آئرلینڈ سے فتح نے پاکستانی ٹیم کے حوصلے بلند کردیے

195

راشد عزیز
ہیڈ کوچ مکی آرتھر اور کپتان سرفراز احمد حوصلہ افزا اور پُر اعتماد بیانات کے بعد پاکستانی کرکٹ ٹیم انگلینڈ کے خلاف دو ٹیسٹ کی سیریز کا پہلا ٹیسٹ لارڈز کے تاریخی گرائونڈ پر کھیل رہی ہے۔ کپتان اور کوچ دونوں کا اپنے کھلاڑیوں پر پورا اعتماد ہے کہ وہ اس میچ میں حریف ٹیم کو شکست دے سکتے ہیں‘ ان کے کھلاڑی ان کی اور قوم کی امیدوں پر کس حد تک پورا اترتے ہیں یہ تو دو ایک روز میں معلوم ہو ہی جائے گا لیکن کرکٹ کے کھیل میں مہمان ٹیم عموماً زیادہ دبائو کا شکار ہوتی ہے اور تاریخ بتاتی ہے کہ برصغیر کے کرکٹرز کے لیے انگلش وکٹیں اور موسم بہت مشکل ثابت ہوتے ہیں اور لارڈز کے اس گرائونڈ پر اب تک کھیلے گئے 15 ٹیسٹ میچوں میں پاکستان صرف 4 میچ جیت سکا ہے۔ دو برس قبل مصباح الحق کی قیادت میں انگلینڈ کا دورہ کرنے والی پاکستانی ٹیم نے بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کیا تھا اور 4 ٹیسٹ کی سیریز دو‘ دو سے برابر کرنے میں کامیاب ہوئی تھی لیکن اس ٹیم میں مصباح الحق کے علاوہ یونس خان اور یاسر شاہ جیسے کھلاڑی بھی شامل تھے اور ان کے جیسے تجربے اور صلاحیتوں والا ایک کھلاڑی اس ٹیم میں شامل نہیں۔
انگلینڈ کے خلاف گزشتہ سیریز میں لارڈز ٹیسٹ میں پاکستان نے انگلینڈ کو 75 رنز سے ہرایا تھا اس میچ میں مصباح الحق نے شاندار بیٹنگ کی مظاہرہ کرتے ہوئے 114 رنز بنائے تھے لیکن فتح میں اہم کردار اسپنر یاسر شاہ کا تھا جو اَن فٹ ہونے کے باعث اس سیریز سے باہر ہے۔ یاسر شاہ نے پہلی اننگز میں 6 اور دوسری اننگ میں 4 وکٹیںلی تھیں۔ مانچسٹر میں کھیلا گیا دوسرا ٹیسٹ انگلینڈ نے 330 رنز سے جیتا تھا اور اس میچ میں ہی جوروٹ نے 254 رنز کی یادگار اننگ کھیلی تھی۔ برمنگھم میں کھیلے گئے تیسرے ٹیسٹ میں اگرچہ پاکستان کی طرف سے اظہر علی نے 139 رنز کی اننگ کھیلی اور سہیل خان نے عمدہ بولنگ مگر انگلینڈ نے یہ میچ 141 رنز سے جیت لیا تھا۔ سیریز میں ایک کے مقابلے میں دو کے خسارے کے بعد ٹیم خاصے دبائو میں تھی لیکن چونکہ ٹیم میں یونس خان جیسا عظیم بیٹسمین موجود تھا لہٰذا اس کی شاندار ڈبل سینچری (218 رنز) اور اس شفیق کی سینچری (109 رنز) کی بدولت پاکستان نے یہ میچ جیت کر سیریز برابر کر دی تھی۔
مصباح الحق والی ٹیم کے مقابلے میں سرفراز احمد کی یہ ٹیم نسبتاً کم تجربہ کار ہے اگرچہ اس ٹیم میں اظہر علی‘ اسد شفیق‘ محمد عامر وغیرہ گزشتہ سیریز کھیل چکے ہیں لیکن پھر بھی ٹیم اتنے تجربہ کار کھلاڑیوں پر مشتمل نہیں جیسے پہلے جانے والی ٹیمیں تھیں۔ ڈبلن ٹیسٹ میں آئرلینڈ کی ٹیم کو ہرانے کے بعد اگرچہ پاکستانی ٹیم کا مورال بڑھا ہے لیکن کپتان اور کوچ یہ بات نہیں بھولی چاہیے کہ دوسری اننگ میں جب آئرلینڈ کے کھلاڑیوں نے سنبھالا لیا تھا تو ان کو آئوٹ کرنا مشکل ہوگیا تھا اور یہ بھی سوچنے کی بات ہے کہ جس طرح کی فیلڈنگ کا مظاہرہ ہمارے کھلاڑیوں نے ڈبلن ٹیسٹ میں کیا تھا اگرچہ اس کا پھر سے اعادہ کیا گیا تو پھر حالات سنگین ہوسکتے ہیں۔
جوروٹ کی زیر قیادت انگلینڈ کی موجودہ ٹیم بھی اگرچہ بہت زیادہ تجربہ کار کھلاڑیوں پر مشتمل نہیں لیکن انگلینڈ کے کھلاڑی جن کی ٹریننگ کلب اور پھر کائونٹی کے لیول پر بڑے پروفیشنل انداز میں ہوتی ہے‘ وہ ہمارے کھلاڑیوں کے مقابلے میں چاہے ٹیلنٹ میں کمتر کیوں نہ ہوں‘ تیکنیک میں زیادہ سائونڈ ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ ہماری ٹیم میں ایک کمزوری یہ بھی ہے کہ ان کی اکثریت محدود اوورز کے میچ کھیل کر ابھری ہے جب کہ ان کے اکثر کھلاڑیوں کو کائونٹی میچوں کا تجربہ ہے۔
مکی آرتھر نے سب سے زیادہ اعتماد کا اظہار محمد عامر پر کیا ہے لیکن عامر اب تک اپنی صلاحیتوں کے مطابق کارکردگی کا مظاہرہ نہیں کرسکا ہے ممکن ہے اس سیریز میں وہ قوم کی توقعات پر پورا اتر سکے۔

ٹیسٹ کرکٹ کی تاریخ

کرکٹ کا کھیل گوروں کی ایجاد ہے‘ اس کھیل کی ابتدا برطانیہ ہی سے ہوئی اور اب بھی یہ کھیل زیادہ تر اور باقاعدہ طور پر انہی ممالک میں کھیلا جاتا ہے جو کبھی نہ کبھی سلطنت برطانیہ کی نو آبادی رہے یا اس کے سیاسی تسلط میں رہے ان میں نمایاں ملک آسٹریلیا‘ نیوزی لینڈ‘ جنوبی افریقہ‘ ویسٹ انڈیز‘ بھارت‘ پاکستان اور سری لنکا نمایاں ہیں۔
تاریخ سے پتا چلتا ہے کہ انٹرنیشنل کرکٹ کا آغاز انگلینڈ اور آسٹریلیا کے درمیان ہوا تھا اور 1894-95میں پہلی بار لفظ ٹیسٹ کرکٹ (Test Cricket) سننے میں آیا تھا اور چند برسوں بعد انگلینڈ میں بورڈ آف کنٹرول فار کرکٹ کا قیام عمل میں آیا تھا انگلینڈ اور آسٹریلیا کے بعد تیسری ٹیم جو انٹرنیشنل کرکٹ میں داخل ہوئی وہ جنوبی افریقہ کی ٹیم تھی جو 19 ویں صدی کی بات ہے۔ ریکارڈ کے لحاظ سے کرکٹ کا پہلا ٹیسٹ میچ 17, 16,15, اور 19 مارچ 1877ء کو انگلینڈ اور آسٹریلیا کے درمیان میلبورن کے گرائونڈ پر کھیلا گیا تھا یہی وجہ ہے کہ دونوں ملکوں کے کے درمیان صد سالہ یادگاری ٹیسٹ کے لیے اسی گرائونڈ کا انتخاب کیا گیا تھا۔
جنوبی افریقہ 1888-89ء میں ٹیسٹ کرکٹ میں داخل ہوا اور اس طرح وہ امپیریل کرکٹ کانفرنس آئی سی سی کا جو اب انٹرنیشنل کرکٹ کانفرنس کہلاتی ہے‘ بانی ممبر بنا اور کہتے ہیں کہ اس باڈی کا قیام جنوبی افریقہ کی تجویز پر 1909ء میں عمل میں آیا تھا۔ 1961ء میں ایک قانون کے تحت آئی سی سی کی ممبر شپ صرف دولت مشترکہ کے ممالک تک محدود کر دی گئی اور جنوبی افریقہ کو اس سے نکال دیا گیا۔
1947ء میں قیام پاکستان کے بعد پاکستان کی جو پہلی کرکٹ ٹیم بنی اس کے کپتان میاں محمد سعید منتخب ہوئے اور 1948ء میں انہی کے زیر قیادت پاکستان نے اپنا پہلا غیر سرکاری ٹیسٹ میچ ویسٹ انڈی کی ٹیم کے خلاف کھیلا جو بھارت کے دورے سے واپسی پر پاکستان رکی تھی لیکن پاکستان کو ٹیسٹ میچوں کا اسٹیٹس دلوانے اور آئی سی سی کا ممبر بنوانے کا سہرا عبدالحفیظ کاردار کے سر رہا جن کی قیادت میں پاکستانی ٹیم نے 1951ء میں نائجل ہاورڈ کی قیادت میں دورہ کرنے والی ایم سی سی (انگلینڈ) کی ٹیم کو شکست اور ٹیسٹ کرکٹ کھیلنے والا ملک بن گیا۔

اوول کا ہیرو

۔1952 میں ٹیسٹ کرکٹ کھیلنے والے ملک کا درجہ حاصل کرنے اور آنٹرنیشنل کرکٹ کانفرنس (آئی سی سی) کی رکنیت حاصل کرنے کے فوراً بعد پاکستان کرکٹ ٹیم نے پہلا دورہ پڑوسی ملک بھارت اور پھر دوسرا دورہ 1954ء میں انگلینڈ کا کیا اور انگلینڈ کے پہلے ہی دورے میں پاکستانی ٹیم نے اوول میں انگلینڈ کو شکست دے کر نہ صرف گوروں سے طویل ترین غلامی کا بدلہ لیا بلکہ کرکٹ کی دنیا میں صفِ اوّل کی ٹیموں میں اپنا شمار کرا لیا۔
12 سے 17 اگست 1954 کو اوول میں کھیلا گیا یہ میچ پاکستان کے لحاظ سے اس لیے بھی یادگار رہا کہ اس میں 14 اگست کا دن بھی شامل تھا جو پاکستان کا یوم آزادی ہے۔
پاکستان نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے تمام کھلاڑیوں کے آئوٹ ہونے پر 133 رنز بنائے جس میں کپتان عبدالحفیظ کاردار کے 36‘ امتیاز احمد کے 23 اور فاسٹ بولر محمود حسین کے 23 رنز شامل تھے۔ ٹائی سن نے 35 رنز دے کر 4 وکٹیں لیں۔ اس کے جواب میں میزبان ٹیم 130 رنز بنا سکی ڈینس کامپٹن 53 ار پیٹر مے 26 رنز کے ساتھ نمایاں کھلاڑی رہے۔ میڈیم پیسر فضل محمود نے غیر معمولی بولنگ کا مظاہرہ کیا اور صرف 53 رنز دے کر 6 کھلاڑی آئوٹ کیے۔ پاکستان نے دوسری اننگ میں بہتر بیٹنگ کا مظاہرہ کیا اور تمام وکٹیں پر 164 رنز بنا لیے۔ وزیر محمد 42 رنز بناکر ناٹ آئوٹ رہے جب کہ ذوالفقار احمد نے 34 رنز بنائے‘ وارڈل نے 56 رنز دے کر 7 کھلاڑی آْئوٹ کیے‘ انگلینڈ کی ٹیم دوسری اننگز میں بھی فضل محمود کا مقابلہ نہ کرسکی اور پوری ٹیم 143 رنز پر ڈھیر ہوگئی۔ پیٹر مے نے 53 رنز بنائے۔ پاکستانی ٹیم یہ میچ 24 رنز سے جیت گئی فضل نے دوسری اننگ میں صرف 46 رنز دے کر 6 کھلاڑی آؤٹ کیے اورآج بھی ’’اوول کے ہیرو‘‘ کے نام سے یاد کیے جاتے ہیں۔

حصہ