یومِ باب الاسلام

488

خرم عباسی

ٹوٹے تھے جو ستارے فارس کے آسماں سے
پھر تاب دے کے جس نے چمکائے کہکشاں سے
وحدت کی لے سنی تھی دنیا نے جس مکاں سے
میر عرب کو آئی ٹھنڈی ہوا جہاں سے
میرا وطن وہی ہے، میرا وطن وہی ہے

(علامہ اقبال )
تاریخ سے پتا چلتا ہے کہ آج سے ہزاروں سال پہلے جب آریہ اس علاقے میں آئے تو انھوں نے اس کا نام ‘سندھو’ رکھا، کیونکہ وہ اپنی زبان میں دریا کو ‘سندھو’ کہتے تھے۔ جو رفتہ رفتہ سندھ کہلایا جانے لگا۔ یہ نام اس قدر مقبول ہوا کہ ہزاروں سال گزر جانے پر بھی اس کا نام سندھ ہی ہے۔ آریوں نے سندھ کے اس پار جتنے علاقے فتح کیے، انھوں نے سب کا نام سندھ ہی رکھا۔ایرانیوں نے اپنے لہجے میں سندھ کو ہند کر ڈالا اور یونانیوں نے ‘ھ’ کو اس کے قریبی مخرج حرف ہمزہ سے بدل کر اند کر دیا، رومن میں یہ لفظ اندسے اندیا ہو گیا اور انگریزی زبان میں چونکہ ‘دال’ نہیں اس لیے وہ انڈیا بن گیا۔
تیرہ سو سال پہلے جس علاقے کو سندھ کے نام سے موسوم کیا جاتا تھا اس کی حدود ٹھٹہ و مکران کے ساحلوں سے لے کر کشمیر تک پھیلی ہوئی تھیں۔اسلام سے پہلے 137 سالہ بدھ مت کے پیرو کار رائے سلسلے اور پھر ہندو مت کے چچ سلسلے کی حکمرانی مغرب میں مکران ، جنوب میں بحر عرب اور گجرات، مشرق میں موجودہ’ مالوہ‘ کے وسط اور راجپوتانے تک اور شمال میں ملتان سے گزر کر جنوبی پنجاب سے کشمیر تک کے وسیع و عریض علاقے پر قائم تھی اور عرب مورخین اس سارے علاقے کو سندھ کہتے تھے .
سندھ کے تارریخی شہر، بھنبھور سے دیبل کے آثار کی طرف جائیں تو سمندری ہواؤں کے مست جھونکے آپ کا استقبال کرتے ہیں۔ دور سے نا تراشیدہ پتھروں کی پندرہ بیس فٹ اونچی فصیل دکھائی دیتی ہے۔ برابر فاصلوں پر بنے برجوں نے اسے قابلِ دید بنا دیا ہے۔
شہرِ پناہ کے کشادہ زینے کی سترھویں سیڑھی پر قدم رکھیں تو دیبل عبرت سرائے دہر لگتا ہے۔ “تکرارِ تمنا” کے لیے مندر ہے، نہ مسجد ۔ اللہ اکبر کی صدائیں ہیں نہ مندر کی گھنٹیاں ۔ وقت نے کچے اور چونا پتھروں کے فرش برابرکر دیے ہیں۔ جہاں کبھی چچ، داہر اور قاسم کا سکہ چلتا تھا اب وہاں خاموشیوں کا راج ہے۔ جسے صرف ہوا کی سرسراہٹ، پرندوں کی چہچہاہٹ یا کسی سیاح کے قدموں کی چاپ توڑتی ہے۔
دیبل اپنے وقت کی پررونق بندر گاہ تھی۔ فصیل، برج، مینار، کھجور کے پیڑ، خوشبوئیں، ریشم، ہر طرح کا سامانِ تجارت۔ یہاں کے مندر کی بہت شہرت تھی۔ سنسکرت میں مندر کو دیول کہتے ہیں۔ عربوں نے دیول کو دیبل کہا اور یہ اسی نام سے مشہور ہو گیا۔
میں دیبل میں چار تہذیبوں کے کھنڈرات پر کھڑا ماضی کی کڑیاں ملا رہا تھا کہ اچانک مندر کی گھنٹیوں سے فضا میں ارتعاش پیدا ہوا۔ پھرمنجنیقوں سے سنگ باری کا دل دوز شور اٹھا جو اذان کی گونج میں ڈھل کر سندھ و ہند میں پھیل گیا۔ ابنِ قاسم مخالفین کو زیر کرتا، مسجدوں کی بنیادیں رکھتا اور فتح کے جھنڈے گاڑتا ملتان جا پہنچا۔
دیبل میں ایک مسجد کے آثار کو بڑے اہتمام سے محفوظ کیا گیا ہے۔ اسی کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ جنوبی ایشیا کے بت کدوں میں یہ خدا کا پہلا گھر ہے۔ اسی سے سندھ”باب الاسلام” بنا۔ مسجد کے آثار کے مصفا پتھر، نفیس اینٹیں، سہ طرفہ دالان، ستونوں کے پایوں کی قطاریں اور غلام گردشیں بتاتی ہیں کہ یہ کوئی معمولی مسجد نہ تھی۔ عربوں کی روایتی سادگی کو ایران و روم کی فتوحات نے شان و شوکت میں بدل دیا تھا۔ جب حرا کے غار سے سرچشمہ آب بقا پھوٹا اور آفتاب رسالت طلوع ہوا تو اس کی ضیا پاشیوں سے ظلمت کدہ دہر کا گوشہ گوشہ منور ہو گیا۔ اسلام کی آفاقی اور ابد آشنا تعلیمات سے اکناف عالم میں تابانیوں کے ایک عہد آفریں سلسلے کا آغاز ہوا جس کے معجز نما اثر سے خزاں آباد ہستی کو پیام نو بہار کی نوید ملی۔ایمان کی لطیف ہواؤں سے سرشار مالا بار، مدراس، مالدیپ اور سراندیپ کے ساحل دکھائی دینے لگتے ہیں ۔ عرب میں نئے نبی کے ظہور کی خبر سن کر کیرالہ کے راجہ چیرامن پیرومل مدینے کے پرشوق سفر پر روانہ ہوا۔ اس سفر کی یادگار کے طور پر کیرالہ میں چیرامان جمعہ مسجد تعمیر کی جا رہی ہے۔
تاریخ کے مطالعہ سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ عربوں کی بر عظیم میں تجارت کی غرض سے آمد کا سلسلہ طلوع اسلام سے بھی ہزاروں سال قبل جاری تھا۔ مورخین کا قیاس ہے کہ زمانہ قبل از تاریخ میں بھی عرب تاجر بر عظیم میں تجارت، زراعت اور صنعت و حرفت کے شعبوں میں باہمی تعاون کرتے رہے اور اس خطے میں عربوں کی مسلسل آمد کا سلسلہ طویل عرصے سے جاری تھا۔ حضور ختم المرسلین صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کی بعثت کے ساتھ ہی بر عظیم میں اسلام کا پیغام پہنچ گیا اور یہاں کے باشندوں نے اسلام کے پیغام پر لبیک کہا اسی لیے تو حضور صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کو اس خطے سے ٹھنڈی ہوا کے جھونکے محسوس ہوتے تھے۔حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے دور خلافت (634-644ء) میں ہندوستان میں اسلام کی آمد ہوئی اور کئی شہروں پر عرب حکمراں قابض ہوئے ،مکران اور سندھ بھی حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے دور خلافت ہی میں فتح ہواان شہروں کے فتح ہوتے ہی ہندوستان میں صحابہ و تابعین کی آمد کا باضابطہ سلسلہ شروع ہو گیا ۔ تاریخ اس بات کی شاہد ہے کہ 636 ء میں عربوں نے ہندوستانی ساحل کے ساتھ بحری قزاقوں کی سرکوبی کے لیے پہلی یلغار کی۔ اس مہم کے نتیجے میں مقامی لوگوں کو امن و راحت کی فضا میسر آئی اور بحری قزاقوں کا قلع قمع ہونے کے بعد لوگوں نے سکھ کا سانس لیا۔ 644ء میں مکران کی فتح کے ساتھ ہی بر عظیم میں مسلمانوں کے عہد اقتدار کا باضابطہ آغاز ہو گیا تھا۔سندھ میں محمد بن قاسم کی فتوحات سے پہلے حضرت عمر اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہما کے زمانہ میں صحابہ کرام نے ان اطراف کے اکثر حصے فتح کیے ۔ شام ،مصر ،عراق ،یمن اور اوائل بلاد ترکستان میں اسلام کی فتح و نصرت کا پرچم بلند کیا علاقہ ماورالنہر ، اوائل بلاد مغرب اور افریقہ اور اوائل ہند کی سرزمین بھی ان کے قدموں کی برکت سے منور وتابندہ ہوئی۔اوائل ہند سے مراد سندھ و مکران کے وہ علاقے ہیں جو فارس و سجستان سے متصل تھے،انہیں راستوں سے مجاہدین اسلام ہندوستان آئے ،خلافت راشدہ میں تھانہ ، بھڑوچ ، سندھ اور مکران میں کئی بار غزوات کے باعث یہ علاقے اسلامی سلطنت کے زیرنگیں آگئے ۔
سندھ پر تاریخی دستاویز کی حیثیت رکھنے والی قاضی اسماعیل کی کتاب فتح نامہ سندھ المعروف چچ نامہ میں، جسے سندھی زبان کے ترجمان ادارے سندھی ادبی بورڈ نے شائع کیا ہے، قاضی صاحب محمد بن قاسم کے سندھ پر حملہ کی وجوہات بیان کر تے ہوئے لکھتے ہیں کہ ”سراندیپ کے حاکم نے جزیرہ یا قوت سے حجاج بن یوسف کے لیے کچھ قیمتی تحائف روانہ کیے جس قافلے میں کچھ مسلمان مرد اور عورتیں بھی بیت االلہ کی زیارت اور تخت گاہ کو دیکھنے کے شوق میں کشتیوں پر سوار ہوئے؛ یہ قافلہ قازرون کے علاقے میں پہنچا تو مخالف ہوائیں کشتیوں کو دیبل کے کناروں کی طرف لے آئیں۔ جہاں کامرہ کے ٹولے نے ان آٹھ جہازوں پر دھاوا بول دیا، املاک کو لوٹا اور مسلمان عورتوں کو گرفتار کرلیا۔
اہلِ سراندیپ نے انہیں بہت سمجھایا کہ یہ تحائف بادشاہ کے لیے جا رہے ہیں لہٰذا آپ یہ مال فوراً واپس کردیں، لیکن انہوں نے انکار کر دیا اور فاخرانہ انداز میں کہا کہ آج اگر کوئی تمہارا دادرس ہے تو اسے پکارو، ان مغویوں میں سے ایک آدمی فرار ہو کر حجاج کے پاس پہنچا، اور حجاج کو کہا کہ مسلمان عورتیں راجا داہر کے پاس قید ہیں، جو تجھے مدد کے لیے پکار رہی ہیں، جس پر حجاج نے لبیک کہا ۔
انہیں دنوں مسلمان اندلس، اسپین اور ترکستان کے محاذ علی الترتیب موسیٰ بن نصیر اور قتیبہ بن مسلم کی قیادت میں کھول چکے تھے اور ایک تیسرا بڑا محاذ کھولنے کی گنجائش نہیں تھی اسی لیے حجاج نے اتمامِ حجت اور صورتِ حال کو پر اَمن ماحول میں نپٹانے کے لیے سندھ کے حکمران راجہ داہر کو ایک مکتوب لکھ کر قیدیوں کی واپسی کا مطالبہ کیا۔ جس پر راجہ داہر نے جواب دیا کہ” عورتوں اور بچوں کو قید کرنا اور مال و اسباب کو لوٹنا بحری قزاقوں کا فعل ہے جو میرے دائرہ اختیار سے باہر ہیں۔ لہٰذا میں اس کے بارے میں کچھ نہیں کر سکتا“۔
(چیچہ نامہ صفحہ121-131)
اگر حجاج بن یوسف اور ان کے کمانڈر مال و اسباب چاہتے تھے تو یہ سفارتی خط ارسال نہ کرتے، بلکہ براہ راست حملہ آور ہوتے ۔ یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ مسلمانوں کو لوٹنے والے قذاق، راجہ داہر کے ہی لوگ تھے، لوٹا گیا مال و دولت اور عورتیں بعد میں راجہ دہر ہی کے کمانڈروں سے برآمد ہوئیں۔ راجہ داہر کے اس جواب کے بعد جو خط محمد بن قاسم نے لکھا ، اس کا متن بھی چچہ نامہ کے حوالے سے ملاحظہ فرمائیں، جس سے سارا معاملہ نصف النہار کی طرح واضح ہو جا تا ہے کہ وہ کیا اسباب تھے جنہوں نے محمد بن قاسم کو حملے پر مجبور کیا۔اس خط سے بھی یہ واضح ہو جاتاہے کہ حملے کی وجہ صرف مظلوموں کی داد رسی تھی نہ کہ املاک کا حصول یا توسیع پسندی۔ بقول علامہ ڈاکٹر محمد اقبال
شہادت ہے مطلوب و مقصود مومن
نہ مالِ غنیمت، نہ کشور کشائی
اس مکتوب میں تحریر ہے ”ہمیں لشکر کشی کا معاملہ اس لیے پیش آیا کہ تم لوگوں نے سرا ندیپ سے آئے ہوئے مال و اسباب کو لوٹا اور مسلمان عورتوں کو قید کیا۔ جب تم لوگوں نے ایسی معیوب چیزوں کو جائز سمجھا، تب مجھے دارا لخلافہ سے تم پر چڑھائی کا حکم دیا گیا۔ میں االلہ تبارک و تعالیٰ کی مدد سے تجھے مغلوب کر کے رسوا کروں گا اور تیرا سر عراق کی طرف روانہ کروں گا یا خود جام شہادت نوش کرو ں گا۔ میں نے یہ جہاد اللہ تبارک و تعالیٰ کے فرمان’ جاہد الکفار وا لمنافقین ‘کے تحت اپنے اوپر واجب سمجھ کر قبول کیا ہے“۔
یہاں یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ بیشتر تاریخی روایات میں آتا ہے کہ محمد بن قاسم سندھ پر جنوب کی طرف سمندر اور مغرب میں مکران کے راستے حملہ آور ہوا، روایات میں درج ہے کہ محمد بن قاسم نے موجودہ ٹھٹہ کے قریب راجہ داہر کے بحری قزاقوں کی پناہ گاہ دیبل کا محاصرہ کیا تو اس کی فوجوں کی کم از کم تعداد تین ہزار اور زیادہ سے زیادہ چھ ہزار تھی۔ مگر چند ماہ بعد ہی جب محمد بن قاسم کی فوجوں نے راجہ داہر کی راج دھانی اور مضبوط گڑھ فوجی قلعے ’راوڑ‘ کا محاصرہ کیا تو ان کی تعداد مبینہ طور پر ساٹھ ہزار سے متجاوز تھی۔ دوران جنگ اتنی قلیل مدت میں اس قدر کثیر تعداد میں فوجوں کا مجتمع کرلینا حیران کن ہے۔ روایات کے مطابق محمد بن قاسم اس مہم کے دوران جن علاقوں کو آزاد کرواتا، داہر کے ظلم و جبر کی چکی میں پسے وہاں کے مقامی باشندے محمد بن قاسم کے حسن سلوک اور فراخ دلی سے متاثر ہو کر ظالم ، جابر اور غاصب راجہ داہر کو اس کے حتمی انجام تک پہنچانے کے لئے محمد بن قاسم کی ساتھ شامل ہوجاتے۔ یوں دیبل سے ’راوڑ‘ پہنچتے پہنچتے یہ قلیل فوج ایک بہت بڑے لشکر میں تبدیل ہوچکی تھی۔
داہر کو مظلوم اور ابن قاسم کو غاصب قرار دینے والوں کے لئے اس سے بڑی دلیل کیا ہوگی، کہ ایک مفتوح قوم اتنی کثیر تعداد میں اپنے ہی راجہ کے خلاف بیرونی حملہ آور کی پشت پر آجائے۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ سندھی عوام چچ اور اس کے بیٹے داہر کو سندھ کا جائز حکمران نہیں بلکہ غاصب تصور کرتے تھے۔ اور جب محمد بن قاسم نے اس ظالم، جابر، لٹیرے کو للکارا تو سندھی عوام کو محمد بن قاسم کی صورت میں اپنا نجات دہندہ نظر آیا۔ اور ہزاروں کی تعداد میں سندھی، محمد بن قاسم کی فوج میں شامل ہو گئے، تاکہ داہر کے ظالمانہ راج کا خاتمہ ہوسکے۔ اور ایسا ہی ہوا۔
محمد بن قاسم نے تین برس کے عرصے میں برہمن آباد، ملتان اور شورکوٹ تک کے علاقے میں عرب فوج کی پیش قدمی کا سلسلہ جاری رکھا۔ اس عرصے میں مفتوحین کو ذمیوں کے حقو ق ملے اور انھیں ہر قسم کی آزادی مل گئی۔ اس کے بعد حالات نے ایک نیا رخ اختیار کیا۔ حجاج بن یوسف فوت ہو گیا اور اس کے کچھ عرصہ بعد خلیفہ ولید بھی چل بسا۔ سلیمان بن عبدالملک کے دل میں حجاج بن یوسف کے بارے میں ذاتی طور پر شدید غم و غصہ پایا جاتا تھا۔ اس کا سبب یہ تھا کہ حجاج بن یوسف کے سخت عہد حکومت پر وہ دل گرفتہ تھا۔ سلیمان بن عبدالملک جب خلیفہ بنا تو حجاج بن یوسف کے تمام عزیز زیر عتاب آ گئے۔ اس نے عوامی دباؤ کے تحت حجاج بن یوسف کے مظالم کا بدلہ لینے کے لیے محمد بن قاسم کو ہدف پر رکھا۔ محمد بن قاسم کو بر عظیم سے واپس بلا لیا اور دوران سفراس کی زندگی کی شمع گل کر دی گئی ۔ محمد بن قاسم کو بھرپور شباب کے عالم میں ضائع کر دیا ایک ایسا شباب جو عزم و استقلال سے فتح و نصرت کے پھریرے لہرا رہا تھا۔
(بشکریہ : رحیم داد خان مولائی شیدائی “جنت السندھ”/فتح نامہ سندھ المعروف “چچ نامہ” / فضہ پروین،)

حصہ