بزم شعر و سخن کے اشتراک سے یارانِ سخن کراچی کا مشاعرہ

308

ڈاکٹر نثار احمد نثار
اجمل سراج شاعری کا معتبر نام ہے اور صحافت بھی ان کی شناخت ہے۔ ہم نے یہ دیکھا ہے کہ بہت سے شعرا جب صحافی بنے تو وہ شاعری سے غائب ہو گئے لیکن اجمل سراج دونوں شعبوں میں ترقی کر رہے ہیں۔ ان کے کلام میں جمالیات‘ حسن و رعنائی‘ غنایت‘ گیرائی و گہرائی اور دیگر وہ تمام خصوصیات موجود ہیں کہ جن سے قابل ستائش شعری وجود میں آتی ہے ان خیالات کا اظہار پروفیسر منظر ایوبی نے بزم شعر و سخن سے اشتراک سے بزم یاران سخن کراچی کے تحت اجمل سراج کے اعزاز میں منعقدہ تقریب میں اپنے صداتی خطاب میں کیا جس کے مہمان اعزازی خالد میر تھے‘ نظامت کے فرائض نجیب ایوبی اور آئرین فرحت نے انجام دیے۔ صاحب صدر نے مزید کہا کہ اجمل سراج انہیں جان و دل سے پیارے ہیں ان کا ادبی سفر میرے سامنے ہے۔ یہ ایک علمی و ادبی گھرانے کے فرد ہیں‘ بزرگوں کی تعظیم و احترام ان کی گھٹی میں شامل ہے یہ ایک نظریاتی انسان ہیں یہ کھرا سچ بولتے ہیں‘ سماجی‘ سیاسی اور معاشرتی شعور پر بھی یہ بالغ النظر ہیں انہوں نے اب تک جو کچھ لکھا ہے وہ اس معاشرے کا آئینہ ہے کیونکہ یہ جانتے ہیں کہ شاعری ایک سماجی عمل ہے۔ پروگرام کے مہمان اعزازی خالد میر نے کہا کہ آج ہم اجمل سراج کے ساتھ ایک شام منا رہے ہیں اجمل سراج طویل عرصے سے ادبی منظر نامے کا درخشاں باب ہے۔ ان کی ادبی و سماجی خدمات روز روشن کی طرح عیاں ہیں۔ میری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ انہیں مزید عزت و شہرت عطا فرمائے۔ بزم شعر و سخن کے صدر طارق جمیل نے کلمات تشکر ادا کیے۔ انہوں نے کہا کہ ہر زمانے میں شاعروں نے اپنے کلام کے ذریعے معاشرہ کو بہتر بنانے کی کوشش کی ہے آج کے زمانے میں بھی یہ طبقہ معاشرتی جبر و تشدد کے خلاف نبرد آزما ہے۔ ہماری ادبی تنظیم شعر و سخن کے فروغ سے مصروف عمل ہے۔ بزم یارانِ سخن کے سرپرست اعلیٰ ڈاکٹر اکرام الحق شوق نے خطبہ استقبالیہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ آج کل ادبی سرگرمیاں اپنے عروج پر ہیں۔ کراچی میں روزانہ کئی کئی محفلیں سجائی جارہی ہیں یہ سب کچھ اس لیے ممکن ہوا ہے کہ امن و امان کی صورت حال کچھ بہتر ہے تاہم ٹریفک کا نظام بہت خراب ہے جس کی وجہ سے تقریبات اپنے وقت پر شروع نہیں ہو پاتیں ہماری تنظیم اپنا پروگرام وقتِ مقررہ پر شروع کردیتی ہے اور اس کے بعد آنے والوں کو شاملِ مشاعرہ نہیں کیا جاتا لیکن آج چند لوگوںکو صدر مشاعرہ کی اجازت سے مشاعرہ پڑھوایا جارہا ہے اس کا مطلب یہ نہ لیا جائے کہ ہم نے پابندیٔ وقت کی شرط ختم کر دی ہے ہم آئندہ غیر مدعو شعرا سے اشعار نہیںسنیں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اجمل سراج ایک تروتوانا آواز ہے ان کی شاعری سہل ممتنع میں بھی ہے اور طویل بحروں میں بھی ان کا کلام موجود ہے۔ بزمِ یارانِ سخن کے صدر سلمان صدیقی نے کہا کہ ہم ایک مدت سے اردو زبان و ادب کی خدمت کر رہے ہیں‘ ہمارا کسی ادبی انجمن سے کوئی مقابلہ نہیں ہے‘ ہم محدود وسائل میں رہتے ہوئے ادبی پروگرام ترتیب دے رہے ہیں امید ہے کہ یہ سلسلہ جاری رہے گا۔ اس پروگرام کا آغاز تلاوتِ کلام مجید سے ہوا جس کی سعادت تنویر سخن سے حاصل کی جب کہ سعدالدین سعد نے نعت رسولؐ پیش کی۔ پروگرام کے واحد مقرر نجیب ایوبی نے کہا کہ اجمل سراج کی ٹیکنیکی صلاحیت‘ مہارت‘ اسلوب مضامین‘ لفظیات‘ استعارے اور تشبیہات روز مرہ کی زندگی سے اخذ کردہ ہیں ان کی شاعری کا دورانیہ چالیس برس پر محیظ ہے اس عرصے میں انہوں نے زمانے کے نشیب و فراز دیکھے اور ادبی منظر نامے کی تبدیلیوں کا مشاہدہ بھی کیا۔ انہوں نے جو کچھ لکھا وہ حسبِ حال لکھا ہے کوالٹی پر زور دیا مقدار پر نہیں ان کی شاعری درد‘ کرب و الم اور زندگی کے بنجر میدان میں کیف و نشاط سے عبارت ہے۔ وہ کہتے ہیں:

ہمارے سر پر تو یہ آسمان ٹوٹ پڑا
گھڑی جب آئی ستاروں سے مانگ بھرنے کی
٭
تم بھی ہوتے ہو‘ رات خلوت میں
کون اتنے قریب ہوتا ہے

اجمل سراج کے ہاں مکمل شاعری ملے گی انہوں نے زندگی کے ہر شعبے کو اپنی شاعری میں سمویا ہے۔ تکرار لفظی اجمل کا خفیہ ہتھیار ہے جس کی بدولت وہ جداگانہ ذائقے کے ساتھ ایک ہی لفظ استعمال کرکے کمال و ہنر کی داد پاتے ہیں۔اجمل سراج نظریے کی سچائی پر کبھی آنچ نہیں آنے دیتے چاہے اس کے لیے انہیں کتنی بھی قربانیاں پیش کرنی پڑے۔ اس موقع پر اجمل سراج نے اپنا کلام سنا کر خواب داد وصول کی تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ دونوں تنظیموں کے شکر گزار ہیں کہ جن کے تعاون سے یہ خوب صورت محفل سجائی گئی اس قسم کی تقریب گیٹ ٹو گیدر کا ایک اہم ذریعہ ہے اور شاعری بھی سننے کو ملتی ہے۔ اس مشاعرے میں صاحب صدر‘ مہمان اعزازی اور ناظمین مشاعرہ کے علاوہ ڈاکٹر اکرام الحق شوق‘ رونق حیات‘ ناطق خسرو‘ ڈاکٹر مختار حیات‘ سلمان صدیقی‘ سیف الرحمن سیفی‘ عبدالمجید محور‘ نثاراحمد نثار‘ کشو عدیل جعفری‘ سحر تاب روسانی‘ سعدالدین سعد‘ تنویر سخن‘ نعمان جعفری‘ شاہد اقبال شاہد‘ چاند علی‘ خالد رانا قیصر‘ یاسر سعید صدیقی‘ زاہد عباس‘ سخاوت علی نادر‘ کامران طالش‘ ڈاکٹر مرزا علی اظہر‘ ڈاکٹر اقبال ہاشمانی‘ شاہدہ عروج‘ جمیل ادیب سید‘ بہزاد بھرم‘ شاد مرادنوی‘ مہر جمالی اور دیگر شعرا نے اپنا اپنا کلام نذر سامعین کیا۔ اس پروگرام میں فہیم برنی نے راقم الحروف کو شیلڈ پیش کی‘ عبید ہاشمی نے اجمل سراج کو شیلڈ پیش کی۔ ڈاکٹر اکرام الحق شوق اور امجد محمود نے اجمل سراج کو کیش ایوارڈ پیش کیا۔

حصہ