سعودی عرب بمقابلہ ترکی

227

سید اقبال چشتی

یہ کو ئی مقا بلے کا عنوان نہیں ہے لیکن اس وقت دنیا میں سپر پاور بننے کے لیے اور خاص کر مسلم ممالک میں طاقت ور ملک بننے کے لیے ایک مقابلہ جاری ہے کیونکہ اُمتِ مسلمہ ترکی سے پہلے سعودی عرب سے مذہبی مقدس مقامات کی وجہ سے ایک خاص عقیدت اور محبت رکھتی تھی اور یہ عقیدت اب بھی برقرار ہے لیکن اپنے مسائل کے حل کے لیے امت مسلمہ نے جب بھی سعودی عرب کی طرف دیکھا تو اُسے مایوسی ہوئی۔ لیکن تیزی کے ساتھ ترقی کرتا اور اُمت مسلمہ کی خواہشوں کے مطابق اُمیدوں پر پورا اُترنے والا ملک ترکی ہے‘ جس کی قیادت نے اسلام کی نشاۃ ثانیہ کو ازسرنو زندہ کر نے کے ساتھ ساتھ اپنے دلیرانہ اقدامات کے ذریعے نہ صرف اپنے ملک بلکہ اسلامی دنیا کے تمام مسلمانوں کے دل بھی جیت لیے ہیں۔
ترکی اور سعودی عرب دونوں اسلامی ملک ہیں اور دونوں ہی طاقت اور قوت رکھتے ہیں۔ دنیا کے مسلمان مقدس مقامات کی وجہ سے سعودی عرب سے خواہش رکھتے ہیں کہ وہ امتِ مسلمہ کی مشکلات کے حل کے لیے رہنمائی اور رہبری کرے تو دوسری طرف ترکی‘ جو خلافتِ عثمانیہ کے دور کو پھر سے زندہ اور امت مسلمہ کو دنیا میں پھر سے بلند مقام عطا کرنے کا خواہش مند ہے اور اس حوالے سے ترک قوم اپنی قیادت کا بھرپور ساتھ بھی دے رہی ہے‘ اگر یہ کہا جائے کہ اس وقت کون اُمت مسلمہ کے لیے سنجیدہ کو ششیں کر رہا ہے اور کون صرف اپنی بقا کے لیے ہاتھ پاؤں مار رہا ہے تو اس مقابلے کو ہم گزشتہ برسوں کے واقعات پر مبنی جائزے کا نام دے کر دیکھتے ہیں کیونکہ صرف عقیدت کی عینک سے نہیں بلکہ حقیقی اقدامات سے ہی ہم صحیح جائزہ لے سکتے ہیں شاید کچھ قارئین کو اس سے اختلاف ہو لیکن جو ہمیں نظر آرہا ہے اس کو دیکھتے ہوئے جائزہ لیں گے تو تصویر صاف اور واضح ہو جائے گی۔
نیو ورلڈ کے سامنے آنے کے بعد مغربی طاقتوں نے متحد ہو کر بلکہ باقاعدہ منصوبہ بندی کر کے مسلم ممالک کے وسائل پر نہ صرف قبضہ کیا بلکہ ان ممالک کو اپنا غلام بھی بنا لیا کہ ہماری وجہ سے تمہارا ملک دنیا کے نقشے پر موجود ہے۔ مسلم ممالک یکے بعد دیگرے مغربی طاقتوں کے پھیلائے گئے جال میں پھنستے چلے گئے اور یہ سمجھتے رہے کہ مغرب ہمارا دوست ہے اور مسلم ممالک اور اس کی قیادت ہماری دشمن ہے۔ عراق اور کویت کی جنگ اور پھر عراق پر مغربی اتحادی طاقتوں کا حملہ افغانستان میں حملے کے لیے ٹیون ٹاور کی سازش اور پھر خوش حال ترین ممالک لیبیا اور شام کی تباہی الغرض یمن اور سعودی عرب کی جنگ سے لے کر قطر کے گرد اسلام پسندوں کی مدد کے بہا نے گھیرا تنگ کرنے تک اُمت کا انتشار سب کے سامنے ہے اور ہر مسلم ملک خاموش تماشائی بنا اُمت کی تباہی دیکھتا رہا لیکن اُمت کی سربلندی اور اتحاد کے لیے کوئی سنجیدہ کوشش نہیں کی گئی اگر اتحاد کے حوالے سے کوشش کی بھی گئی تو وہ اختلافات کی وجہ سے کا میاب نہ ہو سکی اس لیے امت مسلمہ جن دو ممالک کی طرف اُمید بھری نظروں سے دیکھ رہی تھی وہ اپنے طور پر علیحدہ ہو کراپنے تئیں کام کرنے لگے کہ ہم صحیح ہیں لیکن امت مسلمہ بھی کان اور آنکھیں رکھتی ہے اس لیے حالیہ بیانات اور اقدامات سے مسلم دنیا کے رہنے والوں نے دیکھا کہ کون امت مسلمہ کی بہتری کے لیے صحیح راستے پر چل رہا ہے۔
ترکی نے جب سے رجب طیب اردوان کی قیادت میں ترقی کا سفر شروع کیا ہے ترقی و خوش حالی کی منزلیں بڑی تیزی سے طے کر رہا ہے۔ اردوان کے بر سر اقتدار آنے کے بعد ترک معیشت میں بہتری آئی ہے۔ اس ترقی اور خوش حالی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اب تک ترکی میں 300 فیصد تنخواہوں میں اضافہ ہو چکا ہے۔ ملک‘ جو کل تک IMF اور ورلڈ بینک کے قرضوں کے بوجھ تلے دبا ہوا تھا‘ اردوان کی قیادت نے نہ صرف ان قرضوں کو اُتارا بلکہ یہ کہا ہے کہ اگر ان دونوں اداروں کو قر ضے چا ہیے تو ترکی دینے کے لیے تیار ہے۔
ترکی میں تنخواہوں میں 300 فیصد اضافہ اور قرضوں سے نجات کوئی معمولی بات نہیں‘ یہ سب کارکردگی اسی وقت ممکن ہوئی ہے جب ترکی کے عوام نے کر پشن سے پاک اور اسلام پسند قیادت کو منتخب کیا اور جو اعتماد ترکی عوام نے اپنی قیادت پر کیا تھا ترکی کی اسلام پسند قیادت نے اس پر پورا اترتے ہو ئے ترکی کو وہ کچھ دیا کہ اب اپوزیشن اور سیکولر طبقے کے لوگ بھی یہ کہہ رہے ہیں کہ غلامی کی زنجیریں پہن کر نہیں بلکہ غلامی کی زنجیروں کو توڑ کر ہی ملک ترقی کرتے ہیں‘ اردوان اور ترک حکومت نے یہ بات سچ کر دکھائی ہے ترک حکومت کے تھنک ٹینک ترقی اور خوش حالی کے ساتھ اسلام کی نشاۃ ثانیہ کو پھر سے زندہ کرنے کے ساتھ ساتھ تعلیم، معیشت، امن و امان اور روزگار کی جہاں منصوبے بنارہے ہیں وہاں امت کے مسائل کے حل کے لیے بھی اقدامات اُٹھا رہے ہیں۔ اردوان اپنی فہم و فراست اور سیاسی بصیرت کی بدولت مذہبی رجحانات کے حوالے سے صرف ترکی میں ہی نہیں بلکہ پوری دنیا میں اپنی دھاک بٹھائے ہوئے ہیں‘ ان کی مقبولیت اس وجہ سے ہے کہ وہ صحیح کو صحیح اور غلط کو غلط کہتے ہیں چاہے وہ اپنی ہی حکومت‘ وزرا اور کئی شہروں میں موجود میئرز کے حوالے ہی سے کیوں نہ ہو۔ اس حوالے سے اردوان اپنی حکومتی کارکردگی کا جائزہ لینے کے لیے با قاعدہ سروے بھی کراتے ہیں تاکہ خوبیوں اور خامیوں کا پتا لگایا جائے اور عوام کی خواہش کو مدنظر رکھتے ہوئے آئندہ کا لائحہ عمل بنایا جائے۔ اسی سروے کی بنیاد پر ایک دو شہروں کے میئر کو اردوان نے مستعفی ہونے کو کہا اور نئے میئرز منتخب کرائے۔ عوام اور ملک کی فکر کرنے والے اردوان‘ جو متوسط طبقے سے تعلق رکھتے ہیں اور سیاسی میدان میں ترقی کی کئی منازل طے کرتے ہوئے صدارت پر پہنچے ہیں‘ عوام کے دلوں میں گھر کر گئے ہیں یہی وجہ تھی کہ جب اردوان حکومت کے خلاف فوجی بغاوت کرائی گئی‘ جو فوج کے ایک حصے نے کی اور ترکی کے آرمی چیف نے اس بغاوت کا ساتھ دینے سے صاف انکار کر دیا‘ شاید پہلی بار تاریخ میں آرمی چیف کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا کہ تم بغاوت کے احکامات جاری کرو۔ مگر آرمی چیف کا کہنا تھا کہ میں مرنا پسند کروں گا مگر ترکی اور اردوان سے بغاوت نہیں کروں گا۔ اسی محبت اور مقبولیت کی وجہ سے عوام آدھی رات کو اپنی نیند قربان کر کے اپنے محبوب قائد کے لیے ٹینکوں کے آگے لیٹ گئے تھے۔ عوام کے ساتھ ہونے کی وجہ سے آج ترکی اُمتِ مسلمہ پر ہونے والے مظالم پر اپنا سفارتی حق استعمال کر رہا ہے اور امت کی آواز بن رہا ہے۔
ایک سیکولر ملک کواسلامی ملک بنانے والے متوسط طبقے کے اردوان کے مقابلے میں منہ میں سونے کا چمچہ لے کر پیدا ہونے والے سعودی عرب کے ولی عہد‘ جو یہ کہتے ہیں کہ ’’مجھے بادشاہ بننے سے صرف موت ہی روک سکتی ہے۔‘‘ ان کے اقدامات نے سعودی عرب کو‘ جو آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کا مقروض نہیں تھا‘ اور خوش حال ملک شمار ہو تا تھا‘ اب نہ صرف ان اداروں سے قر ضے لے رہا ہے بلکہ اسلام کی نشاۃ ثانیہ کو زندہ کرنے کے بجائے عرب روایات اور اسلامی تعلیمات کے برخلاف ایسے فیصلے کیے جارہے ہیں جس سے مغرب خوش ہو کہا یہ جا تا ہے کہ ولی عہد نو جوانوں میں بہت مقبول ہیں کیو نکہ ان کا طرز زندگی یقیناًعربوں والا ہے لیکن سوچ مغربی ہے اس لیے وہ قوم‘ جس کو امت کی قیادت کرنی تھی‘ آج مغربی ’’آزادی‘‘ ملنے پر خوش ہے۔ اُمت کے مسائل کو مل کر ایک اتحاد کی صورت میں حل کر نے کے بجائے شہزادے ولی عہد کہتے ہیں کہ ’’ترکی نہ صرف خود شیطان ہے بلکہ شیطانوں کے ساتھ مل کر آگے بڑھنا چا ہتا ہے۔‘‘ ولی عہد اُمت کی خواہشات پر پورا اُترنے کے بجائے کیسینو ، سنیما گھر اور یو رپی طرز کے ساحل اور ہوٹل بنا کر اپنی اصلاحات کے ذریعے ایسے اقدامات کر رہے ہیں جس سے امت میں مایوسی پیدا ہو رہی ہے۔ ترکی امت مسلمہ کے بہنے والے خون پر ایک توانا آواز بن رہا ہے تو دوسری طرف قبرستان جیسی خا موشی ہے۔ ولی عہد کے لیے کہا جا رہا ہے کہ وہ تاریخ رقم کر رہے ہیں لیکن تجزیہ نگار یہ کہہ رہے ہیں کہ ولی عہد مغرب کی خوشنودی کے لیے سعودی تاریخ کو مسخ کر رہے ہیں اسی لیے بغاوت کے ڈر سے اپنے ہی بہن بھائیوں کو پا بند سلاسل کر رہے ہیں جبکہ ترکی کے عوام اور اپوزیشن دیکھ رہی ہے کہ اردوان نے ترکی کو کیا دیا ہے اور مستقبل میں کیا دینے جا رہے ہیں جس کی وجہ سے عوام اور ترک اپوزیشن بھی اردوان کے ساتھ ہے کیونکہ اردوان ترکی کو مستقبل کا ’’سپر پاور‘‘ ملک بنانا چاہتے ہیں۔ اردوان کا کہنا ہے کہ ہم سپر پاور کے نیچے کیوں لگیں ہم خود سپر پاور کیوں نہ بنیں یہی وجہ ہے کہ آج اپوزیشن یہ کہنے پر مجبور ہو گئی ہے کہ ہم اردوان کے مقابلے میں صدارتی امیدوار نہیں لائیں گے۔
دونوں ممالک میں تیزی سے رونما ہونے والی تبدیلیوں کا اُمت مسلمہ بھی بغور جائزہ لے رہی ہے کہ کون امت کے مستقبل کی فکر کر رہا ہے اور کون صرف اپنی حکمرانی کی۔ یہی وہ جائزہ ہے جو آج پوری دنیا کے مسلمان‘ مسلم ممالک کے امت کے مسائل کے حل کے حوالے سے دیکھ رہے ہیں اور اپنی سوچ تبدیل کر رہے ہیں اور مقابلہ وہی جیتے گا جو امت مسلمہ کی فکر کرے گا کیونکہ اللہ نیتوں کا حال بہتر جانتا ہے۔

حصہ