شریکِ مطالعہ

301

نعیم الرحمٰن
خالد معین اردو کے ایک انتہائی کہنہ مشق اور منفرد شاعر ہیں۔ سادگی اور پُرکاری سے مرصع ان کی شاعری سے اردو ادب کے قارئین کئی عشروں سے لطف اندوز ہورہے ہیں۔ ان کے چار مجموعے ’’بے موسم وحشت‘‘، ’’انہماک ‘‘، ’’پسِ عشق‘‘ اور’’ ناگہاں‘‘ شائع ہوکر ادب کے سنجیدہ قارئین سے بھرپور داد سمیٹ چکے ہیں۔ شاعر خالد معین نے اپنی منفرد کتاب ’’رفاقتیں کیا کیا‘‘ کے ذریعے نثرکے میدان میں بھی قدم رکھ دیا ہے۔ اور کیا خوب نثر نگاری کا آغاز کیا ہے کہ پہلی ہی کتاب سے میدان مار لیا۔ کسی بناوٹ، لفاظی اور دانش وری سے پاک کتاب شروع کرنے کے بعد اسے چھوڑنا قاری کے لیے مشکل ہے۔ روزمرہ گفتگو کے انداز میں لکھی گئی’’رفاقتیں کیاکیا‘‘ قاری کے ساتھ بات کرتی محسوس ہوتی ہے۔
برسوں پہلے میں نے شاد غلام علی کی آواز میں ایک غزل سنی تھی:

رات آنکھوں میں کاٹنے والو، شاد رہو، آباد رہو
بارِ ہجر اٹھانے والو، شاد رہو، آباد رہو

ہلکی شوخی کے ساتھ غزل کا رجائی اور دعائیہ انداز دل کو بہت بھایا۔ شاد غلام علی نے یہ غزل بہت ہی اچھی گائی ہے، جس کی آج تک تلاش ہے۔ دیگر گلوکاروں کی آواز میں غزل مل گئی، لیکن شاد غلام علی کی آج تک نہ مل سکی۔ خیر خوبصورت شاعری نے غزل کا ایک ایک مصرع دل میں اس طرح اتارا کہ ایک عشرے سے زیادہ گزرنے کے بعد بھی اب تک پوری غزل یاد ہے۔ شاعر کی جستجوکی تو پتا چلا۔ شاعر خالد معین کے نام کا علم ہوا۔ جب ان کے کلام کی تلاش ہوئی تو پاکٹ سائز کی ایک بڑی کتاب ’’انہماک‘‘ ہاتھ لگی جس میں ان کا پہلا مجموعہ ’’بے موسم وحشت‘‘ بھی شامل تھا۔ خالد معین کی شاعری نے ایک تحیر میں مبتلا کردیا کہ ایسی خوب صورت شاعری اور دل کش شاعرکیونکر اب تک میری نظر سے اوجھل رہا! دل میں یہ خواہش بھی جاگی کہ جس طرح میں نے 1990ء کے عشرے میں اظہر جاوید کے’’ تخلیق‘‘ میں رام ریاض، فرید جاوید، تنویرسپرا اور ساقی امروہوی جیسے بے مثال اور قدرے گم نام شاعروں پر مضامین لکھے تھے، خالد معین پر بھی قلم اٹھاؤں۔ لیکن وہ میری زندگی کا انتہائی کٹھن دور تھا کہ چند سال میں والد، والدہ، دو بہنوں، بھائی اور اہلیہ کی بیماریوں، اسپتالوں کے چکروں اور پھر مجھے تنہا چھوڑ کر جانے کے بعد میں اس قابل نہیں تھا۔ اسی کٹھن دور میں صحافت کو شوق کے بجائے ذریعۂ معاش بنانا پڑا اورغمِ روزگار نے تحریر سے دل چسپی کا خاتمہ کردیا۔
اے آر وائی نیوز چھوڑ کر ’’اب تک‘‘ نیوز جوائن کرنے پر خالد معین سے میری پہلی ملاقات ہوئی تو انہیں انتہائی منکسر المزاج اور مرنجاں مرنج انسان پایا۔ وہ اپنا ذاتی دکھ قریبی دوستوں پر بھی ظاہر نہیں کرتے۔ کئی سال کے تعلقات کے باوجود اُن کی اہلیہ کے انتقال کا علم مجھے ’’رفاقتیں کیا کیا‘‘ سے ہی ہوسکا، اور چونکہ اس دکھ سے میں خود بھی گزر چکا تھا تو اسے زیادہ شدت سے محسوس بھی کیا۔
جہاں تک بات ’’رفاقتیں کیا کیا‘‘ کی ہے، یہ انتہائی دل چسپ کتاب ہے۔ خالد معین نے پوری کتاب عام گفتگو کے انداز میں لکھی ہے جس میں گزشتہ چار دہائیوں کا کراچی کا مکمل ادبی منظرنامہ پیش کردیا ہے۔ کراچی جو طویل مدت سے ہنگامہ آرائی، دہشت گردی، بھتہ خوری جیسی لعنتوں کا شکار رہا ہے، لیکن ’’رفاقتیں کیا کیا‘‘ میں شہر کراچی اور اس کی نئی نسل کا مثبت امیج اجاگر کیا گیا ہے۔
خالد معین کا دل اور نظرآئینے کی طرح شفاف ہے جس میں ہر دوست اور ملنے والے کے مثبت اور روشن پہلو ہی نظرآتے ہیں۔ انہوں نے خودکلامی کے انداز میں اپنے احباب اور دوستوں کا بھرپور تعارف کرایا ہے۔ یہ سب کردار ہمارے اردگرد ہی موجود ہیں۔ کتاب کی ابتدا میں جب خالد معین پرانی یادیں تازہ کرتے ہیں تو ہر شخص ناسٹلجیا کا شکار ہوجاتا ہے۔ ماضی کا وہ دور جب ریڈیو ہرگھر میں اہم مقام رکھتا تھا، اتوار کی صبح ’’حامد میاں کے ہاں‘‘ کا گھر گھر انتظار کیا جاتا تھا۔ گھر کے تمام افراد رات نو بجے ’’اسٹوڈیو نمبر نو‘‘ کا ڈراما سننے کے لیے ریڈیو کے گرد جمع ہوتے تھے جس کا آج کی نسل تصور بھی نہیں کرسکتی۔ ہم جیسے بچے بچوں کے پروگرام اور منی باجی کی باتوں کے منتظر رہتے تھے۔ کمرشل سروس کے دوران علی ظفر جعفری کی ’’جاسوسی کہانی‘‘ اور شرارتی ’’ٹائنی ٹوٹ‘‘ کے کارنامے اور اس کا منفرد نغمہ ’’میں گڑبڑ جھالا، میں آفت کا پرکالہ، میں بھولا بھالا ناٹ، مائی نیم از ٹائنی ٹوٹ‘‘ پسندیدہ پروگرام تھے۔ کمرشل سروس میں حسن جمیل کی آواز میں پروگرام ’’بینز گیت مالا‘‘ کے گانوں اور ان کی درجہ بندی کے سب دیوانے تھے۔ اُس دورکی فلم ’’دارا‘‘ کے ذکر پر فلم دارا کی یادیں تازہ ہوگئیں، اور فلم میں رانی اور ہیرو نصراللہ بٹ کا وہ مکالمہ یاد آیا جب ایک سین میں رانی کے ہاتھ پر بندھی گھڑی دیکھ کر دارا پوچھتا ہے ’’یہ کیا ہے؟‘‘ رانی بتاتی ہے کہ گھڑی… تو جنگل میں پلا بڑھا دارا کافی کوشش کے بعد کہتا ہے ’’گھڑا‘‘۔
میری طرح جو افراد صحافت سے وابستہ ہیں، ان کے لیے پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کا جانا پہچانا ماحول اور باتیں دل چسپی سے بھرپور ہیں۔ ہمارے روزمرہ کے معمولات اور کام دل چسپی سے خالی نہیں، مختلف اخبارات اور چینلز میں کام کا انداز، آپس کی رفاقتیں اور رقابتیں، اور پھر بیان خالد معین کا، کیا کہنے۔ جو افراد صحافت سے تعلق رکھتے ہیں وہ جانے پہچانے ماحول اور باتوں سے لطف اندوز ہوتے ہیں، لیکن جو افراد صحافی نہیں ہیں اُن کے لیے بھی یہ ایک جہانِِ حیرت ہے جو بہت دل چسپ ہے اور ان کے سامنے بہت کچھ نیا اور انوکھا آتا ہے جس سے وہ واقف نہیں۔
ساڑھے چار سو صفحات کی کتاب میں خالد معین نے اپنے دوستوں، کرم فرمائوں اور بزرگوں کے ساتھ اپنی طویل رفاقتوں کا بیان بے حد پُراثر انداز سے کیا ہے۔ ان کے قلم کی مہارت اس بات سے عیاں ہے کہ کتاب میں کسی شخصیت کا بیان چند لائنوں یا پیرا گراف سے زیادہ نہیں، لیکن ان چند لائنوں میں اس فرد کی پوری شخصیت قاری کے سامنے آجاتی ہے۔ پھر اگر ایک صفحے پر چار افراد کا ذکر ہے تو ہر فرد کا ذکر کا انداز یکسر جدا ہے، کہیں تکرار نہیں، کسی دوست کا کوئی منفی پہلو نہیں۔ صرف خوبیوں ہی کا بیان ہے۔ انہیں خامیاں یا کمزوریاں شاید نظر ہی نہیں آتیں۔ جن افراد سے ہم واقف ہیں ان سے ایک نیا تعارف ہوتا ہے، جنہیں نہیں جانتے ایسا لگتا ہے کہ ہم ان کے ساتھ کافی وقت گزار چکے ہیں۔ انیق احمد کے ساتھ مجھے کئی سال کام کرنے کا موقع ملا۔ ان کو زیادہ بہتر انداز سے ’’رفاقتیں کیا کیا‘‘سے ہی جان سکا۔ کیا شان دار اور دوست دار شخصیت ہے۔ سید کاشف رضا بھی بہت عرصہ اے آر وائی کے ساتھی رہے۔ وہ انگلش ادب کے دیوانے اور شناسا ہیں۔ سید کاشف رضا سے خاصی ادبی گفتگو رہی۔ انگریزی ادب پر ان کی گہری نظر ہے۔ سید کاشف رضا کے پہلے مجموعہ کلام ’’محبت کا محل وقوع‘‘ پر بھی مجھے اُردو شاعری کے بجائے ایذرا پاؤنڈ اور دیگر انگلش شعرا کا عکس نظرآتا ہے۔ سید کاشف رضا سے مزید بہتر تعارف اسی کتاب سے ہوا۔ اسی طرح نوید عباس سیمان سے اب تک کینٹین ہی میں کچھ بات چیت ہوتی تھی۔ پہلے فیس بُک پر ان کی شاعری نے حیران کیا، پھر ’’رفاقتیں کیا کیا‘‘ سے انہیں مزید جاننے کا موقع ملا۔ ہدایت سائر بہت اچھے دوست، رفیق اور خوب صورت شاعر ہیں۔ ان سے بھی حقیقی تعارف اسی کتاب نے کرایا۔ غرض بے شمار جانے پہچانے دوستوں سے ’’رفاقتیں کیا کیا‘‘ نے شان دار تجدیدِ ملاقات کرا دی اور بے شمار نئے دوستوں سے راہ ورسم اور آشنائی پیدا کردی۔
’’رفاقتیں کیا کیا‘‘ کی سب سے بڑی خوبی کراچی کے بے شمار شعرا کا بھرپور تعارف اور ان کا منتخب کلام ہے جس سے دو عشروں کے دوران کراچی کا پورا ادبی منظرنامہ اجاگر ہوجاتا ہے۔ اس منتخب کلام کے ذریعے کئی ایسے شعرا کو پڑھنے کا موقع ملا جنہیں اس سے پہلے نہیں پڑھ سکا تھا۔ بہت دل کش کلام سے متعارف ہوا۔
غرض ’’رفاقتیں کیا کیا‘‘ ایک ایسی کتاب ہے جو قاری کو پہلے صفحے سے اپنی گرفت میں لے لیتی ہے اور آخری صفحے تک اس کی یہ دل چسپی برقرار رہتی ہے، اور قاری اسے مکمل کیے بغیر چھوڑ نہیں سکتا۔ خالد معین کی، وعدے کے مطابق اس کتاب کے دوسرے حصے کا بھی بے چینی سے انتظار رہے گا جس میں وہ اپنے مزیدکچھ احباب اور کراچی کے ادبی پس منظرسے قارئین کو روشناس کرائیں گے۔ اللہ کرے زورِقلم اور زیادہ ۔
٭٭٭
اردوکے منفرد شاعر، ہدایت کار، مصنف، دانش ور سمپورن سنگھ عرف گلزار کی شاعری کی کلیات ’’بال و پَر سارے‘‘ کے نام سے حال ہی میں لاہور سے شائع ہوئی ہے جس میں گلزار کے چھ شعری مجموعے شامل ہیں جن میں سے’’چاند پکھراج کا‘‘، ’’رات پشمینے کی‘‘، ’’پندرہ پانچ پچھتر‘‘، ’’کچھ اور نظمیں‘‘ اور’’پلوٹو‘‘شامل ہیں، تاہم ان میں ہلکی سی تبدیلی بھی نظر آتی ہے، بعض مجموعوں میں شامل غزلیں اور تروینیاں نکال دی گئی ہیں۔ ایک اور مجموعہ ’’نظمیں، غزلیں، گیت، تروینی‘‘ کی غزلیں اور پہلے مجموعوں کی ساری غزلیں بھی ایک نئے مجموعے ’’کچھ تو کہیے‘‘ میں یکجا کرکے بال و پرسارے میں شامل کردی گئی ہیں۔ اس میں چھتیس نئی تروینیاں بھی شامل کردی گئی ہیں۔ پہلے مجموعوں میں شامل ساری تروینیاں اور سارے فلمی گیت اس منی کلیات میں شامل نہیں ہیں جن کی کمی ڈھائی ہزار روپے قیمت کی اس کلیات میں محسوس ہوتی ہے۔ کلیات بہت خوب صورت انداز میں شائع کی گئی ہے۔
فلمی گیت گلزار کی شاعری کی ایک اہم شناخت ہے۔ ان گیتوں کی غیر موجودگی بھی کلیات میں نامناسب لگتی ہے اور شاعرکا مجموعی تاثر مجروح ہوتا ہے۔ گلزار کی یہ منی کلیات سنگِ میل جیسے بڑے اور معروف ادارے نے انتہائی دل کش انداز میں شائع کی ہے۔ اس کتاب میں بعض فاش غلطیوں سے ادارے کی ساکھ متاثر ہوسکتی ہیں۔ ٹائٹل کی جلد مضبوط ہے لیکن کالے کور پر کالے حروف کو نمایاں لکھنے کے باوجود کتاب کا نام ٹھیک سے پڑھا نہیں جاتا۔ اسی لیے جلد کے اوپر ایک اضافی ریپر جوڑا گیا ہے، اس ریپر پر کتاب اور شاعرکا نام سفید حروف میں لکھا گیا ہے۔

غزلیں

ثبین سیف

عمر گزری ہے مری دشت میں گریہ کرتے
آ کبھی دیکھ مجھے آنکھ کو دریا کرتے
بخش دیتا ہے خدا گنج قناعت جن کو
وہ تونگر کی تجوری نہیں دیکھا کرتے
جن کو مل جائے توکل کا سبق بچپن سے
اپنی عسرت کا ڈھنڈورا نہیں پیٹا کرتے
وقت اچھا ہو تو بس شکر بجا لاتے ہیں
اپنی اوقات سے باہر نہیں نکلا کرتے
کمتری ہو بھی تو کمتر نہیں ہوتا انساں
ایسے احساس کو دل میں نہیں پالا کرتے
میں ہوں اک دخترِ سید سو میری چوکھٹ سے
ہو کے مایوس سوالی نہیں جایا کرتے
غازہ کش شکلوں کی سچائی سے ڈرتے ہیں ثبینؔ
کاش آئینے کبھی جھوٹ بھی بولا کرتے

افشاں سحر

قصۂ درد سنانے میں بڑی دیر لگی
دل کی اک بات بتانے میں بڑی دیر لگی
فیصلہ ترکِ تعلق کا تھا لمحے بھر کا
پر ترے شہر سے جانے میں بڑی دیر لگی
جانتی تھی وہ مجھے بھول چکا ہے پھر بھی
اک ملاقات بھلانے میں بڑی دیر لگی
اُس کو جانا تھا اُسے کر دیا رخصت لیکن
گھر مجھے لوٹ کے آنے میں بڑی دیر لگی
شہرِ دل جل گیا بس ایک ہی ساعت میں سحر
ہاں مگر آگ بجھانے میں بڑی دیر لگی

تبسم فاطمہ رضوی

شامِ غم ہے منا رہی ہوں میں
اشک دل پر گرا رہی ہوں میں
خواب میں ساتھ تو ہے اور تجھ سنگ
بامِ حیرت پہ جا رہی ہوں میں
ڈھونڈتے ڈھونڈتے میں تھک بھی گئی
خود کو اب تک نہ پا رہی ہوں میں
اتنی مشکل سے ہاتھ آیا تھا
یہ جو لمحہ گنوا رہی ہوں میں
میں تبسم ہوں اور تبسم سے
غم کی شمعیں بجھا رہی ہوں میں

حصہ