بنی اسرائیل پر اللہ کے احسانات

1379
سید مہرالدین افضل

سورۃ الاعراف کے مضامین کا خلاصہ از تفہیم القرآن
46 واں حصہ:۔

(تفصیلات کے لیے دیکھیے سورۃ الاعراف آیت نمبر 159 تا 162اور متعلقہ حواشی)
آیت نمبر 159 میں ارشاد ہوا موسٰیؑ کی قوم میں ایک گروہ ایسا بھی تھا جو حق کے مطابق ہدایت کرتا اور حق ہی کے مطابق انصاف کر تا تھا۔ (جب قوم نے بچھڑے کی پوجا کا جرم کیا اور اللہ تعالیٰ نے سزا دی۔ قرآن مجید کے مطابق اس وقت ساری قوم بگڑی ہوئی نہ تھی بلکہ اس میں ایک اچھا خاصا صالح عنصر موجود تھا۔ اللہ تعالیٰ نے جہاں مجرموں کو سزا دی وہیں ان نیک لوگوں کے وجود کو بھی سراہا۔ اور بنی اسرائیل پر اپنے احسانات کا ذکر کیا جن میں اہم ترین احسان اپنے پیغمبر کے ذریعے ان کو منظم کرنا تھا) ارشاد ہوا ’’اور ہم نے اس قوم کو بارہ گھرانوں میں تقسیم کرکے انہیں مستقل گروہوں کی شکل دے دی تھی۔‘‘ (بنی اسرائیل پر اللہ کے عظیم احسانات میں سے ایک یہ تھا کہ انہیں دنیا کی تمام قوموں پر فضیلت عطا کی اور ان کی رہنمائی کے لیے مامور کیا، ان میں ان ہی میں سے حضرت موسیؑ کو پیغمبر بنایا، انہیں اپنی ہم کلامی سے مشرف کیا اور فرعونیوں کی غلامی سے نجات بخشی۔ وہ ان کے لڑکوں کو قتل کرتے، لڑکیوں کو زندہ رہنے دیتے تھے۔ ان کے سامنے سمندر پھاڑ کر راستہ بنایا اور فرعونیوں کو غرق کیا۔ حضرت موسیؑ کو ان کے اکابرین کے ساتھ کوہ طور پر بلایا اور شریعت عطا کی جبکہ ان کی غیر موجودگی میں انہوں نے بچھڑے کو معبود بنا لیا۔ اس ارتکابِ جرم پر بھی اللہ نے ان کی توبہ قبول کی۔ حضرت موسیٰ نے اللہ تعالیٰ کے حکم سے کوہِ سینا کے بیابان میں بنی اسرائیل کی مردم شماری کرائی۔ پھر ان کے 12 گھرانوں کو‘ جو حضرت یعقوبؑ کے دس بیٹوں اور حضرت یوسفؑ کے دو بیٹوں کی نسل سے تھے‘ الگ الگ گروہوں کی شکل میں منظم کیا اور ہر گروہ پر ایک ایک سردار مقرر کیا تاکہ وہ ان کے اندر اخلاقی، مذہبی، تمدنی، معاشرتی اور فوجی حیثیت سے نظم قائم رکھے اور احکامِ شریعت کا اجرا کرتا رہے۔ اس کے علاوہ حضرت یعقوب علیہ السلام کے بارھویں بیٹے لاوِی کی اولاد کو، جن کی نسل سے حضرت موسیٰؑ اور حضرت ہارونؑ تھے، ایک الگ جماعت کی شکل میں منظم کیا تاکہ وہ ان سب قبیلوں کے درمیان شمعِ حق روشن رکھنے کی خدمت انجام دیتی رہے۔) اس احسانِ عظیم کے ساتھ ان کے زندہ رہنے کا غیر معمولی انتظام کیا۔ ارشاد ہوا ’’اور جب موسٰیؑ سے اس کی قوم نے پانی مانگا تو ہم نے اس کو اشارہ کیا کہ فلاں چٹان پر اپنی لاٹھی مارو۔ چنانچہ اس چٹان سے یکایک بارہ چشمے پھوٹ نکلے اور ہرگروہ نے اپنے پانی لینے کی جگہ متعین کرلی، ہم نے اُن پر بادل کا سایہ کیا اور اُن پر من و سلویٰ اُتارا۔کھاؤ وہ پاک چیزیں جو ہم نے تم کو بخشی ہیں۔ (انہیں امامت کا منصب عطا کرنے اور منظم کرنے کے احسان کے ساتھ مزید تین احسانات کا ذکر فرمایا گیا ہے۔ ایک یہ کہ جزیرہ نمائے سینا کے بیابانی علاقے میں اُن کے لیے پانی کی بہم رسانی کا غیر معمولی انتظام کیا گیا اس کے لیے معجزانہ طور پر پتھر سے بارہ چشمے نکالے اور ہر قبیلے کے لیے پانی لینے کی جگہ مقرر کی۔ دوسرے یہ کہ وادی تیہہ میں جہاں کوئی سایہ نہ تھا ان کو دھوپ کی تپش سے بچانے کے لیے آسمان پر بادل چھا دیا گیا۔ تیسرے یہ کہ جہاں کوئی کھیتی باڑی اور گلہ بانی نہ ہو سکتی تھی وہاں ان کے لیے خوراک کی بہم رسانی کا غیر معمولی انتظام من و سلویٰ کے نزول کی شکل میں کیا گیا۔ ظاہر سی بات ہے کہ اگر ان تین اہم ترین ضروریاتِ زندگی کا بندوبست نہ کیا جاتا تو یہ قوم‘ جس کی تعداد کئی لاکھ تک پہنچی ہوئی تھی‘ اس علاقے میں بھوک پیاس سے بالکل ختم ہو جاتی۔ آج بھی کوئی شخص وہاں جائے تو یہ دیکھ کر حیران رہ جائے گا کہ اگر یہاں لاکھوں آدمیوں کا ایک عظیم الشان قافلہ ایک ساتھ آ جائے تو اس کے لیے کھانے پینے اور سائے کا آخر کیا انتظام ہو سکتا ہے۔ آج بھی اگر کوئی سلطنت وہاں پانچ چھ لاکھ فوج لے جانا چاہے تو اس کا انتظام کرنے والوں کو رسد کے انتظام کی فکر کھا جائے گی۔ خصوصاً جب کہ ایک طرف سے اس کی رسد کا راستہ بھی کٹا ہوا ہو اور دوسری طرف خود اس کے دشمن اس کا راستہ روکنے کے لیے بیٹھے ہوں ۔ ان امور کو پیش نظر رکھنے سے صحیح طور پر اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ ان چند مختصر آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل پر اپنے جِن احسانات کا ذکر فرمایا ہے وہ درحقیقت کتنے بڑے احسانات تھے کہ یہ اس پر شکر کرتے اور اللہ کے فرماں برداراور پیغمبر کے اطاعت گزار رہتے تو وہ سر بلندی پاتے جس کا تصور ہی سرشاری پیدا کرتا ہے۔
بنی اسرائیل کے جرائم :
لیکن انہوں نے بڑی احسان فراموشی کی اور اللہ کے فضل و کرم کی ایسی کھلی اور واضح نشانیاں دیکھ لینے کے بعد بھی یہ مسلسل نا فرمانیاں اور عذر داریا ں کرتے رہے جن سے ان کی تاریخ بھری پڑی ہے۔اس لیے اب تاریخ بنی اسرائیل کے اُن واقعات کی طرف اشارہ کیا جارہا ہے جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے احسانات کے جواب یہ لوگ کیسی کیسی مجرمانہ بے باکیوں کے ساتھ دیتے رہے اور پھر کس طرح مسلسل تباہی کے گڑھے میں گرتے چلے گئے۔ ان پر ثابت کیا جا رہا ہے کہ جو ہدایت تمہیں دی گئی تھی اس کی پیروی کرنے میں اور جو منصب تمہیں دیا گیا تھا اس کا حق ادا کرنے میں تم بری طرح ناکام ہوئے ہو انہوں نے بچھڑے کو معبود بنایا صحرائے سینا میں بے صبری اور لالچ کا مظاہرہ کیا مفتوح علاقے میں متکبرانہ انداز سے داخل ہوئے جب کہ انہیں عاجزی کا حکم دیا گیا تھا اللہ کے کلام میں لفظی اور معنوی تحریف کی۔ ارشاد ہوا : مگر اس کے بعد انہوں نے جو کچھ کیا تو ہم پر ظلم نہیں کیا بلکہ آپ اپنے ہی اوپر ظلم کرتے رہے۔ یاد کرو وہ وقت جب اُن سے کہا گیا تھا کہ اِس بستی میں جاکر بس جاؤ اور اس کی پیداوار سے اپنے حسبِ منشا روزی حاصل کرو اور حِطۃً حِطۃً کہتے جاؤ اور شہر کے دروازے میں سجدہ ریز ہوتے ہوئے داخل ہو، ہم تمہاری خطائیں معاف کریں گے اور نیک رویہ رکھنے والوں کو مزید فضل سے نوازیں گے۔‘‘مگر جو لوگ اُن میں ظالم تھے اُنھوں نے اُس بات کو جو اُن سے کہی گئی تھی بدل ڈالا، اور نتیجہ یہ ہوا کہ ہم نے اْن کے ظلم کی پاداش میں اُن پر آسمان سے عذاب بھیج دیا۔ اُن کے طرزِ عمل سے یہ سبق ملتا ہے کہ ایک پیغمبر کی امت کے بگاڑ کی نوعیت کیا ہوتی ہے، رسمی دین داری کے مقابلے میں حقیقی دین داری کس چیز کانام ہے، دین حق کے بنیادی اصول کیا ہیں اور خدا کی نگاہ میں اصل اہمیت کن چیزوں کی ہے۔
اللہ سبحانہ و تعالیٰ ہم سب کو اپنے دین کا صحیح فہم بخشے اور اُس فہم کے مطابق دین کے سارے تقاضے اور مطالبے پورے کرنے کی توفیق عطا فرمائے،آمین ۔
وآخر دعوانا ان لحمدللہ رب العالمین۔

حصہ