدیک مومن کے جسم و جان اور عزت و آبرو کی کیا اہمیت ہے۔ وہ جان سکتے مومن کی حرمت کیا ہے، ایک مومن کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کیا فرمایا ،حرمت مومن کو کعبہ سے بھی بڑھ کر بیان کیا. کاش اس دنیوی عیش و عشرت و سکون و حکمرانی کے لیے مدد کرنے والو کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا یہ فرمان یاد ہوتا فرمان رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہے: ’’جس شخص نے چند کلمات کے ذریعہ بھی کسی مومن کے قتل میں کسی کی مدد کی تو وہ اللہ عزوجل سے اس حال میں ملے گا کہ اس کی آنکھوں کے درمیان پیشانی پر لکھا ہوگا (اللہ تعالیٰ کی رحمت سے مایوس شخص)‘‘ (ابن ماجہ) اس حدیث مبارکہ میں صراحت کے ساتھ لکھا ہے کہ مدد کرنا کیا ہے، مقام افسوس ہے کہ اللہ کی بارگاہ میں وہ کیا قرار دیا جائے گا یا پھر شاید انھیں اس بات سے غرض ہی نہیں کہ حرمت مومن، حرمت اسلام ہے کیا۔ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ انہوں نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو خانہ کعبہ کا طواف کرتے دیکھا اور یہ فرماتے سنا ’’اے کعبہ! تو کتنا عمدہ ہے اور تیری خوشبو کتنی پیاری ہے، تو کتنا عظیم المرتبت ہے اور تیری حرمت کتنی زیادہ ہے، قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے، مومن کے جان و مال کی حرمت اللہ کے نزدیک تیری حرمت سے زیادہ ہے اور ہمیں مومن کے بارے میں نیک گمان ہی رکھنا چاہیے۔‘‘ (ابن ماجہ)
کعبہ وہ مقام جہاں جانے کے لیے لوگ پوری پوری زندگی انتظار کرتے ہیں، محنت کرتے ہیں، دعا کرتے ہیں، اس مقام سے، اس بیت اللہ سے بڑھ کر ایک مومن کی حرمت قرار دی گئی، مگر مقام افسوس مفاد نے آنکھوں میں پٹی باندھ دی۔ آج پانی کی خون بہایا جارہا ہے، ہتھیار نہیں ہتھیاروں سے حملہ کیا جارہا ہے، ایک وجود کے کئی ٹکڑے کیے جارہے ہیں پر فرمان رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پڑھنا بھول گئے جس میں فرمایا گیا ’’تم میں سے کوئی شخص اپنے بھائی کی طرف ہتھیار سے اشارہ نہ کرے، تم میں سے کوئی نہیں جانتا کہ شاید شیطان اس کے ہاتھ کو ڈگمگا دے اور وہ (قتل ناحق کے نتیجے میں) جہنم کے گڑھے میں جا گرے۔‘‘ (صحیح مسلم)
رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ننگی تلوار لینے دینے سے منع فرمایا۔ ایک بنا نیام کی تلوار لینے دینے سے منع فرمانا کہ مبادا کوئی نقصان نہ پہنچ جائے، اس کے مقابلے میں آتشزدگی فولادی ہتھیاروں سے حملہ کرنا کہیں زیادہ بڑا گناہ و ظلم ہے۔کسی انسانی جان کی قدر و قیمت اور حرمت کا اندازہ یہاں سے لگایا جا سکتا ہے کہ اس نے بغیر کسی وجہ کے ایک فرد کے قتل کو پوری انسانیت کے قتل کے مترادف قرار دیاہے۔ اللہ عزوجل نے تکریم انسانیت کے حوالے سے قرآن حکیم میں ارشاد فرمایا: ’’جس نے کسی شخص کو بغیر قصاص کے یا زمین میں فساد (پھیلانے کی سزا) کے (بغیر، ناحق) قتل کر دیا تو گویا اس نے (معاشرے کے) تمام لوگوں کو قتل کر ڈالا۔‘‘(القرآن)
اس آیت کریمہ سے کسی انسانی جان کی قدر و قیمت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ نہ چھوٹا بڑا، بوڑھا جوان، مسلم غیر مسلم، ہر جان اہم ہے۔ پھر نہ جانے کیوں اتنا خون بہایا جارہا ہے، لہو اتنا سستا کردیا گیا، کبھی برما کبھی فلسطین کبھی غزہ، کبھی شام۔۔ کب ہوگا یہ سلسلہ بند کیا۔ اقتدار والوں کا فرض نہیں بنتا ، اس ظلم عظیم کے خلاف آواز بلند کریں، جہاں ہزاروں گھر تباہ کرکے ہزاروں لاشیں گرادی گئیں ۔۔ بس اتنا کہوں گی خدارا ۔۔ اے صاحب اقتدار خبر لے۔ اے امت مسلم ہوش کے ناخن لے۔

حصہ