رمضان کی تیاری کریں

246

تنویر اللہ خان

پندرہ شعبان کے بارے میں بچپن سے سُنتے آرہے ہیں کہ اس دن انسانوں کی زندگی اور موت کا فیصلہ ہوتا ہے جنہیں زندہ رہنا ہوتا ہے اُن کے نام کا پتہ درخت پر لگا رہتا ہے اور جن کی اگلے شعبان سے پہلے دنیا سے رخصت ہونے کا فیصلہ ہوجاتا ہے ان کے نام کا پتہ درخت سے جھڑ کر گرجاتا ہے،آج نماز جمعہ کے خطاب میں امام مسجد نے اس بارے میں مزید بتایا کہ پندرہ شعبان کو اللہ آئندہ برس ہونے والے معاملات کے فیصلے فرماتے ہیں، بحرحال حقیقت جو بھی ہو پندرہ شعبان کی اہمیت ضرور ہے، شعبان کو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا مہینہ قرار دیا ہے اسے ہم رمضان کا دروازہ بھی کہہ سکتے ہیں لہذا اس ماہ میں ہمیں رمضان کے استقبال کے لیے اپنے آپ کو تیار کرنا چاہیے، جب کوئی بہت اہم مہمان ہمارے گھر آنے کو ہوتا ہے تو ہم اپنی بساط بھر اس کے استقبال کا اہتمام کرتے ہیں گنجائش ہوتو کھڑکی دروازے پر نئے پردے لگا دیتے ہیں صوفے کے کشن تبدیل کرلیتے ہیں گھر صاف ستھرا کرلیتے ہیں اور اگر جیب اتنے کی اجازت نہ دیتی ہو تو نئے کے بجائے رفوگری ضرور کرتے ہیں، کوئی پکنک ہو کوئی شادی ہو اس کی متعین تاریخ سے پہلے ہم کوئی نہ کوئی اہتمام ضرور کرتے ہیں تاکہ عین موقعے سے فائدہ اُٹھانے میں کوئی کسر نہ رہ جائے۔
رمضان نیکیوں کا موسم بہار ہے جس طرح بہار کے مہینے میں درخت خوب سرسبز وشاداب ہوجاتے ہیں اسی طرح رمضان نیکیوں کے پھلنے پھولنے کے لیے موافق موسم ہے، اس ماہ مبارک میں اللہ تعالیٰ کا رحم اور اس کی عطا کرنے کی صفت اپنے جوبن پر ہوتی ہے وہ نفل کا اجر فرض کے برابر اور فرض کا اجر ستر کے برابر اور روزے کا بدل خود اپنے آپ کو قرار دیتا ہے، روزہ دار کے منہ کی مہک کو خوشبو کہتا ہے، رزق میں نظرآنے والا اضافہ فرما دیتا ہے غرض اس ماہ مبارک میں رحمت برکت اپنے عروج پر ہوتی ہے، مسجد میں نمازیوں کی برکت ہو جاتی ہے ، دسترخوان پر انوع واقسام کے کھانوں کی بہتات ہوجاتی ہے، بازار میں خریداروں کا اضافہ ہوجاتا ہے اسی طرح خیرات دینے اور لینے والوں کی تعداد بڑھ جاتی ہے، روزہ داروں اور روزہ خور دونوں کوخوب پیٹ بھر کھانے کو ملتا ہے، بے شک اللہ ہی بے نیاز ہے وہ سب کو اس کی خواہش اور گمان کے مطابق عطا فرماتا ہے، یہ ہم پر ہے کہ اس ماہ میں ہونے والی رحمتوں کی برسات سے ہم آج صرف اپنا پیٹ بھریں یا کل یا یوں کہیے کہ ہمیشہ کے کل کے لیے تو ذخیرہ کرلیں۔
اسی طرح رمضان میں گلی محلے کے منظر بھی بدل جاتے ہیں،کہیں کھجلہ پھینی تلی جارہی ہوتی ہیں تو کہیں سموسے رول کے تھال کے تھال تیار ہوتے نظر آتے ہیں، کہیں پکوڑے دہی بڑوں کی بہار ہوتی ہے، گھر میں نئی بتیاں لگانی ہوں یا خراب بتیاں تبدیل کرنی ہوں، کھڑکی دروازوں کے پردے نئے یا دھوکر لگائے جاتے ہیں، گھروں کی تزئین وآرائش اور مرمت کے دیگر چھوٹے چھوٹے کام بھی رمضان میں کئے جاتے ہیں۔
ہر گلی محلے میں رات رات بھرکرکٹ کھیلی جاتی ہے، تقربیاً ہر آبادی میں رمضان ٹورنامنٹ ہوتے ہیں، نوجوانوں کے غول کے غول گلی محلے میں گشت کرتے ہیں یا کسی منڈیر پر بیٹھ کر گپ بازی کرتے نظر آتے ہیں، غرض مجموعی طور پرآبادیوں میں گہماگہمی اور انسانوں میں مستعدی کا سما ہوتا ہے۔
اسی طرح یہ ماہ مبارک غریبوں کے لیے نعمتوں کی بہار ہوتا ہے، سارا سال جو کھانے امراء کے دسترخوان تک محدود ہوتے ہیں رمضان میں وہ کھانے غریب کے منہ تک بھی پہنچ جاتے ہیں، جن گھروں میں آٹے کا ڈبہ گیارہ مہینے خالی بجتا رہتا ہے اُن کا باورچی خانہ بھی رمضان میں آٹے دال سے بھر جاتا ہے، غریب بھی برانڈڈ دودھ، پتی، میعاری تیل، ایک نمبر دال چاول کا مزا چکھ لیتا ہے۔
رمضان میں خیرات کرنے والوں سے گزارش ہے کہ باٹنے اور لینے والے کے درمیان ضرورت کا تعلق ہوتا ہے لینے والے کو مدد کی ضرورت ہوتی ہے اور دینے والے کو اجر کی ضرورت ہوتی ہے لینے والے کو تو کچھ دال چاول ملتا ہے لیکن دینے والے کو جو ملتا ہے اس کا نہ کوئی حد و حساب ہے اور نہ اُس کی قیمت کا اندازہ کیا جاسکتا ہے اوردینے والے کو قیمت بھی وہاں ادا کی جائے گی جہاں ایک ہی سکہ ’’اجر‘‘ کا چلے گا لہذاجو ضرورت مند ہے اُ س کا رویہ جو بھی برداشت کرنا چاہیے، بڑا انعام بڑی مشقت کا تقاضا کرتا ہے، احسان جتا کر دیا تو لینے والے پر نہیں اللہ پر احسان جتانا ہوا۔
جسے اللہ نے دیا ہے وہ خوب انجوائے کرے لیکن ہمارے دین میں کوئی کام بھی بے لگام نہیں ہے، پیدائش کے وقت جب انسان بے بس ہوتا ہے اور مرنے کے بعد بھی جبکہ انسان بے بس ہوتا ہے، بے بسی کے اس عالم میں بھی، پیدا ہوئے بچے کے کان میں اذان کی ہدایت ہے اور اسی طرح بے بس لاش سے کیا سلوک کرنا ہے اس کا بھی پورا ضابطہ بتادیاگیا ہے لہذا اس انجوائیمنٹ کا خراج مسلسل صدقہ دینا ہے۔
مولانا مودودیؒ نے رمضان میں اپنے ایمان کو جانچنے کے لیے کسوٹی بتائی ہے کہ ’’ سکتے کے مریض کا آخری ٹیسٹ اس طرح کیا جاتا ہے کہ اُس کی ناک کے نیچے شیشہ رکھ دیا جاتا ہے اگر مریض میں ذرا بھی جان ہوتی ہے تو شیشہ دھندلاجاتا ہے، اسی طرح اگر رمضان میں مسلمانوں میں خیر نظر نہ آئے تو سمجھ لو کہ اُن میں ایمان کی آخری رمق بھی نہیں ہے‘‘۔
رمضان کی صورت میں اللہ نے ہمیں کتنا ہی اچھا ٹریننگ پلان دے دیا ہے،کتنا ہی اچھا تربیتی کورس بتادیا ہے لیکن اندر کی خواہش کے بغیر کوئی پلان کوئی کورس کارگر نہیں ہوسکتا، جب شیطان قید ہوتا ہے تو ہمیں نماز سے کون روکتا ہے؟ رمضان میں ایک ہفتے کے بعد صفوں کی تعداد کیوں کم ہوجاتی ہے؟ بچپن سے سُنتے آرہے ہیں ’’مومنوں تم پر روزے فرض کیے گئے ہیں جس طرح تم سے پہلے لوگوں پر فرض کیے گئے تھے شاید کہ تم متقی بن جاو‘‘ اس شاید کو لازم میں بدلنے کا کام ہمارے ذمے کیا گیا ہے۔
اصلاح کا پہلا قدم اپنی خامیوں کا ادراک کرنا ہے، دوسرا قدم ان خامیوں کو دور کرنے کی خواہش ہے۔
خواہش کوشش کا پہلا قدم ہے منزل چاھے کتنی ہی دور اور کٹھن کیوں نہ ہو اُس کی جانب پہلاقدم لازمی ہے اور ہمارا بس تو صرف پہلے قدم پر ہے منزل تک پہچانا اللہ کا کام ہے ۔
اس رمضان میں ہوسکے تو کاغذ پر ورنہ اپنے دماغ میں اپنی خامیوں کی فہرست بنائیں اوران خامیوں سے نجات کا ارادہ کرلیں اس ماہ مبارک کی برکت سے آپ کا ارادہ عمل میں تبدیل ہوجائے گا، اس عمل میں برکت ڈالنا اوراس کو نتیجہ خیز بنانے کا کام اللہ پاک ضرورکریں گے۔
اسی طرح کاغذ پر اچھائیوں کی ایک فہرست بنالیں اور اس فہرست کو گھر کی دیوار پر لگادیں تاکہ آپ خود بھی اور آپ کے اہل خانہ بھی آتے جاتے اسے دیکھتے رہیں، امید ہے آپ کی اس کوشش میں اللہ برکت ڈالیں گے۔
روزہ ’’سہنے‘‘ کی تربیت ہے روزے دار بھوک سہتا ہے پیاس سہتا ہے، پان سگریٹ، گٹکے کی طلب کو سہتا ہے، لہذا اُسے غصہ بھی سہنا چاہیے، کسی کی غلطی کو بھی سہنا چاہیے، روزے میں بات بات پر مشتعل ہونا، چھوٹی یا بڑی باتوں پر جھگڑنا ہمارے روزے کے صبر کو بھوک پیاس کی لاحاصل مشقت میں بدل سکتا ہے، لہذا ہر ناگوار کو گوارہ، بے زاری کو خوش دلی میں بدلنے کی کوشش کریں، مصلحت و مصالحت کی یہ عادت آپ کی بقیہ زندگی کو آسان کردے گی۔
عبادات پر مسجد کے امام صاحب، محلے کے مدرس جو ہدایت دیں اُسے اپنے پلے باندھنے کی کوشش کریں،ایک ایسی عبادت جو عام دنوں میں بہت ہی مشکل ہے لیکن رمضان میں یہ بہت آسان ہوجاتی ہے،سحری میںآدھا گھنٹہ پہلے اُٹھ جائیں اور چار رکعت نماز پڑھ لیں یہ آدھا گھنٹہ زندگی بھر کے لیے یا کم ازکم رمضان تک آپ کو تہجد گزار بنادے گا۔
رات گناہ، بدی، غلط کاریوں کے لیے بہت موافق ہوتی ہے لہذا اللہ نے رات میں تہجد رکھ دی ہے جو دنیا کی آلائشوں سے بچنا چاہتا ہے تہجد اُس کے لیے بہترین پناہ گاہ ہے۔
کوئی احتیاط،کوشش کار، کوئی اقدام کارگر نہیں ہوسکتا جب تک اللہ نہ چاہے لہذا توبہ استفغار کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنالیں، شیطان اپنے کام میں بہت مستعد ہے وہ شکار کا کوئی موقع نہیں چھوڑتا، شیطان سے صرف اللہ ہی بچا سکتا ہے بلا شبہ استفغار اللہ کو اپنی طرف متوجہ رکھنے کا بہت ہی موثر ذریعہ ہے۔

حصہ